: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

جامعہ بنوریہ عالمیہ اجتماعی قربانی میں 800سے زائد جانور ذبح کیے جائیں گے


jamia banoria September 10, 2016 | 6:50 PM

بیرون ممالک سے آئن لائن قربانی کے تحت 310افراداجتماعی قربانی میں حصہ لیںگے
بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت غریب ونادار افراد کیلئے 30سے زائد جانور ذبح کیے جارہے ہیں
عوام الناس کو مشکلات اور دھوکہ دیہی سے بچانے کیلئے اجتماعی قربانی کانظام بہترین ہے،مولانا غلام رسول
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ ٹاؤن میں مجموعی طور پر800بڑے اور300سے زائد چھوٹے جانوروں کی اجتماعی قربانی کی جائیں گی،جبکہ310افراد آن لائن قربانی میں حصہ لے رہے ہیں جن کا تعلق امریکا،برطانیہ ، تھالینڈاور دنیا کے دیگر ممالک سے ہے، بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت غریب ونادار طبقے کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے 30سے زائد بڑے جانوروں کی قربانی کی جارہی ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے ترجمان کے مطابق معروف علمی دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ عالمیہ نے ہر سال کی طرح امسال بھی جامعہ بنوریہ عالمیہ کے تحت شہر کے 22 مختلف مقا مات پر اجتماعی قربانی کے مراکز کام کررہے ہیں جہاں جید علماء کرام و مفتیان کرام کونگران مقرر کردیا گیا ہے جو شہریوں کو قربانی کے مسائل سے آگاہ کرنے کے ساتھ اجتماعی قربانی کو شرعی اصولوں کے مطابق انجام دیںگے ،جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ ٹاؤن مرکز سمیت 22مراکز میں مجموعی طورپر 5600سے زائد حصوں پر مشتمل 1000سے زائد چھوٹے بڑے جانور ذبح کیے جائیں گے ، اسی طرح بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی بالخصوص مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل کا ادراک کرتے ہوئے آن لائن قربانی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا جس کے تحت کمبوڈیا، امریکا، برطانیہ ، تھالینڈ، انڈونشیا ء اور دیگر دیگریورپی ممالک سے 310افرادقربانی کے حصے کی آن لائن بکنگ کراچکے ہیں ،بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت غریب ونادار طبقے کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے 30سے زائد بڑے جانور ذبح کیے جائیں گے جن کا گوشت نومسلم بھائیوں ، مدارس اور غریب ونادار افراد میں عید کے تقسیم کیاجائے گا، دریں اثناء ایڈمنسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ مولانا غلام رسول نے کہاکہ اجتماعی قربانی کے سسٹم کو سب سے پہلے جامعہ بنوریہ عالمیہ نے متعارف کرایا اور اب آن لائن قربانی متعارف کرانے میں بھی بنوریہ عالمیہ نے سب سے پہل کی ہے ، انہوں نے کہاکہ ہر سال اجتماعی قربانی حصہ لینے والوں میں اضافہ ہورہاہے،کیونکہ موجودہ دور میں قربانی کیلئے جانور کی خریدار سے لیکر اسے گھر میں لاکر رکھنے اور ذبح کیلئے قصائی ڈھونڈنے تک مشکلات ہی مشکلات ہی ہیں جو عام آدمی کے بث کی بات نہیں ہوتی ، بعض اوقات جانور کی خریدار ی میں دھوکہ ہوتاہے عوام کو بچانے کیلئے اجتماعی قربانی کانظام متعارف کرایا گیا الحمد اللہ اس کے بہت فائدے ہورہے ہیں، انہوںنے کہاکہ پہلے مشکلات کے ڈر سے بہت سے لوگ قربانی فرض ہونے کے باوجود گریزاں تھے اب اجتماعی قربانی کے نظام کے باعث ہر شخص بڑھ چڑھ کر حضرت ابراھیم کی سنت کی پیروی میں قربانی میں حصہ لے رہاہے ۔

این جی اوز منقولہ اور غیر منقولہ ملکیت پر مکمل رجسٹریشن نمبر درج کریں ۔صوبائی وزیر سماجی بہبود شمیم ممتاز


Karachi-Sindh September 2, 2016 | 9:01 PM

کراچی:(نیوزآن لائن) صوبائی وزیر سماجی بہبود شمیم ممتازنے محکمہ سماجی بہبود سے رجسٹرڈ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی منقولہ اور غیر منقولہ ملکیتوں پر مکمل رجسٹریشن نمبر درج کریں تاکہ جعلی این جی اوز  اور ملک دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی کی جاسکے ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ این جی اوز اپنی گاڑیوں ،دفاتر ،لیٹر ہیڈ ،  بینرز ،دعوت ناموں ،ویزیٹنگ کارڈز اور آئی ای سی (انفارمیشن ،ایجوکیشن اور کمیونیکیشن )میٹریل پر رجسٹریشن اتھارٹی کے نام کے ساتھ مکمل رجسٹریشن نمبر درج کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس مشورے پر عمل نہ کرنے والی این جی اوز کی رجسٹریشن نہ صرف منسوخ کردی جائے گی بلکہ ان کے خلاف قانونی کا رروائی بھی کی جائے گی ۔صوبائی وزیر سماجی بہبود شمیم ممتازنے ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سندھ اختر علی قریشی کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ این جی اوز کواس بات پر عملدرآمدکے لئے پابند بنائیں ۔انہوں نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ این جی اوز کی سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں اور سماجی فلاح وبہبود کے نام پر دھوکہ دینے اور فنڈز جمع کرنے والے افراد کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے کارروائی عمل میں لائیں ۔انہوں نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے فیلڈ افسران کو بھی  ہدایت دیں  کہ سندھ میں کام کرنے والی والینٹری سوشل ویلفیئر ایجنسیز کو  اس سلسلے میں پابند کریں ۔صوبائی وزیر سماجی بہبود شمیم ممتازنے کہا کہ اس معاملے پر کسی قسم کی سستی اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔

دنیا بھر سے 2030 ء تک ایڈزکے خاتمے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جا رہے ہیںراشد علی خان


AL rashid foundation August 27, 2016 | 4:30 PM

پاکستان کوایڈز کے مرض سے پاک کرنے کیلئے عوام میں شعور وآ گاہی پیدا کرنی ہوگی کراچی گنجائش سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہرہے جہاں کسی بھی قسم کے وبائی امراض کے پھیلنے میں قطعی دیر نہیں لگتی
کراچی:(نیوزآمن لائن)دنیا بھر سے 2030 ء تک ایڈزکے خاتمے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جا رہے ہیںپاکستان کوایڈز کے مرض سے پاک کرنے کیلئے عوام میں شعور وآ گاہی پیدا کرنی ہوگی کراچی گنجائش سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہرہے جہاں کسی بھی قسم کے وبائی امراض کے پھیلنے میں قطعی دیر نہیں لگتی کراچی شہر پاکستان کا وہ شہر ہے جہاں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے یہ بات الراشد فائونڈیشن پاکستان کے چیئرمین راشد علی خان نے ایڈز کنٹرول سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ پورے سندھ میں ایڈز کے مریضوں کی مجموعی تعداد کا 81فیصد کراچی میں ہے اس لئے کراچی میں ایڈز کنٹرول کرنے اور عوام میں شعورو آگاہی پیدا کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ مہم چلانے کی ضرورت ہے انہوںنے کہا کہ اس مرض میںمبتلا افراد کو ایڈز سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے کے علاوہ مرض کی روک تھام کی بھر پور کوششیں کی جائیں راشد علی خان نے کہا کہ اس مرض میںمبتلا مریضوں کی ہلاکتوں روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں انہوں نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر اس عالمگیر مرض کے خاتمے کیلئے ہم سب کو ملکر اس وائرس کو شکست دینی ہوگی انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اسے مہلک مرض سے نہیں بچا ہے یہ دنیا کے تمام براعظموں تک پھیل گیا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لئے عالمی اقدامات کی اشد ضرورت ہے راشد علی خان نے کہا کہ ایچ آئی وی کے خطرے کے خلاف بھر پور جنگ جاری رکھنی ہوگی انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اس مہلک مرض سے جلد نجات پانے میں کامیاب ہوجائیں گے چونکہ اہم ایسی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیںجو درست سمت میں جارہی ہے راشد علی خان نے کہا کہ ہمیں ایڈز سے تحفظ اور آگاہی کے لئے ہر سطح پر بہترین اقدامات کرنے ہونگے چونکہ یہ انسانی زندگیوں کوسوال ہے انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میںاس مرض میں اضافہ ہو اہے جس میں کئی اموات بھی ہوئی ہیں راشد علی خان نے کہا کہ جو باعث تشویش ہیں راشد علی خان نے کہا کہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام صرف کاغذوں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس سے ایڈز کے مریضوں کو فائدہ ہونے کے علاوہ اس کی روک تھام میں مدد اور عوام میں ایچ آئی وی سے مکمل واقفیت ہونا چاہئے

پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کا اجلاس ابو احمر ہاشمی کی رہائش گاہ پر منعقد


PPP-FLAG August 27, 2016 | 4:18 PM

لاہور:(نیوزآن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کا اجلاس ابو احمر ہاشمی کی رہائش گاہ پر منعقد ہو ا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور کے رہنماء نصیر احمد ، شیخ علی سعید، عبدالکریم میو، رانا محمد منیر، نصیر احمد، ارشد لودھی، وقاص پرنس، سیدہ حمیرا،تنزیلہ نذر، عاصمہ اکرم نے کہا کہ لاہور کو پیرس بنانے کا دعوی ٰ کرنے والوں نے وینس میں تبدیل کر دیا ہے پنجاب حکومت نے تمام اداروں کے فنڈ روک کر اورنج ٹرین پر لگا دیے ۔ 165 ارب سے زائد لاگت سے 27 کلومیٹر طویل اورنج ٹرین تعمیر کی جا رہی ہے اور اس کے 27 اسٹیشن ہیں ہر اسٹیشن کا خرچہ 6 ارب سے زائد ہے لاہور کے تمام ایم این ایس،ایم پی ایس کے فنڈز بھی جاری نہیں کیے جا رہے اورنج ٹرین کے صرف ایک اسٹیشن کا خرچہ لاہور کے نکاسی آب اور پینے کے پانی پر لگا دیئے جائیں تو لاہور کی عوام ہر سال بارش سے متاثر ہونے سے بچ سکتی ہیں۔ اور اہلیان لاہو رکو بیماریوں سے پاک پینے کا پانی مل سکتا ہے۔ لاہور کے 50 سالہ پرانے نکاسی آب نظام کو بدلنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی ۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کی اس پیشن گوئی کے بعد اس سال مون سون بارشیں زیادہ ہونگی ۔ حکومت نے بچائوں کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی لاہور میں شدید بارشیوں سے تباہی پھیلائی ہوئی ہے جبکہ خادم اعلیٰ سے لے کر لاہور کے تمام ایم پی ایز اور سرکاری افسران بیرونی دوروں پر ہیں یہ پھر لاہور سے باہر ضمنی الیکشن میں ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں ۔  اور لاہور کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت لاہور کے 50سالہ نکاسی آپ پروگرام کو بدلنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر فنڈ جاری کرے تاکہ بارشیوں سے کم سے کم نقصان ہو۔

مہران ٹاؤن جیسے پسماندہ علائقے میں آپ کی تعلیم کے حصول کے لئے کوششیں قابل ستائش ہے۔شمیم ممتاز


provincial minister social welfare with street children on the occasion of national day at abdullah shah ghazi bridge August 14, 2016 | 4:13 PM

کراچی :( نیوزآن لائن) صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود میڈم شمیم ممتاز نے 14 آگست کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح میموریل ویلفیئر آرگنائزیشن کی طرف سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہران ٹاؤن جیسے پسماندہ علائقے میں آپ کی تعلیم کے حصول کے لئے کوششیں قابل ستائش ہے۔ اور آپ کے اسکول کے لئے کوئی ضرورت ہوتہ سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ آپ کے ساتھ ہوگا، ہر ممکنہ تعاون کریگا ۔ اس موقع پرصوبائی وزیر برائے سماجی بہبود اسکول کے بچوں میں گھل مل گئی اور کہا کہ یہ بچے قائد اعظم کی تصویر ہے، ان بچوں کے ساتھ 14 آگست منانہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ اس موقع پر صدر قائد اعظم محمد علی جناح میموریل ویلفیئر آرگنائزیشن قدیر گبول اور جنرل سیکریٹری بھی موجود تھے۔

جشن ِ آزادی کے موقع پر ملک سے تھیلے سیمیا کے خاتمے کا عزم کرنے کی ضرورت ہے،ڈاکٹر ثاقب انصاری


umair sana foundation 1 August 12, 2016 | 4:52 PM

جشن آزادی کے موقع پر عمیر ثناء فائونڈیشن کے تحت جامعہ کراچی میںتھیلے سیمیا آزادی کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد
کراچی:(نیوزآن لائن)عمیر ثناء فائونڈیشن کے تحت جشن ِ آزادی کے حوالے سے جامعہ کراچی کے ولیکا گرائونڈ میں منعقدہ تھیلے سیمیا آزادی کرکٹ ٹورنامنٹ کا میدان جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے مار لیا۔ پزہ ہٹ (ایم سی آر)رنر اپ رہی ۔صبح سے شام تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں پزہ ہٹ،برگرکنگ(ایم سی اآر)،ٹی جی آئی ایف،میزان بینک،اے جے ایم فارما،جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی،نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کی ٹیموں نے حصہ لیا۔بعدازاں انعامات کی تقسیم کی تقریب منعقد کی گئی،جس میںعمیر ثناء فائونڈیشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ثاقب انصاری ، فنانس سیکریٹری تحسین اختر ،انصار برنی ٹرسٹ کی ڈائریکٹر شگفتہ برنی،عبید ہاشمی،ڈاکٹر راحت حسین ،امتیاز اے ملک ،تھیلے سیمیا کے بچے ،ان کے والدین،جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات،اساتذہ کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور ٹورنامنٹ کے انعقاد پر عمیر ثناء کی تحسین کی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے کہا کہ ہم تھیلے سیمیا آزادی ٹورنامنٹ میں شرکت پر تمام ٹیموں کے شکر گزار ہیں،ان ٹیموں نے میچ میں حصہ لے کر دراصل ہمارے مقصد اور جدوجہد کا ساتھ دیا ہے ۔ہم تھیلے سیمیا سے محفوظ پاکستان کی جدوجہد کر رہے ہیں۔اس طرح کی سرگرمیوں کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ تھیلے سیمیا کا مرض جس شدت سے پھیل رہا ہے اس سے متعلق آگاہی فراہم کی جا سکے اور نئی نسل کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ وہ شادی سے قبل تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ کرا لیں تاکہ آنے والی نئی نسل کو اس مہلک مرض سے بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تھیلے سیمیا کے بچوں کی زندگی کا انحصار انتقال خون پر ہوتا ہے اور ہمارے معاشرے میں عطیہ خون کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان بڑی تعداد میں اپنے خون کا عطیہ کریں تاکہ تھیلے سیمیا کے مریض بچوں کی جان بچائی جا سکے۔اس طرح کی سرگرمیوں سے اگر کچھ لوگ عطیہ خون دینے پر آمادہ ہو جائیں تو یہی ہماری کامیابی ہے۔شگفتہ برنی نے کہا کہ عمیر ثنا فائونڈیشن کی جدوجہد قابل قدر اور لائق تحسین ہے،تھیلے سیمیا کے بچوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی فراہمی کے لیے اس نوع کے پروگرامات تواتر سے ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ تھیلے سیمیا سے آگاہی فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ٹورنامنٹ کا آغاز صبح 9:30بجے ولیکا گرائونڈ جامعہ کراچی میں ہوگا۔ٹورنامنٹ کا افتتاح جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد قیصر، ڈیپارٹمنٹ آف فزیکل ایجوکیشن کی ڈائریکٹر انجم عزیز اورعمیر ثنا فائونڈیشن کے سیکریٹری ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری کریں گے۔ٹورنامنٹ میں8 ٹیمیں حصہ واضح رہے کہ تھیلے سیمیا کے بچوں کو صحت مندانہ اور تفریحی سرگرمیوں کی فراہمی کے لیے عمیر ثناء فائونڈیشن کے تحت ہر سال قومی ایام اور مذہبی تہواروں کی موقع پر اس نوع کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

منشیات کے اسمگلروں کے خلاف ضرب عضب کی طرح آپریشن کیا جائے راشد علی خان


AL rashid foundation March 27, 2016 | 1:29 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)منشیات کے اسمگلروں کے خلاف ضرب عضب کی طرح آپریشن کیا جائے منشیات سے کمایا ہوا کالا دھن دہشت گردی اور دیگر تخریبی کاروائیوں میں استعمال ہوتا ہے جو جرائم پیشہ افراداس میں ملوث ہیں انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں یہ بات الراشد فائونڈیشن پاکستان کے چیئرمین راشد علی خان نے لیاری کے مختلف علاقوں کے کھیلوں کے میدانوں  اور اسپورٹس کلبوںکے دورے کے مو قع پر کھیلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پاکستانی یوتھ کو منشیات کا عادی بنا کر ملک کو قیمتی اثاثے سے محروم کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ملک کا کار آمد شہری بنانے کے لئے بھر پور اقدامات کرے تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے راشد علی خان نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں میں کسی بھی طرح کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے سب سے زیادہ کھیلوں کے مواقع فراہم کئے جائیںاور کھیلوں کے میدانوں کو آبادکرنے کے لئے کھیل کے میدانوں کو ہر قسم کی تجاوزات اور قبضہ مافیا سے آزاد کرایا جائے اور جو میدان چائنا کٹنگ کر کے ختم کر دیئے گئے ہیں انہیں بھی وا گزار کرایا جائے راشد علی خان نے کہا کہ حکومت اور عوام کو ہر سطح پر کھیل اور کھیلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے تا کہ نوجوان منفی سرگرمیوں کو چھوڑ کر اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کر سکیں ۔

جماعت اسلامی ناموس مصطفیۖ کے تحفظ کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا عزم کئے ہوئے ہے، محمد یوسف


Jamaat e Islami Pic. March 23, 2016 | 8:31 PM

تحفظ ناموس رسالتۖ کی مہم آگے بڑھے گی، جنرل سیکریٹری ضلع وسطی
کا زون لیاقت آباد کے اجتماع کارکنان سے خطاب
کراچی:(نیوزآن لائن) جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی ضلع وسطی محمد یوسف نے کہا ہے کہ ممتاز قادری نے ناموس رسالتۖ پر جان قربان کرکے ہمارے عزم کو توانا کیا ہے۔ ممتاز قادری شہید کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ جماعت اسلامی دستور پاکستان اور اس کی شقوں کو تبدیل نہیں ہونے دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی زون لیاقت آباد کے اجتماع کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری شہید کی پھانسی ایک طویل منصوبہ بندی کی پہلی کڑی ہے۔ جماعت اسلامی ناموس مصطفیٰ ۖ کے تحفظ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ تحفظ ناموس رسالتۖ کی مہم مزید آگے بڑھے گی۔ جماعت اسلامی کے کارکنان گھر گھر جا کر عوام سے رابطہ مضبوط کریں۔ بعد ازاں اجتماع سے امیر زون اسحق تیموری و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مہاجر قاتل اور مقتول کی سیاست ختم کریں: ڈاکٹر سلیم حیدر


dr saleem haider mit March 6, 2016 | 6:54 PM

مہاجروں کو پستی ،رسوائی اور بے بسی سے نکالنے کا عملی وقت آگیا ہے
ایم آئی ٹی مہاجروں کو متبادل قیادت فراہم کرے گی ، ہماری جدوجہد اس کی گواہ ہے
کراچی:(نیوزآن لائن)مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ اب مہاجر قاتل اور مقتول کی سیاست ختم کرکے مہاجروں کے مستقبل کیلئے کام کیا جائے۔ مہاجر آج اس پستی اور کسمپرسی کا شکار ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ تعلیم سے لے کر ملازمت تک مہاجروں کو دیوار سے لگادیا گیا ہے جبکہ سب سے محب وطن مہاجر قوم کو دہشت گردی اور ملک دشمنی جیسے القاب کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم آئی ٹیمہاجر حقوق کی بانی جماعت ہے اور ہم روز اول سے ان حالات کی نشاندہی کرتے رہے ہیںلیکن مہاجروں کی قیادت کے دعویداروں نے مہاجروں سے ووٹ تو لئے لیکن ہر آنے والے دن کے ساتھ مہاجر پستی اور بے بسی کا شکار ہوتے چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت ہے کہ مہاجروں کی پسماندگی کو دور کرتے ہوئے اس تہذیب یافتہ قوم کو اس کے پاؤں پر کھڑا کیا جائے ۔ غلط فیصلوں کے بجائے مہاجروں کے مستقبل کو تابناک بنانے کیلئے فیصلے کئے جائیں ۔ ہم ہزاروں مہاجروں کی قربانیوں اور برسوں کی جدوجہد کو ضائع نہیں ہو نے دیں گے۔ مہاجر اتحاد تحریک مہاجروں کو متبادل قیادت فراہم کرے گی ۔ کیونکہ ہماری تاریخ شائد ہے کہ ہم نے کبھی نہ مہاجروں حقوق سے غداری کی اور نہ ہی مہاجر حقوق کا سودا کیا۔ اپنے لوگوں میں رہ کر ان کے حقوق کی جدوجہد کرتے رہے جس کی پاداش میں ہمیں جیلوں کی صعوبتیں اور جسمانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نہ پہلے مہاجر قوم کو چھوڑ کر بھاگے تھے اور نہ اب انہیں تنہا چھوڑیں گے۔

والدین کی شفقت سے محروم بچوں کی پرورش کرنے کے ساتھ معاشرے کا کار آمد شہری بنانا نہایت مشکل کام ہوتا ہے۔سید قائم علی شاہ


SOS VILLAGE C.M PHOTO 28 FEB 2016 February 28, 2016 | 7:01 PM

خیرپور:(نیوزآن لائن) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے قریب قومی شاہراہ پر ایس او ایس چلڈرن ولیج پاکستان کی جانب اور سندھ حکومت کے مالی تعاون سے یتیم اور لاوارث بچوں کی تعلیم ، دیکھ بھال کے لیے تعمیر کیے گئے شیلٹر ہائوس کا افتتاح کیا۔سادہ و پر وقار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سماجی طور پر والدین کی شفقت سے محروم اور نظر انداز کیے جانے والے بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش کرنے کے ساتھ معاشرے کا کار آمد شہری بنانا نہایت مشکل کام ہوتا ہے اس سلسلے میں ایس او ایس کی جانب سے ایس او ایس چلڈرن ولیج پاکستان قائم ہونا اور بہتر تعلیم ،ہنر مندی اور تربیت فراہم کرنا قابل ستائش عمل ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی کے اس سلسلے میں سندھ حکومت نیک مقاصد کے لیے اپنا بھرپور تعاون پیش کرتی رہے گی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشاروتی کونسل کے چیئرمین سابق سینیٹر جاوید جبار نے بتایا سماج کے نظر انداز کیے جانے والے اور رشتہ داروں کی شفقت سے محروم بچوں کو یتیم پکارنے سے ان میں احساس محرومی جنم لیتی ہے ہم سب کو مشترکہ طور پر ایسے بچوں میں اعتماد پیدا کرنا ہے انہوں نے خیرپور چلڈرن ولیج قائم کرنے میں سندھ حکومت کے علاوہ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سیدہ نفیسہ شاہ ، کمشنر سکھر ڈویژن محمد عباس بلوچ کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں کو سراہا انہوں نے مزید بتایا کہ ایس او ایس گزشتہ چار دہائیوں سے معزز اور نامور شخصیات اور مختلف اداروں کے تعاون سے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے اس وقت ملک کے 17 شہروں میں 52 مراکز میں کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ اس ادارے سے بیشتر بچے تعلیم اور تربیت کے بعد مختلف شعبوں میں کامیابی کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں جاوید جبار نے مزید بتایا کہ اس ادارے نے نہ صرف خیرپور بلکہ دیگر اضلاع سے وابستہ 150 بچوں کو میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جائے گا انہوں نے بتایا کہ ہر گھر پر پچاس لاکھ روپے لاگت آرہی ہے انہوں نے مخیر حضرات اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس نیک کام میں مشن کو کامیاب بنانے کے لیے مالی مدد فراہم کریں تقریب سے ایس او ایس چلڈرن ولیج پروگرام پاکستان کی صدر ثریا انور اور دیگر نے خطاب کیا۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے پولیٹیکل سیکریٹری لعل بخش منگی، ڈی آئی جی سکھراظہر رشید خان، وزیر اعلیٰ سندھ کے پرنسل سیکریٹری مظہر خان، ڈی سی خیرپور فیاض احمد جتوئی ،نظر محمد گاہو، ڈاکٹر یار محمد پھلپوٹو، غلام حسین مغل ، امام ڈنو ملاح اور دیگر موجود تھے۔

موجودہ روایتی ‘ موروثی سیاستدانوں ‘ حکمرانوں اور اجارا داروں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔طاہرکھوکھر


tahir khokhar mqm February 21, 2016 | 1:08 PM

مظفرآباد:(نیوزآن لائن)ایم کیو ایم آزادکشمیر کے پارلیمانی لیڈرچیئرمین قائمہ کمیٹی ٹرانسپورٹ طاہرکھوکھر نے کہا ہے کہ غربت جہالت اور بے روزگاری آزادکشمیر کے عوام کامقد ر نہیں ‘ آئندہ انتخابات میں عوام موجودہ اور ماضی کے تمام حکمرانوں کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے ووٹ کی طاقت سے انہیں مسترد کرتے ہوئے ایک نئی ‘ باصلاحیت اور دیانتدار قیادت کا انتخاب کریں تاکہ انہیں اور ان کے بچوں کو بھی برابری کی بنیاد پر حقوق مل سکیں اور وہ بھی ترقی کی دورڑ میں شامل ہو سکیں۔ مختلف عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے طاہرکھوکھر نے کہا کہ موجودہ روایتی ‘ موروثی سیاستدانوں ‘ حکمرانوں اور اجارا داروں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا وزراء صرف اپنے حلقوں اور عزیزو اقارب کو نوازنے میں مصروف رہے ‘ سرکاری نوکریوں کو صرف وزراء کے بھانجوں اور بھتیجوں کیلئے وقف کردیاگیاہے ‘ بیوروکریسی حکمران بنی بیٹھی ہے اور روایتی سیاستدان اپنے اقتدار اور اجارہ داری کو دوام بخشنے کیلئے آنکھیںبند کئے ہوئے ہیں ‘ حالانہ بیوروکریسی کاکام عوام کی خدمت ہے ‘بیوروکریٹ حکمران نہیں بلکہ عوام کے خادم ہونے چاہیں کیونکہ وہ عوام کے خون پسینے کی کمائی کے ٹیکسز سے تنخواہیںلیتے ہیںلیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب عوام خود اپنے نمائندوں کا احتساب نہیں کرتے اور باصلاحیت اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والی نئی قیادت سامنے نہیں لاتے ۔ طاہرکھوکھر نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ متوسط طبقہ کی سیاسی تحریک ہے جس نے سٹیٹس کو اور استحصالی طبقات کو عملی طور پر للکارا یہی وجہ ہے کہ آج تمام استحصالی طبقات ایم کیو ایم کو کچلنے کیلئے متحد ہو چکے ہیں اور ایم کیو ایم کیخلاف سازشوں کابازار گرم ہے لیکن اب ملک کے عوام باشعور ہوچکے ہیں اور وہ کسی کے پروپیگنڈا میں نہیں آئیں گے ۔ آج ایم کیو ایم کا منشور ملک کے ہر گلے کوچے اور گھر گھر تک پھیل چکا ہے اور عوام تبدیلی چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر کے عوام کو آئندہ انتخابات میں ایک موقع مل رہا ہے انہیںچاہیے کہ وہ روایتی سیاست اور سیاستدانوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے علم بغاوت بلند کریں اور ماضی کے آزمودہ تمام سیاستدانوں کامکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی صفوںمیں سے غریب اور متوسط طبقہ کے باصلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو منتخب کرتے ہوئے ایوانوںمیںبھیجیں تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں۔

الخدمت کراچی آرفن کئیر پروگرام کے تحت یوم حیاء منایا گیا


February 14, 2016 | 8:29 PM

فحاشی برائیوں کی جڑ ہے ،ہمیں اپنی نسلوں کو اس سے بچانا ہوگا ،یاسمین آصف
کراچی :( نیوزآن لائن)الخدمت کراچی آرفن کئیر پروگرام کے تحت کراچی کے دو مقامات پر یوم حیاء عنوان سے پروگرامات کا انعقاد کیا گیا ،پروگرامات میں اسکولوں کی آرفن بچیوں کے ساتھ دیگر لڑکیوں نے بھی شرکت کی ، نائب الخدمت کراچی خواتین یاسمین آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ فحاشی برائیوں کی جڑ ہے اور ہمیں اپنی نسلوں کو اس سے بچانا ہوگا ،انھوں نے کہا کہ ہماری نسلوں پر مغربی ثقافت مسلط کی جارہی ہے ،ہمیں اپنی ثقافت سے مغربی تہذیب کو دور رکھنا ہوگا ،میڈیا ہمارے ملک کا ایک اہم جز ہے میڈیا کو اس بے حیائی کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ،الخدمت کراچی آرفن کئیر شعبہ کا یوم حیاء کا انعقاد کرانا خوش آئندہ ہے ،انھوں نے بچیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ حیاء و شرم عورت کا زیور ہے ،ہمیں قرآن سنت کے مطابق اپنی ذندگی گزارنی چاہئے ہمیں ایسا بننا ہے کہ لوگ ہمارے پیچھے ہماری حیاء کی تعریف کریں ہمیں اس مغربی تہوار کی جگہ یوم حیاء منانا چاہئے تاکہ ہم مغرب کو بتا سکے کہ ہماری حیاء اور شرم کے آگے ان کی بے حیائی کے تہوار کوئی معنی ٰ نہیں رکھتے ،اس موقع پر نائب امیرضلع جنوبی خواتین نظم شہناز کمال اور خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی ،پروگرام کے آخر میں بچیوں میں اسکارف بھی تقسیم کئے گئے ۔

قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف محنت کش فیصلہ کن تحریک کا آغاز کریں گے۔ خیر محمد تونیو


20160103 NLF January 3, 2016 | 8:34 PM

چھ جنوری کو کراچی سٹی اسٹیشن پر محنت کشوں کا سمند امنڈ آئے گا۔
سراج الحق اور رانا محمود علی خان نجکاری کے خلاف محنت کشوں کو گائیڈ لائن فراہم کریںگے۔
کراچی:(نیوزآن لائن)قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف محنت کش پوری قوت کے ساتھ احتجاج کریں گے۔ 6جنوری کو نیشنل لیبر فیڈریشن کے تحت سٹی اسٹیشن کراچی میں ”اینٹی نجکاری مزدور کنونشن” محنت کشوں کی آواز ثابت ہوگا۔ یہ بات اینٹی نجکاری مزدور کنونشن کی تیاریوں کے سلسلے میں قائم کی گئی کمیٹی کے کنوینر خیر محمد تونیو نے پریم یونین ریلوے کے کراچی آفس میں پروگرام کی تیاریوںکا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر این ایل ایف صوبہ سندھ کے صدر سید نظام الدین شاہ، این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان، پریم یونین ریلوے کے صدر راجہ عبد المناف اور این ایل ایف کے مرکزی میڈیا ڈائریکٹر قاسم جمال بھی موجود تھے۔ خیر محمد تونیو نے کہا کہ اینٹی نجکاری مزدور کنونشن کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ پورے شہر میں پوسٹر، بینر اور اسٹیکر آویزاں کئے جارہے ہیں۔ مزدور کنونشن میں پاکستان اسٹیل، پی آئی اے، ریلوے، کے پی ٹی، شپ یارڈ، واٹر بورڈ، کے ایم سی سمیت کراچی کے صنعتی زونز سائٹ، کورنگی، لانڈھی، بن قاسم، نئی کراچی، فیڈرل بی ایریا اور نارتھ کراچی کے علاقوں سے ہزاروں محنت کش امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا ولولہ انگیز خطاب سننے کیلئے کنونشن میں شرکت کریں گے۔ مزدور کنونشن سے نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر رانا محمود علی خان، جنرل سیکریٹری حافظ سلمان بٹ، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، این ایل ایف سندھ کے صدر سید نظام الدین شاہ، این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان کے علاوہ واپڈا، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل، شپ یارڈ، واٹر بورڈ، کے پی ٹی، پی این ایس سی ودیگر اداروں کے مزدور رہنما خطاب کریںگے اور قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور کراچی سے قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف فیصلہ کن تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ 6 جنوری کو صبح 10 بجے کراچی سٹی اسٹیشن پر محنت کشوں کا سمندر امنڈ آئے گا۔ اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر رانا محمود علی خان قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف محنت کشوں کو گائیڈ لائن فراہم کریں گے اور محنت کش کسی قیمت پر قومی اداروں کی فروخت نہیں ہونے دیں گے اور کراچی سے خیبر تک محنت کش سڑکوں پر نکل کر نجکاری کے خلاف بھرپور طریقے سے احتجاج بلند کریں گے۔

طلبہ جدید علوم سے آراستہ ہوکر ملک کی فلاح و بہبود کے لیے محنت کریں، صدیق شیرازی


muslim student December 13, 2015 | 4:05 PM

ایم اس اوغربی زون کے یونٹ سعد بن معاز کے زیر اھتمام تربیتی نشست۔ترجمان ایم اس اوعنا یت اللہ فاروقی
کراچی ( نیوزآن لائن) طلبہ جدید علوم سے آراستہ ہوکر ملک کی فلاح و بہبود کے لیے محنت کریں،ان خیالات کا اظہار مسلم اسٹو ڈنٹس آرگنا ئزیشن کراچی کے نا ظم صدیق شیرازی نے اپنے بیان میں کیاجبکہ کراچی ڈویژن کے ذمہ دران وزیر گل ،عنا یت اللہ فاروقی اورغربی زون کے ناظم گلفراز صدیقی نے یونٹ سعد بن معاز کے زیر اھتمام تربیتی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اپنی پڑھائی کے ساتھ اسلا م کی عظیم ہستیوں کی سیرت کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کریں۔نشست میں یونٹ ناظم سعید الرحمن اور کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نشست کے آخر میں ملک کے امن و استحکام کے لیے دعا کی گئی۔

ن لیگ پاور پراجیکٹ کے نا م پر عوام سے جھوٹے وعدے کر رہی ہے ،صدر نصیر احمد


PPP-FLAG December 5, 2015 | 6:09 PM

لاہور:(نیوزآن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کے صدر نصیر احمد ، شیخ علی سعید، یامین خان آزاد، شبانہ اظہر چوہدری، اخترشاہ، رانا منیر احمد، حسن ایوب نقوی، نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ن لیگ پاور پراجیکٹ کے نا م پر عوام سے جھوٹے وعدے کر رہی ہے مسلم لیگ(ن) کے لیڈروں نے اقتدار میں آنے سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ وہ چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ کے بحران کو حل کر دینگے اور حل نہ کر سکنے کی صورت میں اپنا نام تبدیل کر لیں گے مسلم لیگ (ن) توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے اب تک جتنے منصوبے بنائے ہیں وہ کاغذی ہیں اور ابھی تک ان پر عمل درآمد شرو ع نہیں کیا گیا ساڑھے تین سال میں ایک یونٹ بھی پیدا نہیں کیا چند پراجیکٹ پر افتتاح کیا گیا ہے اور ان پر کام ابھی شروع نہیں ہوا اور ان افتتاحی منصوبوں کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کر دیئے گئے ہیں ۔ ساڑھے تین سال میں ایک منصوبہ جس کا لاگت 18 ارب روپے سے کم تھی لیکن اسے 54 ارب روپے سے زائد لاگت لگا کر مکمل کیا گیا لیکن وہ بھی چند دن چلنے کے بعد بند ہو گیا نندی پور پاور پراجیکٹ پاکستان کا میگا سکینڈل پراجیکٹ ہے پانی سے چلنے والی مشینری کو ڈیزل پر چلا کر خراب کر دیا گیا پھر اس پراجیکٹ کو ڈیزل پر منتقل کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کر دیئے گئے نا اہل اوراقربا پروری کے ذریعے لگائے گئے افسروں کی بدولت یہ پراجیکٹ پھر بند ہو گیا ہے اربوں روپے نندی پور کی نہر میں بہا دیئے گئے ہیں پاکستانی میڈیا اور غیر جانبدار حلقے اس پراجیکٹ میں اربوں روپے کی کرپشن پر شور مچا رہے ہیں لیکن نیب اور حکومتی اداروں کی خاموشی معنی خیز ہے نندی پور پاور پراجیکٹ بند ہونے سے سینکڑوں تیل لانے والے ٹرک کئی دنوں سے سڑک پر کھڑے ہیں اور ان کا روزانہ کروڑوں روپے کا کرایہ خزانے سے ادا کیا جا رہا ہے انہوں نے نیب سے مطالبہ کیا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ اور کاغذی منصوبوں کی تحقیقات کی جائے۔

حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں مل کر پاکستان کو تھیلے سیمیا سے محفوظ بنانے کی جدوجہد کریں


pic November 29, 2015 | 5:02 PM

تھیلے سیمیا فیڈریشن پاکستان کی دسویں سہ روزہ نیشنل تھیلے سیمیاکانفرنس اور ورکشاپ سے طبی ماہرین کا خطاب
کراچی:(نیوزآن لائن)جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے آغا نجم الدین آڈیٹوریم میںتھیلے سیمیا فیڈریشن پاکستان کی دسویںسہ روزہ نیشنل تھیلے سیمیاکانفرنس اور ورکشاپ تیسری روز بھی جاری رہی ،جس میں مختلف سائنٹیفک سیشنز ہوئے۔سائنٹیفک سیشن سے پروفیسر سلمان عادل،ڈاکٹر زاہد انصاری،ڈاکٹر طاہر شمسی،پروفیسر معین الدین،ڈاکٹر عاطفہ صہیب،پروفیسر محمد عرفان،ڈاکٹر بشریٰ معیزڈاکٹر فرخ،ڈاکٹر حسن عباس ظہیر،ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری،جنرل(ر) ڈاکٹر صہیب احمد،ڈاکٹر حسین جعفری،پروفیسر یاسمین راشد،پروفیسر جویریہ منان،ڈاکٹر بابر حسین،ڈاکٹر عادل اختر،ڈاکٹر شبنیز حسین،ڈاکٹر سعید احمد،ڈاکٹرمحمد عثمان،ڈاکٹر شاہتاز،ڈاکٹر شبنم بشیر،ڈاکٹر سرفرازحسین جعفری،پروفیسر ندیم صمد اور دیگر نے خطاب کیا۔
تین روز تک جاری رہنے والی کانفرنس میںتھیلے سیمیا اور امراض ِ خون کے قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے،جب کہ کانفرنس میں ملک بھر کے تھیلے سیمیا سینٹرز کے نمائندے اور تھیلے سیمیا کے بچے اور ان کے والدین بھی شریک ہوئے۔
طبی ماہرین نے تھیلے سیمیا کے علاج اور پری وینشن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ سے آٹھ ہزار تک تھیلے سیمیا کے مریض پیدا ہوتے ہیں اور اٹھانوے لاکھ کے لگ بھگ ایسے افراد موجود ہیں جو اس بیماری کو آگے بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ مرض جس تیزی سے پھیل رہا ہے،اس میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں مل کر پاکستان کو تھیلے سیمیا سے محفوظ بنانے کی جدوجہد کریں۔انہوں نے کہا کہ تھیلے سیمیا کے مریضوں میں ہر ماہ انتقالِ خون کی وجہ سے فولاد کا جمع ہونا خطرناک ہو سکتا ہے،جسم میں جمع فولاد کو نکالنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے،تھیلے سیمیا کے مریضوں کو دی جائے والی دوائوں کے بارے میں والدین کو مکمل آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے تھیلے سیمیا بچوں کے علاج کے سلسلے میں نامی دواپر اپنی تحقیق کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز میں تھیلے سیمیا کے ایک سو باون مریضوں میں سے اکتالیس فیصد کو خون چڑھانے کی ضرورت نہیں رہی، انتالیس فیصد مریضوں میں انتقالِ خون کی ضرورت نصف رہ گئی جبکہ بیس فیصد مریضوں میں اس دوا نے اثر نہیں کیا۔اس دوا کے استعمال کے بعد مریضوں میں خون نہ چڑھانے سے ان کی تلّی یا جگر کے حجم میں اضافہ بھی نہیں دیکھا گیا جبکہ چہرے کی بناوٹ میں بہتری، کھیل کود میں بچوں کی دلچسپی، بھوک اور وزن میں اضافہ دیکھا گیا۔انہوں نے شرکاء کا بتایا کہ اس دوا کے استعمال سے تھیلے سیمیا میجر کی ایک بچی کو خون لگنا بند ہوگیا تھا،اس بچی کی شادی بھی ہوئی اور اللہ نے اسے اولاد کی نعمت بھی دی۔

صحافیوں کو قتل، زخمی اور تشدد کا نشانہ بننے والوں کو پاکستان میں کبھی سزا نہیں دی گئی


November 1, 2015 | 4:01 PM

صحافیوں کو قتل، زخمی اور تشدد کا نشانہ بننے والوں کو پاکستان میں کبھی سزا نہیں دی گئی
پاکستان میں ذرائع ابلاغ سے وابستہ کارکنان کی حفاظت کے حوالے سے جاری ہونے والے ایک رپورٹ پاکستان میں صحافیوں کو درپیش عدم تحفظ کی بھیانک تصویر پیش کرتی ہے اور حکومت اور ذرائع ابلاغ سے موجودہ صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کا مطالبہ کرتی ہے کہ جہاں صحافیوں کو قتل، زخمی، زدوکوب کرنے یا دھمکانے والے کبھی سزا نہیں پاتے۔
ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کی حفاظت پر رپورٹ پاکستان پریس فانڈیشن (پی پیایف) نے ‘سزا سے بریت کے عالمی دن’ پر جاری کی ہے، جو بتاتی ہے کہ 2001 سے اب تک ذرائع ابلاغ سے وابستہ سینتالیس کارکنان قتل ہوئے جبکہ 164 زخمی، 88 زدوکوب، 21 اغوا اور 40 گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ 24 افراد خطرناک ذمہ داری انجام دیتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے 384 معاملات میں سے صرف دو ایسے ہیں جن میں کسی کو مجرم ٹھیرایا گیا۔
پاکستان میں صحافی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں، عسکریت پسندوں، قبائلی سرداروں اور جاگیرداروں اور ساتھ ساتھ جمہوریت و قانون کی حکمرانی کے دعویدار مذہبی گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں بھی قتل ہوئے، حبس بے جا میں رکھیگئے، زدوکوب کیے گئے اور مارے پیٹے گئے۔ یہ امر صورت حال کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتا ہے کہ صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے خلاف تشدد کے مرتکب یہ افراد پاکستان میں مقدمات سے مکمل چھوٹ حاصل ہے۔
ہنگاموں اور شورش کی وجہ سے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں قتل کے واقعات زیادہ ہیں۔ 2001 سے 21 صحافی اور ابلاغی کارکن بلوچستان میں،19 خیبر پختونخوا میں، 9 فاٹا اور 15 سندھ میں، 4 پنجاب اور 3 اسلام آباد میں مارے گئے۔
دھمکیوں اور تشدد نے کئی صحافیوں کو خطرات کے حامل علاقوں سے ہجرت کرنے اور پیشہ چھوڑنے پر مجبور کیا یا پھر متنازع علاقوں میں رہنے والے صحافیوں نے خود پر ہی سنسرشپ لاگو کردی۔ نتیجے میں ان علاقوں سے آنے والی خبریں آزاد صحافیوں کے مشاہدوں پر مبنی نہیں بلکہ محض خبری اعلامیوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شائع یا نشر ہونے والی خبروں کی کوئی ساکھ نہیں ہوتی اور وہ بامقصد انداز میں عوام کو اطلاعات فراہم نہیں کرپاتیں۔
عدالت میں مجرم قرار دیے جانے کے دونوں واقعات سندھ میں پیش آئے جہاں وال اسٹریٹ جرنل کے ڈینیل پرل اور جیو ٹیلی وژن کے ولی بابر کے معاملات حل ہوئے۔ دونوں معاملات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سنجیدگی سے پیروی کی کیونکہ انہیں مارے گئے صحافیوں کے ابلاغی اداروں کی جانب سے سخت دبا کا سامنا تھا۔ اس لیے رپورٹ نہ صرف ایسے واقعات کے فوجداری مقدمات درج کرنے کی تجویز دیتی ہے بلکہ ان کی مکمل تحقیق اور ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے مرتکب افراد کو مجرم قرار دینے کی تجویز بھی دیتی ہے۔ رپورٹ ذرائع ابلاغ کے اداروں سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائیں اور اداروں اور کارکنوں پر حملے کے مقدمات کی طویل عرصے تک پیروی کو یقینی بنائیں۔
قتل کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ سندھ میں پیش آئے۔ 2001 میں اب تک کل 164 صحافی اور ابلاغی کارکن زخمی ہوئے یا زدوکوب کیے گئے، جن میں سے 91 سندھ میں ہوئے۔ حیران کن طور پر 70 حملوں کے ساتھ ان زمروں میں دوسرا مقام اسلام آباد کا ہے، جس کی وجہ 2014 میں دھرنے کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کے خلاف بڑی تعداد میں ہونے والے حملے تھے۔ ذرائع ابلاغ سے وابستہ 48 افراد پنجاب میں، 23 خیبر پخونخوا میں اور 14 بلوچستان میں زخمی یا زدوکوبہوئے۔
ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے خلاف تشدد کے مرتکب افراد کو پکڑنے میں ہچکچاہٹ انتہائی بڑے واقعات میں بھی دکھائی دی جیسا کہ 2014 میں حامد میر پر قاتلانہ حملے، 2011 میں سلیم شہزاد اور 2006 میں حیات اللہ خان کے قتل کے معاملات میں۔ ان تمام واقعات کے بعد اعلی سطحی کمیشن تشکیل دییگئے لیکن نتیجہ صفر رہا۔
حامد میر کو اپریل 2014 میں کراچی میں حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں انہیں چھ گولیاں لگیں۔ حکومت نے حملے کے بعد قومی و بین الاقوامی غیظ و غضب کے نتیجے میں عدالتی کمیشن قائم کیا۔ کمیشن کو 21 دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی۔ لیکن اٹھارہ ماہ گزر چکے ہیں اور کمیشن نے اب بھی اپنی رپورٹ جمع نہیں کرائی۔ دریں اثنا، حامد میر اور دیگر صحافیوں کو بدستور دھمکیاں ملتی رہیں اور انہیں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا سامنا رہا۔ رپورٹ کمیشن کی رپورٹ کی فوری تکمیل کا مطالبہ کرتی ہے جو ذمہ داری پوری کرے اور منظرعام پر لائی جائے۔
جو واقعات بڑے پیمانے پر توجہ حاصل نہیں کر پائے انہیں تو مقامی سطح پر ہی دبا دیا گیا۔ اس کی ایک مثال 31 دسمبر 2013 کی شب باڈھ، لاڑکانہ میں قتل ہونے والے ‘اب تک’ ٹیلی وژن چینل کے رپورٹر شان ڈہر کی ہے۔ انہیں پشت پر گولیاں ماری گئی تھیں، جس کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا لیکن بروقت علاج فراہم نہیں کیا گیا یہاں تک کہ وہ یکم جنوری 2014 کو علی الصبحزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئیچل بسے۔ مقامی پولیس نے تحقیقات میں ان کی موت کو سالِ نو پر ہونے والی فائرنگ کا حادثاتی نتیجہ قرار دیا۔ البتہ اہلخانہسمجھتے ہیں کہانہیںمقامیہسپتالمیںجعلیادویاتکیاستعمالپربنائیگئیخبروںکیوجہسیہدفبنایاگیا۔ معاملے کی دوبارہ تفتیش کے بارہاوعدوںکیباوجود،جنمیںوزیراطلاعاتپرویزرشیدکیوعدیبھیشاملہیں،کوئیقدمنہیںاٹھایاگیا،نہصوبائیاورنہہیوفاقیحکومتکیجانبسے۔
رپورٹ زور دیتی ہے کہ آزاد ذرائع ابلاغ پاکستان میں جمہوریت، شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لیے ضروری ہیں جو زبردست اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر حملے کرنے والوں کو حاصل کھلی چھوٹ ملک میں آزاد صحافت کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا کررہی ہے۔

تاجر برادری ماہ رمضان کے صدقے قیمتوں کو اعتدال میں رکھے تاکہ غریب لوگ بھی عید کی خریداری با آسانی کر سکیں۔ فاروق احمد خان


Rashan Bags July 15, 2015 | 3:45 PM

بہاول پور:(نیوزآن لائن) رمضان المبارک انسانیت ،رواداری اور پیار محبت کا درس دیتا ہے مسلمان اس ماہ مقدس میں عبادت کے ساتھ ساتھ ایک دوسر ے کا دکھ درد بھی بانٹیں خاص طور پر کم وسیلہ لوگوں کی دامے درجے سخنے قدمے مدد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں ان خیالات کا اظہار چولستان ڈویلپمنٹ کونسل آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاروق احمد خان نے کچی بستی کے مستحق لوگوں میں پندرہ دنوں کے راشن پر مشتمل عید گفٹ بیگز تقسیم کرنے کے موقع پر کیا انہوں نے کہا کہ مخیر خواتین و حضرات ماہ مقدس اور عید الفطر کے حوالے سے ایسے لوگوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کریں جو ضروری وسائل کی استطاعت نہیں رکھتے اسی میں اللہ کی رضا اور خوشنودی شامل ہے ۔ فاروق احمد خان نے مزید کہا کہ تاجر برادری ماہ رمضان کے صدقے قیمتوں کو اعتدال میں رکھے تاکہ غریب لوگ بھی عید کی خریداری با آسانی کر سکیں اور ان کے بچے بھی عید کی خوشیاں منا سکیں ۔دریں اثناء چولستان ڈویلپمنٹ کونسل آف پاکستان کی ڈائریکٹر محترمہ رضیہ ملک نے نیو سنٹرل جیل بہاول پور میں قید خواتین اور بچوں میں کپڑے،چوڑیاں اور ہائی جینک کٹس تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو بھی عید منانے کا پورا پورا حق حاصل ہے جس کے لئے نہ صرف حکومتی سطح پر انتظامات کئے جانے چائیے بلکہ سول سوسائٹی کو بھی قیدیوں کی عید پر مسرت بنانے میں بھر پور معاونت کرنی چاہئے ۔ خاص طور پر قیدی خواتین اور بچے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو اپنے رویوں میں تبدیلی لاتے ہوئے سزا بھگت کر رہا ہونے والی خواتین کے ساتھ مثبت طریقے سے پیش آئے اور رہائی پانے والوں کی حوصلہ افزائی کر کے انہیں ایک بار پھر معاشرے کا مفید حصہ بننے میں مدد کریں۔

وفاقی حکومت نظام تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے کو شاں ہے ۔ میاں بلیغ الر حمٰن


bahawalpur April 27, 2015 | 3:41 PM

بہاول پور :( نیوزآن لائن) وزیر مملکت برائے تعلیم و داخلہ امور میاں بلیغ الر حمٰن نے کہا کہ وفاقی حکومت نظام تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے کو شاں ہے ۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی کی تجاویز اور سفارشات کو بھی مد نظر رکھا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ تمام صوبوں کی مشاورت سے یکساں نصاب کی تیاری کے لئے بھی کام جاری ہے ۔وزیر مملکت نے گزشتہ روز چولستان ڈویلپمنٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فاروق احمد خان سے بھاولپور ضلع میںانسانی تحفظ کے حوالے سے رپورٹ کی کاپی وصول کرتے ہوئے مزید کہا کہ چولستان ڈویلپمنٹ کونسل نے امن میرا حق مہم کے سٹیزن فرسٹ پروگرام کے تحت جو رپورٹ تیار کی ہے اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے خاص طور پر تعلیم کے حوالے سے جو جا ئزہ ، تجاویز اور سفارشات شامل ہیں ان سے بھر پور استفادہ کیا جائے گا۔ اور اس رپورٹ کو وزارت تعلیم کے تحت ہونے والی قومی تعلیمی کانفرنس میں بھی زیر بحث لایا جائے گا ۔جبکہ اس رپورٹ کی روشنی میں بھاولپور ضلع میں بھی ہر ممکنہ اصلاحی اقدامات عمل میں لائے جائیں گے ۔اس موقع پر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر چولستان ڈویلپمنٹ کونسل فاروق احمد خان نے کہا کہ اس رپورٹ کی تیاری میں تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ بہاولپور ضلع میں عوام کو مذکورہ شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں ۔ انہوں نے وزیرمملکت سے کہا کہ وہ رپورٹ کو حکومت کے پالیسی ساز اداروں تک پہنچا ئیں تاکہ فیصلہ سازی کے دوران اس میں موجود سفارشات کو زیر غور لایا جا سکے ۔خاص طور پر ضلع بھاولپور کے لئے تعلیم کا بجٹ بہت کم ہے ،جس کا محکمہ کی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے اس کے علاوہ اساتذہ کو عصری ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے مزیدیہ کہ سکولوں تک رسائی کو بھی بہتر بنایا جائے۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن محترمہ رضیہ ملک بھی موجود تھیں۔

آصف ہاشمی کو لاہور میں میرٹ پر بھرتیوں کی سزاد ی جا رہی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ


PPP flag 02 April 13, 2015 | 6:19 PM

لاہور:(نیوزآن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کے رہنما نصیر احمد، ممبر پنجا کونسل خالد بٹ، حسن ایوب نقوی نے اپنے مشترکہ بیان میں محسن شاہدرہ آصف ہاشمی کے خلاف سیاسی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آصف ہاشمی کو لاہور میں میرٹ پر بھرتیوں کی سزاد ی جا رہی ہے۔ آصف ہاشمی نے بطور چیئرمین شاہدرہ اور بادامی باغ میں سکول اور کالجز تعمیر کروائے۔ اہلیان شاہدرہ کا دیرینہ مطالبہ ٹول پلازہ کی منتقلی اور عوامی کارنامے سرانجام دئیے۔ آج بھی اہلیان شاہدرہ اور بادامی باغ آصف ہاشمی کو محسن شاہدرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اقتدار میں آکر عوامی خدمت کرنے والے نمائندوں کے خلاف سیاسی کارروائیاں کی ہیں۔ ملازمتیں دینے پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر قائدین سزائیں کاٹ چکے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کے قائدین ان سیاسی کارروائیوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آصف ہاشمی کے خلاف سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں اور آصف ہاشمی کو وطن واپس آنے کی اجازت دی جائے اور ریڈ وارنٹ ختم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کر سکیں۔

وزیراعلی سندھ کی کوآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق نادیہ گبول نے کراچی میں واقع خصوصی بچوں کے اسکول کا اچانک دورہ


Nadia gabol April 6, 2015 | 6:45 PM

کراچی(نیوزآن لائن) وزیراعلی سندھ کی کوآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق نادیہ گبول نے کراچی میں واقع خصوصی بچوں کے اسکول کا اچانک دورہ کیا اورانتظامیہ سمیت اساتذہ پر صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور بچوں کی غیرحاضری پر شدیدبرہمی کا اظہارکیا۔تفصیلات کے مطابق صوبائی کوآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق سندھ نادیہ گبول نے وزیراعلی سندھ کی ہدایت پر کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن کمپلکس اسکول کا اچانک دورہ کیا اوروہاں موجود انتظامیہ اوراساتذہ سے اسکول کے انتظامی اورتدریسی معاملات پر تفصیلی بریفنگ لی۔نادیہ گبول نے اسکول کی عمارت کا دورہ کیاا ور صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال اوربچوں کی غیرحاضری پرشدید غصہ اوربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ صفائی اور شعوراجاگر کرنے کے لیے خصوصی توجہ درکار ہے لیکن بچوں کی غیرحاضری ‘اساتذہ کی تعلیم کے فروغ کی طرف سے عدم دلچسپی کا اشارہ دیتی ہے جو کہ ناقابل برداشت بلکہ قابل سزا بھی ہے، اس قسم کی کوتاہی بالخصوص خصوصی بچوں کے ساتھ برداشت نہیں کی جائے گی اوروزیراعلی سندھ خود اس ضمن میں غیرذمہ دار اساتذہ کے خلاف ایکشن لیں گے۔نادیہ گبول نے اسکول میں موجود خصوصی بچوں کے ڈاکٹروں سے بھی ملاقات کی اور ان کوخصوصی بچوں کے لیے طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی۔ڈاکٹروں نے شکایت کی کہ اسکول کی گاڑیاں ناقابل استعمال حالت میں کھڑی ہیں جبکہ جو قابل استعمال ہیں وہ نجی کاموں کے لیے استعمال کی جارہی ہیں جس کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسکول میں موجود ڈائریکٹرجمنداس راٹھی اورڈپٹی ڈائیریکٹر عشق نے نادیہ گبول کوبتایا کہ اسکول گزشتہ کئی روز سے امتحانات کی وجہ سے بند تھا جس کے باعث بچے غیر حاضر ہیں تاہم صفائی ستھرائی کے نظام کو یقینی بنایا جائے گاجبکہ اسکول کا بجٹ ناکافی ہے اور اس میں اضافہ کی ضرورت ہے ۔نادیہ گبول نے اسکول انتظامیہ کو یقین دلایا کہ بجٹ کو حوالے سے وہ خود وزیراعلی سندھ سے بات کریں گی اورجلد از جلد اس اسکول کے لیے بجٹ دلوائیں گی۔انھوں نے کہا کہ خصوصی بچے خصوصی توجہ چاہتے ہیں ،ان بچوں میں ہی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جو دنیا میں ایسے کارنامے انجام دے جاتی ہیں جس پر دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ان بچوں کی رہنمائی کرنا اسکول سمیت معاشرے کے ہر طبقے کا فرض ہے۔

لائنز کلب انٹرنیشنل کے تعاون سے پنجاب میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔شیخ محمد ابراہیم


bahalpur news April 6, 2015 | 5:48 PM

بہاول پور (نیوزآن لائن)لائنز کلب انٹرنیشنل کے تعاون سے پنجاب میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔مخیر خواتین و حضرات زیادہ سے زیادہ لائنز کلب کی رکنیت اختیا ر کریں تاکہ پاکستان کے لوگ بھی عالمی سطح پر غیر سیاسی اور غیر ریاستی سرگرمیوں میں اپنا بھر پور کردار ادا کر کے ثابت کر سکیں کہ انہیں انسانیت کی فلاح و بہبود اور تعمیروترقی سے کس قدر دلچسپی ہے۔ ان خیالات کا اظہار لائنز ڈسٹرکٹ گورنر شیخ محمد ابراہیم نے بہاول پور چولستان لائنز کلب کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہاول پو رچولستان لائنز کلب کی صحت کے شعبے میں خدمات کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ ان خدمات کا دائرہ کا ر وسیع کر نے کے لئے جلد فری آئی کیمپس کا انعقاد کرنے کے علاوہ سرجری اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات کو توسیع دی جائے گی۔اپنے دورہ بہاول پور کے دوران اہل بہاول پور کی طرف سے ملنے والی محبت بھری پذیرائی زندگی بھر یاد رکھوں گا۔ اس موقع پر بہاول پور چولستان لائنز کلب کے جنرل سیکرٹری فاروق احمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لائنز کلب کے تحت دنیا بھر کی طرح بہاول پور میں بھی بلا کسی امتیاز ،رنگ و نسل ،مذہب و ملک ،علاقہ صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر کام کیا جا رہا ہے۔خاص طور پر صحت و تعلیم کے شعبوں میں حتی المقدور معاونت کی جارہی ہے۔ بہت جلد ضلعی انتظا میہ اور محکمہ صحت کے تعاون سے مختلف علاقوں میں فری آئی کیمپس لگائے جائیں گے۔جہاں آنکھوں کے آپریشن ، لینز کی تبدیلی، ادویات کی فراہمی اور آگاہی دی جائے گی۔لائنز ڈاکٹر جاوید اقبال نے مہمانوں کی آمد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ بہاول پور چولستان لائنز کلب کے عہدیداران اور ارکان اپنے کلب کو فعال کرنے کے لئے رکنیت سازی اور تربیت پر بھر پور توجہ دینے کا عہد کرتے ہیں ۔تقریب کی نقابت کے فر ائض سر انجام دیتے ہوئے لائنز ڈاکٹر منیر اظہر چوہدری اور محترمہ رضیہ ملک نے کہا کہ بہاول پور چولستان لائنز کلب کے تحت عام لوگوں کے سا تھ ساتھ خواتین اور بچوں کے مسائل کے حل کو فوکس کیا جا رہا ہے۔ تقریب میں لائنز کلب سے تعلق رکھنے والے زونل چئیرمین عبد المحسن شاہین،کیبنٹ سیکرٹری شفیع اللہ خان ،بہاول پور چولستان لائنز کلب کے چئیرمین ڈاکٹر طارق رانا ، آفتاب جدران ، عبدالحمید بلوچ، حبیب اللہ بھٹہ ،مسز حبیب اللہ بھٹہ ، پروفیسر ڈاکٹر محمد اصغر ہاشمی، مختار احمد فارانی ایڈووکیٹ، سید تنصیر الحسن ترمذی، وکلاء خواتین اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔لائنز ڈسٹرکٹ گورنر شیخ محمد ابراہیم نے لائنز کلب کے ارکان کو لائنز بیج لگائے اور سید عبداللہ تنصیر کو لائنز پیس ایوارڈ پیش کیا ۔اس کے علاوہ نو جوانوں پر مشتمل بہاول پور چولستان لیو کلب کے صدر تیمور خان اور جنرل سیکرٹری اویس بخاری سمیت دیگر عہدیداروں سے حلف لیا گیا ۔بعد ازاں مہمانوں کو اجرک اور پھول پیش کئے گئے ۔یاد رہے کہ لائنز کلب انٹرنیشنل دو سو گیارہ ممالک میں شاخیں ہیں جس کے ارکان دنیا بھر میں اپنے وسائل کے ساتھ فلاحی کاموں میں مصروف ہیں

‘روٹی ‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ پاکستان میں غربت کے خاتمے تک لگتا رہے گا۔ نادیہ گبول


Nadia-Gabol.1 March 30, 2015 | 7:56 PM

کراچی:(نیوزآن لائن) وزیر اعلیٰ سندھ کی کوآرڈینیٹر برائے انسانی حقوق نادیہ گبول نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم پاکستان و بانی و قائد پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی میں لیاری کے عوام روایتی طور پر بھرپور انداز میں شرکت کریں گے اور اپنے قائد کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کریں گے ‘ لیاری کی غیور عوام ذوالفقار علی بھٹوشہید سے محبت کرتی ہے اور ان کی فلاسفی پر کاربند ہے’روٹی ‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ پاکستان میں غربت کے خاتمے تک لگتا رہے گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری ایک بیان میں کیا ۔ نادیہ گبول نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو وہ سیاسی رہنما اور استاد ہیں جنہوں نے غریب عوام کو حق خود ارادیت کی مشعل دی ‘ بھٹو ازم سے دنیا میں کوئی بھی قوم یا طبقہ اپنے جائز حقوق کے لئے آواز اٹھا سکتا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف اس ملک کے عوام کو جگایا بلکہ مسلم ممالک میں ایٹمی طاقت بننے کی سوچ دے کر عالمی طاقت بھی بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بالخصوص لیاری کے عوام اپنے قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے اور اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لئے 4 اپریل کو لاڑکانہ کے علاقے گڑھی خدا بخش میں پیپلز پارٹی کی جانب سے منعقدہ تقریب میں بھرپور شرکت کریں گے اور دنیا کو بتا دیں گے کہ وہ آج بھی اپنے شہید قائد سے اتنی محبت کرتے ہیں جتنا پہلے کرتے تھے پاکستان میں اب تک کوئی بھٹو جیسا نڈر رہنما نہ آیا ہے اور نہ آئے گا ۔

پاکستانی ٹیم کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے پر نوجوانوں کی250فٹ طویل قومی پرچم کے ساتھ واک


final pic copy March 16, 2015 | 9:58 PM

کراچی (نیوزآن لائن) کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کا آئرلینڈ ٹیم کو شکست دے کر کواٹر فائنل کے لیے کوالیفائی ہونے پر کراچی کے نوجوانوں کی پاکستان سے دلی محبت کا اظہار کرتے ہوئے250فٹ طویل پاکستانی پرچم کے ساتھ کراچی کے مشہور ومعروف علاقے بہادرآباد چورنگی پر واک کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔یہ واک کراچی یوتھ کی جانب سے کی گئی ۔اس موقع پر واک کے منتظمین یوسف زئی ،جہانگیر شاکر اور محمد عدیل نے کہا کہ پاکستان ان دنوں دہشت گردی کے حوالے سے جن حالات سے گز رہا ہے ۔اس وقت پاکستان ٹیم کا ورلڈکپ میں جیت کر کواٹر فائنل تک پہنچنا کسی خوشی سے کم نہیں ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستانی ٹیم ضرور کرکٹ ورلڈ کپ جیت کروطن واپس لوٹے گی۔ ہم کراچی کے نوجوانوں کو اچھی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں کہ وہ بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب ہمارے ساتھ اس طرح کے پروگرامات میں شریک ہوں۔

کے الیکٹر ک کا کراچی کے صارفین پر مزید بوجھ ڈالنا ناقابل قبول ہے، وزیراعظم نوٹس لیں ۔ عمر غوری


Picture Urdu Caption March 16, 2015 | 3:00 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)عالمی یومِ صارفین2015 کے دن کے موقع پر زینب مارکیٹ سے کراچی پریس کلب تک واک کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوںسے گفتگوکرتے ہوئے چیئر مین کنزیو مرس آئی پاکستان عمر غوری نے وزیراعظم پاکستان او ر وزیر اعلیٰ سندھ سے کے الیکٹر ک کی جانب سے صارفین پر فیول ایڈجیسٹمنٹ مد میں اضافی بوجھ سے نجات کے لیے نیپرا پر دبائو ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے واک کا اہتمام کنزیو مرس آئی پاکستان،کنزیومر وائس پاکستان اور نیشنل سٹیزن فورم کی جانب سے مشترکہ طور پرکیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کے الیکٹر ک نے مبینہ طور پرصارفین کے بلوںمیں اضافہ کے لیے نیپرا کو سمری بھیجی ہے ۔جس پر 19مارچ کو فیصلہ متوقع ہے جو صارفین پر ظلم کے مترادف ہوگا صارفین پہلے ہی بلوں میں اضافہ کی مدمیںبھاری رقم ادا کر رہے ہیں۔ عمر غوری نے اس بات پر اپنی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ صارفین کو نہیں پہونچ رہا۔انہوںنے خبردارکیا کہ قیمتوں میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گااور کنزیو مرس آئی پاکستان،کنزیومر وائس پاکستان اور نیشنل سٹیزن فورم کی جانب سے اس پر بھرپور احتجاج کیا جائے گاچیئر مین کنزیو مرس آئی پاکستان عمر غوری نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی جانب سے گھی کی قیمتوں میں کمی کرانے کے لیے ان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ فی کلو15روپے کمی کو صارفین کے لیے اچھی خبر قرار دیا جس سے عام لوگو ں کو ریلیف ملے گا ۔ واک سے قبل شہرکے مختلف علاقوں میں عوامی شعور آگہی کے لیے صبح سے ہی مظاہرے منعقد کیے گئے جن میںصدر، ایمپریس مارکیٹ ، مزار قائد،اسلامہ کالج چورنگی،ایکسپوسینٹر، سیوک سینٹر ، ناظم آباد،فیڈرل بی ایر یا ، عائشہ منزل، نیوکراچی اور گلشن اقبال اتوار بازار شامل ہیں جہاںعالمی یومِ صارفین کے حوالے سے تشہیر ی مواد تقسیم کیا گیا جس میں عوام الناس نے اپنی بھر پور دلچسپی کا اظہار کیا۔ عمر غوری نے واک کے اغراض و مقاصد کے بارے میں بتایا کہ واک میںشامل تمام این جی اوس متحد ہو کر پاکستانی صارفین کے ساتھ ہونے والی ہر نا انصافی کے خلاف مشترکہ طور پر جدوجہد کریں گی اور پاکستانی بازاروں میں فروخت ہونے والی ملاوٹ شدہ۔ غیر رجسٹرڈ اور جعلی اشیاء کی تیاری اور درآمد بند کرائینگے۔کیونکہ یہ پاکستان کے عام لوگوں کی صحت و زندگی کا سوال ہے۔ عمر غوری نے صحافیوں کی سپورٹ اور ان کی صارفین کیلئے خدمات کو سراہتے ہوئے بھر پور خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی صارفین کا دن ہر سال 15 مارچ کو تمام دنیا میں منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کامقصد صارفین کو ان کے حقوق کے بارے میں خصوصی طور پر آگاہی دینا اور ان میں اپنے حقوق کے بارے میں شعور و آگہی پیدا کرناتھا ۔ چیئر مین ٹی سی ای پی عمر غوری نے اعلان کیا کہ سند ھ پروٹیکشن بِل کی منظوری کے تناظر میں” کنزیومر آئی پاکستان ،کنزیومر پرڈکٹس اینڈ سروسز کوالٹی کانفرنس “2015 کا انعقاد ورلڈکنزیومر رائٹس ڈے 2015 کے حوالے سے کررہی ہے جس میں پُورے پاکستان سے صارفین کے حوالے سے دلچسپی رکھنے والے زعمائ۔ کارپوریٹ سیکٹر کی شخصیات ، میڈیا کے نمائندے اور کنزیومر کے حوالے سے کام کرنے والی سرکاری آرگنائزیشنز شرکت کریں گی یہ کانفرنس نہ صرف مُلکی سطح پر شعورو آگہی کا ایک بڑا پلیٹ فارم ثابت ہوگی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا تشخص اُجاگر کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔اِس موقع پر واک سے خطاب کرتے ہوئے کنزیومر وائس پاکستان کے صدر راسم خان نے سندھ کنزیومر پروٹیکشن بِل کی منظوری کو سندھ کی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ اِ س بِل کی منظوری سے سندھ میں صارفین کی شکایات کے ازالہ کیلئے صوبے بھر میں کنزیومر کورٹ قائم کی جائیں گی اور اِس قانون کے تحت اشیاء و مصنوعات کی فروخت کے سلسلے میں کسی بھی تا جر یا کسی بھی دوسرے شخص کی جانب سے جھوٹی یا گمراہ کُن تشہیرپر قانون کے تحت تادیبی کاروائی ممکن ہوسکے گی خواہ تشہیر کیلئے وال چاکنگ ، سائن بورڈ، نیون سائن، پمفلیٹ کی تقسیم و اشاعت یا الیکٹرونک میڈیا کا سہارا لیا گیا ہوبِل کے بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے راسم خان نے کہا اِ س قانون کے تحت ایسی غیر معیاری اشیاء اور مصنوعات کی فروخت پر بھی کاروائی کے جائے گی جن پر انعامات یا دوسری مفت اشیاء کا لالچ دیا گیا ہو مزیداِ س قانون کے تحت اگر اشیا ء یا مصنوعات میں ملاوٹ یا ردوبدل پایا گیا تو سخت قانونی کاروائی ممکن ہو سکے گی ۔راسم خان نے صارفین سے درخواست کی کہ وہ اِس قانون سے بھر پور استفادہ کریں اور کسی بھی مشکل کی صورت میں کنزیومرس آئی پاکستان یا کنزیومروائس پاکستان ہیلپ لائن سروس سے ُرجوع کریں۔ واک سے خطاب کرنے والوں میںچیئر مین نیشنل سٹیزن فور م پاکستان کے سّید اقبال شہاب بھی شامل تھے ۔واک میں کثیر تعداد میں والنٹیرز نے شرکت کی ۔

شباب ملی کے تحت تھیلے سیمیا کے بچوں کو خون کی فراہمی کے لیے بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد


Shabab Mili Blood Camp March 9, 2015 | 9:10 PM

شباب ملی کے نوجوانوں نے انسانیت کی خدمت کا جو بیڑا اُٹھا یا ہے وہ قابل قدر اور لائق تحسین ہے ،محمد حسین محنتی
تھیلے سیمیا کے بچوں کو خون فراہم کر نے کے لیے معاشرے کے تما م طبقات کو اپنا کردار ادا کر ناچاہیے،حافظ نعیم الرحمن
کراچی :( نیوزآن لائن ) شباب ملی کراچی کے تحت شریف آباد کورنگی میں تھیلے سیمیا کے بچوں کو خون کی فراہمی کے سلسلے میں بلڈ ڈونیشن کیمپ لگایا گیا ،جہاں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص نوجوانوں نے بڑی تعداد میں اپنے خون کا عطیہ دیا ۔ جماعت اسلامی سند ھ کے نائب امیر محمد حسین محنتی ،کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن ،شباب ملی سندھ کے صدر عظیم بلوچ اور دیگر نے کیمپ کا دورہ کیا اور شباب ملی کی کوششوں اور کا وشوں کی تحسین کی ۔اس موقع پر شباب ملی کراچی کے صدر سیف الدین ،سیکریٹری نصر عثمانی ،انفارمیشن سیکریٹری معاذ لیاقت ،بلڈ ڈونر سو سائٹی کے انچارج محمد الیاس ،فیض احمد ،محمد آصف اور دیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد حسین محنتی نے کہا کہ کراچی میں جہاں ہر طرف بد امنی کا راج ہے ایسے میں شباب ملی کے نوجوانوں نے اپنے وقت کی قربانی دے کر انسانیت کی خدمت کا جو بیڑا اُٹھا یا ہے وہ قابل قدر اور لائق تحسین ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تھیلے سیمیا کے بچوں کو خون کی فراہمی کے لیے شباب ملی کے تحت لگایا جانے والا بلڈ ڈونیشن کیمپ معاشرے میں عطیہ خون کے رجحان کو فروغ دے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خون کے سب سے زیادہ مستحق تھیلے سیمیا کے بچے ہیں جن کی زندگی کا انحصار ہی انتقال خون پر ہے ۔جماعت اسلامی اس کار خیر کے انعقاد پر شباب ملی کے نوجوانوں کو مبارک باد پیش کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تھیلے سیمیا کے بچوں کو خون فراہم کر نے کے لیے معاشرے کے تما م طبقات کو اپنا کردار ادا کر ناچاہیے ۔عظیم بلوچ نے کہا کہ دکھی اور مصیبت زدہ افراد کی خدمت ہی انسانیت کی معراج ہے ،ہم اگر عطیہ خون کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوشش کریں تو کسی ضرورت مند کو ایک بوتل خون کے لیے پریشان نہ ہونا پڑے ۔

پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے اقلیتی برادری کو تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں بھرپور مواقع دیئے ہیں ۔ گیان چند اسرانی


Karachi-Sindh March 9, 2015 | 4:59 PM

صوبائی وزیر اقلیتی امور کی جام شورو کے اقلیتی برادری کے وفد سے ملاقات
کراچی :( نیوزآن لائن)صوبائی وزیر اقلیتی امور گیان چند اسرانی نے کہا ہے کہ سندھ میں آباد تمام اقلیتی برادری نہایت امن و سکون سے اپنے کاروبار زندگی کے امور نپٹا رہے ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے اقلیتی برادری کو تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں بھرپور مواقع دیئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اپنے دفتر میں ضلع جام شورو سے آئے ہوئے اقلیتی برادری کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔صوبائی وزیر نے وفد کے اراکین کو بتایا کہ موجودہ جمہوری حکومت نے پہلی مرتبہ ڈویژن کی سطح پر اقلیتی برادری کے فنڈز مختص کئے ہیں جبکہ اس سے قبل صوبائی سطح پر اقلیتی برادری کے لئے فنڈز کا اجراہوتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلابی اقدام کی وجہ سے سندھ میں آباد اقلیتی برادری کے مستحقین کے لئے فنڈز کا اجراڈویژن کی سطح پر ہوگا جس میں سکھر لاڑکانہ نواب شاہ حیدرآباد اور میرپورخاص کو منتخب کیا گیا ہے جہاں سے ملحق اضلاع اپنے اپنے ڈویژن سے رابطہ کرکے مستحق افراد تعلیم شادی اور گرانٹ کی مد میں رقم لے سکتے ہیں ۔ وفد کے اراکین نے صوبائی وزیر کی اقلیتی برادری کے لئے کی گئی خدمات کو سراہا اور صوبائی وزیر کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔

اصلاح کے ہرکام میں تعاون کریں گے الخدمت دیگر جیلوں میں بھی کام کر رہی ہے انجینئر عبدالعزیز


Graphic1 (1) February 23, 2015 | 3:53 PM

کراچی :( نیوزآن لائن)الخدمت کراچی اورسینٹرل جیل انتظامیہ کے اشتراک سے سینٹر جیل کراچی میں کمپیوٹر کورس مکمل کرنے والے قیدیوں میں سرٹیفیکیٹ کی تقسیم،جیل سپرنٹنڈنٹ قاضی نزیر،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل شاکر شاہ ،الخدمت کراچی کے جنرل سیکر ٹری انجینئر عبدالعزیز ، سینئر منیجر منظر عالم ، فواد شیروانی ،محمدآصف خان ،اور جیل انتظامیہ و دیگر موجود تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جیل سپرنٹنڈنٹ قاضی نزیر نے کہا کہ جیلوں کو جرائم کا ہیڈکوارٹر بنانے کے بجائے ووکیشنل ٹریننگ سینٹر بنانا چاہتے ہیں، ملک میں بڑی تعدادمیں نام نہاد این جی اوز کام کررہی ہیں مگر بہت سی ایسی این جی اوز ہیں جن کا نام میڈیامیں نہیں آتا اورنہ ہی ہمیں ان کاپتا ہے مگر اصل میں کام ہی گمنام این جی اوز کررہی ہیں جو مبارکباد کی مستحق ہیں۔انہوں نے کہاکہ قید ی ماضی کو بھول کرمستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔ انہوں نے مزید کہا جیلوں میں سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں، ہم ہرجائز کام میں تعاون کے لیے تیارہیں ۔ ، انہوں نے کہا کہ جیلوں میں اصلاحی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے الخدمت کے تعاون کے ساتھ کام جاری ہے ۔ا س موقع پر الخدمت کے جنرل سکریٹری انجینئر عبدالعزیز نے کہا کہ الخدمت زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے ،انھوں نے قیدیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ انسان خطاء کا پتلا ہے غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہے اپنی غلطیوں پر ہمیں اللہ سے سچے دل سے معافی مانگنی چاہئیں ، اور ہم اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر کرے ،انھوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ رہائی کے بعد ایک اچھے انسان کے ساتھ ملک اور قوم کی خدمت کرے گے ،الخدمت کراچی کے تحت لانڈھی جیل میں بھی کمپیوٹر سینٹر احسن طریقے سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے ،الخدمت بلا رنگ و نسل خدمت پر یقین رکھتی ہے ،انجینئر عبدالعزیز نے جیل سپرنٹنڈنٹ قاضی نزیر، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل شاکر شاہ کا الخدمت کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا کیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اس موقع پر مہمانوں نے کامیاب ہونے والے قیدیوں کو اسناد دیں، جبکہ انجینئر عبد العزیز نے کورس ٹرینراوجیل سپرنٹنڈنٹ قاضی نزیر ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل شاکر شاہ کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

پنجاب حکومت نے عوام دشمن پالیسیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم دشمن پالیسیوں پر بھی تیزی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے ، صدر نصیر احمد


PPP-FLAG1 February 9, 2015 | 6:15 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کے صدر نصیر احمد، عمر حیات تبسم، شیخ علی سعید، ڈاکٹر نوین بخاری ، عثمان الحق قریشی ، اختر حسین شاہ نے پی پی 137شاہدرہ میں نائب صدر لاہور میاں راشد کی رہائش گاہ پر اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے عوام دشمن پالیسیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم دشمن پالیسیوں پر بھی تیزی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے ، شاہدرہ میں بس سٹینڈ بنانے کی خاطر کئی تعلیمی اور تاریخی تعلیمی اداروں کو نیست و نابودکیا جارہاہے ، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن اور سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے انہیں گرایا جارہا ہے ، شاہدرہ جو کہ مسلم لیگ ن کی وجہ سے پہلے ہی پسماندگی کی صف میں شمار ہو رہا ہے اور اتنی بڑی آبادی کو تعلیم کی سہولتیں میسر نہ ہیں ، تعلیمی اداروں کا فقدان ہے ، ہزار وں لڑکے اور لڑکیاں صرف تعلیم حاصل کرنے کی خاطر شاہدرہ سے دور کئی کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے پر مجبور ہیں ، مسلم لیگ ن نے ہمیشہ شاہدرہ سے الیکشن جیت کر اسے پسماندہ رکھنے کی کوشش کی ہے ، پنجاب حکومت کے مشیر حکومت کو غلط گائیڈ کرکے اسے عوام میں غیر مقبول کر رہے ہیں ، تعلیمی اداروں کو گرا کر بچوں کے مستقبل کو دائو پر لگانا قابل مذمت فعل ہے، پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور شاہدرہ میں تعلیمی اداروں کو ختم کرکے بس اسٹینڈ بنانے کی مذمت کر تی ہے اور مطالبہ کر تی ہے کہ ان تعلیمی اداروں کو نہ گرایا جائے ان کی اپ گریڈیشن کی جائے اور بس اسٹینڈ کے لئے کوئی اور جگہ مختص کی جائے ، رہائشی علاقے میں بس اسٹینڈ بننے سے ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک کے بے شمار مسائل بھی پیدا ہو نگے انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر مسلم لیگ ن کی قیادت کو کہا کہ وہ شاہدرہ کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کردیں اور شاہدرہ کو بھی لاہور میں شمار کرکے ترقیاتی فنڈ دیئے جائیں تاکہ شاہدرہ کے عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں اور علاقہ کی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کے زیراہتمام سمیرا گل کی کتاب ”ہمارے رہنما” کی تقریب منعقد


PPP flag 02 February 2, 2015 | 7:43 PM

لاہور (نیوزآن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کے زیراہتمام پیپلز پارٹی راولپنڈی کی جنرل سیکرٹری محترمہ سمیرا گل کی کتاب ”ہمارے رہنما” کی تقریب رونمائی پریس کلب لاہور میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی مہمان خصوصی ڈپٹی سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی محترمہ شاہین کوثر ڈار تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ شاہین کوثر ڈار، آصف خان، محترمہ سمیرا گل، سہیل ملک، نصیر احمد، عمر حیات تبسم، خاور محمود کٹھانہ، فوزیہ چغتائی، غلام محی الدین دیوان، خالد بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک فکر اور سوچ کا نام ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ہمیشہ امن اور جمہوریت کا درس دیا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے بھی ڈکٹیٹروں سے بدلہ لینے کی بجائے جمہوریت بہترین انتقام کا نعرہ لگایا تھا اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنے منشور کو سوچ، فکر اور سٹڈی سرکل کے ذریعے آگے بڑھایا ہے۔ محترمہ سمیرا گل نے اپنی کتاب میں ان گمنام اور جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے اس ملک میں جمہوریت کی بحالی اور انسانی حقوق کے لیے نہ صرف جدوجہد کی ہے بلکہ قیدوبند کی صعوبتوں کے ساتھ ساتھ جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے ہیں۔ سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ محترمہ سمیرا گل نے ان سماجی کارکنوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جنہوں نے سماجی رویوں میں تبدیلی کے لئے انتھک کوششیں کی ہیں اور ان کی کوششوں سے عوام کا شعور بلند ہوا ہے۔ محترمہ سمیرا گل نے اپنی کتاب میں ان کارکنوں کا تذکرہ کر کے ان کی جدوجہد کو امر کر دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ کارکن ہی کسی بھی جماعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور کارکنوں کی جدوجہد کی بدولت ملک میں جمہوری کلچر پروان چڑھتا ہے اور آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ کارکنوں کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے اور اقتدار ملنے پر جمہوریت کے ثمرات ان تک بھی پہنچنے چاہئیں۔ تقریب میں شرکاء نے محترمہ سمیرا گل کی اس کاوش کو سراہا کہ انہوں نے کتاب لکھ کر ثابت کیا ہے کہ کارکن ہی پارٹی کا سرمایہ ہوتے ہیں اور پارٹی میں کارکنوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا ضروری ہے اور جو پارٹی کارکنوں کو بھول جاتی ہے وہ پارٹی سماج میں زندہ نہیں رہ سکتی۔

نا دیہ گبو ل نے ڈی ایم سی ملیر بن قا سم زو ن ،ٹا ئو ن ہیلتھ آفس اور اسکو لو ں کا اچا نک دورہ


SID-1 - 19-1-15 January 19, 2015 | 10:14 PM

کرا چی (نیوزآن لائن )وزیر اعلیٰ سندھ کی کو آر ڈینیٹر برا ئے انسا نی حقوق نا دیہ گبو ل نے ڈی ایم سی ملیر بن قا سم زو ن ،ٹا ئو ن ہیلتھ آفس اور اسکو لو ں کا اچا نک دورہ ،غیر حا ضر افسرا ن و عملہ صفا ئی ستھرا ئی کے نا قص انتظا ما ت پر شدید بر ہمی کا اظہا ر ، غیر حا ضر افسرا ن و عملے کے خلا ف تا دیبی کا روا ئی کی ہدا یت ۔نا دیہ گبو ل نے ضلع ملیر کے علا قے بن قا سم ،پپری سمیت ڈی ایم سی ملیر ،بن قا سم زو ن ،ٹا ئو ن ہیلتھ آفس اور اسکو لو ں کا اچا نک دو ر ہ کیا اور وہا ں غیر حا ضر افسرا ن و عملے پر شدید غصے کااظہا ر کر تے ہو ئے ان کے خلا ف تا دیبی کا ر وا ئی کر نے کا احکا ما ت بھی جا ر ی کئے ۔اس مو قع پر شہریو ں نے نا دیہ گبو ل سے عملے کی عدم دستیا بی سے متعلق شکا یا ت سے آگا ہ کیا ۔نادیہ گبول نے ٹاون ہیلتھ آفس میں جاری پولیو مہم کا بھی جائزہ لیا۔نا دیہ گبو ل کا کہنا تھا کہ ڈی ایم سی کا اچا نک دورہ وزیر اعلیٰ سند ھ کی ہدا یت پر منعقد ہو نے والی کھلی کچہری کی ایک کڑ ی ہے ،اس طر ح کی کھلی کچہریو ں سے سر کا ر ی دفا تر میںافسران اور عوام کے درمیان روابط کا پتہ چلتا ہے ،ان کا مزید کہناتھا کہ ملیر بھی کراچی کا حصہ ہے اس علاقے کے تمام مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ترجیہات میں سے ایک ہے۔ دفاتر میں متعلقہ افسران اور عملے کا نہ ہونا افسوس ناک ہے، اس سلسلے میں وزیر صحت، وزیر تعلیم سمیت وزیر اعلی سندھ کی توجہ اس جانب دلوائی جائے گہ تاکہ ان مسائل کا حل نکل سکے،انھوں نے کہا کہ علاقے کے غیرفعال شدہ اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی، کیوں کہ یہ ہمارے مستقبل کے معماروں کا سوا ل ہے، اور ہم اپنے بچوں کو اس طرح نہیں چھوڑیں گے۔

معاشرے میں جگہ جگہ انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں ہورہی ہیں جن کو اجاگر کرنا ازہد ضروری ہے،انیلا محمد انصاری


ppp flag December 8, 2014 | 5:34 PM

لاہور(نیوزآن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ پنجاب اور پی پی پی ہیومن رائٹس سیل پیپلز سیکریٹریٹ سندھ کے درمیان اشتراکِ عمل سے سرگرمیوں کی انجام دہی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس سیل پیپلز سیکریٹریٹ سندھ کی انچارج انیلا محمد انصاری کے اعزا زمیں لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ پنجاب اور لاہور کے عہدے داروں کی جانب سے عشائیہ دیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انیلا محمد انصاری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ و پنجاب کے انسانی حقوق ونگ اشتراکِ عمل سے آئندہ سرگرمیوں کو انجام دینگے تاکہ حقوقِ انسانی سے متعلق معاملات کو نمایا انداز میں اجاگر کیا جا سکے اور اس حوالے سے عوامی شعور کی بیداری ہو۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق ونگ پارٹی کی پالیسی میں رہتے ہوئے عوامی خدمت کی بہترین مثال قائم کرسکتا ہے۔ انیلا محمد انصاری نے مزید کہا کہ معاشرے میں جگہ جگہ انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں ہورہی ہیں جن کو اجاگر کرنا ازہد ضروری ہے اور ہم مل کر یہ فریضہ انجام دینگے۔انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ انسانی حقوق ونگ مدر تنظیم سمیت زیلی تنظیموں سے بھی روابط کو استوار کرے تاکہ پارٹی فعال انداز میں احسن کردار ادا کرسکے۔ پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ پنجاب کے سینیئر نائب صدر خاور کھٹانہ ایڈوکیٹ، لاہور ڈویژن کے صدر نصیر ملک، سیکریٹری اطلاعات مسرت صدیقی سمیت دیگر نے سندھ سے آنے والے رہنماؤں کو خوش آمدید کہتے ہوئے انیلا محمد انصاری کی تجاویز کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ پنجاب اور سندھ کے انسانی حقوق ونگ اشتراکِ عمل سے حقوق ِ انسانی کی سرگرمیوں کو فروغ دینگے اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق واقعات اور معاملات کو ملک گیر سطح پر اجاگر کیا جائیگا اور متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائینگے۔اس موقع پر انیلا محمد انصاری کو پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کی یک سالہ کارکردگی مشتمل تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ عشائیہ میں پیپلز پارٹی سینٹرل سیکریٹریٹ کراچی کے انچارج اظفر صدیقی اور پیپلز سیکریٹریٹ سندھ کے ترجمان منصور کھوکھر بھی موجود تھے۔

اجتماع عام میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت سے ثابت ہوجائے گا کہ وہ اسلامی پاکستان چاہتے ہیں۔سیف الدین


karachi October 27, 2014 | 8:20 PM

شہرکراچی جماعت اسلامی کا گڑھ ہے،اجتماع عام میں کراچی سے ہزاروں نوجوان شرکت کریں گے
کراچی بھر میں وال چاکنگ،بینرز،کیمپس لگائے جائیں گے،15نومبرکو خوشحال اسلامی پاکستان ریلی نکالی جائے گی۔شباب ملی
کراچی(نیوزآن لائن) شباب ملی کراچی کے صدر سیف الدین نے کہا ہے کہا ہے کہ اجتماع عام فرسودہ نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا،اجتماع عام میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت سے ثابت ہوجائے گا کہ وہ سیکولر یا سوشلسٹ پاکستان نہیں بلکہ اسلامی پاکستان چاہتے ہیں،کراچی شہرروز اول سے جماعت اسلامی کا گڑھ ہے،اجتماع عام میں کراچی سے ہزاروں نوجوان شرکت کریں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں ادارہ نورحق میں کراچی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اجلاس میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری اسمعٰیل بلوچ،سیکرٹری اطلاعات معاذلیاقت،اورضلعی صدور بھی شریک تھے،اجلاس میں اجتماع عام کے سلسلے میں اب تک کی گئی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں طے کیا گیا کہ کراچی بھر میں وال چاکنگ،بینرز،اورکیمپس لگائے جائیں گے اوراجتماع عام کے سلسلے میں 15نومبر کو خوشحال اسلامی پاکستان ریلی نکالی جائے گی،بعدازاں اجلاس سے خطاب میں سیف الدین نے مذید کہا کہ کچھ عناصر عوام کو سیکولر پاکستان کی طرف لے کرجانا چاہتے ہیں لیکن آج بھی عوام کے دل اسلام کے لئے دھڑکتے ہیں اور آج بھی کروڑوں پاکستانیوں کا ایک ہی نعرہ ہے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ۔اجتماع عام تحریک پاکستان کی یاد تازہ کردے گا اور اب اسلامی اور خوشحال پاکستان کی تحریک شروع ہوگی سازشی عناصر کوجان لینا چاہئے کہ اس ملک کی بنیاد لاالہ الااللہ پر رکھی گئی تھی اب عوام کومذید جھوٹے وعدوں اور لالی پاپس کی سیاست کے زریعے گمراہ نہیں کیا جاسکتا عوام جاگ چکے ہیں اور اجتماع عام میں دنیا بھی دیکھ لی گی کہ عوام کس کے ساتھ ہیں اور کونسا پاکستان چاہتے ہیں۔

ہڈیوں کے بھربھرے پن سے فریکچرز کی تعداد میں مسلسل ضافہ ہو رہا ہے


picture October 27, 2014 | 3:22 PM

آسٹیوپوروسس کے عالمی دن کے موقع پر ڈاکٹر پرواز انجم، صالحہ اسحق، شاہد نور، خوش بخت شجاعت اور دیگر کا خطاب
آگاہی ۔ اسکریننگ اور موثر علاج سے اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے
کراچی: (نیوزآن لائن) طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ہڈیوں کا بھربھرا پن بڑھتی عمر کی بیماری ہے لیکن یہ بچپن سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ بڑھتی عمر میں اس بیماری سے بچنے کے لیے بچپن سے ہی بچوں کوکیلشیئم اور وٹامن ڈی کا بھرپور استعمال کرایا جائے۔ بچوں کوخاص طور پر کالے رنگ کی کولڈ ڈرنکس کا استعمال ہرگزنہ کرایا جائے۔بچپن کا کھایا ہی عمر بھر کام آتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز موون پک ہوٹل میں آسٹیوپوریسس (ہڈیوں کا بھربھراپن) کے عالمی دن کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا انعقاد پاکستان آرتھوپیڈک ایسوسی ایشن اور پاکستان سوسائٹی آف رہیموٹالوجی نے کیاتھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی جبکہ تحریک نسواں کی شیما کرمانی اور متحدہ قومی موومنٹ کی رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت اعزازی مہمان تھیں۔ طبی ماہرین میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے آرتھوپیڈک ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اور پاکستان آرتھوپیڈک ایسوسی ایشن کے صدرپروفیسر پرویز انجم، آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی ڈاکٹر صالحہ اسحاق، ڈاکٹر مسعود عمر، لیاقت نیشنل اسپتال کے ڈاکٹر شاہد نور، کنسلٹنٹ ڈاکٹر محمد سعید، ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو، ڈاکٹر انتخاب توفیق اور ڈاکٹر محفوظ عالم شامل تھے۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ بچپن کا کھایا ہوا ہی بڑھاپے تک رہتا ہے۔پیدائش کے بعد سے ہی بچوں کو ماں کا دودھ ملنا چاہیے۔ اس کے بعد بڑی عمر میں ایک گلاس دودھ روزانہ اور وٹامن ڈی انتہائی مفید ہے۔ بچپن سے ہی خوراک متوازن رکھنی چاہیے۔پانی خوب پیئں، سوپ بھی انتہائی مفید ہے۔بچوں کو لازمی طور پر سبزیوں کا عادی بنائیں اور تلقین کریں۔ خوراک بہتر کریں۔ یہ رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ باہرسورج کی روشنی میں جسمانی سرگرمیوں کو بڑھائیں۔ بچے کھیلیں کودیں اور دوڑیں ، تب ہی ان کی ہڈیاں مضبوط ہوں گی۔ شہروں میں لوگ اکثر کمروں میں بند رہتے ہیں۔ بچوں کوبھی بند رکھتے ہیں۔ اسکول سے آنے کے بعد ٹیوشن، پھر قاری صاحب اور پھر وڈیو گیمزیا ٹی وی دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ روزانہ کم ازکم 20منٹ کی دھوپ ہر بچے اور بڑے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ علی الصبح سورج نکلتے ہی یا سورج غروب ہونے سے تھوڑا پہلے ورزش کرنی چاہیے۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ کسی تعلیمی ادارے کی کینٹین میں تازہ دودھ اور لسی نہیں ملتی بلکہ وہاں کولڈ ڈرنک باآسانی دستیاب ہوتی ہے۔ کالے رنگ کی کولڈ ڈرنک خوب پلائی جاتی ہے۔ طبی ماہرین نے مطالبہ کیا کہ کھانوں میں وٹامن ڈی اور کیلشیئم کو شامل کیا جائے۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ بغیر کسی وجہ سے ہڈیوں میں ہونے والے درد کونظر انداز نہیں کرناچاہیے۔ سوزش والی بیماریوں کی تشخیص عموما انتہائی مشکل ہوتی ہے اس لیے پہلی علامت پر ہی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن کی بیماری صرف خواتین کی نہیں ہے، یہ مردوں میں بھی ہوتی ہے۔دبلے لوگوں میں یہ زیادہ ہوتی ہے۔ 50 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کو اپنی ہڈیوں کا ڈیکسا اسکین کرانا چاہیے جس سے اس بیماری کی تشخیص میں بہت مدد ملے گی۔سادہ ایکسرے سے اس بیماری کا پتہ نہیں چلتا۔ عام ڈاکٹر یا جنرل فزیشن مریض کو درد کی دوا دیتا رہتا ہے جس سے تیزابیت اور اکثر مریضوں کے گردے خراب ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عام ڈاکٹرز صرف مریضوں پر اتنا احسان کریں کہ ہڈیوں کے بھربھرے پن کی بروقت اور صحیح تشخیص کریں اور ایسی دوا دیں جس سے بیماری سے فائدہ ہو اور بزرگوں کو فریکچرز سے بھی بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2050 تک پاکستان کی آبادی 30 کروڑ ہوجائے گی جس میں زیادہ تر لوگ 50 سال سے زائد کے ہوں گے۔ انہیں اچھا دودھ اور کیلشیئم دے کر ابھی سے اس بیماری سے بچانے کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک خاموش مرض ہے۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچ کر کولہے، کمر اور کلائی کے فریکچرز کو کم کیا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں عمررسیدہ افراد میں فریکچرز20فیصد اموات کے ذمہ دار ہیں جہاں بہترین علاج موجود ہونے کے باوجودفریکچر ہونے کے بعد انہیں نہیں بچایا جا سکتا ۔ طبی ماہرین نے کہا کہ ایک دو کے علاوہ کسی سرکاری اسپتال میں اس بیماری کی تشخیص کی سہولت موجود نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ اسپتالوں میں لاکھوں روپے کی روبوٹک سرجری کی مشینیں تو لگادی گئی ہیں لیکن ان جیسی بیماریوںکی تشخیص نہیں کی جارہی۔تقریب سے خطاب اور بعد میں صحافیوں سے گفت گو کرتے کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ دودھ اور گوشت کو ہر شہری کی پہنچ میں لانے کے لیے منافع خوروں کے خلاف جاری کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لوگوں کو تمام چیزیں سستی ملیں تاکہ وہ انہیں خرید کر اپنی صحت کو بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار میں شریک طبی ماہرین کی سفارشات پر بھی حکومت عمل کرے گی اور اس کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں گے۔تقریب سے خطاب اور بعد میں صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت نے کہا کہ اس مرض کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کچی آبادیوں اور غریب علاقے کی خواتین کو تو ان بیماریوں کے بارے میں بالکل پتہ ہی نہیں ہے۔ اس سلسلے کو ان آبادیوں تک لے جانا چاہیے۔ ان موضوعات پر ڈرامے بنانے کے ساتھ دستاویزی فلمیں بھی وہاں جا کر لوگوں کو دکھانی چاہیئں۔ خوش بخت شجاعت نے کہا کہ کالج اور اسکول کی سطح سے بچوں کو ان بیماریوں کی آگاہی دی جائے۔نصاب میں یہ چیزیں شامل کی جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزراء تعلیم کو خود بھی پہلی سے میٹرک تک کا نصاب پڑھنا چاہیے تاکہ انہیں پتہ چلا کہ نصاب میں کیا کمی ہے۔ لگتا ہے کہ لوگ وزیرتعلیم نہیں بلکہ زیرتعلیم ہیں۔ اسمبلیاں اس طرح کے کاموں کے لیے سب سے بہترین پلیٹ فارم ہیں لیکن اب تو وہاں صرف بکواس تقرریں اور گالیاں دینا ہی رہ گیا ہے۔ وہاں تو کبھی کوئی مثبت چیز دیکھی ہی نہیں ہے۔ سب اراکین اپنے مقصد کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ تحریک نسواں کی سرگرم رہنما اور کلاسیکل ڈانسر شیما کرمانی نے صحافیوں سے گفتت گو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ساری بیماریوں کا تعلق بھی غربت سے ہے۔بچوں کو دودھ اور گوشت مسلسل کھلانا اور پلانا بہت مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف یہی کہیں گی کہ والدین لڑکے اور لڑکی دونوں کو برابری کی سطح پر رکھیں اور کھلانے پلانے میں بھی کوئی امتیاز نہ کریں۔ شیما کرمانی نے کہا کہ وہ ان بیماریوں کے موضوعات پر بھی ڈرامے بنا کر پیش کریں گی تاکہ لوگوں کو آگاہی پیدا ہو۔ تقریب کے اختتام پر مقررین اور دیگر مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

ویمن رائٹرز فورم کے تحت خواتین رائٹرز میں یادگاری شیلڈز اور اسناد کی تقسیم


women writes September 15, 2014 | 7:00 PM

آرٹس کونسل میں رائٹرز کنونشن کا انعقاد ،حجاب کے عنوان پر مشاعرہ ، خواتین شعراء نے اپنا کلام پیش کیا 2013-14کی انعام یافتہ تحریروں کا اعلان ۔فرحانہ اورنگزیب ،عالیہ شمیم ،دردانہ صدیقی اور دیگر نے انعامات تقسیم کیے
کراچی:(نیوزآن لائن )ویمن رائٹرز فورم کراچی نے قلم کو ایک امانت و عبادت بناتے ہوئے ہمیشہ خواتین لکھاریوں کے لیے بامقصد نشستوں کا اہتمام کیا ہے ، خواتین لکھاریوں کی تحریروں کو سنوارنا ، بامقصد بنانا اور سچ کے ابلاغ کی روایت کو زندہ رکھنا فورم کا اولین مقصد ہے ،اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے سال 2013-14کے لیے ویمن رائٹرزفورم کراچی نے آرٹس کونسل میں رائٹرز کنوشن کا انعقاد کیا ۔کنونشن میں خواتین شعراء کے لیے حجاب کے عنوان پر مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی ۔خواتین شعراء نے اپنی نظموں اور شاعری کے ذریعے حجاب اور حیا کو اپنا فخر اور زیور قرار دیا ۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض روبینہ فرید نے انجام دیے ،مشاعرے میں حجاب عباسی ، سعدیہ حریم ، حاجرہ منصور ، اسماء صدیقہ ،ذکیہ فرحت ، حبیبہ فریال انصاری ، ساجدہ فرحین فرحی ،رومیصہ عبدالوہاب اور شمیم فاطمہ نے اپنا کلام پیش کیا ۔ کنونشن میں سال 2013-14کی انعام یافتہ تحریروں کا اعلان کیا گیا ،خواتین مصنفات میں یادگاری شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں ،معروف سماجی رہنما فرحانہ اورنگزیب ، عالیہ شمیم ،دردانہ صدیقی ،سحر حسن ، شہناز فیضی ،عقیلہ اظہر اور ثمرین احمد نے تحریری مقابلے میں کامیاب ہونے والی خواتین میں اسناد اور شیلڈز تقسیم کیں ، کہانی نویسی میں پہلا انعام نصرت یوسف ،دوسرا فرحی نعیم ،تیسرا فوزیہ خلیل نے حاصل کیا ، مضمون نگاری میں پہلا انعام حمیرا خالد ،دوسرا منیرہ عادل اور تیسرا ذکیہ فرحت نے حاصل کیا جبکہ شاعری میں شمیم فاطمہ کو خصوصی انعام دیا گیا ۔

الخدمت‘ مسلم ایڈاورقدوائی ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم


1234 (8) July 1, 2014 | 7:34 PM

الخدمت کے تحت امسال20ہزارسفید پوش خاندانوںمیں راشن اور عید گفٹ تقسیم کئے جائیں گے
رمضان المبارک نیکیوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ،ہمیں اس ماہ مبارک میں مستحق افراد کا بھر پور خیال رکھنا چاہیے ، مظفر احمد ہاشمی
کراچی : (نیوزآن لائن)الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کراچی نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی سفید پوش اور مستحق خاندانوں کی امداد کا عمل شروع کردیا ہے اس سلسلے میں مسلم ایڈ کے تعاون سے فاران کلب گلشن اقبال میںسیکڑوں مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا ،امسال 20ہزار خاندانوںمیں راشن اور عید گفٹ تقسیم کئے جائیں گے ، راشن بیگ میں آٹا، چاول، چینی، چائے کی پتی، دال چنا، دال مسور، بیسن ،گھی ، صابن اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔واضح رہے کہ الخدمت ہرسال رمضان المبارک میں نہ صرف بیوہ ، اوریتیم بچوں کی کفالت کے لیے بلکہ کم آمدنی والے مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کرتی ہے ،راشن تقسیم کرنے کی تقریب کے موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر مظفر احمد ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک نیکیوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ،ہمیں اپنی حیثیت کے مطابق مستحق افراد اور خاندانوںکی بھر پور مدد کرنی چاہئے ، رمضان المبارک میں اللہ نے اپنے ایک نیکی کے بدلے 70گنازیادہ اجر دینے کا وعدہ کیا ہے،الخدمت سفید پوش مستحق افراد کے لئے ہمیشہ سب سے آگے رہی ہے او ر راشن تقسیم کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ الخدمت کراچی کے جنرل سیکرٹری انجینئر عبدالعزیز نے ا س موقع پرکہاکہ الخدمت دکھی انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتی ہے ، معاشرے کے مجبور، بے کس اور بے سہارا افراد کوراشن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اورامسال ہم 20ہزار سے زائد مستحق خاندانوں کو راشن فراہم کریں گے تاکہ غریب و نادارخاندان نا صرف رمضان المبارک سکون سے گزارسکیں بلکہ عید کے موقع پر ان کے گھروں میں خوشیوں کا سما ہو۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت رمضان المبارک میں بڑے پیمانے پر مستحق خاندانوں میں راشن کی فراہمی، کراچی کے مضافاتی علاقوں اورسڑکوں پر مسافروں کے لیے افطارکا اہتمام، یتیم اور بے سہارابچوں کو عیدگفٹ تقسیم کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام الخدمت پر بھر پوراعتماد کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم اتنے بڑے پیمانے پر فلاحی کام انجام دیتے ہیں، انجینئرعبدالعزیز نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ د کھی انسانیت کی خدمت کے کام کو آگے بڑھانے اوربے کس وبے آسرا لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کے لیے الخدمت سے تعاون کریں اوراپنی زکوٰة اورعطیات الخدمت کو دیں ،اس موقع پر مسلم ایڈ کے بلال احمد صدیقی’قدوائی ویلفیئر ٹرسٹ کے آفتاب علوی اور دیگرنے خطاب کیا۔جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،الخدمت کراچی کے سینئر منیجر منظر عالم و دیگر بھی موجود تھے ۔#

ملک میں صرف 20فیصد افرادکو دانتوں کے علاج کی سہولت حاصل ہے


sm pic March 22, 2014 | 7:55 PM

ایف جے ڈی سی میں منہ کے امراض پر آگاہی سیمینار سے ڈاکٹر عارف علوی۔ ڈاکٹر ثاقب رشید، ڈاکٹر باقر عسکری کا خطاب
منہ کی صحت کا عالمی دن ہر سال سرکاری سطح پر منایا جائیگا
کراچی (نیوزآن لائن) پاکستان ڈینیٹل ایسوسی ایشن مرکز کے صدر ڈاکٹر ثاقب رشید نے کہا کہ پاکستان میں منہ کی صحت کے حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور صرف 20افراد کو دانتوں کے علاج اور منہ کے امراض کی سہولت حاصل ہے جبکہ 90فیصد افراد کو منہ، مسوڑھوں کے امراض لاحق ہیں۔اور انکا تعلق زیادہ تر دیہی علاقوں سے ہے۔ وہ گذشتہ روز منہ کی صحت کے حوالے سے عالمی دن کے موقع پر فاطمہ جناح ڈینیٹل کالج میں ایک رنگا رنگ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر ایف جے ڈی سی کے چیف ایگزیکیٹو ڈاکٹر باقر عسکری، معروف ڈینیٹل سرجن اور اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر طلباء وطالبات کے علاوہ اطراف کے پرائمری اور سکینڈری اسکولر کے طلبہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر عارف علوی جو ایف ڈی آ ّئی پاکستان کے نو منتخب کونسلر بھی ہیں نے کہا قومی اسمبلی نے اس سال ورلڈ اورل ہیلتھ ڈے دنیا کے ساتھ سرکاری طور پر منانے کا بل پاس کرلیا ہے اور اب پاکستان یہ دن بڑے پیمانے پر منائے گا تاکہ آگاہی بڑھ سکے۔اسکے علاوہ میڈیکل اینڈ ڈینیٹل ایکٹ بھی جلد پارلمنٹ میں پیش کیا جائیگا۔ انہوں نے قانون کی موجودگی کے باوجود پان، گٹکا، چھالیہ اور دیگر مضر اشیاء کی سرعام فروخت پر تشویش کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ ان پر سختی سے پابندی عائد کی جائے۔ڈاکٹر باقر عسکری نے کہا کہ ایف دے ڈی سی ہمیشہ میڈیکل اور ڈینیٹل ہیلتھ کے شعور بیدار کرنے کے لئے نمایاں رہا ہے۔ اور پورے سال یہاں مباحثے، آگاہی سیمینار روڈ سیفٹی وغیرہ منعقد کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منہ کا کینسر پاکستان میں دوسری عام بیماری بن گئی ہے اور ہر ایک ہزار میں ایک فرد اس بیماری کا شکار ہے۔ اور اسکی وجہ گٹکا، چھالیہ، مین پوری دودیگر زہریلی اشیاء ہیں۔ پروگرام میں اسکول کے طلبہ نے اس حوالے سے گانے، مزاحیہ خاکے پیش کئے اور پوسٹر ز، چارٹیس، ماڈلز اور ویڈیو فلموں کے ذریعے منہ کے امراض سے حفاظت کے لئے شعور بیدار کیا۔

مظفر گڑھ میں زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کا انصاف سے مایوس ہوکر خود کشی کرنا اور انتقال کرجاناکھلا قتل ہے، حق پرست رکن قومی اسمبلی کشور زہرا


MQM-flag-040413 March 14, 2014 | 8:23 PM

آمنہ نامی لڑکی کے ساتھ ہونے والادل خراش واقعہ درندہ صفت ملزمان کا قانون کی گرفت سے محفوظ رہنے کا شاخسانہ ہے
درد ناک واقعہ میں ملوث درندہ صفت ملزمان اور دیگر ذمہ دار عناصر کو فی الفور گرفتارکرکے عبرتناک سزا دی جائے
ایم کیوایم شعبہ خواتین کی انچارج و حق پرست رکن قومی اسمبلی کشور زہرا کا مظفر گڑھ واقعہ پر شدید اظہار مذمت
کراچی (نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ شعبہ خواتین کی انچارج و حق پرست رکن قومی اسمبلی کشور زہرا نے مظفرگڑھ میں ا آمنہ نامی لڑکی کو جتماع زیادتی کا نشانہ بنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور لڑکی جانب سے انصاف نہ ملنے پر تھانے کے باہر خود کو آگ لگا کر خود سوزی کرنے اور کئی گھنٹے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کرجانے پر گہرے دکھ اور افسوس کااظہار کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ایک لڑکی کا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننا تو ظلم تھا ہی مگر اس لڑکی کی جانب سے انصاف سے مایوس ہوکر خود کشی کرنا کھلا قتل ہے اور اس قتل کے ذمہ دار عناصر وہ ہیں جو معصوم لڑکی کو انصاف سے محروم اور درندہ صفت ملزمان کو تحفظ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی سے زیادتی، اس کی جانب سے خود سوزی کرنا اور پھر انتقال کرجانا انتہائی دل خراش اور درناک واقعہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں آج بھی بااثر افراد خواتین پر ظلم کررہے ہیں اور انہیں آبروریزی کا نشانہ بنا رہے ہیں اور آمنہ نامی لڑکی کے ساتھ ہونے والادل خراش واقعہ بھی درندہ صفت ملزمان کی قانون کی گرفت سے محفوظ رہنے کا شاخسانہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے خود سوزی کے بعد لڑکی کے انتقال پر اس کے تمام سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت وہمدردی کااظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ معصوم لڑکی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، سوگواران کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطاکرے اور جان دینے والی لڑکی کو انصاف کے حصول میں حائل تمام رکاوٹیں کو دور فرمائے۔ کشور زہرا نے وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہبا زشریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے مطالبہ کیا کہ مفظر گڑ ھ میں آمنہ نامی لڑکی سے زیادتی، اس کی جانب سے خود سوزی کرنے اور پھر انتقال کرنے کے واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیاجائے، اس میں ملوث درندہ صفت ملزمان اور دیگر ذمہ دار عناصر کو فی الفور گرفتار کیاجائے اور عبرتناک سزا دی جائے۔

نیفرولوجی ڈیپارٹمنٹ لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی کے تحت “ورلڈ کڈنی ڈے “پر تقریب کا انعقاد


PICTURE LNH & MC KARACHI -14-03-2014 March 14, 2014 | 6:33 PM

پاکستان میں دو کروڑ افراد گردوں کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں اور گردوں کے مریضوں کی تعداد میں سالانہ پندرہ سے بیس فیصد کا اضافہ ہورہا ہے۔طبی ماہرین
ملک میں اوسط بیس لاکھ کی آبادی گردوں کا صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جس کے باعث اکثر افراد اس مرض کی تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں
امراض سے متعلق آگاہی تقریبات سے جنرل پریکٹیشنر اور دیگر ڈاکٹرز کو بہتر سروسز مہیا کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا اور عام لوگوں کو گردوں کی بیماریوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرے گا۔ڈاکٹر سلمان فریدی
کراچی (نیوزآن لائن)لیاقت نیشنل ہسپتال کے ڈیپارٹمنٹ نیفرولوجی کے زیر اہتمام “ورلڈ کڈنی ڈے”کے موقع پر گردوں کے امراض سے عوامی اگاہی،احتیاطی تدابیر کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا تقریب میں ماہرین امراض گردہ لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی کے ڈاکٹر کنور نوید مختار،ڈاکٹر فرزانہ عدنان،ڈاکٹر نائلہ آصف اور ڈاکٹر شفقت وقار خانزادہ نے عوام کو گردوں کے مرض کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا تاکہ اس مرض سے احتیاطی تدابیر کے ذریعے بچا جاسکے اس موقع پر تقریب کی صدارت کرتے ہوئے لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان فریدی نے کہاکہ اس طرح کی آگاہی تقریبات جنرل پریکٹیشنر اور دیگر ڈاکٹرز کو بہتر سروسز مہیا کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا اور عام لوگوں کو گردوں کی بیماریوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرے گاانہوں نے کہاکہ لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی امراض سے متعلق عوامی شعور کی آگاہی کے لئے ایست تقریبات کا انعقاد کرتی رہے گی۔تقریب خطاب کرتے ہوئے ماہرین امراض گردہ نے کہاکہ ماہرین طب کے مطابق گردوں کے بیشتر امراض کی وجہ دنیا میں بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر اور شوگر کے مرض میں اضافہ ہے آج گردوں کا عالمی دن ہے اس دن کو منا نے کا مقصد دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے گردوں کے امراض کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہی دی جاسکے اور عوامی کی زندگیوں کو مہلک مرض سے بچایا جاسکے۔گردوں کے امراض سے متعلق عوام کو آگاہی فراہم کرتے ہوئے طبی ماہرین نے کہاکہ اقوام متحدہ کے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پچاس کروڑ سے زائد افراد گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں جن میں سالانہ آٹھ فیصد اضافہ ہورہا ہے گردوں کے امراض کے حوالے سے پاکستان کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے طبی ماہرین نے کہاکہ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ افراد گردوں کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں اور گردوں کے مریضوں کی تعداد میں سالانہ پندرہ سے بیس فیصد کا اضافہ ہورہا ہے ملک میں اوسط بیس لاکھ کی آبادی گردوں کا صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جس کے باعث اکثر افراد اس مرض کی تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں اور علاج و معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں گردوں کے مرض میں اضافہ ہورہا ہے ماہرین طب نے بتا یا کہ گردوں کا مرض عام طور پر تیس سے چالیس سال میں کی عمر میں ہوتا ہے۔اس موقع پر لیاقت نیشنل ہسپتال کے ذیز اہتمام گردوں کے مریضوں کا مفت ٹیسٹ اور ادویات تجویز کی گئی۔

سیلز و ڈسپلے سینٹر کے قیا م سے دیہی علا قو ں کی خوا تین کے بنا ئے ہو ئے دستکا ر ی کے نما نو ں کو نما ئش کا مو قع ملے گا۔رو بینہ قا ئم خا نی


rubina qaim SID-1 - 7-3-14 (1) March 7, 2014 | 7:08 PM

محکمہ تر قی نسوا ں اور سما جی ادا رہ ہو م نیٹ کے اشترا ک سے سیلز و ڈسپلے سینٹر کا افتتا ح
کراچی (نیوزآن لائن) سندھ کی وزیر تر قی نسوا ں،خصو صی تعلیم اور سما جی بہبو د رو بینہ سعا د ت قا ئم خا نی نے سیلز اینڈ ڈسپلے سینٹر (محکمہ تر قی نسوا ں)کا افتتا ح کر دیا۔سیلز اینڈ ڈسلپے سینٹر پر مختلف نو عیت کی نما ئشو ں کا انعقا د کیا جا تا ہے۔ڈسپلے سینٹر ایک معا ہدے کے تحت معرو ف سما جی ادا رے ہو م نیٹ اور محکمہ تر قی نسوا ں کے اشترا ک سے آگے بڑھے گا اور دیہی خوا تین کی فلا ح و بہبو د کے لئے مشتر کہ کا وشو ں کو برو ئے کا ر لا یا جا ئے گا۔اسکے علا وہ دیہی خوا تین کے بنا ئے ہو ئے دستکا ر ی کے نمو نو ں کی نما ئش کا بھی انعقا د کیا جا سکے گا جبکہ مزید خواتین کو مختلف امو ر میں تر بیت دیکر ہنر مند بنا یا جا ئے گا۔صو با ئی وزیر تر قی نسوا ں نے میڈیا کے نما ئندو ں سے گفتگو میں کہا کہ ایسے سینٹر ز سندھ کے دیگر اضلا ع میں بھی قائم ہو نے چا ہئے اور پبلک پرا ئیو یٹ پا ر ٹنر شپ کے تحت مشتر کہ کا وشو ں کا دا ئرہ وسیع ہو نا چا ہئے۔انہو ں نے کہا کہ ان سینٹر ز کے قیا م کا مقصد یہ بھی ہے کہ دستکا ر خوا تین کو ما ر کیٹ میں برا ہ را ست رسا ئی حا صل ہو اور مڈل مین کا کر دا ر ختم ہو تا کہ یہ خوا تین زیا دہ منا فع حا صل کر سکیں اور معا شی بحرا ن سے نکلیں۔صو با ئی وزیر نے محکمہ اور ہو م نیٹ کی کا وش کو سراہتے ہو مزید کہا کہ غریب خواتین کی فلا ح کے لئے تما م کا وشو ں کو برو ئے کا ر لا یا جا ئے۔اس مو قع پر دیگر کے علا وہ سیکریٹری محکمہ تر قی نسوا ں ڈا کٹر بد ر جمیل،ڈپٹی ڈائریکٹر مسر ت جبین،صو با ئی وزیر کی کو آر ڈینیٹر انیلا اور ہو م نیٹ کی نذہت شریں بھی مو جو د تھیں۔

خوا جہ سرا معا شر ے کا حسا س طبقہ ہیں،حکو مت نے ان کے لئے سر کا ر ی ملا زمتو ں کا 2فیصد کو ٹہ مختص کیا ہے۔ رو بینہ سعا دت قا ئم خا نی


SID-2- 30-01-2014 January 30, 2014 | 8:20 PM

کراچی(نیوزآن لائن) سندھ کی وزیر سما جی بہبو د،تر قی نسوا ں اور حقوق تعلیم رو بینہ سعا دت قا ئم خا نی نے کہا ہے کہ عوا می حکو مت معا شر ے کے تما م طبقا ت کو انکے حقوق کی فرا ہمی کے لئے ہر ممکن اقدا ما ت کر رہی ہے۔خوا جہ سرا معا شر ے کا حسا س طبقہ ہیں،حکو مت نے ان کے لئے سر کا ر ی ملا زمتو ں کا 2فیصد کو ٹہ مختص کیا ہے اور وعدے کے مطا بق انہیں ملا زمتیں فرا ہم کی جا رہی ہیں۔ابتدا ئی مرا حل میں یہ کنٹریکٹ ملا ز مین ہیں اور بعد میں ان کو مستقیل کر دیا جا ئے گا۔وہ اپنے دفتر میں خوا جہ سرا ؤ ں کنٹریکٹ ملا زمتو ں کے آرڈر دینے کی تقریب میں موجود صحا فیو ں سے گفتگو کر رہی تھیں۔صو با ئی وزیر نے کہا کہ عوا می حکو مت کی کو شش ہے کہ مشکل معا شی حا لا ت کے با وجو د معا شر ے کا کو ئی طبقہ نظر اندا ز نہ ہو اور انسا نی ہمدردی و انسا نی حقوق کے تقاضو ں کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام طبقا ت فکر کو مرا عا ت میسر آئیں۔صو با ئی وزیر نے مزید کہا کہ فی الحا ل تو یہ ملا زمتیں فرا ہم کی جا رہی ہیں تا ہم ہما ر ی کو شش ہو گی کہ مستقبل میں اس کو ٹہ میں اضا فہ کیا جا ئے،شی میل کی شکا یا ت کا ازا لہ ہو۔شی میل کی نمائندگی کر نے وا لے افعی نے ملا زمتو ں کی فرا ہمی پر صو با ئی وزیر اور متعلقہ حکا م سے اظہا ر تشکر کر تے ہو ئے محکمہ سما جی بہبو د کے ذمہ دا رو ں کی تعریف کی اور یقین دلا یا کہ خو اجہ سرا برا دری کا تعا ون حکو مت کے سا تھ ہے۔

کو ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی تقریب رونمائی روکنے پر عمران خان بر ہم


221627-iammalalabookfreedownload-1390898522-581-640x480 January 28, 2014 | 2:34 PM

پشاور (نیوزآن لائن)خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور یونیورسٹی میں ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی تقریب رونمائی رکوا دی ہے جبکہ عمران خان نے صوبائی حکومت کے اقدام پر عمران خان بر ہم ہو گئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فیصلے پر برہمی کا اظہار کردیا ہے۔تفصیلات کے مطا بق ملالہ یوسف زئی کی کتاب ”آئی ایم ملالہ“ کی تقریب رونمائی پشاور یونیورسٹی میں ہونا تھی اور اس کا اہتمام باچا خان ایجوکیشن فاونڈیشن اورایک غیر سرکاری تنظیم نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں تاہم عین وقت پر صوبائی وزیراطلاعات شاہ فرمان اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے تقریب روکنے کے احکامات جاری کردیئے۔اس کا مقصد کتاب پر طلبا کے درمیان بحث و مباحثہ تھا تاہم صوبائی حکومت نے اس کتاب کی تقریب رونمائی رکوادی جبکہ پولیس نے بھی تقریب کے لئے سیکیورٹی دینے سے بھی انکارکردیا۔دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی ہی جماعت کی حکومت کے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے اور وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کتاب کی رونمائی پر پابندی کیوں لگائی گئی ہے۔اس سلسلے میں صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان کا کہنا ہے کہ کتاب کا یونیورسٹی کی نصابی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں اگر ہم نے کتاب کی رونمائی کی اجازت دی تو ایک نیا پینڈورا بکس کھل جائے گا، پشاور یونیورسٹی میں کتاب کی تقریب پر پابندی نہیں لگائی گئی، وہ جہاں چاہیں اور جب چاہیں کتاب کی رونمائی کرلیں لیکن کسی تعلیمی درسگاہ کو اس کے لئے استعمال نہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کو سیاق و سباق کا علم نہیں تھا اس لئے انہوں نے اظہار افسوس کیا ہے لیکن اب انہیں تمام صورتحال کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لئے معاشرے میں بسنے والے ہر فرد کو اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔ غلام حیدر جیلانی ایڈیشنل آئی جی


PICTURE RELEASE SPARC Khi Dated-20-12-2013--- December 20, 2013 | 6:41 PM

شعور کی بیداری کے ذریعے ہم اپنے معاشرے میں سدھار لاسکتے ہیں،بچوں کے حقوق سے متعلق پولیس ٹریننگ کورس میں شامل کرلیا گیا ہے
جونائیل جسٹس سسٹم پر عمل کرتے ہوئے ملزم بچے کو قانونی امداد کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری جو کہ درست طریقے انجام نہیں دیا جارہا ہے۔ناظرہ جہاں
اسپارک کے زیر اہتمام چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ سے مقررین کا خطاب سندھ بھر سے پولیس افسران کی شرکت
کراچی (نیوزآ ن لائن) ایڈیشنل آئی جی غلام حیدر جیلانی نے کہا کہ معاشرے میں سدھار لانے کے لئے مستقبل کے معماروں کو درست رہنمائی ضروری ہے بچوں کے حقوق کے لئے معاشرے میں بسنے والے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا شعور کی بیداری کے ذریعے ہم ہر سطح پر معاشر ے میں سدھار لاسکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے بچوں کے حقوق کی جدو جہد میں سرگرداں (اسپارک) کے زیر اہتمام چائلڈ رائٹس پورٹیکشن کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ورکشاپ سے منیجر اسپارک ناظرہ جہاں،سجاد چیمہ اور ڈاکٹر فاخر سہیل نے بھی خطاب کیا۔غلام حیدر جیلانی نے کہا کہ بچوں کے حقوق سے متعلق معلومات کے فقدان کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں بیرون ممالک میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے سخت قوانین ہیں بچہ ماں باپ کا نہیں بلکہ اسٹیٹ کا ہوتا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری اسٹیٹ کی ہے انہوں نے کہاکہ اسپارک کی کوشوں سے بچوں کے حقوق سے متعلق آگاہی کے سلسلے میں پولیس ٹریننگ کورس میں چائلڈ رائٹس کے حوالے سے معلومات کو شامل کیا گیا ہے۔ایڈیشنل آئی جی غلام حیدر جیلا نی نے بتا یا کہ سندھ بھر کے تھانوں میں چائلڈ رائٹس ڈیسک کا قیام عمل میں لاچکے ہیں ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اسپارک کی مینجر ناظرہ جہاں نے کہاکہ بچوں کے حقوق سے متعلق اسپارک کی جد وجہد سے آگاہ کیا انہوں نے بتا یا کہ اسپارک پورے ملک میں بچوں کے حقوق سے متعلق کام کررہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں انہوں نے جونائیل جسٹس سسٹم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملزم بچہ کو قانونی امداد کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اس موقع پر سجاد چیمہ نے بچوں کے حقوق سے متعلق قانونی سقم پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ بچوں کے لئے FIRنہیں بلکہ SIR(شوشل انوسٹی گیشن رپورٹ)درج کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ اگر کوئی بچہ جو سزائے موت اور عمر قید کے جرم کے علاوہ دگر جرم کی پاداش میں جیل میں چار ماہ سے قید ہو اسکا ٹرائیل مکمل نہ ہوا ہو تو وہ ضمانت پر رہا کردیا جائیگا۔انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی وہ ملزم بچے کا نام اور تصویر ٹی وی اور اخبارات میں شائع نہ کریں تاکہ یہ بچے قید سے رہائی کے بعد معاشرے کا حصہ بن سکیں۔ورکشاپ میں ڈاکٹر فاخر سہیل نے بچوں کے حقوق اور متعلقہ قانون سے متعلق پولیس افسران کے سوالات کے جوابات تفصیلی سے دیئے ورکشاپ کے اختتام پر ورکشاپ میں شریک پولیس افسران کو اسپارک کی جانب سے تعریفی اسناد پیش کئے گئے۔

ایدھی سینٹر میں موجود بچوں کے اہل خانہ کی تلاش میں محکمہ انسانی حقوق ہر ممکن جدوجہد جاری رکھے گا۔ نادیہ گبول


SID-2 - Nadia Gabol - 2-12-13 December 2, 2013 | 7:49 PM

محکمہ انسانی حقوق سندھ اور ایدھی سینٹر کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجہ میں 4 بچوں
کے اہل خانہ کو تلاش کرکے بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کردیا گیا۔
کراچی(نیوزآن لائن ) وزیر اعلیٰ سندھ کی کوآرڈینیٹر برائے انسانی حقوق نادیہ گبول نے آج اپنے دفتر میں ایدھی سینٹر ”اپنا گھر“ میں موجود چار بچوں کے والدین کو تلاش کرکے بچوں کو ان کے والدین کے سپرد کردیا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ انسانی حقوق سندھ‘ ایدھی سینٹر میں موجود بچوں کے اہل خانہ کی تلاش میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ نادیہ گبول نے بتایا کہ گھروں سے لاپتہ بچوں کی بازیابی اور ان کے والدین کو رہنمائی فراہم کرنے میں محکمہ انسانی حقوق اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ انسانی حقوق اور ایدھی سینٹر کی مشترکہ کاوشوں کے باعث بچوں کے والدین کی تلاش کا کام پایہ تکمیل تک پہنچا ہے اور مزیدبچوں کے والدین کی تلاش کا کام بھی جاری ہے۔
اس موقع پر ثناء عمر 9 سال دومہینہ قبل ضیاء کالونی کورنگی سے لا پتہ‘ ثمینہ عمر 5 سال دو سال سے منگھوپیر سے لاپتہ‘ نور عمر 8 سال ایک سال سے مچھر کالونی سے لاپتہ اور رابعہ عمر 22 سال جو کہ دماغی توازن کی خرابی کے باعث آگرہ تاج کالونی سے ایک ماہ سے لاپتہ تھی‘ ان چاروں کو ایدھی سینٹر ” اپنا گھر“ کی انچارج ڈاکٹر فرحانہ کی موجودگی میں ان کے والدین کے سپرد کردیا گیا۔

اربوں روپے کے ٹیکس ادا کرنے والے تاجروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔مولانا فضل الرحمن


jui September 30, 2013 | 10:20 PM

شیخ منظر عالم پر حملہ بزدلانہ فعل ہے۔ مولانا عبد الغفور حیدری،سینیٹر حاجی غلام علی، ڈاکٹر خالد سومروودیگر کا مشترکہ بیان
کراچی(نیوزآن لائن) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن، مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری، سابق صدر ایف پی سی سی آئی سینیٹر حاجی غلام علی، سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل سابق سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو اور سیکرٹری اطلاعات محمد اسلم غوری نے اپنے ایک مشترکہ اخباری بیان میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مجلس قائمہ امور برائے پریس اینڈ میڈیا کے چیئر مین کاٹی کے سابق چیئر مین شیخ منظر عالم پر حملے کی شد ید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں آپریشن کے باوجود،ڈاکٹرز، پروفیسرز، وکلا ء، پولیس افیسران اور تاجروں سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں ہے لگتا ہے کہ پولیس اور رینجرز کو وہ اختیارات نہیں دیئے گئے۔ جن کی باز گشت پچھلے دنوں سنی جا رہی تھی۔اور یہ ادارے اب بھی آزادی سے اپنا کام نہیں کر رہے ہیں کراچی کے حالات میں بہتری عارضی نظر آرہی ہے۔معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اور اگر اس شعبے کو نقصان پہنچایا جائے تو پھر اس ملک کا کیا انجام ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ کراچی سے تاجروں کی بیرون ملک روانگی اور انڈسٹریز کی منتقلی اسی سلسلے کی کڑی ہے اس ملک کو اربوں روپے ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں کو اگر ہم حفاظت کا احساس نہ دلا سکے تو پھر اس ملک کی بہت بڑی بد قسمتی ہو گی۔
اُنہوں نے کہا کہ فیڈریشن آف چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری پوری دنیا میں پاکستانی تاجروں کی پہچان ہے۔ اور اگر اس کے کسی بھی رہنما کو خدا نخواستہ نقصان پہنچا تو پھر پوری دُنیا میں پاکستانی قوم کی رُسوائی میں اضافہ ہوگا۔ اُنہوں نے سندھ حکومت سے کہا کہ وہ تاجروں کی حفاظت کا خصوصی بندوبست کرے اور انہیں سیکورٹی فراہم کرے۔اُنہوں نے آخر میں شیخ منظر عالم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اُسے بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے اُن کی صحت یابی کیلئے خصوصی دُعا کی اور کہا کہ شیخ منظر عالم کی سیکورٹی بڑھانے کے علاوہ ملزمان کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دیجائے۔

محکمہ سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کی زیر تکمیل اسکیموں کو جلد از جلد مکمل کیا جا ئے ۔ روبینہ سعادت قائم خانی


rs-sindh-5 September 16, 2013 | 8:53 PM

کراچی (نیوزآن لائن) سندھ کی وزیر ترقی نسواں ، سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم روبینہ سعادت قائم خانی نے محکمہ سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کی زیر تکمیل اسکیموں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور محکمہ سماجی بہبود کے بہبود اطفال یونٹ میں افسران کی نااہلی کا نوٹس لیتے ہوئے کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ وہ اپنے دفتر میں متعلقہ محکموں کے افسران سے گفتگو کررہی تھیں روبینہ سعادت قائم خانی نے کہا کہ خصوصی افرادکی بہبود اور انہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تربیت دے کر ہنرمند بنانے کے حوالے سے حکمت عملی وضع کی جائے اور ایسی اسکیمیں مرتب کی جائیں جن سے براہ راست خصوصی افراد کوفائدہ پہنچے ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ اسکیمیں حکومت سے منظور کروائیں گی اور انشاء اللہ بہترین نتائج برآمد ہوں گے ۔ علاوہ ازیں محکمہ سماجی بہبود کی صوبائی رابطہ کار سیدہ نزہت فاطمہ سے ایک علیحدہ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے روبینہ سعادت قائم خانی نے کہا کہ لاوارث اور یتیم بچے ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں اس تناظر میں محکمہ کے بہبود اطفال یونٹ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور افسران اپنی روش تبدیل کریں ، صوبائی وزیر نے کہا کہ لاوارث بچوں کو انتہائی توجہ دے کر کارآمد بنایا جاسکتا ہے ۔ اس تناظر میں یونیسیف مختلف اسکیموں پر کام کررہی ہے ۔ محکمہ سماجی بہبود اور یونیسیف اشتراک عمل سے کارکردگی کو بہترین بناسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری یہ مثبت کاوشیں دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت کو بھی سنوار سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بے سہارا معصوم بچے ہمارے ملک کا مستقبل ہیں انکو بہتر سہولیات فراہم کرکے کارآمد شہری بنایا جائے اور ڈپارٹمنٹ اپنی تمام کاوشوں کو بروئے کار لائے۔افسران نے صوبائی وزیر کی ہدایات پر عمل درآمد کا یقین دلایا ۔

سکھ برادری کی جانب سے پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے دعائیہ پروگرام کاانعقاد،ایم کیوایم کی اقلیتی امورکمیٹی کی شرکت


MQM-Minority September 7, 2013 | 10:00 PM

ایم کیوایم بلاتفریق رنگ ونسل ،زبان اورمذہب عوام کی خدمت پریقین رکھتی ہے،عبدالاحد
کراچی(نیوزآن لائن) متحدہ قو می موومنٹ کے شعبہ اقلیتی امورکے انچارج عبدالاحدنے کہاہے کہ ایم کیوایم پاکستان میںبسنے والی تمام اقلیتوںکے جائزحقوق اورتحفظ کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ان خیالات کااظہارانہوںنے گزشتہ روزہندوگوٹھ گڈاپ ٹائون کی سکھ برادری کے زیراہتمام دعائیہ پروگرام میںشرکاء سے خطاب کے دوران کیا۔دعائیہ پروگرام میںسکھ برادری کی جانب سے پاکستان کی بقاء وسلامتی ،دہشت گردی کے خاتمے،امن وامان کی بحالی اورایم کیوایم کی کامیابی کیلئے خصوصی دعائیںکی گئی ، دعائیہ پروگرام میںسکھ برادری نے بڑی تعدادمیںشرکت کی جن میںنوجوان،خواتین،بزرگ اوربچوںکی تعدادنمایاںتھی۔اس موقع پر شعبہ اقلیتی امورکے جوائنٹ انچارج پطرس و اراکین سردارکرشن سنگھ ،نویدملک اورگڈاپ ٹائون کمیٹی کے ذمہ داران وکارکنان بھی موجودتھے۔عبدالاحد نے کہاکہ ایم کیوایم تمام مذاہب کادل سے احترام کرتی ہے جوبلاتفریق رنگ ونسل ،زبان اورمذہب عوام کی خدمت پریقین رکھتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم میںتمام مذاہب وزبان ،فرقہ اورمسلک کے لوگ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے اورتمام مذہبی وسیاسی جماعتوںکوملک کی بقاء وسلامتی کیلئے متحدہونے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر سردار گرمگھ سنگھ ،سردارمول سنگھ نے مقدس کتاب”شری گروگرنتھ صاحب جی”پڑھ کر مملکت پاکستان کی بقاء وسلامتی ،کراچی کے حالات کی بہتری اورقائد تحریک جناب الطاف حسین کی صحت وتندرستی اوردرازی عمرکیلئے خصوصی دعائیںکیں۔

حکو متی اداروں کی غفلت کے با عث کمسن بچوں کی جر ائم پیشہ افراد کے ہا تھوں ہو لنا ک تشدد کے بعد ہلا کت کے وا قعات میں تیزی سے خو فنا ک اضا فہ ہو رہا ہے۔ضیا ء احمد اعوان


16-4-13 April 16, 2013 | 8:59 PM

کراچی  (نیوزآن لائن): حکو متی اداروں کی غفلت کے با عث کمسن بچوں کی جر ائم پیشہ افراد کے ہا تھوں ہو لنا ک تشدد کے بعد ہلا کت کے وا قعات میں تشو یشنا ک اضا فہ ہو رہا ہے۔ ان خیا لا ت کا اظہا ر مددگارنیشنل ہیلپ لائن کے بانی ضیا ء احمد اعوان ایڈ و کیٹ نے   ڈی آئی جی ایسٹ اور مدد گار نیشنل ہیلپ لا ئن کے مشتر کہ تعا ون سے ڈی آئی جی ا یسٹ کے آفس میں منعقد ہو نے وا لی پر یس کا نفر نس سے

خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔اس  پریس کانفرنس کا مقصد  معاشرے میں بڑھتے ہوئے  بچوں کے اغواء ،  جنسی  ذیادتی اور  قتل  کے  واقعات کو  پولیس کے تعاون سے اجاگر کرنا تھا۔
ضیاء اعوان نے کہا کہ مدددگار ہیلپ لا ئن کے “گمشدہ بچوں کے ہیلپ ڈیسک “کی ر پو رٹ کے مطا بق صر ف کر اچی میں گز شتہ سا ل2012  میں1913وا قعات ر پور ٹ ہو ئے 1098کمسن لڑکے اور 815لڑ کیاں لا پتہ ہو ئے جن میں  920 کوتلا ش کر لیا گیا ۔رواں سا ل 2013 میں جنو ر ی  سے ما ر چ تک بچوں کی گمشد گی کے   192 کیسز ر پو رٹ ہو ئے ۔ جن میں 128 کمسن لڑکے اور 74 لڑ کیاں لاپتہ ہو ئے جبکہ 78کو تلا ش کرلیا گیا ۔پو لیس کی کا ر کر دگی کمزور ہو نے کے با عث گمشدہ  بچے جرا ئم پیشہ افراد کا نشا نہ بن جا تے ہیں جو انہیں جنسی زیا دتی کے بعد قتل کر کے ویران مقا م پر پھینک د یتے ہیں۔ان مقد ما ت میں نا معلوم ملزما ن کو تلا ش کر کے قا نون کے مطا بق سزا دلوا نے میں پو لیس کی نا کا می ان خو فنا ک اور دل دہلادینے والے وا قعات میں تیزی سے اضا فہ کا سبب بن ر ہی ہے۔
2012میںکر اچی میں کمسن بچوں کی کئی تشدد زدہ نعش پا ئی گئیں جن میں بیشتر تھا نہ گلستان جو ہر ، مبینہ ٹا ئون ، سچل،محمود آباد ،شا ہر اہ فیصل اور گلشن اقبال کی حدود میںیہ واقعات ظہور پزیر ہو ئے ۔ان علا قوں میں
غر یب آبا دیا ں اور گھر کے با ہر کھیلنے وا لے کمسن بچے ان در ندوں کا آسان شکار ہو تے ہیں ۔جنہیں کھا نے پینے کی اشیا ء دے کر ملز ما ن ابتدا ء  میں انسیت پیدا کر تے ہیں اور بعد ازاں اغواء کر کے زیا دتی کا
نشا نہ بنا کر قتل کر دیتے ہیں ۔یہ جنسی جنو نی مزدور پیشہ اور تنہا ر ہا ئش پز یر ہو تے ہیں اور بچوں کو و یران مقام کی جھاڑ یوں میں لے جا کر ز یا دتی کے بعد قتل کر دیتے ہیں ۔
مددگار نیشنل ہیلپ لا ئن کے ڈیٹا بیس کی ر پو رٹ کے مطا بق گز شتہ سا ل 2012 میں پا کستان بھر میںاغواء کے 582  کیسز ر پور ٹ ہو ئے ۔جن میں348 کمسن لڑ کے اور 234کمسن لڑ کیاں ا غواء
ہو ئیں  جبکہ صر ف کر اچی میں اغوا ء کی 88 وا ردا تیں ہو ئیں ۔ جنسی ز یا د تی  کے455 کیسز ر پور ٹ ہو ئے جس میں 182 لڑ کے اور273 لڑ کیاں جنسی ز یا دتی کا نشا نہ بنے جبکہ صر ف کر اچی میں ایسے 49
وا قعات ر پور ٹ ہو ئے ۔ قتل کے 1113 واقعات ر پو رٹ ہو ئے ، جن میں 696لڑ کے اور 417لڑ کیا ں جنسی زیا دتی کے بعد قتل کر دیئے گئے اورکر اچی میں ایسے 103 وا قعات ر پور ٹ ہو ئے ۔جبکہ 582بچوں کو جنسی کاروبار اور مشقت کے لئے فروخت کر دیا گیا ۔ مددگارکے ڈیٹا بیس کی ر پو رٹ کے مطا بق  246 لڑ کو ں کے سا تھ بد فعلی کی گئی جس کے 21 کیسزکر اچی  میں رپو رٹ ہو ئے ۔  لڑ کیوں کے سا تھ ریپ کے 330 کیس منظر عا م پر آ ئے ۔جن میں کر اچی میں رپو رٹ ہو نے وا لے کیسز کی تعداد 23ہے ۔ان وا قعات میں پو لیس کی کار کر دگی انتہا ئی افسونا ک ہے ۔تا حال ان واقعات کے
ذمہ داران کے خلاف کو ئی قا بل ذکرکا رروائی عمل میں نہیں لا ئی گئی ۔
ضیا ء احمد اعوان نے بچوں کے سا تھ ہو نے وا لے ہو لنا ک جر ئم میں ا ضا فہ پر گہر ی تشو یش کا ا ظہا ر کر تے ہو ئے مطا لبہ کیا کہ محکمہ پو لیس میں خصو صی تر بیت یا فتہ یو نٹ قا ئم کیا جا ئے جو اسکو لز انتظا میہ اور وا لد ین کے تعاون سے اسکول و ین کے ڈرا ئیو رز ا سکو لوں کے با ہر مو جو د ٹھیلے اور عا ر ضی پتھا رے وا لوں اور اسکو لز کے لو ئر عملے کا مکمل ر یکا رڈ حا صل کر نے کے سا تھ ساتھ ان افراد پر خصو صی نظر ر کھیں تا کہ دوران تعلیم کمسن بچوں کے سا تھ ہو نے وا لے جرا ئم پر قا بو پا یا جا سکے ۔یہ خصو صی یو نٹ وا لدین کی آگہی اور احتیا طی تدا بیر کیلئے ممکنہ کا رروا ئیاں کر تے ہو ئے علا قے کے با زار ،عا رضی ٹھیلے ،ڈ بو اور منی سینما گھر میں بچوں کے تحفظ کے خصو صی اقداما ت کر یں اور علا قے کے پا ر کس ، شاپنگ سینٹر وں اور ہسپتالوں کوا نتظا میہ کی پا بند کر یں کہ ایسے اقدا ما ت کئے جا ئیں جن سے بچو ں کی گمشد گی اور اغوا ء کی وا قعات کا
سد با ب کیا  جا سکے۔
مو رخہ09-04-2013کو تھا نہ مبینہ ٹا ئو ن کر اچی کی حدود سے ملنے وا لے کمسن ثا قب علی کی تشدد زدہ نعش کے مقد مے میں ڈی آئی جی ایسٹ کیپٹن طا ہر نو ید نے ملزم کی گر فتا ری کیلئے خصو صی احکا ما ت صا در کئے اور اس مقد مے میں خصو صی د لچسپی ظا ہر کر تےSIOکو ہدا یا ت د یں تا کہ ما ضی میں اطرا ف کے علا قوں میں ہو نے والے ا یسے وا قعات کے مد عی بھی طلب کئے جا ئیں جو ملزم کو شنا خت کر سکیں اور اسے قرار وا قعی سزا دلوا ئی جا سکے ۔ڈی آئی جی ایسٹ نے تمام ضلع کے تھا نوں کو اس سلسلے میں خصو صی احکا ما ت بھی صا در کئے۔
ضیا ء احمد اعوان ایڈوکیٹ نے میڈیا آگہی مہم کی ضر ورت پر زور دیتے ہو ئے ایسے پرو گرام نشر کر نے کا مطا لبہ کیاجو وا لدین او دیگر اداروں کی انتظا میہ کو  بچوں کی حفا ظت کے لئے معلو ما ت فراہم کرے اور ہنگا می صور تحال میں متعلقہ اداروں تک ر سا ئی کو فوری ممکن بنانے میں معا ون ثا بت ہواور ہنگا می صو رتحال میںمددگار ہیلپ لا ئن سے نمبر 1098پر فوری را بطہ کر یں۔

معا شر ے سے زندہ جلا نے کے وا قعات کا خا تمہ یقینی بنا یا جا ئے، ضیا ء احمد اعوان ایڈو کیٹ


PR- 11-4-2013 April 11, 2013 | 8:58 PM

کرا چی (نیوزآن لائن) : خوا تین اور بچوں کو زندہ جلا نے کے بڑ ھتے ہو ئے وا قعا ت حکو متی ادا روں کے لئے قا کربل شرم ہیں ۔فرا ہمی انصا ف میں تا خیر ،غیر مو ئژ قوا نین ،پو لیس کی غفلت اور بد عنوا نی ،بہتر علا ج معا لجہ کی عدم دستیا بی اور متا ثر ین کو تحفظ کی عدم فر اہمی ان ہو لنا ک وا قعات میں اضا فے کی و جو ہا ت ہیں۔ان خیالا ت کا ا ظہار مددگار نیشنل ہیلپ لا ئن کے با نی ضیا ء احمد اعوان ایڈو کیٹ نے خصو صی پر یس بر یفنگ کے مو قع پر کیا
ضیا ء احمد اعوان ایڈو کیٹ نے پا کستان بھر میں بچوں اور خوا تین کو زندہ جلا نے کے بڑ ھتے ہو ئے وا قعا ت پر گہری تشو یش اور د لی دکھ کا اظہا ر کر تے ہو ئے ان ہو لنا ک وا قعا ت کی فوری روک تھا م ،ملزما ن کے خلا ف سخت قوا نین کا نفا ذ،متا ثر ین کا بہتر علا ج معا لجہ ،متا ثر ین کے تحفظ ، نز اعی بیا ن کا فوری قلمبندکر انے کا فوری پو لیس انتظام، تیز تر ین عدا لتی کا روائی اور متا ثر ین کی بحا لی کے حکو متی اقدا ما ت کی مو جو دگی کی ضرورت پر زوردیا ۔ضیا ء احمد اعوان ایڈو کیٹ نے بتا یا کہ ملز مان کے خلا ف مو ئژقا نو نی کا رروائی نہ ہو نے کے با عث معاشر ے میں بچوں اور خوا تین کوزندہ جلا نے کے وا قعا ت میں تیزی سے اضا فہ ہو رہا ہے جو حکو متی اداروں کے لئے لمحہ فکر یہ ہے ۔پا کستا نی معا شرہ خوا تین اور بچوں کیلئے انتہا ئی غیر محفو ظ ہو نے کے با عث سفا ک ملز ما ن کیلئے معصو م بچے اور خوا تین آسا ن شکا ر بن ر ہے ہیں ۔
مددگار نیشنل ہیلپ لا ئن کے ڈیٹا بیس کی رپو رٹ کے مطا بق سا ل 2012میں 216 وا قعات ر پو رٹ ہو ئے ۔ مندر جہ با لا اعدا د و شما ر ا صل وا قعات کا عشر عشیر ہیں اور حقا ئق ان حالا ت سے بہت زیا دہ سنگین ہو چکے ہیں جنکا سد با ب فوری طور پر نہ کیا گیا تو خدا نخوا ستہ ملک کے بیشتر افراد ان جرا ئم کا شکا ر ہو کر کر بناک زند گی گزا رنے پر مجبور ہو نگے یا اپنی زندگی سے ہا تھ دھو چکے ہو نگے۔ضیا ء احمد اعوان ایڈو کیٹ نے جھلسنے وا لی خوا تین اور بچوں کے دیگر بنیا دی مسا ئل ا ور ضر ور یا ت کا ذکر کر تے ہو ئے بتا یا کہ ان افراد کو فوری طور پر پو لیس تحفظ کی ضر ورت ہو تی ہے جسکا سر کا ری سطح پر کو ئی انتظام مو جو د نہیں ہے نہ ہی ایسے سر کا ری شیلٹر ہا و سزمو جو د ہیں جہا ں یہ افراد پنا ہ لے سکیں دوران علا ج ہسپتال میں بھی ان متا ثر ین کو قا نو نی کا رروائی سے روکنے کیلئے ملز ما ن کی جا نب سے سنگین نو عیت کی دھمکیوں کا سلسلہ جا ر ی رہتا ہے اور مجبو را متا ثر ین کوحقا ئق کے کے بر خلا ف بیا ن د ینے پر مجبور کردیا جا تا ہے ۔متا ثر ین کی بحا لی اور ما لی مدد کیلئے قا ئم سر کا ری ادا رے عملا بیکا ر ہو چکے ہیں جسکے نتیجے میں متا ثر ین با قی تما م زند گی معا شر تی اور سما جی مسا ئل کا شکار رہ کر زند گی گز ا رنے پر مجبور ہو کر سما جی نظا م کے لئے بو جھ بن جا تے ہیں اور ان میں خو د کشی کا ر جحا ن پیدا ہو جا تا ہے ۔
اس مو قع پر ضیا ء اعوان نے میڈیا سے با ت چیت کر تے ہو ئے جھلس جا نیوا لے متا ثر ین کی بحالی اور ان کے مسا ئل کو بہتر طور پر حل کر نے کے لئے حکومت کو سفارشات پیش کیں۔ انہو ں نے کہا کہ اپنے خیا لا ت کا اظہا ر کر تے ہو ئے کہا کہ خوا تین اور بچوں کو جلا ئے جا نے کے وا قعا ت معا شر ے میں خو ف و دہشت کا سبب بن رہے ہیں۔ ان بڑ ھتی ہو ئی وا ردا توں پر قا بو پا نے کیلئے ضیا ء اعوان نے متعلقہ حکا م کو یہ تجو یز پیش کیں کہ متا ثر ین کو فو ری ا نصا ف فراہم کر نے کیلئے ان کیسز ز کو انسداد دہشت گر دی کی عدا لت میںٹر ائل کیاجا ئے تا کہ ملز ما ن کے خلا ف سخت کا رروائی ہو سکے ۔اس مو قع پر انہو ں نے متا ثر ین کی بحالی کے مسئلے کی نشاند ہی کر تے ہو ئے کہا کہ ان زخمیوں کے علا ج معا لجے کے لئے صوبہ سندھ میں صر ف ایک بر نس سینٹر ہے جو کہ زخمیو ں کی بہتر نگہدا شت کیلئے نا کا فی ہے ۔اسلئے ا ن زخمیوں کی منا سب دیکھ بھال کیلئے ضلعی سطح پر بر نس سینٹر قا ئم کئے جا ئیں ۔ان بر نس سینٹرپر پو لیس اہلکا روں کی تعینا تی کو یقینی بنا یا جا ئے ۔حکومت کے اس اقدام سے متا ثر ین کو تحفظ کا احساس ہو گا اور وہ بغیر کیسی دبا ئو کے اپنا بیا ن قلمبند کر وا سکیں گے جس سے ملزما ن کو پکڑنے میں آسا نی ہو گی ۔
ضیا ء احمد اعوان ایڈو کیٹ نے حکو مت سے پر زور مطا لبہ کیا کہ اس ہو لنا ک جر م کا شکار افراد کی فو ری مدد یقینی بنا نے اور ذمہ دا ران کے خلا ف سخت تر ین قا نو نی کا رروا ئی کے نظا م کو سہل اور مو ئژبنا ئیں تا کہ ز ند ہ جلا ئے جا نے کے ر جحان میں کمی وا قع ہو سکے۔مددگا ر نیشنل یہلپ لا ئن خوا تین اور بچوں کے سا تھ پیش آنے وا لے ان وا قعات کی سخت مذمت کر تا ہے اور حکو مت اور متعلقہ اداروں سے یہ مطا لبہ کرتا ہے کہ ایسے وا قعا ت کی روک تھا م کے لئے سنجیدگی کا مظاہر ہ کر یں ۔حکو مت متا ثر ہ خا ندانوں کو انصا ف مہیا کر نے کے سا تھ ملز مان کے خلاف غیر جا نبدا رانہ سخت کا رروائی کو عمل کو یقینی بنا ئے۔
اس مو قع پر ضیا ء اعوان نے میڈیا سے با ت چیت کر تے ہو ئے جھلس جا نیوا لے متا ثر ین کی بحالی اور ان کے مسا ئل کو بہتر طور پر حل کر نے کے لئے حکومت کو سفارشات پیش کیں۔ انہو ں نے کہا کہ اپنے خیا لا ت کا اظہا ر کر تے ہو ئے کہا کہ خوا تین اور بچوں کو جلا ئے جا نے کے وا قعا ت معا شر ے میں خو ف و دہشت کا سبب بن رہے ہیں۔ ان بڑ ھتی ہو ئی وا ردا توں پر قا بو پا نے کیلئے ضیا ء اعوان نے متعلقہ حکا م کو یہ تجو یز پیش کیں کہ متا ثر ین کو فو ری ا نصا ف فراہم کر نے کیلئے ان کیسز ز کو انسداد دہشت گر دی کی عدا لت میں دا ئر کیاجا ئے تا کہ ملز ما ن کے خلا ف سخت کا رروائی ہو سکے ۔اس مو قع پر انہو ں نے متا ثر ین کی بحالی کے مسئلے کی نشاند ہی کر تے ہو ئے کہا کہ ان زخمیوں کے علا ج معا لجے کے لئے کر اچی میں صر ف ایک بر نس سینٹر ہے جو کہ زخمیو ں کی بہتر نگہدا شت کیلئے نا کا فی ہے ۔اسلئے ا ن زخمیوں کی منا سب دیکھ بھال کیلئے ضلعی سطح پر بر نس سینٹر قا ئم کئے جا ئیں ۔ان بر نس سینٹرپر پو لیس اہلکا روں کی تعینا تی کو یقینی بنا یا جا ئے ۔حکومت کے اس اقدام سے متا ثر ین کو تحفظ کا احساس ہو گا اور وہ بغیر کیسی دبا ئو کے اپنا بیا ن قلمبند کر وا سکیں گے جس سے ملزما ن کو پکڑنے میں آسا نی ہو گی ۔
مددگار کے با نی ضیا ء اعوان نے مز ید کہاکہ جلنے اور جھلسنے والے زخمیوں کی بحالی توجہ طلب مسئلہ ہے کیو نکہ اکثر وا قعات میں ہسپتالوںمیں ان زخمیوںکو انفیکشن سے بچا ئو کے نا قص انتظاما ت بھی اموات کا با عث بنتے ہیں ۔اسلئے ضر وری ہے کہ ایسے متا ثر ین کو بہتر ین طبی سہو لیات فراہم کر نے کے علاوہ ان کی بحا لی کیلئے پلا سٹک سر جر ی کے عمل کو بھی یقینی بنا یا جا ئے تا کہ یہ متا ثرہ افراد عام لوگوں کی طر ح زند گی گزار سکیں۔