: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

عید الضحیٰ پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے صحت و صفائی عوام کی دہلیز تک فراہم کی ہیں:جان محمد بلوچ


16-09-2016 Chairman, MC after Eid-ul-Azha Safaee visit September 16, 2016 | 3:34 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)چیئرمین بلدیہ ملیر جان محمد بلوچ نے کہا کہ جس طرح آفسران و ملازمین نے عید الضحیٰ پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے عوام کو صحت و صفائی ان کی دہلیز تک فراہم کی ہیں امید کر تا ہوں کے آئندہ بھی مذہبی تہوار پر دل جمی سے کام کریں گے،بلدیہ ملیر میں عید الضحیٰ پر آلائشیں اٹھاکر دفنانے کے کام کی مثال نہیں ملتی ،عوام کی جانب سے بھی ضلعی انتظامیہ ملیر کی بہترین کاردگی کو سراہا گیا ہے، عید کے بعد بھی بلدیہ ملیر کی تمام یوسیز کی مرکزی و ذیلی شاہراہوں اور کچرا کنڈیوں کی روزانہ کی بنیاد پر صفائی کو یقینی بنائیںجائے۔ میونسپل کمشنر منظور حسین عباسی نے کہا کہ عید الضحیٰ کے موقع پر بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے آلائشوں کی بروقت اطلاع ملنے کی وجہ سے یوسیز کی سطح پر آلائشیں اٹھانے میں بہت آسانی ہوئی ،سینی ٹیشن آفسران و ملا زمین روٹین کے کام پر بھر پور توجہ رکھیں۔ان خیالات اظہار چیئرمین بلدیہ ملیر جان محمد بلوچ نے میونسپل کمشنر منظور حسین عباسی کے ہمراہ بلدیہ ملیر کی مختلف یوسیز کے دورے کے موقع پر صفائی ستھرائی کے کام کا معائنہ کرتے ہوئے کیا۔ میونسپل کمشنر بلدیہ ملیر نے موقع پر موجود افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ اپنے محکمے کے ملازمین کی وقت پر حاضر ی کو یقینی بنائیں، بلخصوص صفائی ستھرائی کے حوالے سے یوسیز چیئرمین و دیگر بلدیاتی نمائندوں سے تجاویز لی جائیں تاکہ بلدیہ ملیرکی عوام کو پہلے سے بھی بہتر اور صحت مندانہ ماحول فراہم کرنے میں ہم اپنے حق ادا کرسکیں ۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ انجینئر نصراللہ میمن، ڈائریکٹر انفارمیشن جمال ناصر،ڈائریکٹر سالیڈ ویسٹ واثق ظفر اور دیگر بلدیاتی افسران بھی موجود تھے۔#

چرم قربانی کے عطیات جامع بنوریہ کے مسافرطلبہ کودیں، مولانا غلام رسول


jamia banoria September 12, 2016 | 6:24 PM

دینی ادارے طلبہ کو تعلیم ، کتب طبی ودیگر سہولیات مفت فراہم کرتے ہیں،عوام الناس سے اپیل
کراچی:(نیوزآن لائن) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے ایڈمنسٹریٹر مولانا غلام رسول نے کہاکہ دینی اداروں کی خدمت ملک وملت کیلئے ناقابل فراموش ہیں چرم قربانی کے حقدار دینی ادارے اور مدارس دینیہ ہیں جو بے لوث ہوکر دنیا بھر کے طلبہ وطالبات کو مفت تعلیم او سہولیات فراہم کرتے ہیں،جمعرات کو جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان میں ایڈمنسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ مولانا غلام رسول نے کہاکہ دینی ادارے اور مدارس دینیہ بے لوث ہوکر دنیا بھر میں دین اسلام کی حقیقی ترجمانی کررہے ہیں جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،اور عصر حاضر میں دینی مدارس بھی بلاشک وشبہ بے لوث ہوکر دینی خدمات انجام دینے میں مصروف ہیں ،ان دینی اداروں اور مدارس کے ساتھ تعاون کرنا ہر صاحب خیر مسلمان کا دینی فریضہ ہے اس لیے چرم قربانی کے اصل حقدار مدارس دینیہ کے مسافر طلبہ ہیں جو اپنے ممالک ،شہروں ، علاقوں سے آکر دین اسلام کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور مدارس دینہ میں ان کیلئے تعلیمی کتب ، طبی ودیگر سہولیات مفت مہیہ کرتے ہیں جو سب اہل خیر کے تعاون سے ہوتاہے چرم قربانی میں دینی اداروں کے ساتھ تعاون ہر مسلمان کی ذمہ داری اور دینی فریضہ ہے یہ ادارے عوام کے تعاون سے ہی دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

مہاجر چہرے بدل کر آنے والوں کا احتساب کریں: ڈاکٹر سلیم حیدر


dr saleem haider mit September 12, 2016 | 6:15 PM

پاکستان زندہ باد کہنے سے ماضی کے گناہ اور بداعمالیاں نہیں دھل سکتیں، قوم کو حساب دینا ہوگا
کراچی میں 20سال سے بیٹھ کر اقتدار کے مزے لینے والوں نے مہاجروں کے کتنے مسائل حل کروائے
کراچی:(نیوزآن لائن)مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے اہل وطن کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے تمام مہاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید کی خوشیوں میں ان کو بھی شریک رکھیں جو ہم سے بچھڑ گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عید کا مفہوم خود احتسابی بھی ہے ۔ مہاجروں کو اپنے آپ کا بھی احتساب کرنا چاہئے کہ وہ 30 سالوں سے مہاجر نام پر کن بازی گروں اور شعبدے بازوں کے ہاتھ مضبوط کرتے رہے اور اب بھی ان کے سہولت کار بہروپیوں کے بہکاوے میں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے سے ماضی کے گناہ اور مہاجروں کو دیئے جانے والے فریب دھوئے نہیں جاسکتے۔ مہاجر قوم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کل کے یہ سہولت کار آج پارسائی اور بے گناہی کے کتنے ہی دعوے کریں لیکن یہ سر سے پاؤں تک جرائم اور مہاجر دشمنی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اب ایک بار پھر روپ تبدیل کرکے قوم کو پھر نئے سرے سے دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس بار مہاجران کے اصل چہروں کو پہچان چکے ہیں کیونکہ جس طرح مہاجر نام کو ان بازی گروں نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر قوم کو ان سے سوال کرنا چاہئے کہ 20 سال سے یہ کراچی میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اس دوران انہوں نے کتنے مہاجر بیروزگار نوجوانوں کو ملازمتیں دلوائیں، مہاجروں کے کتنے مسائل حل کرائے ، کتنی مرتبہ مہاجر حقوق کیلئے ایوانوں میں آواز اُٹھائی ، کتنی مرتبہ مہاجر حقوق کیلئے سڑکوں پر احتجاج کیا ۔ انہوں نے کہاکہ شخصیت پرستی سیاست کو فروغ دینے والے آج چہرے بدل بدل کر پارسائی کے دعوے کررہے ہیں ۔

جامعہ کراچی: شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے زیراہتمام یوم دفاع کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد


IMG-20160907-WA0000 (1) September 12, 2016 | 6:09 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)چھہ ستمبر کا دن ہمارے عزم اور حوصلوں کو تقویت دیتا ہے، عصر حاضر میں ملک کو درپیش خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ اسی صورت ممکن ہے اگر ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا کریں۔ ہم اپنے دشمنوں کا بھی اسی صورت ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں جب ہم جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر ایک سوچ اور فکر کا مظاہرہ کریں گے۔ ہماری بہادر فوج نے ملک کے دفاع اور سلامتی کیلئے ہمیشہ قربانیوں کی بے مثال تاریخ رقم کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اختلافات بھلا کر سیسہ پلائی دیوار بن جائے اور نظریہ پاکستان کو عملی کردار کے طور پر اپنا لے۔ان خیالات کا اظہار صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمن فاروقی اور چیئر مین شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن نے یوم دفاع کی مناسبت سے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن میں منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مباحثہ کا بھی اہتمام کیا گیاجس میں ایوان کی متفقہ رائے سے قرارداد ”تھا جس کا انتظار یہ وہ سحر تو نہیں ” بھی منظور کی گئی۔ ڈاکٹر شکیل الرحمن فاروقی نے نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قراردیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری نوجوان نسل ملک کی ترقی کے لئے اپنا مثبت کردار کریں ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانو ں پر مشتمل ہے۔مباحثہ میں پہلی پوزیشن شعبہ بائیوٹیکنالوجی کی طالبہ خضراعروج نے حاصل کی جبکہ دوسری پوزیشن شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے طالب علم بلال احمد نے اور تیسری پوزیشن زین آفتاب نے حاصل کی اور ٹیم ٹرافی شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے طالب علم زین آفتاب اور شبانہ کوثر نے اپنے نام کی ۔مباحثہ میں جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے طلباوطالبات نے حصہ لیا اور اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔
================================
جامعہ کراچی: بی اے لاء سال اول سالانہ امتحانات برائے 2015 ء کے نتائج کا اعلان
کراچی:(نیوزآن لائن) جامعہ کراچی کے ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ارشد اعظمی کے اعلامیہ کے مطابق بی اے لاء سال اول سالانہ امتحانات برائے 2015 ء کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔نتائج کے مطابق امتحانات میں کل 142 طلبہ شریک ہوئے،35 طلبہ کو کامیاب قراردیا گیا جبکہ 107 طلبہ ناکام قرارپائے ۔کامیاب طلبہ کا تناسب 24.65 فیصد رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: بی کام پرائیوٹ کے ضمنی امتحانات برائے 2015 ء 22 ستمبر سے شروع ہوں گے
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ارشد اعظمی کے اعلامیہ کے مطابق بی کام پرائیوٹ کے ضمنی امتحانات برائے 2015 ء 22 ستمبر 2016 ء سے شروع ہوں گے ۔تمام امتحانات دوپہر 2:00 تاشام 5:00 بجے تک جبکہ جمعہ کے روز دوپہر 2:30 شام 5:30 بجے تک منعقد ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی : اسلامی بینکاری ، صنعت ،مواقع چیلنجز اور ہماری ذمہ داری کے عنوان سے لیکچر کا انعقاد
کراچی:(نیوزآن لائن)اسلامی بینکاری کوروز اول سے ہی شکوک وشبہات کی نظر سے دیکھاجاتارہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ عام بینکاری کا انحصار سودی نظام پر مبنی ہے جبکہ اسلامی بینکاری ”سود” کے خلاف وضع کردہ بلاسودی نظام پر مبنی ہے جو باالفاظ دیگر سود کے خلاف اعلان جنگ ہے۔مسلم دنیا کے بڑے بڑے بینک اسلامی بینکاری سسٹم کو اپنارہے ہیں اس پر مزید یہ کہ بین الاقوامی سطح پر مغربی ممالک میں بھی بلاسود ی بینکاری نظام قابل عمل تصور کیا جانے لگاہے اور مرحلہ وار رائج ہورہا ہے۔ اسلامی بینکاری میں غیر سودی بینکنگ کے ذریعے حلال منافع قابل لحاظ حدتک پرکشش اور قابل تقلید نظر آرہاہے جوکہ عالمی کساد بازاری کے لئے لمحہ فکریہ ہے ،چنانچہ مغربی ممالک میں اسلامی نظام بینکاری کی افادیت اور قابل عمل تصورکرتے ہوئے جدید طرز پر آہستہ آہستہ رواج دیا جارہا ہے۔ اسلامی بینکاری کو صحیح طور پر متعارف کرانے اور حلال بزنس کرنے کے لئے اسٹاف کی پروفیشنل اسلامی تعلیمات اورتربیت بہت ضروری ہے ۔شیخ زید اسلامک سینٹر کی کاوشیں لائق تحسین ہیں کہ یہ ادارہ سرٹیفیکٹ کورسز سے لے کر ایم فل اور پی ایچ ڈی تک اسلامی بینکنگ کی تربیت کے مواقع فراہم کرتاہے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے شیخ زید اسلامک سینٹر کے زیر اہتمام منعقد ہ لیکچر بعنوان: ”اسلامی بینکاری ، صنعت ،مواقع چیلنجز اور ہماری ذمہ داری” سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مقررین میں ملائیشیاء کے پروفیسر داتک ،نیشنل یونیورسٹی پولیٹیکس اینڈ لاء چائنا کے ڈاکٹر احمد موسیٰ ،آئی این سی ای آئی ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عثمان الحبشی ،ڈائریکٹر شیخ زید اسلامک سینٹر ڈاکٹر عابدہ پروین اور اسلامک بینکنگ پروگرام کے انچارج ڈاکٹر سید عضنفر شامل ہیں۔پروفیسر داتک نے اسلامک بینکنگ کو نہ صرف مسلم اُمہ بلکہ پوری دنیا کے لئے وقت کی اہم ضرورت قراردیااور معاشرے میں ہونے والی معاشی نا انصافیوں اور نقصانات سے آگاہ کیا۔پروفیسر ڈاکٹر احمد موسی نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اللہ کی طرف سے یہاں ایک مشن پر آئے ہوئے ہیں اور ہمارا مقصد اسلامی بینکاری کو اسلامی شریعت کے مطابق فروغ دینا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر سید غضنفر نے پی ایچ ڈی آن لائن پروگرام اور فیکلٹی ایکسچینج پروگرام کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دونوں سینٹرز کو یہ پروگرام شروع کرنے چاہیئے تاکہ ایک دوسرے کے تجربہ سے مستفید ہوسکیں۔آخر میں ڈاکٹر عابدہ پروین اور ڈاکٹر غضنفر نے مہمان حضرات کو سینٹر کی جانب سے اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔

ایم کیو ایم سے قبل کراچی کے عوام اپنی آزاد مر ضی سے ہی قر بانی کی کھالیں دیا کر تے تھے ۔حافظ نعیم الرحمن


hafiz naim ul rehman September 10, 2016 | 7:01 PM

کھالیں جمع کر نے کا آغاز جماعت اسلامی نے ہی کیا اور جبر و تشدد کے دور میں بھی عوامی خدمت کے جذبے سے کھالیں جمع کیں
فاروق ستار کی جانب سے عوام کو کھالیں دینے کے لیے آزاد چھوڑ نے کے بیان کا خیر مقدم
کراچی: (نیوزآن لائن) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ایم کیو ایم کے رہنماء فاروق ستار کی جانب سے عید الضحیٰ کے مو قع پر قر بانی کی کھالوں کے حوالے سے ایم کیو ایم کی پالیسی اور کراچی کے عوام کو آزاد چھوڑ دینے کے بیان کا خیر مقدم کر تے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیوایم سے قبل کراچی کے عوام اپنی آزاد مر ضی سے ہی قر بانی کی کھالیں دیا کر تے تھے ۔کراچی میں قر بانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کر نے کا آغاز جماعت اسلامی نے ہی کیا تھا اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سخت رکاوٹوں اورزور زبرستی اور جبر وتشدد کے دور میں بھی عوامی خدمت اور رضائے الٰہی کے حصول کے جذبے کے تحت قر بانی کی کھالیں جمع کی ہیں ۔کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی اور الخدمت پر ہمیشہ اعتماد کا اظہار کیا ہے کیونکہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی دی ہوئی کھال اور عطیہ کی گئی رقم کی پائی پائی مستحقین اور ضرورت مندوں پر خرچ ہوتی ہے ملک سے باہر نہیں بھیجی جاتی ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے اندر جبری کھالیں جمع کر نے کا سلسلہ ایم کیو ایم نے ہی شروع کیا اور ایم کیو ایم کی طرزِ سیاست کے نتیجے میں لوگ اپنی اور اپنے قر بانی کے جانوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے قر بانی کی کھالیں اسے دینے پر مجبور ہوئے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ الخدمت کے رفاعی اور فلاحی منصوبوں کی تکمیل کے لیے قر بانی کی کھالیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں الخدمت کو دیں ۔

مہاجر دلبرداشتہ ہونے کے بجائے نئی صف بندی کریں: ڈاکٹر سلیم حیدر


Dr Saleem Hadar September 10, 2016 | 6:55 PM

مہاجر نام پر ووٹ، نوٹ اور کھالیں لینے والوں نے مہاجروں کو رسوائی، ذلت اور پسپائی کے سوا کچھ نہیں دیا
مہاجر کارکنوں نے ہمیشہ قربانیاں دیں ، اب قیادت اَنا اور خودساختہ شخصیت کی قربانی دیں: چیئرمین ایم آئی ٹی
کراچی:(نیوزآن لائن)مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ مہاجر قوم مایوس اور دلبرداشتہ ہونے کے بجائے نئے سرے سے صف بندی کریں اور ماضی کی غلطیوں کے ازالے کیلئے جرات اور ہمت کا مظاہرہ کیاجائے۔ آج مہاجر جس قدر ذہنی اذیت کا شکار ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، برسہا برس سے مہاجر نام پر ووٹ، نوٹ اور کھالیں حاصل کرنے والوں نے مہاجروں کو رسوا، ذلت اور پسپائی کے کچھ نہیں دیا۔ آج پوری قوم بندگلی میں آکھڑی ہوئی ہے۔ قوم کو رسوا کرنے والے قوم کو بچانے کی نوید سنارہے ہیں۔ اب مہاجروں کو ان عناصر کا احتساب کرنا ہوگا جو مہاجروں کو دیئے جانے والے دھوکے میں شریک رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجر اتحاد تحریک مہاجر حقوق کی بانی جماعت ہے اور مہاجر حقوق کیلئے بے سروسامانی کی حالت میں آواز بلند کرتی رہی ہے۔ اب بھی مہاجروں کو مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ مہاجروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز کرتے ہوئے مہاجر دوستوں اور مخلص قیادت کا ساتھ دیں ، ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے از سر نو اُٹھ کھڑے ہوں اس لئے کہ مہاجر دشمن قوتیں مہاجروں کو تقسیم در تقسیم کرنا چاہتی ہیں اس لئے اب قیادت سے لے کر کارکنوں تک سب کو مخلصی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ مہاجر کارکنان برسہا برس سے قربانیاں دیتے آرہے ہیں ۔ اب مہاجر قیادت کو اپنی اَنا اور خودساختہ شخصیت کی قربانی دینی ہوگی تاکہ مہاجروں کا شیرازہ بکھرنے سے بچایا جاسکے اور مہاجروں کو متحد رکھ کر اپنے حقوق حاصل کئے جاسکیں۔ انہوں نے مہاجر دانشوروں، ادیبوں ، شعراء اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ اس کڑے وقت میں مہاجر مخلص قیادت کے ہاتھ مضبوط کریں۔

جامعہ بنوریہ عالمیہ اجتماعی قربانی میں 800سے زائد جانور ذبح کیے جائیں گے


jamia banoria September 10, 2016 | 6:50 PM

بیرون ممالک سے آئن لائن قربانی کے تحت 310افراداجتماعی قربانی میں حصہ لیںگے
بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت غریب ونادار افراد کیلئے 30سے زائد جانور ذبح کیے جارہے ہیں
عوام الناس کو مشکلات اور دھوکہ دیہی سے بچانے کیلئے اجتماعی قربانی کانظام بہترین ہے،مولانا غلام رسول
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ ٹاؤن میں مجموعی طور پر800بڑے اور300سے زائد چھوٹے جانوروں کی اجتماعی قربانی کی جائیں گی،جبکہ310افراد آن لائن قربانی میں حصہ لے رہے ہیں جن کا تعلق امریکا،برطانیہ ، تھالینڈاور دنیا کے دیگر ممالک سے ہے، بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت غریب ونادار طبقے کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے 30سے زائد بڑے جانوروں کی قربانی کی جارہی ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے ترجمان کے مطابق معروف علمی دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ عالمیہ نے ہر سال کی طرح امسال بھی جامعہ بنوریہ عالمیہ کے تحت شہر کے 22 مختلف مقا مات پر اجتماعی قربانی کے مراکز کام کررہے ہیں جہاں جید علماء کرام و مفتیان کرام کونگران مقرر کردیا گیا ہے جو شہریوں کو قربانی کے مسائل سے آگاہ کرنے کے ساتھ اجتماعی قربانی کو شرعی اصولوں کے مطابق انجام دیںگے ،جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ ٹاؤن مرکز سمیت 22مراکز میں مجموعی طورپر 5600سے زائد حصوں پر مشتمل 1000سے زائد چھوٹے بڑے جانور ذبح کیے جائیں گے ، اسی طرح بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی بالخصوص مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل کا ادراک کرتے ہوئے آن لائن قربانی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا جس کے تحت کمبوڈیا، امریکا، برطانیہ ، تھالینڈ، انڈونشیا ء اور دیگر دیگریورپی ممالک سے 310افرادقربانی کے حصے کی آن لائن بکنگ کراچکے ہیں ،بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت غریب ونادار طبقے کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے 30سے زائد بڑے جانور ذبح کیے جائیں گے جن کا گوشت نومسلم بھائیوں ، مدارس اور غریب ونادار افراد میں عید کے تقسیم کیاجائے گا، دریں اثناء ایڈمنسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ مولانا غلام رسول نے کہاکہ اجتماعی قربانی کے سسٹم کو سب سے پہلے جامعہ بنوریہ عالمیہ نے متعارف کرایا اور اب آن لائن قربانی متعارف کرانے میں بھی بنوریہ عالمیہ نے سب سے پہل کی ہے ، انہوں نے کہاکہ ہر سال اجتماعی قربانی حصہ لینے والوں میں اضافہ ہورہاہے،کیونکہ موجودہ دور میں قربانی کیلئے جانور کی خریدار سے لیکر اسے گھر میں لاکر رکھنے اور ذبح کیلئے قصائی ڈھونڈنے تک مشکلات ہی مشکلات ہی ہیں جو عام آدمی کے بث کی بات نہیں ہوتی ، بعض اوقات جانور کی خریدار ی میں دھوکہ ہوتاہے عوام کو بچانے کیلئے اجتماعی قربانی کانظام متعارف کرایا گیا الحمد اللہ اس کے بہت فائدے ہورہے ہیں، انہوںنے کہاکہ پہلے مشکلات کے ڈر سے بہت سے لوگ قربانی فرض ہونے کے باوجود گریزاں تھے اب اجتماعی قربانی کے نظام کے باعث ہر شخص بڑھ چڑھ کر حضرت ابراھیم کی سنت کی پیروی میں قربانی میں حصہ لے رہاہے ۔

عید الاضحی کے موقع پر آلائشیں اٹھانے کے اقدامات،کمشنر کراچی کی زیر صدارت جائزہ اجلاس۔


EIDul AZHA Arrangements Meeting News Picture 10-09-2016 September 10, 2016 | 6:47 PM

بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈی ایم سیز کی کمشنر کو بریفنگ، شکایاتی مراکزقائم کر نے کا فیصلہ۔
کراچی :( نیوزآن لائن)کمشنر کراچی اعجاز احمد خان کی زیر صدارت اجلاس میں عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اٹھانے ، انھیں ٹھکانے لگانے اور اس موقع پر صفائی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا تمام متعلقہ اداروں نے اس سلسلہ میں اجلاس میں اپنے اپنے ہنگامی منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز، بلدیہ عظمیٰ کراچی، تمام ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز اور ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کے سینئر افسران اور دیگر نے شر کت کی، کمشنر کراچی کو بتایا گیاکہ تمام بلدیاتی اداروں نے قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اٹھانے انھیں ٹھکانے لگانے اور اس موقع پر صفائی کو یقینی بنانے کے انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمشنر کراچی کے دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی ، تمام ڈی ایم سیز اور ڈسٹرکٹ کونسل کے دفاتر میں شکایاتی مراکز قائم کئے جائیں گے، شکایاتی مراکز پر شہریوں کی شکایات کے ازالے اور انکی رہنمائی و مدد کے لئے خصوصی عملہ متعین کیا جا ئے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نماز عیدکے سلسلہ میں مساجد، عید گاہوں اور امام بارگاہوں اور نماز عید کیلئے مختص کئے جانے والے مقامات پر صفائی کے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔ تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں نماز عید کے مقامات کا خو د دورہ کر کے معائنہ کریں گے اورانتظامات کا جائزہ لیں گے کمشنر کراچی نے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر انتظامیہ کے افسران عید کے دنوں میں آلائشیں ٹھکانے لگانے اور صفائی کے انتظامات کے سلسلہ میں متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ و تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔فیصلہ کیا گیا کہ کمشنر کراچی کے دفتر میں 1299 پر شکائتی مرکز قائم کیا جا ئے گا۔ اس سلسلہ میں خصوصی عملہ متعین کیا جا رہا ہے جو شہریوں کی شکایات کے ازالے اور آپس میں اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون میں مدد فراہم کر نے کے لئے فرائض انجام دے گا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی عید الاضحی کے موقع پر آلائشیں اٹھانے اور صفائی سے شہریوں کی شکایات سننے کے لئے 1339 کو فعال بنایا جا ئے گا جو 24 گھنٹے کام کرے گا۔

شکور پٹھان نے اپنے شہر کے بڑے ناموں کو یاد کرکے قابل قدر تحفہ دیا ہے، سحر انصاری


Picture September 10, 2016 | 5:19 PM

میرے شہر والے کتاب ایک نادر تصنیف اور قابل تعریف کتاب ہے، پروفیسر عنایت علی خان
ادب کی خدمت کرنا معاشرے کی خدمت کرنا ہے، نفیس احمد خان
کراچی:(نیوزآن لائن) شکور پٹھان نے اپنے شہر کے بڑے ناموں کو یاد کرکے قابل قدر اور قابل تحسین کام کیا ہے۔ یہ بات آرٹس کونسل آف پاکستان لائبریری کمیٹی سوشل اسٹوڈینٹس فورم اور سخن پارے کے اشتراک سے منعقدہ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر سحر انصاری نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عبدالشکور پٹھان ادب میں ایک ایسا اضافہ ہیں کہ جس کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے اور اس کمی کو عبدالشکور پٹھان نے میرے شہر والے جیسی خوبصورت کتاب لکھ کر ہم سب شہر والوں کو تحفہ دیا ہے۔قبل ازیں سوشل اسٹوڈنٹس فورم کے چیئرمین نفیس احمد خان نے کہا کہ ادب کی خدمت کرنا، معاشرے کی خدمت کرنا ہے کیونکہ معاشرے ادب اور تہذیب کا گہوارہ ہوتے ہیں اور ہم فورم کے پلیٹ فارم سے ایسی تقریبات کا انعقاد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر تحسین عبید اللہ علیم، عارف مصطفی، عقیل عباس جعفری، معراج جامی نے بھی خطاب کیا۔ کتاب کے مصنف عبدالشکور پٹھان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے اس سے دور رہ کر بھی ذرا ماند نہیں پڑتا بلکہ اس کا احساس وطن سے دور جا کر کچھ زیادہ ہی ہوجاتا ہے۔ میں نے اپنے شہر کی خدمت کی نیت سے اس کتاب کو تحریر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابتدائی طور پر میں نے مختلف شخصیات کے بارے میں فیس بک پر لکھنا شروع کیا جسے پڑھ کر میرے ساتھیوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور کچھ ساتھیوں نے کہا کہ اس تحریر کو کتابی شکل دینی چاہئے جو میرا بھی خواب تھا اور اللہ تعالیٰ نے میرے اس خواب کی تکمیل کردی اور آج یہ کتاب آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اور جس طرح میری پذیرائی فورم کے اراکین اور میرے ساتھیوں نے کی ہے میں ان سب کا مشکور ہوں۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر عنایت علی خان نے مصنف کی کاوش پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ کسی بھی شعبے میں کتاب لکھنا ایک ناممکن کام ہے جسے احسن طریقے سے عبدالشکور پٹھان نے کتابی شکل دے کر ہم سب کو اپنا مقروض کردیا ہے۔ ہم انہیں اپنی جانب سے دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر سخن پارے کے صدر منیر پٹھان نے کتاب کی رونمائی کرتے ہوئے تمام مہمانوں کو اپنے بھائی عبدالشکور پٹھان کی کتاب پیش کی۔ اس تقریب کی میزبانی کے فرائض سلیم فاروقی صاحب نے نہایت احسن انداز سے ادا کیے۔ آخر میں فورم کے ادبی کمیٹی کے چیئرمین اور سیکریٹری نشر و اشاعت وقار زیدی نے تمام مہمانوں کا شکریہ اور لذت و کام و دہن کا اعلان کیا۔

کے ایم سی افسران کو عید پر تنخواہیں نہ دینے سے وزیر بلدیات، حکومت سندھ کی بدنیتی ظاہر ہوگئی۔ سہیل اختر ہاشمی


karachi September 10, 2016 | 1:12 PM

منتخب نمائندوں کو ناکام بنانے کے لئے عمل کیا گیا، اسسٹنٹ کمشنرز منتخب نمائندوں کے متوازی اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔ ارشد وہرہ کا ساتھ دیں گے۔ سہیل اختر ہاشمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی:(نیوزآن لائن)کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل اختر ہاشمی نے عیدالاضحی پر کے ایم سی افسران کو تنخواہیں نہ دینے لی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے وزیر بلدیات کا تعصب اور حکومت سندھ کی بد نیتی ظاہر ہوگئی۔ منتخب نمائندوں کو ناکام بنانے کے لئے یہ عمل کیا گیا۔ ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ نے مثبت سوچ کے ساتھ وزیر بلدیات سے ملاقات کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ منتخب میئر کو آزاد کرنے کے بجائے جیل میں رکھا گیا ہے۔ یہ سارا عمل افسوس ناک ہے ہم ارشد وہرہ کا ساتھ دیں گے اپنے ممبران کو مکمل سپورٹ کا کہ دیا ہے۔ کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بھی ساتھ ہیں۔ سہیل اختر ہاشمی نے مذید کہا کہ اسسٹنٹ کمشنرز بلدیہ عظمی کراچی اور ڈی ایم سیز میں منتخب نمائندوں کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔ لوکل ٹیکس، لینڈ معاملات میں اختیارات سے تجاوز کرکے اداروں کو مفلوج کیا جا رہا ہے ۔ ہم اسکی مذمت کرتے ہوئے ۔ چیف سیکریٹری سندھ سے کاروائی اور وزیر اعلی سندھ سے خصوصی توجہ و مداخلت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ایم کیوایم کے 20سے زائد پولنگ کیمپوں کو اکھاڑ ا گیا ہے جبکہ درجنوں پولنگ کیمپوں کو لگنے ہی نہیں دیا گیا ہے، ڈاکٹر فارو ق ستار


515691-FarooqsattarAPP-1362403742-275-640x480 September 8, 2016 | 8:30 PM

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا پی ایس 127کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ملیر میں قائم مختلف پولنگ کیمپوں کا دورہ
پولنگ کے عملے اور ووٹروں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے پولنگ کی تفصیلات معلوم کیں
ایم کیوایم کے 20سے زائد پولنگ کیمپوں کو اکھاڑ ا گیا ہے جبکہ درجنوں پولنگ کیمپوں کو لگنے ہی نہیں دیا گیا ہے، ڈاکٹر فارو ق ستار
ہمارے اکثریتی علاقوں میں کھلی غنڈہ گردی ، بد معاشی کی گئی اور پولنگ کو ہلکا کیا گیا جو کہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
پولنگ والے دن صبح سے رینجرز موجود نہیں تھی جبکہ پولیس کی غیر جانبداری مشکوک ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
ڈر و خوف کی فضاء پھیلائے جانے کے باوجود 2بجے کے بعد عوام نکلی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار
کراچی :( نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے پی ایس 127کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ملیر میں قائم ایم کیوایم پاکستان کے مختلف پولنگ کیمپوں کا دورہ کیا اور پولنگ کے عملے اور ووٹروں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے پولنگ کی تفصیلات معلوم کیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار لوگوں میں گھل مل گئے اور وہ جن جن کیمپوں پر گئے عوام کا ایک ہجوم ان کے پیچھے پیچھے رہا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن عارف خان ایڈووکیٹ ، نامزد حق پرست امیدوار برائے پی ایس 127وسیم احمد اور حق پرست اراکین قومی وصوبائی بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے شاد مان ٹائون یوسی 6،جعفرطیار ، عمار یاسر فیز ون ، سن رائز چلڈرن اکیڈمی اسکول اور نفیس بنگلو ز سمیت دیگر علاقوں میں قائم ایم کیوایم کے پولنگ کیمپوں کے دورے کئے اور ذمہ داران و کارکنان پر زور دیا کہ وہ پولنگ سے قبل ووٹروں کو گھروں سے نکالیں اور ایک ایک ووٹ کاسٹ کرائیں ۔ اس موقع پر ذمہ داران و کارکنان اور مرد و خواتین ووٹروں نے ڈاکٹر فاروق ستار کو جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں کی کھلی غنڈہ گردی ، فائرنگ ، تشدد ، خوف وہراس پھیلانے اور ایم کیوایم کے اکثریتی علاقوں میں ووٹروں کو ووٹ نہ ڈالنے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے مختلف پولنگ کیمپوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کے 20سے زائد پولنگ کیمپوں کو اکھاڑ ا گیا ہے جبکہ درجنوں پولنگ کیمپوں کو لگنے ہی نہیں دیا گیا ہے ، حقیقی دہشت گردوں نے ڈر و خوف کی فضا پیدا کی جبکہ پیپلزپارٹی کے اکثریتی علاقوں میں بدامنی نہیں تھی ہمارے اکثریتی علاقوں میں کھلی غنڈہ گردی اور بد معاشی کی گئی اور پولنگ کو ہلکا کیا گیا جو کہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پولنگ والے دن صبح سے رینجرز موجود نہیں تھی جبکہ پولیس کی غیر جانبداری مشکوک ہے ، پولیس نے سعادی ٹائون اور امروہہ کے علاقوں میں ایم کیوایم کے پولنگ کیمپوں کا اکھاڑا جبکہ انتظامیہ اس صورتحال پر جانبدار بنی رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈر و خوف کی فضاء پھیلائے جانے کے باوجود 2بجے کے بعد عوام نکلی ہے ، مجھے یقین ہے کہ دھاندلی کے باوجود ایم کیوایم یہ الیکشن جیتے گی ۔ انہوں نے کہاکہ پی ایس 127میں ہمارے پاس بائیکاٹ کا آپشن تھا لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ الیکشن لڑیں گے اور الیکشن کے میدان میں جیت کر دکھائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بائو گوٹھ میں حقیقی دہشت گرد افضل کوٹی سرگرم ہے اور دندناتے پھیر رہا ہے لیکن پولیس اسے روکنے میں ناکام ہے ۔ انہوں نے پولنگ کیمپوں پر موجود نوجوانوں ، بزرگوں ، خواتین سے اپیل کی کہ ابھی پولنگ ختم ہونے میں دو گھنٹے باقی ہیں لہٰذا اپنے اپنے علاقوں اور گھروں میں ایک ایک خواتین اور مرد کا ووٹ ضرور کاسٹ کرائیں جن لوگوں نے ڈر و خوف کی فضا پیدا کی ہے وہ ایم کیوایم کی فتح پرآج رات ماتم کریں گے ۔ اس موقع پر خواتین ، نوجوانوں ، بزرگوں اوربچوں نے ڈاکٹر فاروق ستار سے آٹو گراف لئے اور نعرہ متحدہ جئے متحدہ ، پاکستان زندہ ، نعرہ پاکستان جئے پاکستان اور دیگر نعرے پرجوش انداز میں لگائے ۔

کراچی کو ہر قسم کے غیر قانونی اسلحے سے پاک کیا جائے راشد علی خان


karachi September 8, 2016 | 8:13 PM

سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے جاری کردہ تمام اسلحہ لائسنس منسوخ کئے جائیں اور نئے سرے سے تمام اسلحہ لائسنس کی جانچ پڑتال کی جائے
کراچی:(نیوزآن لا ئن) کراچی کو ہر قسم کے غیر قانونی اسلحے سے پاک کیا جائے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے جاری کردہ تمام اسلحہ لائسنس منسوخ کئے جائیں اور نئے سرے سے تمام اسلحہ سائسنس کی جانچ پڑتال کی جائے یہ بات الراشد فائونڈیشن پاکستان کے چیئرمین راشد علی خان نے وفاقی و صوبائی وزیر داخلہ ، وزیر اعلیٰ سندھ اورہوم سیکٹریٹری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے قانون کے سخت بنایا جائے تا کہ صرف ایک شخص کو اس کے اپنے تحفظ کے لئے چار چار اسلحہ لائسنس کے بجائے صرف ایک لائسنس جارہ کیا جائے تا کہ شہر میں اسلحہ کی بھر مار کو کم کیا جا سکے اور صرف اہل افرادجن میں جج صاحبان ،ڈاکٹرز ،انجینئر ز،وکلائ، صحافی،تاجر برادری اور دیگر معزز شہریوں کو اسلحہ لائسنس چھان بین کے ذریعے جاری کئے جائیں راشد علی خان نے کہا کہ غیر قانونی اسلحہ کی وجہ سے کراچی میں گزشتہ 30سالوں سے امن و امان کی صورتحال خراب رہی ہے انہوں نے کہا کہ نہ صرف غیر قانونی اسلحہ بر آمد کیا جائے بلکہ کراچی کے داخلی اور خارجی راستوں کی بھی سخت نگرانی کی جائے راشد علی خان نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کو نہتاکیا جائے اورغیرقانونی اسلحہ جمع کرانے والوں کے لئے پر کشش مہم شروع کی جائے تا کہ شہر بھر سے رضا کارانہ طور پر لوگ تھانوں میں اسلحہ جمع کرائیں انہوں نے کہا کہ اسلحہ کے زور پر عوام سے کاریں ،موٹر سائیکلیں ،موبائل فونزاور دیگر اسٹریٹ کرائم کئے جاتے ہیں جس میں عوام لاکھوں روپئے کے قیمتی سامان سے محروم ہو جاتے ہیں راشد علی خان نے کہا کہ شہر بھر کے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی مکمل طور پر فعل کیا جائے تا کہ جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی ہو سکے اور جرائم کا مکمل طورپر خاتمہ ہو سکے ۔

حافظ نعیم الرحمن کی نیپرا کے اجلاس میں شرکت،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت


Nepra Ijlas Pic September 8, 2016 | 7:57 PM

نیپرا کے الیکٹرک کی ظلم و زیادتی سے کراچی کے عوام کو نجات دلائے،کے الیکٹرک نے قبلہ درست نہ کیا تو دھرنا دیں گے
مقامی ہوٹل میں نیپرا کے سہ ماہی اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
کراچی :( نیوزآن لائن)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں کراچی کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے نیپرا کے اجلاس میں شرکت کی۔کے الیکٹرک کے خلاف عوام کا مقدمہ پیش کیا اور بجلی مہنگی کرنے کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے حقائق پیش کیے۔ انہوں نے کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے حوالے سے عوامی احساسات و جذبات پر مبنی اپنا مؤقف پیش کیا ۔واضح رہے کہ نیپرا نے حافظ نعیم الرحمن کی کراچی کے نمائندے کی حیثیت سے کے الیکٹرک کے خلاف فریق بننے کی درخواست منظور کی تھی۔ اجلاس کے بعد حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیپرا کے الیکٹرک کی پشت پناہی کررہی ہے اسی وجہ سے کے الیکٹرک پرلگائے گئے جرمانے کے باوجود اور سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے باوجود عوامی مسائل حل نہیں کیے جارہے،انہوںنے کہا کہ 5ارب روپے کی سبسیڈی کے فوائد کو عوام تک نہیں پہنچایا گیا ، عوام پر بجلی کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے اورکراچی کے عوام کا مقدمہ لڑرہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ کے الیکٹرک بجلی زیادہ تر گیس سے بنا رہا ہے۔ وفاق کی طرف سے 650 میگا واٹ سستی بجلی ،پانی سے پیدا کرکے،کے الیکٹرک کو فراہم کی جاتی ہے،کے الیکٹر ک آئی پی پی ایس سے بھی سستی بجلی خرید کر صارفین کو مہنگے ریٹ پر بیچتا ہے۔ تین ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کے الیکٹرک کے 52 صارفین جنہوں نے اس کے کے خلاف اوور بلنگ کے حوالے سے نیپرا میں درخواستیں دی تھیںآج تک انکا فیصلہ نہیں سُنایا گیا جبکہ قانون کے مطابق نیپراسماعت کے 15 دن تک فیصلہ سُنانے کا پابند ہے۔ پرانا ملٹی ایئر ٹیرف جس کی معیاد30 جون2016ء کو ختم ہوگئی ہے ۔نئے ملٹی ائیر ٹیرف پر نیپرا ہیرنگ میں کیوں تاخیر کر رہی ہے۔ کے الیکٹرک کراچی کی صارفین سے 15 پیسے فی یونٹ اضافی ملازمین کے نام پر آج تک اربوں روپے وصول کر رہی ہے۔ جبکہ کے۔ الیکٹرک نے اپنے ملازمین کی چھانٹی کر کے تعداد17 سے 10ہزار کر دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کراچی کی عوام سے ڈبل بینک چارجز اور ناجائز میٹر رینٹ کے نام پر اربوں روپے کی وصولی کر رہا ہے۔نیپرا جو فیصلے صارفین کے حق میں کرتا ہے اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور جو فیصلے کے۔الیکٹرک کے حق میں ہوتے ہیں اس پر فوراً عملدرآمد ہوجاتاہے۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹر ک کی نجکاری کا بنیادی مقصد اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا اورعوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا تھالیکن کراچی کے عوام بجلی کی لوڈ شیڈنگ ،اوور بلنگ اور بوگس بلنگ سے تنگ آچکے ہیں۔ بجلی کے بریک ڈاؤن سے کراچی کوپانی کی فراہمی بھی معطل ہو جاتی ہے ۔اس طرح کراچی کے شہری شدید گرمی سے دوہرے عذاب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم نے سپریم کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کے مسائل حل نہیں کیے جارہے اور عوام کو ریلیف نہیں دی جارہی ۔انہوں نے کہا کہ اگر عوامی مسائل حل نہیں کیے گئے توہم دھرنا دیں گے اور کے الیکٹرک کے عذاب سے عوام کو چھٹکارا دلائیں گے ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے ،کے الیکٹرک صارفین حقوق کے انچارج عمران شاہد اور سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔

مہاجر مسائل آج بھی منہ کھولے کھڑے ہیں: ڈاکٹر سلیم حیدر


dr saleem haider mit September 8, 2016 | 7:53 PM

اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر مہاجر مسائل کیلئے کبھی بات نہیں کی گئی جو مہاجر مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ ہے
مہاجر نسلوں کو تباہ کرنے والے بہروپیوں سے مہاجر قوم جلد سے جلد جان چھڑائیں: چیئرمین ایم آئی ٹی
کراچی:(نیوزآن لائن) مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ شخصیت پرستی کی سیاست اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے ، بدقسمتی سے 30 سال کے دوران مہاجر حقوق اور مہاجر مسائل پر بات کرنے کے بجائے شخصیت پرستی کی سیاست کو فروغ دیا گیا۔ جس نے مہاجروں کے حقوق اور مسائل پس پشت ڈال کر اپنی ذات کو اُجاگر کیا ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجر مسائل آج بھی منہ کھولے کھڑے ہیں۔ برسہا برس سے قیادت اور کارکنوں کے مسائل پر احتجاج سے لے کر ہنگامہ آرائی تک تو کی گئی لیکن مہاجر مسائل پر نہ اسمبلی او رنہ ہی اسمبلی کے باہر کوئی بات ہوئی۔ حد تو یہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے مہاجروں کیلئے تعلیمی ادارے بھی نہیں بنائے گئے ۔ حیدرآباد کے شہریوں کا دیرینہ مسئلہ یونیورسٹی کے قیام پر آج تک کوئی توجہ دی گئی اور نہ ہی کراچی میں مہاجر نوجوانوں کیلئے یونیورسٹی اور کالج بنائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کو جس طرح بدنام اور رسوا کیا گیا ہے اس سے سب کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں پر پاکستان دشمنی کے الزام کے بعد ہمارے آباؤ اجداد کی روحیں بھی تڑپ اُٹھی ہوں گی۔ لیکن وہ جوکہ شخصیت پرستی کی سیاست کو پروان چڑھانے میں آگے آگے تھے آج وہی پاکستان کی سالمیت کے دعویدار بنے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کی نسلوں کو تباہ وبرباد کرنے والے بہروپیوں کیخلاف قوم کوغیرمعمولی فیصلے کرنا ہوں گے۔ اگر ابھی مصلحت اور منافقت کا ساتھ نہیں چھوڑا گیا تو پھر مہاجروں کی داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

جامعہ کراچی: شعبہ سماجی بہبود کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر دوروزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب


Social Work Final Pic for Publication September 8, 2016 | 7:25 PM

جامعہ کراچی: شعبہ سماجی بہبود کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر دوروزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب
=====
کراچی:(نیوزآن لائن)کسی بھی قوم کی ترقی اور اس کی بقا کا دار و مدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ اس کے افراد اپنے معاشرتی فرائض کی ادائیگی کس حد تک کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال اور ذمہ داریاں صرف انہی کی ذات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ایک وسیع دائرہ ہوتا ہے جس پر ان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔سوشل ورک صرف ویلفیئر کے کام تک محدود نہیں بلکہ یہ سائنسی طریقوں سے سماجی مسائل کا حل نکالنے کا ذریعہ بھی ہے۔عصر حاضر میں سچائی اور ایمانداری سے سماج کے لیے کام کرنے والے سوشل ورکرز کی سخت ضرورت ہے۔نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں سماجی خدمات حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہے جو لمحہ فکریہ ہے ۔ہماری نوجوانسل کو چاہیئے کہ سماجی ترقی اور تبدیلی کے لیے اپنا مثبت کردار اداکرے۔تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اگر ہمارا کردار اچھا نہ ہو اور بحیثیت شہری ہمیں اجتماعی زندگی میں رہنے کے بنیادی اصول ہی معلوم نہ ہوں تو ہم اس تعلیم کے باوجود بد تہذیب اور غیر متمدن کہلائیں گے۔ جس قوم کے لوگوں میں جس قدر معاشرتی آداب موجود ہوتے ہیں وہ قوم اسی قدر مہذب اور ترقی یافتہ خیال کی جاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار وزیر برائے سوشل ویلفیئر حکومت سندھ محترمہ شمیم ممتاز ، سیکریٹری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ شارق احمد،جامعہ کراچی کے شعبہ سماجی بہبود کی چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ اوررئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے جامعہ کراچی کے شعبہ سماجی بہبود کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر شعبہ کے زیر اہتمام اور ہائرایجوکیشن کمیشن پاکستان،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ اور انجمن ترقی نسواں کے اشتراک سے سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز کے عبدالستار ایدھی سیمینار ہال میں منعقدہ دوروزہ کانفرنس بعنوان: ”سوشل ویلفیئر :پاکستان میں سماجی بہبود اور ویلفیئر کو درپیش چیلنجز” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے مزید کہا کہ ہمارے یہاں ایک بڑی تعداد کو سماجی طور پر نظر اندازکیا جارہاہے جس میں غربت اور بچوں کی مشقت جیسے دیگر مسائل شامل ہیں جس کا سد باب وقت کی اہم ضرورت ہے۔مثبت نتائج حاصل کرنے کے لئے نظام پر تنقید کے بجائے اصلاحات اور بہتری کی ضرورت ہے۔ہمیں ان مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے قبل اس کے کہ یہ اپنے عروج پر پہنچ جائیں۔شعبہ سماجی بہبود کی چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے کہا کہ شعبہ سماجی بہبود انتظامی اُمور اور مشاورت کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتا ہے جو کہ پس ماندہ افراد کے لئے بنیادی مدد کی خدمات فراہم کرنے کے منظم طریقہ کار کے مطالعے پر مرکوز ہے جس میں سماجی بہبود کی پالیسی میں دی گئی ہدایات پر عمل، کیس ورک کی منصوبہ بندی، سماجی کائونسلنگ اور مداخلتی حکمت عملی، انتظامی طریقہ کار اور ضوابط اور مخصوص خدمات کے حوالے سے جیسے کہ بچوں کی نگہداشت اور فلاح، خاندان کی بہبود، آزمائشی تقرر، روزگار کی فراہمی اور معذور افراد کی مشاورت شامل ہیں۔ سماجی تحقیق اس شعبہ کا طرۂ امتیاز ہے۔ ماسٹرز کی سطح پر تحقیقی مقالے تحریر کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تحقیق کے موضوعات مختلف النوع ہوتے ہیں جو تقریباً تمام قابل فہم سماجی مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ شعبہ سماجی بہبود کے طلباء و طالبات بھی مختلف نوعیت کے تحقیقی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ موجودہ سماجی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء و طالبات نے ٣٦٥٠ افراد کا ڈیٹا جمع کیا ہے جس کو ”کراچی کی کچی آبادیاں: ایک جائزہ” کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ شعبے کے طلباء و طالبات کو متحرک رکھنے کے لئے مختلف غیر نصابی سرگرمیاں منعقد کی جاتی رہی ہیں جیساکہ سماجی بہبود کے طلباء و طالبات نے ٤ سال تک مسلسل تصویری مقابلہ بعنوان ”کراچی ہماری نظر میں” منعقد کیا جس میں کراچی کو تصویری شکل میں مختلف پہلوئوں سے دکھایا گیا اور اس کاوش کو کتابی شکل میں بعنوان ”شہرِ قائد کے ہنرمند لوگ” شائع کیا گیا۔ تصویری نمائش کا یہ سلسلہ ابھی بھی جا ری ہے، شعبے کے ٥٥ سال مکمل ہونے کے موقع پر آج یہ تصویری مقابلہ دوبارہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال شعبے کے فارغ التحصیل طلباء و طالبات پاکستان کے ہر شہر میں سرکاری، غیر سرکاری اور بین الاقوامی اداروں کے مختلف شعبہ جات میں سوشل کیس ورکر، کمیونٹی آرگنائزر، مشاورت دینے والے(کونسلر)، کے طور پر اپنی خدمات بھرپور طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان جرنل آف اپلائیڈ سوشل سائنسز کے چوتھے شمارے کا اجرائ، تصویری مقابلہ ”کراچی ہماری نظر میں” اور پاکستانی ثقافتی شو بھی منعقد کیا گیا جس کو حاضرین نے بیحد سراہا۔
====
جامعہ کراچی: سنڈیکیٹ کا اجلاس
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کی صدارت میںگذشتہ روز سینڈیکیٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میںسنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ ٦جون٢٠١٦ء کی روداد کی توثیق کی گئی اور قراردادوں پر عملدرآمد کی رپورٹ کی منظوری دی گئی۔ پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال کوشعبہ نفسیات جبکہ پروفیسر منیرہ نسرین انصاری کو شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کا چیئر پرسن مقررکرنے کی منظوری دی گئی۔شعبہ سماجی بہبود کے ڈاکٹر صابر مائیکل کے کیس کو اگلی سنڈیکیٹ تک ملتوی کردیا گیا ہے۔جامعہ کراچی کے ملازمین کو اوورٹائم کی ادائیگی کے معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دے گئی ہے جو اپنی سفارشات شیخ الجامعہ کو پیش کریں گی۔کمپیوٹر آپریٹر سے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ ایسے کمپیوٹر آپریٹر جنہوں نے ڈی آئی ٹی سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن یا یونیورسٹی کے تسلیم شدہ اداروں سے کیا ہے ان کی موجودہ حیثیت برقراررہے گی جبکہ ایسے کمپیوٹر آپریٹر جنہوںنے ڈی آئی ٹی سندھ بورڈ آف ٹیکنکل ایجوکیشن یا یونیورسٹی کے تسلیم شدہ اداروں سے نہیں کیا ان کو مہلت دی گئی ہے کہ وہ جلد ازجلد اپنا ڈی آئی ٹی مکمل کرلیں۔جامعہ کراچی کے نرسری کے عقب میں قائم مکانات جامعہ کراچی کی ملکیت ہے اور اس میں رہائش پذیر ملازمین سے ہائوس سیلنگ اور یوٹیلیٹی چارجز وصول کئے جائیں گے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ کراچی میں قائم شدہ یوبی ایل کی برانچ،بوتھ اورایم سی بی بوتھ کے سلسلے میں معاہدے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو نیامعاہدہ تیار کرکے سنڈیکیٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی ۔جامعہ کراچی میں قائم انسٹی ٹیوٹ اور تجارتی مراکز سے یوٹیلیٹی بلز تجارتی نرخوں پر وصول کرنے کی منظوری دی گئی ۔محترمہ فرحین نوید کو جامعہ کراچی کی اعزازی ڈگری دیئے جانے کی منظوری نہیں دی گئی۔شعبہ ویژول اسٹڈیز کی چیئر پرسن محترمہ دریہ قاضی کی موجودہ حیثیت برقراررہے گی اور یہ آسامی مشتہر کی جائے گی۔اسمبلی کی قرارداد کے مطابق جامعہ کراچی میں ”صوبھوگیانچندانی” چیئر کے قیام کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیرت چیئر کو فعال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں فنڈز کی فراہمی کے لئے ہائرایجوکیشن کمیشن سے رابطہ کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: سابق شیخ الجامعہ ڈاکٹر عبدالوہاب کی یاد میں تعزیتی اجلاس آج ہوگا
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے سابق شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب کی یاد میںایک تعزیتی اجلاس آج بروزجمعہ09 ستمبر 2016 ء کو صبح 11:00 بجے کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقد ہوگا۔ تمام تدریسی ،غیر تدریسی عملے اور طلباوطالبات سے شرکت کی درخواست ہے۔

معاشرے کی تباہی کی وجہ اسلام سے دوری ہے،مفتی محمد نعیم


jamia banoria September 2, 2016 | 8:50 PM

علماء کرام معاشرے میں تیزی سے پھیلنے والی برائیوں کے سدباب کیلئے کردار ادا کریں
اسلامی طرز زندگی کو عام کرکے ہی مغربی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کیا جاسکتاہے،علماء کے وفد سے گفتگو
کراچی:(نیوزآن لائن) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رائیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ امت مسلمہ کے زوال اور معاشرے کی تباہی کی وجہ اسلام سے دوری ہے،مغرب اور اس کے آلہ کار مسلم معاشرے کو مادر پدر آزادبنانے کے مواقعوں کی تلاش میں ہیں،مختلف ذرائع سے بے ہودگی اور مغربی کلچر کے فروغ دیا جارہے جس کے باعث نسل نو میں معاشرتی خرابیاں پیداہورہی ہیں ،علماء کرام معاشرے میں تیزی سے پھیلنے والی برائیوں کے سدباب کیلئے کردار ادا کریں کیونکہ اسلامی طرز زندگی کو عام کرکے ہی مغربی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کیاجاسکتاہے۔جمعہ کو جامعہ بنوریہ عالمیہ آئے ہوئے علماء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈوں کے باوجو دآئے روز لوگ جوق در جوق اسلام داخل ہورہے ہیں اسلام دشمن قوتیں جان چکی ہیں ظلم وتشدد اور پروپیگنڈوں سے اسلام کی تبلیغ کو نہیں روکا جاسکتا، جس کیلئے منظم منصوبہ بندھی کے تحت پوری دنیا میں مسلمانوں کے کلچر کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور تعلیمی اداروں میں فحاشی و عریانی کو پروان چڑھا یا جارہا ہے،جس کے باعث آئے روز انسانیت سوز واقعات پیش آرہے ہیں اور معاشرے سے صبروبرداشت ختم ہوتاجارہاہے ، انہوں نے کہاکہ وطن عزیز میں بھی منظم منصوبے کے تحت کلچر کے نام پر ناچ گانے کی محفلوں کا انعقاد کیا جارہاہے تو کبھی تبدیلی کے نام پر قوم میں بے حیائی کو فروغ دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں ،انہوںنے کہاکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے قرآن مجید انسانیت کی رہنمائی کیلئے دنیا میں آیا آج سوچی سمجھی سازش کے تحت نسل نو کو قرآن مجید سے دورکرکے مختلف قسم کی وہیات میں لگایا جارہاہے، انہوں نے کہاکہ موجودہ معاشرتی مسائل سے نکلنے کیلئے اسلامی طرز زندگی کو عام کرنے کی ضرورت ہے، انہوںنے کہاکہ علماء کی ذمہداری بنتی ہے کہ وہ حکمت او ربصیرت کے ساتھ دین اسلام کی تبلیغ کریں اور معاشرے کے اندر تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں کے سدباب کیلئے کردار ادا کریں، انہوںنے کہاکہ آج پوری دنیا میں مسلم ممالک کے خلاف سیاسی و معاشی ڈھانچے اور اجتماعی نظام میں یہودیوں و صلیبی جنگ میں مصروف ہیں ،نام نہاد این جی اوزکے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں نئی نسل کے ذہن، عقیدے اور اخلاق برباد کئے جارہے ہیں،اسلامی طرز زندگی کو عام کرکے ہی مغربی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کیا جاسکتاہے۔

بعض قوتیں ایم کیوایم پاکستان کو اس کے سیاسی اور جمہوری حق سے محروم رکھ رہی ہیں۔ ایم کیوایم رابطہ کمیٹی پاکستان


MQM-flag-040413 September 2, 2016 | 8:23 PM

سادہ لباس پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایم کیوایم لیاقت آباد ٹائون کے
آرگنائزر اسماعیل کی غیر قانونی گرفتاری پر رابطہ کمیٹی پاکستان کااظہار مذمت
ہزاروں کارکنان کی گرفتاریوں کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومت و انتظامیہ اب تک یہ بتانے
سے قاصر ہے کہ انہیں ایم کیوایم کے کتنے کارکنان مطلوب اور غیر مطلوب ہیں، رابطہ کمیٹی پاکستان
بعض قوتیں ایم کیوایم پاکستان کو اس کے سیاسی اور جمہوری حق سے محروم رکھ رہی ہیں۔ ایم کیوایم رابطہ کمیٹی پاکستان
ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کی سلب کی گئی سیاسی اور جمہوری آزادی بحال کی جائے، گرفتار شدگان کو فی الفور رہاکیاجائے، رابطہ کمیٹی پاکستان
کراچی:(نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ رابطہ کمیٹی پاکستان نے سادہ لباس پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایم کیوایم لیاقت آباد ٹائون کے آرگنائزر اسماعیل کی غیر قانونی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایم کیوایم کے ذمہ دارن و کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ فی الفوربند کرایاجائے ۔ ایک مذمتی بیان میں رابطہ کمیٹی پاکستان نے کہاکہ کراچی آپریشن کی آڑ میں پولیس اور سادہ لبا س اہلکاروں کی جانب سے ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کے گھروں پر ہزاروں چھاپہ مار کاروائیاں کی گئیں اور ہزاروں ہی کارکنان و ذمہ داران کو گرفتار کیا گیا اور انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے پابند سلاسل کردیا گیا لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومت و انتظامیہ اب تک یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انہیں ایم کیوایم کے کتنے کارکنان مطلوب اور غیر مطلوب ہیں ۔ رابطہ کمیٹی پاکستان نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان ،پرامن سیاسی اور جمہوری جماعت ہے اور ملک کے آئین و قانون میں رہتے ہوئے اپنے سیاسی ، سماجی اور معاشی حقوق کی جدوجہد کررہی ہے مگر ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کے گھروں پر چھاپے ، اس کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی سے صاف ہوتا ہے کہ بعض قوتیں ایم کیوایم پاکستان کو اس کے سیاسی اور جمہوری حق سے محروم رکھ رہی ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہورہی ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی پاکستان نے وزیراعظم نواز شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ ایم کیوایم لیاقت آباد ٹائون کے آرگنائزر اسماعیل کو سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے بلاجواز گرفتارکرنے کا سختی سے نوٹس لیاجائے ، ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کی سلب کی گئی سیاسی اور جمہوری آزادی بحال کی جائے، گرفتار شدگان کو فی الفور رہاکیاجائے اور ایم کیوایم کو ملک کے آئین و قانون میں رہتے ہوئے سیاسی اور جمہوری حق فراہم کیاجائے ۔

جامعہ کراچی: آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے زیر اہتمام اجلاس 05 ستمبر کو ہوگا


karachi university September 2, 2016 | 8:16 PM

جامعہ کراچی: آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے زیر اہتمام اجلاس 05 ستمبر کو ہوگا
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی میں06 اور 07 دسمبر 2016 ء کو منعقد ہونے والے پہلے اینوینشن ٹو اینوویشن سمٹ سندھ 2016 ء کے انعقاد سے متعلق ایک اہم اجلاس جامعہ کراچی کے وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں بروز پیر 05 ستمبر 2016 ء کو دوپہر 2:30 بجے منعقد ہوگا ۔اجلاس میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر،رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان ،ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ اینویشن اینڈ کمرشلائزیشن جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عالیہ رحمن ،مشیر شیخ الجامعہ برائے سیکورٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی ،رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر،مشیر امورطلبہ پروفیسر ڈاکٹر انصر رضوی ،انچارج گیسٹ ہائوس پروفیسر ملاحت کلیم شیروانی اورانچارج گرلز ہاسٹل پروفیسرڈاکٹر انیلا امبر ملک شرکت کریںگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: بی اے ،بی کام اور بی اوایل پرائیوٹ کے رجسٹریشن فارم جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ارشد اعظمی کے اعلامیہ کے مطابق بی اے،بی کام،بی اوایل کے پرائیوٹ اور امپرومنٹ آف ڈویژن کے لئے بی اے ،بی کام اور بی ایس سی کے رجسٹریشن فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 03 اکتوبر 2016 ء تک توسیع کردی گئی ہے۔طلبہ اپنے رجسٹریشن فارم 3500/= روپے فیس کے ساتھ جمع کراسکتے ہیں، فارم کے حصول اور جمع کرانے کے لئے جامعہ کراچی کے سلورجوبلی گیٹ پر واقع بینک کائونٹرز سے رجوع کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ مضمون کی تبدیلی کے لئے بھی 700/= روپے فیس کے ساتھ انہی تاریخوں میں فارم جمع کرائے جاسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: شعبہ سماجی بہبود کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر دوروزہ کانفرنس 08 اور 09 ستمبر کو منعقد ہوگی
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے شعبہ سماجی بہبود کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر شعبہ کے زیر اہتمام اور ہائرایجوکیشن کمیشن پاکستان،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ اور انجمن ترقی نسواں کے اشتراک سے دوروزہ کانفرنس بعنوان: ”سوشل ویلفیئر :پاکستان میں سماجی بہبود اور ویلفیئر کو درپیش چیلنجز” 08 اور 09 ستمبر 2016 ء کو جامعہ کراچی کے سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز کے عبدالستار ایدھی سیمینار ہال میں منعقد ہوگی۔کانفرنس کی افتتاحی تقریب کی 08 ستمبر کو صبح 10:00 بجے منعقد ہوگی جس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کریں گے جبکہ وزیر برائے سوشل ویلفیئر حکومت سندھ محترمہ شمیم ممتاز مہمان خصوصی ہوں گی۔کانفرنس میں سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز کے جرنل آف اپلائیڈ سوشل سائنسز کے چوتھے شمارے کا اجراء کیا جائے گاجبکہ پوسٹر سازی کامقابلہ اور پاکستانی ثقافتی شو کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

بارشوںکے بعدشہرمیںبجلی کافراہمی منقطع ہونا کے الیکٹرک کی نااہلی و ناکامی ہے،حق پرست اراکین سندھ اسمبلی


MQM-flag-040413 August 28, 2016 | 8:55 PM

کراچی میںبارشوںکے بعد مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے سے متعددافرادکے جاں بحق اور ایک سو اسی سے زائد فیڈرٹریپ ہونے سے بجلی منقطع ہونے پرحق پرست اراکین اسمبلی کااظہارمذمت
بارشوںکے بعدشہرمیںبجلی کافراہمی منقطع ہونا کے الیکٹرک کی نااہلی و ناکامی ہے،حق پرست اراکین سندھ اسمبلی
وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ شہرمیں کرنٹ لگنے سے شہریوںکی ہلاکت اورکے الیکٹرک کی نااہلی وناکامی کانوٹس لیں
کراچی:(نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ کے حق پرست اراکین سندھ اسمبلی کراچی میںحالیہ بارشوںکے بعد مختلف علاقوںمیںکرنٹ لگنے سے متعددافرادکے جاںبحق اور 180سے زائدفیڈرٹریپ ہونے اوراس کے نتیجے میںبجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی شدیدالفاظ میںمذمت کی ہے اوراسے کے الیکٹرک کی نااہلی و ناکامی قراردیاہے۔ایک بیان میںحق پرست اراکین سندھ اسمبلی نے کہاکہ کراچی میںہفتہ کی شام سے شروع ہونیوالی بارشوںنے کے الیکٹرک کاپول کھول دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ شہرمیںبارشوںکے بعدبجلی کی فراہمی کی منقطع ہونے سے کے الیکٹرک انتظامیہ کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے جس نے شہریوںکوشدیدعذاب میںمبتلاکررکھاہے۔انہوںنے کہاکہ کراچی پاکستان کاسب بڑاشہراورقومی خزانے میں70فیصدسے زائدریونیوجمع کروانے والا میگاسٹی ہے اس شہرمیںبجلی کے ناقص انتظام نے شہریوںکی زندگی اجیرن بنارکھی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوںنے کہاکہ مختلف علاقوںمیںکرنٹ لگنے سے متعددافرادکے جاںبحق ہوچکے ہیںجبکہ شہربھرمیںگذشتہ شام سے 180سے زائدفیڈربندپڑے ہیںاورشہرکابیشترحصہ اندھیرے میںڈوباہواہے جبکہ شہرمیںبجلی کی فراہمی بندہونے سے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہے جس کے باعث شہریوںکوشدید مشکلات وپریشان سامناہے اوران کے روزمرہ کے معمولات زندگی شدیدمتاثرہیں۔حق پرست اراکین سندھ اسمبلی نے وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ سے مطالبہ کیاکہ کرنٹ لگنے سے شہریوں کی ہلاکت اورکے الیکٹرک کی نااہلی وناکامی کانوٹس لیاجائے ۔

مہاجروں کو رسوا اور تباہی پر پہنچانے والے قوم سے معافی مانگیں: ڈاکٹر سلیم حیدر ==========


dr saleem haider mit August 28, 2016 | 8:37 PM

جن لوگوں نے مہاجر نام پر جائیدادیں بنائیں، چائنا کٹنگ کی انہیں حقوق کی بات کرنا کوئی حق نہیں
مہاجر ان شعبدے بازوں کو جو بھیس بدل کر پھرقوم کو بیوقوف بنارہے ہیں مسترد کرتے ہیں
کراچی:(نیوزآن لائن)مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدرنے کہا ہے کہ ان حالات کی نشاندہی ہم 20 سال سے کرتے رہے ہیں جس کی پاداش میں ہم پر قاتلانہ حملے ہوئے ۔ ہمارے کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرایا گیا۔ آج ہماری بتائی ہوئی باتیں سچ ثابت ہورہی ہیں ۔ لہٰذا مہاجروں کو رسوا اور تباہی پر پہنچانے والے الطاف حسین کو مہاجر قوم سے معافی مانگنی ہوگی۔ آج جو مہاجروں کے ہمدرد بنے ہوئے ہیں وہ ماضی میں مہاجر حقوق کی بات کرنے والوں کیخلاف عرصہ حیات تنگ کرتے رہے ہیں اور یہ بھی مہاجروں کو دیئے جانے والے دھوکے اور مہاجروں کا سودا کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔ وہ ناظم آباد میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ ڈاکٹر سلیم حیدرنے کہاکہ ہماری جماعت مہاجر حقوق کی بانی جماعت ہے ، ہم نے کسی بھی دوراہے پر نہ تو مہاجر دشمن قوتوں سے مفاہمت کی اور نہ ہی مہاجر نام پر مراعاتیں حاصل کرکے اپنے ضمیر کا سودا کیا۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ مہاجران شعبدے بازوں کومسترد کردیں جو بھیس بدل کر ایک مرتبہ پھر مہاجروں کو بیوقوف بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ پہلے ہی مہاجروں کے 30 سال تباہ ہوچکے ہیں اب مزید مہاجر تباہی اور بربادی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لئے یہ عناصر مہاجروں کی جان چھوڑ دیں اور انہیں عزت اور وقار سے زندہ رہنے دیں۔ آج اگر مہاجروں کو را کا ایجنٹ ، دہشت گرد اور ملک دشمن اور مفاد پرست کے القاب سے نوازا جارہا ہے تو اس سب کے ذمہ دار ایم کیوایم کے یہ گروپ ہیں جو مہاجر بھیس میں مہاجر دشمن ثابت ہوئے ہیں ۔ انہوں نے دنیا بھر کی مراعاتیں اور مفادات حاصل کئے اور اب بھی مہاجروں کو بیوقوف بنانے کیلئے گلے پھاڑ پھاڑ کر شور مچارہے ہیں۔ مہاجر عوام انہیں مسترد کرتے ہیں اس لئے کہ کسی اور کے کندھے پر بیٹھ کر نہ تو مہاجروں کی خدمت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی مہاجروں کو ان کا کھویا ہوا مقام دلایا جاسکتاہے۔

جامعہ کراچی : ایچ ای سی نیڈ بیسڈ اسکالرشپ اوریو ایس ایڈ فنڈڈ میرٹ اینڈ نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پروگرام کے لئے انٹرویوز آج ہوں گے


karachi university August 28, 2016 | 8:31 PM

جامعہ کراچی : ایچ ای سی نیڈ بیسڈ اسکالرشپ اوریو ایس ایڈ فنڈڈ میرٹ اینڈ نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پروگرام کے لئے انٹرویوز آج ہوں گے
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے اسٹوڈنٹس فائننشل ایڈآفس کے تحت یو ایس ایڈ فنڈڈ میرٹ اینڈ نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پروگرام 2016 ء کے لئے 113 درخواست گزاروں کے انٹرویوز 29 اگست کوکلیہ سماجی علوم کے کونسل روم میں منعقد ہوں گے ،جبکہ ایچ ای سی نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پروگرام 2015-16 ء کے لئے 788 درخواست گذاروں کے انٹرویوز 29 تا31 اگست منعقد ہوں گے ۔ایچ ای سی نیڈبیسڈ اسکالرشپ کے لئے 29 اگست کو 250 طلبہ 30اگست کو 300 طلبہ جبکہ 31 اگست کو 238 طلباوطالبات کے انٹرویوز ہوں گے ۔تمام انٹرویوز صبح 9:00 بجے کلیہ سماجی علوم کے کونسل روم میں منعقد ہوں گے۔واضح رہے کہ اسکالرشپ پروگرام 2015-16 ء کے امیدواروں کی لسٹ جامعہ کراچی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی گئی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام لیکچر یکم ستمبر کو ہوگا
جامعہ کراچی کے کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام ممتاز سلسلہ لیکچر کے تحت لیکچر بعنوان: ”سائنس ،ٹیکنالوجی اور جدت:روشن مستقبل کی جانب” بروز جمعرات یکم ستمبر 2016 ء کوصبح 11 بجے کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقد ہوگا۔ڈائریکٹر آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کلیدی خطاب کریں گے۔

کراچی میں بارش کا سلسلہ جاری،مختلف حادثات میں 5 افراد جاں بحق


251355-karachirainmohammadazeem-1315903695-716-640x480 August 28, 2016 | 3:06 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)کراچی میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے جاری ہیں ,بارش کے دوران چھت ،دیوار گرنے اور کرنٹ لگنے سے 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس کے مطابق سرجانی ٹائون ، کلفٹن بلاول ہائوس کے قریب اور نارتھ کراچی میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ سول لائن اورنگی ٹاون ایم پی آر کالونی میں دیوار گرنے سے دو افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ برسات کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی بھی غائب ہوگئی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ 150کے قریب فیڈرز متاثر ہوئے ہیں ، بجلی کی بحالی کے لئے کے الیکٹرک کا عملہ مصروف ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ 45ملی میٹر بارش لانڈھی میں ہوئی،ایئرپورٹ اور گلستان جوہر میں 18ملی میٹر ،گلشن حدید میں 17ملی میٹر اور صدر میں 4ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔بارش میں حادثات سے بچائو کے لئے چند ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں،جن کے مطابق تیزہواوں کے ساتھ بارش ہوتو غیر ضروری سفر سے گریز کریں،سفر میں گاڑی یا موٹرسائیکل کی رفتار آہستہ رکھیں،دوسری گاڑیوں سے مناسب فاصلہ رکھیں۔

دنیا بھر سے 2030 ء تک ایڈزکے خاتمے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جا رہے ہیںراشد علی خان


AL rashid foundation August 27, 2016 | 4:30 PM

پاکستان کوایڈز کے مرض سے پاک کرنے کیلئے عوام میں شعور وآ گاہی پیدا کرنی ہوگی کراچی گنجائش سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہرہے جہاں کسی بھی قسم کے وبائی امراض کے پھیلنے میں قطعی دیر نہیں لگتی
کراچی:(نیوزآمن لائن)دنیا بھر سے 2030 ء تک ایڈزکے خاتمے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جا رہے ہیںپاکستان کوایڈز کے مرض سے پاک کرنے کیلئے عوام میں شعور وآ گاہی پیدا کرنی ہوگی کراچی گنجائش سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہرہے جہاں کسی بھی قسم کے وبائی امراض کے پھیلنے میں قطعی دیر نہیں لگتی کراچی شہر پاکستان کا وہ شہر ہے جہاں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے یہ بات الراشد فائونڈیشن پاکستان کے چیئرمین راشد علی خان نے ایڈز کنٹرول سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ پورے سندھ میں ایڈز کے مریضوں کی مجموعی تعداد کا 81فیصد کراچی میں ہے اس لئے کراچی میں ایڈز کنٹرول کرنے اور عوام میں شعورو آگاہی پیدا کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ مہم چلانے کی ضرورت ہے انہوںنے کہا کہ اس مرض میںمبتلا افراد کو ایڈز سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے کے علاوہ مرض کی روک تھام کی بھر پور کوششیں کی جائیں راشد علی خان نے کہا کہ اس مرض میںمبتلا مریضوں کی ہلاکتوں روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں انہوں نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر اس عالمگیر مرض کے خاتمے کیلئے ہم سب کو ملکر اس وائرس کو شکست دینی ہوگی انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اسے مہلک مرض سے نہیں بچا ہے یہ دنیا کے تمام براعظموں تک پھیل گیا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لئے عالمی اقدامات کی اشد ضرورت ہے راشد علی خان نے کہا کہ ایچ آئی وی کے خطرے کے خلاف بھر پور جنگ جاری رکھنی ہوگی انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اس مہلک مرض سے جلد نجات پانے میں کامیاب ہوجائیں گے چونکہ اہم ایسی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیںجو درست سمت میں جارہی ہے راشد علی خان نے کہا کہ ہمیں ایڈز سے تحفظ اور آگاہی کے لئے ہر سطح پر بہترین اقدامات کرنے ہونگے چونکہ یہ انسانی زندگیوں کوسوال ہے انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میںاس مرض میں اضافہ ہو اہے جس میں کئی اموات بھی ہوئی ہیں راشد علی خان نے کہا کہ جو باعث تشویش ہیں راشد علی خان نے کہا کہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام صرف کاغذوں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس سے ایڈز کے مریضوں کو فائدہ ہونے کے علاوہ اس کی روک تھام میں مدد اور عوام میں ایچ آئی وی سے مکمل واقفیت ہونا چاہئے

مہاجر سیاست کے نام پر شعبدے بازی بند کی جائے: ڈاکٹر سلیم حیدر


dr saleem haider mit August 27, 2016 | 4:28 PM

مہاجر سیاست کو رسوا کرنے والوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی، نوجوان بھی شعور کا مظاہرہ کریں
مہاجروں کو 30 سال سے اقتدار کے حصول کیلئے فروخت کیاجاتا رہاہے اور اب بھی قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے
کراچی:(نیوزآن لائن) مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدرنے کہاہے کہ مہاجر سیاست کے نام پر اب شعبدے بازی کا سلسلہ بند ہوجانا چاہئے۔ مہاجر سیاست کو رسوا کرنے والوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ستار واضح موقف اختیار نہ کرکے پوری قوم کو ہیجانی کیفیت میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ اب قوم مزید کسی ڈرامے بازی اور شعبدے بازی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ پہلے ہی مہاجروں کے 30 سال برباد کردیئے گئے ۔ سب سے زیادہ تہذیب یافتہ اور پڑھی لکھی مہاجر قوم کو گالی بنادیا گیا۔ لندن میں بیٹھے شخص نے زاتی مفادات کیلئے ایک مرتبہ پھر پوری قوم کا سودا بین الاقوامی قوتوں کے ہاتھوں کردیا ہے اس سے پہلے بھی مہاجروں کو اقتدار کے حصول کیلئے خریدا اور بیچا جاتا رہا۔ انہوں نے کہاکہ آج کے حالات کی نشاندہی ہم نے برسوں پہلے سے کرنا شروع کردی تھی، کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مہاجر قوم کو گمراہی اور جہالت میں مبتلاکرکے نہ تو قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ملک کی تعمیروترقی میں کوئی کردار ادا کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مقتدر حلقے اور اداروں کو اب واضح طورپر ان ملک دشمن عناصر کیخلاف بھرپور کارروائی کرنی ہوگی جو پاکستان اور اس کی سالمیت کیخلاف بات کرتے ہیںاور غیرملکی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مہاجر نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شعور اور ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہاجروں کیخلاف کی جانے والی سازشوں سے بچیں اور کسی ایسے شخص کے آلہ کار نہ بنیں جو پاکستان دشمنی کیلئے انہیں استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ مہاجر متحد ہوکر ملک دشمن قوتوں کو مسترد کردیں اور اپنا پاکستانی تشخص برقرار رکھنے کیلئے اُٹھ کھڑے ہوں۔ کیونکہ چند لوگوں کی بداعمالیوں کی سزا پوری قوم کو نہیں دی جاسکتی۔ مہاجر سر سے پاؤں تک پاکستانی ہیں اور ان کی پاکستان سے محبت غیر مشروط ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ پوری قوم ملک دشمن ہو جائے، چند لوگ تو ملک دشمنی کا ارتکاب کرسکتے ہیں پوری قوم نہیں۔

جامعہ کراچی:سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز میںنئے سیمینار ہال کوعبدالستارایدھی کے نام سے منسوب کرنے کی تقریب


Semianr Hall August 21, 2016 | 9:04 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز کی ڈائریکٹر اور شعبہ سماجی بہبود کی چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے کہاکہ عبدالستار ایدھی پاکستان کا ایسانام ہے جس نے بے بس ،مجبور اور لاوارث افراد کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھ کر ان کی مدد کی اور دکھی دل افراد کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی،عبدالستار ایدھی آج موجودنہیں لیکن ان کا پیغام موجودہے ۔عبدالستار ایدھی کی خدمات کو ہمیشہ یادرکھا جائے گا ان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ عبدالستار ایدھی نے انسانیت کی خدمت کرکے نہ صرف اپنا بلکہ پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز میں ایک نئے سیمینار ہال کو عبدالستار ایدھی سیمینار ہال کے نام سے منسوب کرنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جس کا افتتاح عبدالستارایدھی مرحوم کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے کیا۔ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے مزید کہاکہ عبدالستار ایدھی نے اپنی پوری زندی انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کردی تھی ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ہم سب کو ان کے مشن کو جارکھنا چاہیئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری نوجوان نسل عبدالستار ایدھی کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے اپنا مثبت کرداراداکریں۔اس موقع پر جامعہ کراچی کے شعبہ سماجی بہبود میں ریسرچ لیب کو بھی عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب کیا گیا اور دیوار پر آویزاں عبدالستار ایدھی کی تصویر اور آخری الفاظ ”میرے ملک کے غریبوں کا خیال رکھنا” کی رونمائی بھی کی گئی ۔تقریب میں دونوں شعبہ کے اساتذہ اور طلباوطالبات کی کثیر تعداد موجودتھی ۔

وزیراعلیٰ سندھ کے حکم کے باوجودگلستان جوہر کے کارکنان کو تاحال رہا نہیں کیاگیا ، امین الحق


MQM-flag-040413 August 19, 2016 | 8:30 PM

ایم کیوایم اور مہاجردشمنی میں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کے احکامات کو بھی نظراندازکیاجارہا ہے ، امین الحق
تمام گرفتارشدگان کو فی الفور رہااور لاپتہ کارکنان کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایاجائے، امین الحق
کراچی:(نیوزآن لائن) متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن سید امین الحق نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے احکامات کے باوجود ایم کیوایم گلستان جوہر کے کارکنان کو رہا نہ کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ ایم کیوایم اور مہاجردشمنی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے صوبہ سندھ کے منتخب وزیراعلیٰ کے احکامات کو بھی نظرانداز کرکے آئین اورقانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مورخہ16 ، اگست کو رینجرز نے گلستان جوہر میںایم کیوایم کے ٹاؤن آفس میں زبردستی گھس کرقرآن خوانی کے اجتماع کے شرکاء کو بہیمانہ تشددکا نشانہ بنانے کے بعد کنٹونمنٹ بورڈ کے حق پرست کونسلر ذیشان بشیر،ایم کیوایم گلستان جوہر ٹاؤن کمیٹی کے رکن انوارالحسن ، یوسی کمیٹی کے ارکان اظہرقریشی، فیصل وہاب اورکارکن طلحہٰ کو گرفتارکرلیاتھا۔ میڈیا میں شائع ونشر ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ نے ان بے گناہ افراد کی گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے تمام گرفتارشدگان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات کے باوجود ان گرفتارشدگان کو تاحال رہا نہیں کیاگیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ سید امین الحق نے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیاکہ ایم کیوایم کے تمام گرفتارشدگان کو فی الفور رہا کیاجائے اور تمام لاپتہ کارکنان کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایاجائے۔

گجر نالے پر تجاوزات کے خاتمے کے دوران شراب خانے کو تحفظ دینے کا نوٹس لیا جائے ۔حافظ نعیم الرحمن


hafiz naim ul rehman August 19, 2016 | 8:14 PM

سماجی کارکن عدنان دارا پر تشدد میں ملوث شراب خانے کے عملے کو گرفتار کیا جائے۔ عوام کے اندر شدید غم و غصہ پا یا جاتا ہے
کراچی:(نیوزآن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے گجر نالے پر تجاوزات کے خاتم کے لیے آپریشن کے دوران فیڈرل بی ایریا بلاک 5ضیاء الدین ہسپتال پل کے نیچے شراب خانے کو مسمار نہ کر نے اور غیر قانونی طور پر قائم اس شراب خانے کو تحفظ فراہم کر نے کی شدید مذمت کر تے ہوئے مطالبہ کیا ہے حکومت اور متعلقہ ادارے شراب خانے کو تحفظ فراہم کر نے کا نوٹس لیں اور تمام غیر قانونی تعمیرات کی طرح اس شراب خانے کو بھی مسمار کیا جائے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مذکورہ شراب خانے کو مسمار نہ کر نے کے مسئلے کو اُٹھانے پر جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی ضلع وسطی کے کوآرڈی نیٹر سجاد حیدر دارا کے بھائی عدنان داراپر شراب خانے کے عملے کی جانب سے تشدد کر نے کی بھی شدیدمذمت کر تے ہوئے شراب خانے کے عملے کے خلاف سخت کاروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورتحال سے علاقے میں سخت کشید گی پیدا ہو گئی ہے اور فیڈرل بی ایریا بلاک 5کے علاقہ مکین شراب خانے کو تحفظ فراہم کر نے پر سراپا احتجاج ہیں اور ان کے اندر شدید غم وغصہ پایا جا تاہے ۔انہوں نے کہا کہ گجر نالے کی حدود میں تجاوزات کے خاتمے کے آپریشن کے دوران کئی مساجد اور مدرسے بھی آئے ہیں جنہیں شہید کر دیا گیا لیکن شراب خانہ اب بھی قائم ہے اور مقامی انتظامیہ اور پولیس اس کے خلاف کاروائی کر نے پر تیار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اگر برقرار رہی اور شراب خانے کو مسمار نہ کیا گیا تو علاقے میں امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے اور یہ مسئلہ کوئی اور رخ بھی اختیار کر سکتا ہے اس لیے اس صورتحال کا فی الفور نوٹس لیا جائے۔

آٹھارویں ویں ترمیم پر شادیانے بجانے والے مرسیہ پڑھنے کی تیاری کریں:ڈاکٹر سلیم حیدر


MIT Pic August 19, 2016 | 8:10 PM

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سندھودیش تحریک کے ہیڈکوارٹر دادو کی پیدائش ہیں
مہاجر تاریخ کے جبر اور نالائق سیاسی قیادت کے احمقانہ فیصلوں کا شکار ہیں
محب وطن قوتوں کا اتحاد ضروری ہے،چیئرمین ایم آئی ٹی کا استقبالیہ عشائیے سے خطاب
کراچی:(نیوزآن لائن)مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے اور مضبوط کرنے کیلئے محب وطن قوتوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کمزور سے کمزور تر ہورہا ہے لیکن حکمرانوں کو لوٹ مار منصوبوں کے افتتاح کی تقاریب سے فرصت ہی نہیں ہے۔ وہ محض کرپشن اور کمیشن کیلئے موٹر وے کی تعمیر اور جھوٹے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے میں مصروف ہیں۔ وہ آج مقامی ہال میں پارٹی رہنماؤں اور ہم خیال سیاسی شخصیات کے ایک استقبالیہ عشایئے میں خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر ممتاز شخصیات کیپٹن عمران غوری، مشتاق اعوان ایڈوکیٹ، یاسر خان، پروفیسر فرحت سلیم، سہیل دانش، کمانڈر عمران اعوان، ندیم بیگ ایڈوکیٹ، شاکر راجپوت، ڈاکٹر قیصر ہاشمی، صبا ء خان، مفتی غلام مصطفی، احمد باوانی، محمد ارشاد ، طارق بن نصیر، نعیم اختر، راشد قریشی، اعجاز شیخ، شہزاد الرحمن، سید سرفراز علی، عمران صدیقی، سید فہیم اور نعیم صدیقی نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شہری سندھ میں دیرپا امن کا منصوبہ اور کنجی ہمارے پاس ہے۔ شہری سندھ کے عوام کو مطمئن کئے بغیر امن کا خواب ہمیشہ پورا ہی رہے گا۔ وفاق اور سندھ کے درمیان نئی سرد جنگ شروع ہوچکی ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سندھودیش تحریک کے مرکز دادو کی پیدائش ہیں۔ 18ویں ترمیم پر شادیانے بجانے والے اب مرسیہ پڑھنے کی تیاری کریں۔ جن عقل کے سورماؤں نے محب وطن مہاجروں کو ”را” کا ایجنٹ بنانے میں سارا زور بازو لگایا ہوا ہے وہ جلد اپنی غلط حکمت عملی کا خمیازہ بھگتیں گے ۔ مہاجر تاریخ کے جبر اور نالائق سیاسی قیادت کے احمقانہ فیصلوں کا شکار ہیں لیکن ہم قوم پرست ، پڑھے لکھے محب وطن مہاجروں کی طاقت سے وفاق پاکستان ، مہاجروں کے تحفظ اور پائیدار امن کی تحریک جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ چار صوبوں کی بنیاد پر قائم موجودہ وفاقی ڈھانچہ بوسیدہ ہے اس کو مزید نئے صوبے بناکر مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ حکمران ہوس اقتدار میں اندھے، گونگے اور بہرے ہوچکے ہیں جنہیں کراچی ، حیدرآباد کے عوام کی طاقت سے قومی تحریک چلاکر رخصت کیا جاسکتا ہے۔ لیکن حکمرانوں کی طرح اپوزیشن بھی کراچی دشمنی میں اندھی ہوچکی ہے۔ اور وہ کسی قابل عمل سیاسی فارمولے یا منصوبے پر سیاسی تحریک چلانے کو تیار نہیں۔

جامعہ کراچی: بینظیر بھٹو چیئر کے زیر اہتمام وفاقی طرز حکومت کو درپیش چیلنجز کے عنوان سے لیکچر کا انعقاد


Benazir Chair Final Pic August 19, 2016 | 7:58 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)پیپلز پارٹی کے رہنماسینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ تحریک پاکستان دراصل وفاقیت کی تحریک تھی ،صوبائی حقوق کی تحریک تھی وہ صوبے جہاں مسلمان اقلیت میں تھے وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ جومرکز میں حکومت بنے گی جس میں ٹیکنوکریٹس کی اکثریت ہوگی وہ پورے حقوق ان صوبوں کو نہیں دیں گے۔اور اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ صوبوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیئے جائیں۔لیکن غلط فیصلے کئے گئے انتہا پسندوں کو ساتھ لیا گیا مگر اب یہ ہمارے ملک میں بہت چھوٹی تعداد میں موجود ہے جو انتخابات میں کبھی دو فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں لے سکیںاور اس لئے انہوں نے ریاست پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے ہتھیار اُٹھائے لیکن اب اتنی تباہی کے بعدتمام ریاستی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ انتہاپسندی کا خاتمہ ہونا چاہیئے ۔ہندوستان کے اندر صورتحال مختلف ہے جو سمجھوتے کئے گئے انتہا پسندوں سے اس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ ریاستوں اور مرکزکے اندر انتہا پسند آج ووٹ کے ذریعے آتے ہیں۔یہ نقطہ نظرکہ مضبوط مرکز اور صوبائی خودمختاری ان کا ٹکرائو جاری رہا اور پاکستان میں خاص طور پر یہ جاری رہا،پاکستان ایک عوامی جدوجہد کے ذریعے وجود میں آیااور وہ لوگ جو 1970 ء سے پہلے پاکستان کے حکمران بنے ان کا کوئی حصہ اور کردار تحریک آزادی میں نہیں تھا وہ انگریز سرکار کی خدمت کررہے تھے اور تحریک آزادی کے مخالفین میں سے تھے لیکن یہ کہ وہ قابض ہوئے اقتدار پر اور انہوں نے فلسفہ مضبوط مرکز کادیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو چیئر کے زیر اہتمام تیسرا بینظیر بھٹو میموریل لیکچر بعنوان: ”وفاقی طرز حکومت کو درپیش چیلنجز” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تاج حیدر نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی کو ابتدا میں شدید خطرات تھے اور ان خطرات کے لئے افواج پاکستان کو بھی مضبوط کرنے کی ضرورت تھی ۔لیکن مضبوط کرنے کے لئے ہم نے مغرب کی طرف دیکھا مغربی ممالک سے ہم نے فوجی امداد لینی شروع کی توپاکستان کی افواج اور مغربی سامراج کے مابین ایک محور بنا اس محور کے چاروں طرف جو ہماری مقامی ا شرافیہ تھی وہ جمع ہوئی ۔مغربی سامراج کا مقصد یہ تھا کہ سوشلسٹ ممالک کے چاروں طرف ایک گھیرائو اور ایک محاصرے کی کیفیت پیداکی جائے اور اس کے لئے انہوں نے بغداد پیکٹ اور جنوبی ایشیاء کے اندرکام کئے اور غیر جمہوری طاقتوں اور آمروںکوسہارا دیا تاکہ ان کے وقتی مقاصد حاصل ہوتے رہے اور پاکستان سوشلسٹ ممالک کے خلاف جو فوجی بلاک بن رہا ہے اس کے ا ندر شامل رہے اور اس طرح یہ ہوا کہ وہ تمام لوگ جو مساوات کے لئے کام کررہے تھے جو سوشلسٹ تھے جو چاہتے تھے کہ ملک کے اندرجمہوریت ہووہ کچلے جاتے رہے۔تبدیلیاں ہمیشہ چھوٹے صوبے لاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کو ان کے حقوق نہیں دیئے جارہے ہیں اور اسی لئے ہمیں سماج میں تبدیلی لانے کے لئے جو محروم طبقات ہیں جن کو ان کے حقوق نہیں دیئے جارہے ہیں ان کی طرف دیکھنا چاہیئے اور ان کو متحرک کرنا چاہیئے اورجو ہمارے چھوٹے صوبے ہیں ان کی طرف دیکھنا چاہیئے کہ ان کے اندر اپنے حقوق کی جدوجہد کس طرح آگے چلے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک زکوة اور خیرات سے نہیں بلکہ سماجی انقلاب سے ترقی کرتاہے ،ریاست کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیئے لیکن بدقسمتی سے ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری طرح سے اداکرنے سے قاصر ہے۔ڈاکٹر جعفر احمد کلمات تشکر اداکرتے ہوئے کہاکہ اٹھارویں ترمیم ایک بہت بڑاسنگ میل ہے جو برصغیر کی پوری وفاقیت کی تاریخ میں ایک نئی انداز کی جیت ہے جس نے پاکستان کو ہندوستان،ملائیشیاء اور جرمنی سے بھی زیادہ ڈی سینٹرلائزڈ ملک بنادیا ہے لیکن یہ سب کچھ صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہے۔اٹھارویں ترمیم کو منظور ہوئے پانچ سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یہ دیکھیں اس سے حاصل کیا ہواہے اور اس کے عملی نتائج کیا برپا ہوئے ہیں۔پاکستان کے سینٹ کو حقیقی معنوں میں وفاق کی علامت بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے انتخابات براہ راست ہو۔ڈائریکٹر بینظیر بھٹو چیئر سحر گل نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو ایک ویژن اور سیاسی سوچ کا نام ہے۔سینیٹر تاج حیدر کا شمار پاکستان کے سینئر کارکنان اور اس ملک کے چند نظریاتی سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو کہ ایک ادیب اور ایک دانشور بھی ہیں ،سیاست وادب کی یہ آمیزش بہت ہی منفرد ہے۔
====
پاکستان سے مت کھیلیں، پاکستان کے لئے کھیلیں ، طلبہ ہر میدان میں پاکستان کا نام بلند کریں:
جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں جشن آزادی کی تقریب سے سابق کرکٹر محسن حسن کا خطاب
کراچی:(نیوزآن لائن)پاکستان سے مت کھیلیں بلکہ پاکستان کے لئے کھیلیں ۔ آج ہرمیدان میں ایمانداری کے ساتھ کام کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہر میدان میں پاکستان کے لئے کچھ کرنے کی ضروت ہے اسی طرح ہم ملک کی صحیح معنوں میں خدمت کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سابق کرکٹر محسن حسن خان نے شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کے تحت شعبہ میں منعقدہ جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ممتاز سینئر تجزیہ نگار آغا مسعود حسن نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو بہت سے مسائل در پیش تھے، آج ان مسائل میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ اس ملک کے طلبہ اور نوجوان ان مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ صدر شعبہ ابلاغ عامہ پرفیسر ڈاکٹر سیمی نغمانہ نے اس موقع پر طلبہ سے کہا کہ انہیں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہر دم تیار رہنا چاہیئے۔ انہیں ہی ملک وقوم کی رہنمائی کرنی ہے اور دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند بھی کرنا ہے ۔ طلبہ کو اپنے اساتذہ کی قیادت میں آگے بڑھنا چاہیے ۔ پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ملی نغموں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کے تمام ممالک سے آگے ہے ۔ ہمیں دیگر شعبوں میں بھی پاکستان کو سرفہرست لانا ہوگا۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اس موقع پر ملی شاعری پیش کی اور پروگرام کی آرگنائزر یاسمین سلطانہ کی کوششوں کو سراہا ۔ سینئر صحافی فہیم صدیقی اور نسیم راجپوت نے طلبہ کو کہا کہ وہ محنت کرکے صحافت کے میدان میں اپنے ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ ممتاز مصور وسیع حیدر نے پروگرام میں طلبہ کے سامنے کینوس پر خوبصورت فن پارہ تخلیق کیا اور شعبہ کو تحفہ کے طور پر دیا۔پروگرام کی آرگنائزر اُستاد یاسمین سلطانہ نے آخر میں مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔ پروگرام میں طلبہ کے مابین مباحثہ بھی ہوا اور انہوں نے ملی نغمے بھی پیش کئے جس میں، مدرا ہمدانی، جون،سبط حسن، علمدار حسن ، طلحہٰ انور اور عماد حسین وغیرہ نے شرکت کی۔کامیاب طلبہ کو انعامات بھی دئیے گئے۔

یوم آزادی پر عہد کریں کہ قومیت و عصبیت نہیں صرف پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیں گے ۔حافظ نعیم الرحمن


Pic 01 (5) August 14, 2016 | 9:02 PM

کشمیر کی آزادی سے ہی پاکستان مکمل ہوگا ۔بہار کالونی لیاری میں سلام پاکستان جشن آزادی فیملی فیسٹیول سے خطاب
فیسٹیول میں خوا تین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد کی شرکت ، تقریری مقابلے ، کراٹے شو، ٹیبلو، ملی نغمے اور ترانے پیش گئے
کراچی:(نیوزآن لائن)امیر جما عت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ کسی بھی قسم کی قومیت ، لسانیت ، عصبیت اور علاقائیت کا نعرہ لگانے کے بجائے صرف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں گے اور پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے کے لیے تیار رہیں گے ۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور کشمیر کی آزادی سے ہی پاکستان مکمل ہوگا ۔ کشمیر کی آزادی اس وقت ہی ممکن ہوسکے گی جب ہمارے حکمرانوں کے اندر غیرت اور حمیت موجود ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے 13اور 14اگست کی درمیانی شب جماعت اسلامی کے تحت بہار کالونی لیاری میں سلام پاکستان جشن آزادی فیملی فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موع پر جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے امیر حافظ عبد الواحد شیخ ،امیر زون لیاری عبد الرشید ، سابق رکن سندھ اسمبلی بابوغلام حسین بلوچ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ جشن آزادی فیملی فیسٹیول میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی اور زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ۔ فیسٹیول رات گئے تک جاری رہا جس میں تقریری مقابلے ، کراٹے شو، بچوں کے ٹیبلو اور ملی نغمے اور ترانے پیش کیے گئے ۔ شرکاء نے بڑی تعداد میں قومی پرچم اٹھائے ہوئے تھے فیسٹیول میں پرجوش نعریلگائے گئے جن میں یہ نعرے شامل تھے ۔ پاکستان زندہ آباد ، جیوے جیوے پاکستان ، چاند ستارہ پاکستان ، آنکھوں کا تارا پاکستان ، یہ دیس ہمارا پاکستان ، ہم سب کا پیار اپاکستان ، پاکستان کا مطلب کیا لالہ الا اللہ ، تیرا میرا رشتہ کیا ۔ لا الہ الا اللہ ،کشمیر بنے گا پاکستان ، کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی ۔ فیسٹیول میں مقابلوں میں کامیاب طلبہ کو انعامات اور شیلڈ بھی دی گئیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قائد اعظم نے یہ ملک صرف اور صرف اسلام کے لیے حاصل کیا تھا اور اسلام کے لیے ہی برصغیر کے مسلمانوں نے قربانیاں دیں تھیں اور اپنا لہو گرایا تھا ۔ جب مسلمان ہجرت کر کے یہاں آئے تو انہوں نے بڑی کسمپرسی اور آزمائش کی زندگی گزاری ۔ یہ ملک غلام رہنے کے لیے نہیں بلکہ آزاد رہنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا ۔ انگریزوں نے وہاں قبضہ کیا ہوا تھا اور ہندو مسلمانوں کی تہذیب و تمدن ہی نہیں مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے تھے ۔ ان حالات میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے ایک علیحدہ وطن کا خواب دیکھا اور قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لازوال قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل کیا گیا ۔ بد قسمتی سے یہاں کرپٹ حکمرانوں اور طبقہ اشرافیہ کا تسلط رہا اور ملک اور قوم ،ترقی و خوشحالی اور قیام پاکستان کے ثمرات سے محروم رہے ۔ آج بھی یہاں کرپٹ حکمران حکمرانی کررہے ہیں ۔ کرپٹ مافیا ور جاگیرداروں سے یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ ملک کی ترقی وخوشحالی اور ایک اسلامی پاکستان کے لیے مخلص ایماندار اور اہل قیادت کی ضرورت ہے ۔

جامعہ کراچی: ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب


Dr. Jameel Jalbi Final pic for publication August 14, 2016 | 8:53 PM

کراچی:(نیوزاآن لائن)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر جمیل جالبی ایک عظیم محقق ،نقاد،ادیب اور ممتاز عالمی اسکالرہیںاوراپنی ذات میں ہی ایک انجمن ہے۔ڈاکٹر جمیل جالبی کا بحیثیت وائس چانسلر جامعہ کراچی ایک عظیم اور کامیاب دور تھا اور ان کی جامعہ کراچی سے محبت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ شدید علیل ہونے کے باوجود وہ بذات خود ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے تشریف لائے اور جامعہ کراچی کو ایک انمول اور گراں قدر تحفے سے نوازا۔ان کی علم دوستی آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ اور روشن مثال ہے۔انشاء اللہ آٹھ ماہ میں مذکورہ لائبریری کی تعمیر مکمل ہوجائے گی اور ہم دعاگوہیں کہ مذکورہ لائبریری کا افتتاح بھی بدست ڈاکٹر جمیل جالبی ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی میں ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر محمد قیصر نے مزید کہا کہ یہ لائبریری کراچی یونیورسٹی کے لئے ڈاکٹر جمیل جالبی کی طرف سے ایک بہت بڑاعلمی تحفہ ہے جس میں ایک لاکھ کتابیں اور قلمی مخطوطے شامل ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کتب خانے کی تعمیر سے طالب علموں کی دانش اور ریسرچ کے معیار میں اضافہ ہوگا۔ یہ کتب خانہ جدید ترین انداز میں تعمیر ہوگا اور اس میں ایک ریسورس سینٹر بھی بنایا جائے گا ۔یہ کتب خانہ نئے دور کے تمام علمی اور تحقیقی تقاضوں کو پوراکرے گا۔واضح رہے کہ سابق شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر جمیل جالبی نے بذات خود ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کا سنگ بنیاد رکھا۔اس موقع پر ڈاکٹر جمیل جالبی کے صاحبزادے اور چیئر مین ایکسپورٹ پروسسنگ زونز اتھارٹی ڈاکٹر محمد خاور جمیل نے کہا کہ آج کی یہ تقریب سعید ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لا ئبریری کے سنگ بنیاد رکھنے کاایک تاریخی اور یاد گار دن ہے ۔اس تقریب کا سب سے خوشگوار، یاد گار اور تاریخی پہلو یہ ہے کہ اردو ادب کے سرتاج، تاریخ ادبِ اردو کے شہرہ آفاق مصنف، ممتاز دانشور اور عالمی شہرت یافتہ محقق ڈاکٹر جمیل جالبی جو کہ صحت کے اعتبار سے آپ سب کی دعائو ں کے طالب ہیں اس عظیم الشان ریسرچ لائبریری کا سنگ بنیاد انہی کے دست مبارک سے رکھا جا رہاہے۔ میرے لئے یہ انتہائی خوشی کے لمحات ہیں کہ میں آج اپنے والد ڈاکٹر جمیل جالبی کی خواہش کے مطابق جامعہ کراچی کو یہ عظیم علمی دولت سپرد کرنے جارہاہوں۔میں ذاتی طور پرشیخ الجامعہ ڈاکٹر محمد قیصر صاحب اور دیگر انتظامیہ کا تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں کہ آپکی ذاتی کاوشوں کے سبب یہ دیرینہ خواب آج پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر یہ خواب اپنی تعبیر سے ہمکنا ر ہوا۔اس تقریب میں شامل میرے رفقاء کار جنہوں نے ہر مرحلے پر میری معاونت و رہنمائی کی ان کا بھی میں شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی خاص توجہ اور مسلسل انہماک کی بدولت آج ہم ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کی سنگ بنیادکی تقریب میں شریک ہیں جو آنے والے زمانوں میں علمی حصول کے متلاشیوں کیلئے یہ بیش بہا خزانہ کتب معاون اور سنگ میل ثابت ہو گا۔میں آپ کا زیادہ وقت لیئے بغیر آخر میں آپ سب معزز شرکاء کا شکریہ اد ا کرتا ہوں کہ آپ کی شرکت نے اس عظیم اور تاریخی تقریب کو رونق بخشی۔تقریب میں رئیس کلیہ نظمیات وانصرام پروفیسر ڈاکٹر خالدعراقی ،رئیس کلیہ علم الادویہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال اظہر ،انچارج ڈاکٹر محمود حسین لائبریری پروفیسر ملاحت کلیم شیروانی ،ڈاکٹر معیزخان،معروف دانشور اور ادیب رونق حیات ،فراصت رضوی اور دیگر اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔خطبہ استقبالیہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال اظہر جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر ملاحت کلیم شیروانی نے انجام دیئے ۔
=========
عصر حاضر مقابلے کا دور ہے اور اس کے لئے تیاری کی ضرورت ہے جو سائنس وٹیکنالوجی اور تحقیق پر عبورحاصل کئے بغیر ممکن نہیں۔ڈاکٹر قیصر
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے فلسفے اتحاد ،تنظیم اور یقین محکم پر عمل پیراہوکر ہی ہم ایک عظیم فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔اس یوم آزادی کے موقع پر قوم کے ولولہ انگیز جذبات قابل ستائش ہیں اور یہ ہی ایک زندہ قوم کی نشانی ہے کہ وہ اپنے یوم آزادی کو بھر پور جو ش وجذبے اور ولولہ انگیزی سے مناتی ہے۔پاکستان مشکل حالات سے گزررہاہے اور دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ،ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔پاکستان میں وسائل اور ذہانت کی کمی نہیں اگر ہم بھائی چارے کا مظاہرہ کریں اور سچے دل سے اپنے فرائض منصبی اداکریں تو پاکستان دنیا بھر میں وہ مقام حاصل کرسکتا ہے جس کا خواب قائد اعظم اور ان کے رفقاء کار نے دیکھا تھا۔ہم اپنے اتحاد ،تنظیم اور یقین محکم سے ملک کے گھمبیر مسائل کو افہام وتفہیم سے حل کرنے میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٧٠ویں یوم آزادی کے موقع پر جامعہ کراچی کے انتظامی بلاک کے سبزہ زار پر منعقدہ پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر قیصر نے مزید کہا کہ زندہ قوموں کے لئے آزادی کا دن اہم ہوتا ہے۔ آئیے اپنے اعمال اور افعال کا جائزہ لیں اور اس ملک کی حقیقی خدمت کے لئے قدم بڑھائیں ۔بحیثیت اساتذہ ملازمین اور طلبہ ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وطن کی تعمیر اور ترقی کے لئے اپنا مثبت کردار اداکریں ۔عصر حاضر مقابلے کا دور ہے اور اس کے لئے تیاری کی ضرورت ہے جو سائنس وٹیکنالوجی اور تحقیق پر عبورحاصل کئے بغیر ممکن نہیں۔اس موقع پرروئسائے کلیہ جات پروفیسر ڈاکٹر خالدعراقی ، پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر،پروفیسر ڈاکٹر سید افروز الدین ،پروفیسر ڈاکٹر اقبال اظہر ،پروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان ،مشیر امور طلبہ پروفیسر ڈاکٹر انصر رضوی، صدور شعبہ جات ،اساتذہ اور ملازمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔رجسٹرارپروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان نے تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمام حاضرین کو جشن آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ آپ تمام جامعہ کراچی اور ملک کی ترقی میں اپنا اپنا کردار اداکریں ۔اس سے قبل تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہواجس کے بعد حمد ونعت پیش کی گئی۔بعد ازاں کوئٹہ کے شہداء کی مغفرت ،بلند درجات ،زخمیوں کی صحتیابی اورپاکستان میں امن اور ملک کے استحکام کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔

الخدمت کراچی کی یتیم بچوں کے ساتھ جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریب


Al Khidmat Pic (1) August 14, 2016 | 4:09 PM

یتیم بچوں نے پروگرام میں قومی ترانوں،ٹیبلیو ،تقاریر،و دیگر ایونٹس میں حصہ لیا
آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ،ہمیں اپنے ملک پاکستان کے لئے انتھک محنت کرنا ہوگی ،ڈاکٹراسامہ رضی
کراچی :( نیوزآن لائن)الخدمت کراچی آرفن کئیر پروگرام کے تحت جشن آزادی کے حوالے سے ایک رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا ،جشن آزادی کے اس پروگرام میں سیکڑوں یتیم بچوں نے شرکت کی۔،پروگرام میں بچوں نے قومی ترانوں ٹیبلیو ، تقاریر اور دیگر مقابلوں میں حصہ لیا ۔پروگرام کے مہمان خوصوصی نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی تھے۔
انھوںنے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک پاکستان ہماری آن اور شان ہے ۔ہمیں اپنی آزادی پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کیو نکہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر ہمیں یہ آزاد ملک فراہم کیا۔ ہمیں اپنے آبائو اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہوگا اور اس ملک پاکستان کی ترقی کے لئے مل جل کر کوششیں کرنی ہوگی آج دشمنان پاکستان ہمارے ملک کے ٹکڑے کرنے سازیشیں رہے ہیں، ملک خداد داد اس وقت آذمائیشوں سے گزر رہا ہے ، ۔ہم سب کو مل کر ان کے یہ عزائم کو خاک میں ملانا ہوگا اور یہ سب اس وقت ہی ممکن ہوگا جب ہم اپنے ملک کے لئے مخلص ہونگے ۔انھوں نے بچوں سے کہا کہ آپ اس ملک کے معمار ہے اور آپ ہماری آئندہ کا مستقبل ہیں۔ آپ کو بہت محنت کرنی ہے اپنے ملک کی ترقی کے لئے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوانا ہے۔ تعلیم سے لیکر کھیل کے میدان تک کامیابی کے جھندے گاڑنے ہیں۔ دل لگا کر تعلیم حاصل کرنی ہے اور دشمن کے عزائم کو اپنی تعلیم اور صلاحیتوں سے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہوگا ۔انھوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دنیا میں ترقی پذیر ممالک میں نمبر ایک پر ہوگا۔
پروگرام میں پوزیشن ہولڈر بچوں میں انعامات اور شیلڈیں تقسیم کی گئیں ،جشن آزادی کے اس پروگرام کے آخر میں کیک بھی کاٹا گیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی لیاری کے عظمت اللہ ،کو آرڈینیٹر الخدمت خواتین کراچی یاسمین آصف، الخدمت آرفن کئیر کے ڈپٹی پروگرام منیجر سید مصعب بن خالد ،صدر بزم ساتھی سید فصیح اللہ حسینی،الخدمت آرفن کئیر سندھ کے پروگرام آفیسر محمد حسین، فیملی سپورٹ آفیسر سید فیصل حسین ،اظہار الحق ، اختر حسین اور جامعہ کراچی اور جامعہ اردوکی طلبہ تنظیم ٹیک ون اسٹیپ (ٹی او ایس)کے ممبران اور شہر کی مختلف سماجی شخصیات بھی موجود تھی۔

اپوا کے زیر اہتمام شاہین اسکول میں پرچم کشائی


karachi August 14, 2016 | 4:05 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)آل پاکستان آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی عارضی آرگنائزر شہنیلہ رضوان نے اپوا کے زیر اہتمام شاہین اسکول میں پرچم کشائی کی ۔یوم آزادی کے حوالے سے ٹیبلوز، ملی نغمے ور تقریری مقابلے ہوئے جس میں سدرہ، ابیحہ مریم، آیان، نمرا اقبال ، فائزہ، احسن، اور سحر نے مختلف مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرکے انعامات حاصل کئے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں شہنیلہ رضوان، شکیل،کاشف، ناہید، ارشاد احمد، فرحان خان، ثاقب، محمد اقبال خان، محمد جاوید، ساجد احمد، عمرانہ لیاقت اور لبنی رضوی نے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مریضوں میں تحائف اور پھل کے علاوہ جھنڈے اور شرٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ بعد ازاں مزار قائد پر وفد نے حاضری دی۔قبل ازیں شاہین اسکول میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوموں کی آزادی کا دن تہوار کی طرح ہوتا ہے ۔ہم پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بھی اسکا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان ٢٠ لاکھ جانوں کا نذرانہ دیکر بنا تھا ۔ ہم پاکستان کے باصلاحیت بچوں کو ترقی کے زینے چڑھا کر پاکستان کو باوقار اور ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔ پاکستان کو کسی دہشت گرد یا را کا حصہ بننے نہیں دیں گے۔ پاکستان کے لئے جان نچھاور کردیں گے۔ انہوں نے بچوں کو انکی صلاحیت پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

ایس ایس یو کے چاق وچوبند دستے نے مزار قائد پر گارڈآف آنر پیش کیا


ssu 1 August 14, 2016 | 4:01 PM

کراچی :( نیوزآن لائن) پاکستان کے70 ویں یوم آزادی کے موقع پراسپیشل سیکیورٹی یونٹ سندھ پولیس کے چاک وچوبند دستے نے ایک باوقار تقریب کے ذریعے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر خراج عقیدت پیش کیا۔کمانڈنٹ ایس ایس یو مقصود احمدنے سینئر افسران ودیگر اراکین کے ہمراہ قائد محمد علی جناح کے مزار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔پولیس یونٹ کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر پہلی مرتبہ بابائے قوم کو پروقار طریقے سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے گارڈ آف آنر پیش کیاگیا۔بعد ازاں کمانڈنٹ اسپیشل سیکیورٹی یونٹ نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔مزار قائد پر موجود بڑٰی تعداد میں عوام نے پاکستان ، بابائے قوم، پاکستان آرمی اور سندھ پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے۔

حبیب یونیورسٹی میں طلباء کے لئے کیرئیر کونسلنگ پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا


habib university August 12, 2016 | 5:02 PM

کراچی:( نیوزآن لائن) حبیب یونیورسٹی میں طلباء کے لئے کیرئیر کونسلنگ پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا’ جس کا مقصد حبیب یونیورسٹی میں آنے والے طلباء کو ان کے مستقبل سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کس طرح ا پنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔ اس سیمینار میں طلباء کے علاوہ والدین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیمینار میں عتیقہ لطیف ‘ صوفیہ حسنین’ ارم حسن و دیگر نے شرکت کی جبکہ میزبانی کے فرائض حبیب یونیورسٹی کی انظار خالق نے ادا کئے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوفیہ حسنین نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر دورمیں ملازمت کے حوالے سے مارکیٹ میں نئے تقاضے اور رجحانات میں اضافہ ہوتا ہے مگر جب آپ اپنے آپ کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتے ہیں تو آپ کی کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ عتیقہ لطیف نے کہا کہ ہر شخص کو مستقبل میں کوئی ملازمت یا کاروبار کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگ بہتر سے بہتر ملازمت کے حصول کی کوشش کرتے ہیں’ وہ تمام صلاحیتوں پر عبوررکھتے ہیں’ مگر ملازمت کے لئے انٹرویو ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ زیادہ تر انٹرویو حقیقت کے بالکل برعکس ہوتے ہیں’ لوگ سوچتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں ویسا ہی جواب ہمیں ملے’ اس موقع پر اپنی گفتگو میں ارم حسن نے کہا کہ کسی بھی ملازمت کے لئے ضروری ہے کہ آپ میں اخلاقیات اور تہذیب کا اعلیٰ م عیار ہو’ آپ کے اندر اتنی خود اعتمادی ہو کہ آپ بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرسکیں اور ان سے باخوبی نبرد آزما ہو کر کامیابی سے ہمکنار ہوں’ سیمینار میں اس بات کا خاص طور پر اہتمام کیاگیا تھا کہ طلباء اور والدین اپنی آراء سے یونیورسٹی کی انتظامیہ اور طلباء کو ضرور آگاہ کریں تاکہ معیار تعلیم کو اور بہتر بنایا جاسکے۔ آخر میں سوال وجواب کا سیشن ہوا جس میں مقررین نے طلباء اور والدین کے سوالات کے جواب دئیے۔

قوم 70 واں جشن آزادی شا یا ن شان طریقے سے منائے گی۔ راشد علی خان


karachi August 12, 2016 | 4:59 PM

ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے چونکہ آزادی ہر چیز پر مقدم ہے یہ وطن ہما رے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے
کراچی:(نیوزآن لائن) قوم 70 واں جشن آزادی شا یا ن شان طریقے سے منائے گی ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے چونکہ آزادی ہر چیز پر مقدم ہے یہ وطن ہما رے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے یہ بات الراشد فائونڈیشن پاکستان کے چیئر مین راشد علی خان نے جشن آزادی کے سلسلے میں لیبرل ماڈل اسکول گذدآبادکے دورے کے موقع پر طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوںنے کہا کہ نئی نسل کو پاکستان کے بارے میں اور خصوصاََ قیام پاکستان اورتحریک آزادی سے متعلق آگاہی کی ضرورت ہے راشد علی خان نے کہا کہ بچوں کو اپنے بزرگوں کی قربانیوں کے بارے میں اور قیام پاکستان کے مقاصد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنی چاہئے تاکہ انہیں اپنے پیارے وطن اور آزادی کی قدروقیمت معلوم ہو سکے انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے قوم میں بیداری پیدا کی اور انگریزوں سے پاکستان کو آزاد کرایاراشد علی خان نے کہا کہ آزادی ایک نعمت ہے اور اس آزادی کیلئے ہم نے اپنا سب کچھ قربان کردیاانہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اس میں تمام اقلیتوں کے حقوق کا  تحفظ بھی بہت ضروری ہے تاکہ ملک میں ہر شخص اپنے حقوق مل سیکیں ۔

ہمارے ملک کی آبادی 20 کروڑ ہے مگر محض 10 لاکھ نوجوانوں کی رسائی جامعات تک ہے جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، ڈاکٹر مونس احمر


Lecture Final Pic August 11, 2016 | 8:36 PM

قائد اعظم نے اپنی 11 اگست 1947 ء اور اس کے بعد کی تقاریر میں واضح کردیا کہ مذہب ریاستی معاملات سے الگ ہوگا،پاکستان بنانے والے قائدین مسلم اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے، غازی صلاح الدین
ہمارے ملک کی آبادی 20 کروڑ ہے مگر محض 10 لاکھ نوجوانوں کی رسائی جامعات تک ہے جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، ڈاکٹر مونس احمر
کراچی:(نیوزآن لائن)معروف صحافی،کالم نگاراور تجزیہ نگارغازی صلاح الدین نے کہا کہ رائے عامہ کی تشکیل اور نوجوانوں کو درست سمت کی آگاہی فراہم کرنے میں جامعات کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔قائد اعظم نے اپنی 11 اگست 1947 ء اور اس کے بعد کی تقاریر میں واضح کردیا کہ مذہب ریاستی معاملات سے الگ ہوگا ،پاکستان کا قیام کسی معجزے سے کم نہ تھا ۔جو گندرناتھ مینڈل کو پاکستان کی پہلی قانون سازاسمبلی کے اجلاس کا عبوری صدر منتخب کیا گیا اور وہ آگے چل کر ملک کے پہلے وزیر قانون رہے اور اسی طرح ایک احمدی شخصیت سرظفراللہ خان پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ رہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ اس دور میں پاکستان کا ویژن سیکولر تھا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ لیکچر بعنوان: ”پاکستان کی حقیقت اور ویژن” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سقوط مشرقی پاکستان پاکستانی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے جس نے پاکستان کے دوقومی نظریہ کو شدید نقصان پہنچایا ۔انہوں نے قائد اعظم کو ایک سیکولر شخصیت قراردیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم ترکی کے عظیم سیکولر لیڈر کمال اتاترک سے بہت متاثر تھے ۔پاکستان بنانے والے قائدین مسلم اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے جن کی مادری زبان اُردو تھی اور اسی وجہ سے اُردو برصغیر کے مسلمانوں میں یکجہتی اور یگانگت کی علامت بن کر ابھری ۔پاکستانی قوم کا جنوبی ایشیائی خطے بالخصوص ہندوستان سے تاریخی اور ثقافتی مضبوط رشتہ ہے جبکہ یہی رشتہ ہمارے سب سے اچھے دوست چین سے ناپید ہے ۔شناخت کی سیاست ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے جس سے ہمارے ملک کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔اس موقع پر رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے طالب علموں کو معاشرے کی ترقی کے لئے اپنے مثبت کردار اداکرنے کے لئے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے پاس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کرداراداکرنے کا سنہری موقع ہے جسے آپ کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے بلکہ اس موقع کا بھر پور فائدہ اُٹھاکر ملک وقوم کی ترقی میں اپنا مثبت اور کلیدی کردار اداکرنا چاہیئے۔ہمارے ملک کی آبادی 20 کروڑ ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ محض 10 لاکھ نوجوانوں کی رسائی جامعات تک ہے جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: شعبہ سماجی بہبود اور سینٹر آف ایکسلینس کے زیر اہتمام جشن آزادی کے حوالے سے پوسٹر سازی کے مقابلے کا انعقاد
کراچی:(نیوزآن لائن)شعبہ سماجی بہبود اور سینٹر آف ایکسیلینس فار ویمنز اسٹڈیز، جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کرام جشن آزادی کے سلسلے میں ١٢ اگست ٢٠١٦ئ کو اپنے اپنے شعبہ جات میں جشنِ آزادی کی تقریبات کا انعقاد کریں گے اور جشنِ آزادی کا کیک بھی کاٹیں گے۔ اس سلسلے میں شعبہ سماجی بہبود میں دونوں شعبہ جات کے طلبہ و طالبات کے درمیان جشن آزادی کے حوالے سے پوسٹر سازی کے مقابلے کا انعقاد کیا جائے گا جس میں طلبہ و طالبات نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کا جھنڈابنایا ہے۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے کامیاب اُمیدواروں کو شعبہ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ کی جانب سے انعامات اور سرٹیفکیٹس دئیے جائیں گے۔
=======
جامعہ کراچی: جشن آزادی واک آج ہوگی
کراچی:(نیوزآن لائن)جا معہ کراچی کے مشیر امور طلباء پروفیسر ڈاکٹر سید انصررضوی کے اعلامیہ کے مطابق جمعہ12 اگست2016 ء کی صبح 10 بجے ”جشن آزادی واک” منعقدکی جارہی ہے ۔جس میں مسجل ،روسائے کلیہ جات،تمام اداروں کے ناظمین،صدور شعبہ جات ، اساتذہ،طلبا وطالبات اور غیر تدریسی ملازمین بڑی تعداد میں شرکت کرینگے ۔مذکورہ ”واک ” شیخ الجامعہ ،پروفیسر ڈاکٹرمحمد قیصر کی قیادت میں آزادی چوک سے شروع ہوکر ایڈمنسٹریشن بلاک پرتمام ہوگی۔اس موقع پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر پرچم کشائی اور خطاب بھی کرینگے۔بعد ازاں ” جشن آزادی” کی مناسبت سے ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے دعا کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: بی کام ریگولر کے ضمنی امتحانات برائے 2015 ء کے لئے امتحانی فارم جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹرارشد اعظمی کے اعلامیہ کے مطابق بی کام سال اول ودوئم اور سال اول دوئم باہم (ریگولر) کے ضمنی امتحانات برائے 2015 ء کے لئے امتحانی فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 19 اگست2016 ء تک توسیع کردی گئی ہے۔بی کام سال اول ودوئم کے طلبہ اپنے امتحانی فارم 4200/= روپے فیس کے ساتھ جبکہ بی کام سال اول ودوئم باہم کے طلبہ اپنے امتحانی فارم 7200/= روپے فیس کے ساتھ متعلقہ کالجز میں جمع کراسکتے ہیں۔ایسے طلباوطالبات جو 2009 ء یا اس سے قبل کی انرولمنٹ کے حامل ہیں انہیں امتحانی فیس کے علاوہ 3000/= روپے اضافی چارجز بھی جمع کرانے ہوں گے۔واضح رہے کہ ایسے طلبا وطالبات جو 2014 ء کی انرولمنٹ کے حامل ہیں وہ ضمنی امتحانات برائے 2015 ء میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب 14 اگست کو ہوگی
جامعہ کراچی میں ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب بروز اتوار 14 اگست 2016 ء کو دوپہر 2 بجے نزد ڈاکٹر محمود حسین لائبریری منعقد ہوگی۔سابق شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر جمیل جالبی خصوصی طور پر لائبریری کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔اس موقع پرڈاکٹر جمیل جالبی کے صاحبزادے اور چیئر مین ایکسپورٹ پروسسنگ زون ڈاکٹر محمد خاور جمیل ،شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر اور رجسٹرارپروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان بھی خطاب کریں گے۔واضح رہے کہ یہ کتب خانہ جدید ترین انداز میں تعمیر ہوگا اور اس میں ایک ریسورس سینٹر بھی بنایا جائے گا ۔یہ کتب خانہ نئے دور کے تمام علمی اور تحقیقی تقاضوں کو پوراکرے گا اور مذکورہ لائبریری میں ایک لاکھ کتابیں اور قلمی مخطوطے شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: بی کام پرائیوٹ کے ضمنی امتحانات برائے 2015 ء کے لئے امتحانی فارم جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹرارشد اعظمی کے اعلامیہ کے مطابق بی کام سال اول ودوئم اور سال اول دوئم باہم پرائیوٹ کے ضمنی امتحانات برائے 2015 ء کے لئے امتحانی فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 26 اگست 2016 ء تک توسیع کردی گئی ہے۔بی کام سال اول ودوئم کے طلبہ اپنے امتحانی فارم 4000/= روپے فیس کے ساتھ جبکہ بی کام سال اول ودوئم باہم کے طلبہ اپنے امتحانی فارم 7000/= روپے فیس کے ساتھ جامعہ کراچی کے سلور جوبلی گیٹ پر واقع بینک کائونٹرز پر جمع کراسکتے ہیں۔ایسے طلباوطالبات جو 2009 ء یا اس سے قبل کی رجسٹریشن کے حامل ہیں انہیں امتحانی فیس کے علاوہ 3000/= روپے اضافی چارجز بھی جمع کرانے ہوں گے۔واضح رہے کہ ایسے طلبا وطالبات جو 2014 ء کی رجسٹریشن کے حامل ہیں وہ ضمنی امتحانات برائے 2015 ء میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے۔

پاکستان کا یوم آزادی ملی جوش وجذبے کیساتھ منایا جائے: ڈاکٹر سلیم حیدر


dr saleem haider mit August 11, 2016 | 8:29 PM

جگہ جگہ پرچم کشائی ، قرآن خوانی کی تقریبات اور ریلیاں نکالی جائیں، گھروں اورگاڑیوں پر پرچم لہرائے جائیں
پاکستان لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ، اس کی حفاظت ہماری ایمان کا حصہ ہے: چیئرمیں ایم آئی ٹی
کراچی:(نیوزآن لائن)چیئرمین مہاجر اتحاد تحریک ڈاکٹر سلیم حیدر نے مہاجروں سمیت دیگر قومیت کے افراد سے اپیل کی ہے کہ پاکستان کا جشن آزادی انتہائی جوش وخروش کے ساتھ منائیں۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ یوم آزادی کی مناسبت سے ریلیاں نکالنے اور قرآن خوانی کرنے کے علاوہ گھروں ، گاڑیوں پر قومی پرچم بھی لگائیں ، پرچم کشائیاں کریں اور شہریوں کو بھی اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ ترغیب دیں۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں نے پاکستان بنانے کیلئے جس پیمانے پر قربانیاں دی ہیں ، اس کا تقاضا ہے کہ پاکستان کا جشن آزادی انتہائی بھرپور انداز سے منایا جائے تاکہ ملک دشمن قوتوں، علیحدگی پسندوں ، راکے ایجنٹوں کو یہ پتہ لگ سکے کہ زندہ قومیں اپنا جشن آزادی کس طرح مناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی محبت ہمارے خون میں رچی بسی ہے اور اس سے غداری یا اس کونقصان پہنچانے والوں کو مہاجر کبھی بھی برداشت نہیں کرسکیں گے۔ چند ناعاقبت اندیش عناصر جو پاکستان کو نقصان پہنچانے کے ناپاک منصوبے بنارہے ہیں وہ کبھی بھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ کیونکہ یہ ملک لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد معرض وجودمیں آیا ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہر محب وطن پاکستانیوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو عناصر اس ملک کو نقصان پہنچانے کے درپر ہیں ان کیخلاف بھرپور کارروائی کی جائے اور خود مہاجر ان عناصر کو بے نقاب کریں اور ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر پاکستان کے نا صرف محافظ بلکہ پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں

جامعہ کراچی: ایم اے (ریگولر / پرائیوٹ)سالانہ امتحانات کا آغاز10 اگست سے ہورہا ہے۔


karachi unversity jpg August 8, 2016 | 9:05 PM

جامعہ کراچی: ایم اے (ریگولر / پرائیوٹ)سالانہ امتحانات کا آغاز10 اگست سے ہورہا ہے۔
ڈپلی کیٹ ایڈمٹ کارڈ 09 اور10 اگست کو بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کی قائم مقام ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون نے ایم اے پریویس اور فائنل(پرائیوٹ/ ریگولر) کے سالانہ امتحانات2015 ء کا امتحانی شیڈول جاری کردیا ہے جس کے مطابق امتحانات10 تا20 اگست 2016 ء منعقد ہونگے ۔واضح رہے کہ امتحانات دوپہر 2:00 تا5:00 بجے شام جبکہ جمعہ کے روز دوپہر2:30 تا5:30 بجے شام جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات میں منعقد ہونگے۔ ایم اے پریویس اورفائنل(ریگولر وپرائیوٹ) کے امتحانات میں تقریباً11100طلباء وطالبات شریک ہورہے ہیں۔علاوہ ازیں تمام امیدواروںکے ایڈمٹ کارڈ ان کے دیئے گئے پتوں پر ارسال کردیئے گئے ہیں۔ایسے طلبا وطالبات جنہیں 08 اگست 2016 ء تک ایڈمٹ کارڈ موصول نہیں ہوئے انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 09 اگست کوصبح 9:00 بجیتا شام 06:00 بجے جبکہ10 اگست کو صبح 9:00 تا دوپہر ایک بجے تک ڈپلی کیٹ ایڈمٹ کارڈ اور امتحانی پروگرام شعبہ امتحانات ایکسٹرنل یونٹ واقع سلور جوبلی گیٹ کمرہ نمبر 01 سے حاصل کرسکتے ہیں۔ ایڈمٹ کارڈ کے حصول کے لئے امتحانی فارم کی اوریجنل رسید،دوعدد پاسپورٹ سائز تصاویر،اصل رجسٹریشن کارڈ اوراصل قومی شناختی کارڈ بھی لازماً ساتھ لانا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: ایم اے اور ڈبل ایم اے پرائیوٹ کے سالانہ امتحانی فارم جمع کرانے کی تاریخ میں ایک دن کی توسیع
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کی قائم مقام نا ظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون کے اعلامیہ کے مطابق ایم اے اور ڈبل ایم اے پرائیوٹ کے سالانہ امتحانی فارم آج بروزمنگل 09 اگست 2016 ء کوجمع کرائے جاسکتے ہیں۔طلباوطالبات اپنے امتحانی فارم 3700/= روپے فیس کے ساتھ جامعہ کراچی کے سلور جوبلی گیٹ پر واقع بینک کائونٹرز پر جمع کراسکتے ہیں۔واضح رہے کہ ایسے طلباوطالبات جو2009 ء یا اس سے قبل کی رجسٹریشن کے حامل ہیں انہیں امتحانی فیس کے علاوہ 5000/= روپے اضافی چارجز بھی جمع کرانے ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام لیکچر 11 اگست کو ہوگا
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام ممتاز سلسلہ لیکچر کے تحت لیکچر بعنوان: ”پاکستان کی حقیقت اور ویژن” بروز جمعرات 11 اگست 2016 ء کو صبح11:00 بجے کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقد ہوگا۔معروف صحافی ،کالم نگاراور تجزیہ نگار غازی صلاح الدین کلیدی خطاب کریں گے۔

اسلام آباد گونگا بہرہ بن کر شہری سندھ کو نظرانداز کررہا ہے:ڈاکٹر سلیم حیدر


dr saleem haider mit August 8, 2016 | 8:52 PM

رینجرز کو اختیارات نہ دینے پر نواز شریف اور پیپلزپارٹی میں گٹھ جوڑہے
سندھی زبان بولنے والوں پر مشتمل صوبائی کابینہ مہاجروں کو وفاق سے متنفر کررہی ہے
پانی سر سے گزرنے سے پہلے وفاق حالات کی سنگینی کا احساس کرے: چیئرمین ایم آئی ٹی
کراچی:(نیوزآن لائن)چیئرمین مہاجر اتحاد تحریک ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ اسلام آباد گونگا ، بہرہ بن کر شہری سندھ اور مہاجروںکے مطالبات اور تجاویز کو نظرانداز کرنے اور شہری سندھ کو پاکستان دشمن طاقتوں و جماعتوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی روش اور پالیسی ترک کردے۔ شہری سندھ کے مہاجر آخری حجت کے طور وفاق کی جانب دیکھ رہے ہیں لیکن ہمیں سوائے مایوسی کے کچھ نظر نہیں آتا۔ جس کے منطقی انجام کے طورپر منفی قوتیں مہاجروں کو ملک دشمن مقاصد کیلئے استعمال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔ وہ آج ایم آئی ٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے سہ ماہی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ اجلاس سے بہارالدین شیخ، اعجاز علی، راشد قریشی، فرید خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہاکہ سندھ میں صرف سندھی زبان بولنے والوں پر مشتمل کابینہ اور اقتدار اعلیٰ مہاجروں کو وفاق سے متنفر اور باغی بنانے کیلئے کافی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ میں وفاق دشمنی پر اُتر آئی ہے ۔ ایک گہری سازش کے تحت سندھ کو علیحدگی پسندی کی آگ میں دھکیلا جارہا ہے۔ دادو کے متعصب صوبائی وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی وزیراعظم نواز شریف سے حالیہ ملاقات میں طے کردیا گیا ہے کہ رینجرز کو کسی صورت کراچی، حیدرآباد سے آگے اختیارات نہیں دیئے جائیں گے۔ چوہدری نثار کے بیان محض لولی پاپ ہیں۔ مہاجروں کو تخت مشق بنائے رکھنے کی پالیسی طے شدہ ہے۔ نواز شریف جانتے ہیں کہ اگر رینجرز کو سندھ کے اوباڑو بارڈر تک اختیارات دیئے گئے تب اختیارات کی حد پنجاب تک پہنچ جائے گی۔ اس لئے حکمران ملک کے مستقبل سے تو کھیلتے رہیں گے لیکن انصاف اور برابری کی بنیاد پر کبھی فیصلہ نہیں کریں گے۔ ریاست پاکستان حالات کی سنگینی کا احساس کرے۔ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے۔ ہمیں روزانہ ایسی سینکڑوں فون کالیں اور ایس ایم ایس موصول ہورہے ہیں جن میں سندھ کے مہاجر سڑکوں پر نکلنے کی راہ تک رہے ہیں ۔ مہاجروں کا طوفان اگر سڑکوں پر آگیا تب 1977ء کی طرح حکمرانوں کے کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ مہاجروں کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی چکی میں پیسا جارہا ہے۔ حکمران مہاجروں کے خون پسینے تک اندرون سندھ اور پنجاب کو پالنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ مہاجر ایک ہوجائیں اور ایم آئی ٹی کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کو تیار رہیں۔

کوئٹہ دہشتگردی کا المناک واقعہ قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، مفتی محمدنعیم


jamia banoria August 8, 2016 | 8:44 PM

حکمران اگر مخلصانہ کوششیں کریں تو دہشت گردی ایک دن میں ختم ہوسکتی ہے
خودکش حملہ ہو یا دہشت گردی اسلام کسی صورت تخریب کاری کی اجازت نہیں دیتا، جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان
کراچی:(نیوزآن لائن) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کوئٹہ دہشتگردی کے المناک اور درناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ خدارا اب حکمران ہوش کے ناخن لیں دہشت گردی کیخلاف متحدہوجائیں ، حکمران اگر مخلصانہ کوششیں کریں تو دہشت گردی ایک دن میں ختم ہوسکتی ہے ،امریکا ، اسرائیل اور ہمارے پڑوسی ممالک پاک چین راہداری منصوبوں سے خوفزدہ اور اس منصوبے کو سپوتاژ کرنا چاہتے ہیں، کوئٹہ بدترین دہشت گردی کا واقعہ راہداری منصوبوں کو سپوتاژ کرنے کی سازش ہے ۔ پیر کے روز جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری مذمتی بیان میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ حکومت دہشت گردی قابو کرنے میں ناکام ہوچکی ہے،حکمرانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے آخر دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں ہم ناکام کیوں ہیں، ہر سانحہ کے بعد مذمت،اعلانات اور فوٹو سیشن کرکے خاموشی اختیار کی جاتے اور دہشت گردوں کو منظم ہونے کا موقع مل جاتاہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں را کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں اس کے باوجود اس مسئلہ کو عالمی سطحی پر نہیں اٹھایا جارہاہے ،ا نہوںنے کہاکہ کوئٹہ کاالمناک ودردناک واقعہ پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے و دہشت گردی کے واقع میں بھارتی ”را ”ملوث ہوسکتی ہے، کیونکہ بھارت سمیت ہمارے پڑوس ممالک پاک چین راہد اری منصوبوں کی تکمیل نہیں چاہتے ، انہوں نے کہاکہ قوم کو متحد ہوکر اس دہشت گردی کے ناسور سے جھٹکارے کی پلاننگ کرنے کی ضرورت ہے خودکش حملہ ہو یا دہشت گردی اسلام کسی صورت تخریب کاری کی اجازت نہیں دیتا، اسلام کے نام دہشت گردی کرنیوالوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ جب دہشتگرد کچھ عرصہ کیلئے پلاننگ پر مصروف ہوتے ہیں تو حکمران دہشت گردی کو ختم کردیا کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے اور خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں جس کے فائدہ اٹھاکر دہشت گردمنظم طریقے سے مذموم کاروائی سرانجام دیتے ہیں ، انہوں نے کہاکہ کوئٹہ کے واقعے میں بکھری لاشیں دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہاہے، خدار ار دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قوم متحدہوجائے کب تک ہم دشمنوں کے ہاتھوں اپنے پیاروں کو شہید کراتے رہیں گے ۔

سپریم کمانڈر سید صلاح الدین /پریس کانفرنس سے خطاب


today pic August 7, 2016 | 7:56 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر ومتحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے اگر مجرمانہ خاموشی ترک نہ کی اور کشمیریوں کو جائز اور قانونی حق نہ دلایا تو کشمیری عوام خونی لکیر عبور کرلیں گے اور سیز فائر لائن کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی ۔عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ دیں کیونکہ خطے میں اس وجہ سے بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے ۔پاکستان کشمیریوں کا بنیادی اور اصولی وکیل ہے اور کشمیریوں کی مدد کرنے کا پابند ہے ۔حکومت پاکستان اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے دروازے دستک دے یا دھرنا دے ۔کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کے لیے ہر سطح پر لڑا جائے ۔حکومت پاکستان موجودہ حالات میں دہلی سے اپنا پورا سفارتی مشن اور عملہ واپس بلائے ۔کشمیر کے مظلوم اورنہتے عوام تک عالمی رسائی کے مواقع پیدا کیے جائیں ۔وزیر داخلہ چوہدری نثار کے مؤقف کی ہم تائید اور حمایت کرتے ہوئے بھر پور خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے اتوار کے روز ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر حزب المجاہدین پاکستان کے مرکزی رہنما تاج الدین ،نائب امراء مظفر احمد ہاشمی ، ڈاکٹر اسامہ رضی ،سکریٹری کراچی عبد الوہاب، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔سید صلاح الدین نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے اور پوری کشمیری عوام اور قیادت کو متحد اور یکجا کردیا ہے ۔کشمیر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آج عوام بھارت کی مودی سرکار کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔یہ بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں کشمیری عوام کا ریفرنڈم اور رائے شماری ہے اسے عالمی سطح پر تسلیم اور قبول کیا جائے اور بھارت کو انسانی حقوق کی پامالی سے روکا جائے ۔ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوانے کے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو خاموشی ترک کرنا ہوگی۔حق خود ارادیت کشمیری عوام کا قانونی اور جائز حق ہے اور خود اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیرمیں استصواب رائے کرایا جا نا ہے لیکن افسوس کہ ان قراردادوں پر عمل نہیں ہوا ۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیر میں بھی اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے ۔انہوںنے کہا کہ کشمیری عوام کی جنگ پاکستان کی جنگ ہے اور ان کی جدوجہد تکمیل پاکستان کی جدوجہد ہے ۔میڈیا پر مقبوضہ کشمیر کی صحیح تصویر سامنے نہیں آرہی ۔میڈیا پر پابندیاں ہیں ۔انٹرنیٹ اور فیس بک بند ہے ۔یہ پورا علاقہ دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر قومی اور دیرینہ مؤقف کو ازسر نو تازہ کیا جائے اور کشمیریوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے ۔موجودہ حالات میں حکومت پاکستان ،پاکستان کا میڈیا اور پاکستان کی تمام جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور کشمیریوں کی کھل کر حمایت کی جانی چاہیئے ۔سید صلاح الدین نے مطالبہ کیا ہے کہ 30دن سے کرفیو میں محصور زخمیوں اور بھوک اور پیاس میں مبتلا شہریوں تک عالمی اداروں کی رسائی ممکن بناتے ہوئے زخمیوں کے علاج کا بندوبست کیاجائے اور اشیائے ضرورت فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ حکومت پاکستان اس سلسلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور غفلت سے بیدار ہوکر کشمیری مسلمانوں کی ٹھو س ،سیاسی، سفارتی اور اخلاقی و مادی مدد کرے ۔پاکستان کے تمام سفارت خانے اس سلسلے میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور دنیا کے سامنے بھارت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کریں ۔پاکستانی حکومت کشمیری عوام کی اس تاریخی بیداری سے فیصلہ کن فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی اختیار کرے اور کشمیری عوام کو اس نازک موقع پر اعتماد فراہم کرے اور امید اور حوصلہ دے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں تشدد کی حالیہ لہر میں اب تک 65افراد جام شہادت نوش کرگئے ہیں ۔آج کرفیو کا 30داں دن ہے لیکن بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری عوام روزانہ گھروں سے نکل کر احتجاج کررہے ہیں ۔ان 30دنوں میں 5ہزار سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں ۔ شہید برہان مظفر وانی کے نماز جنازہ میں پابندیوں اور کرفیوں کے باوجود ساڑھے تین لاکھ افراد نے شرکت کی ۔چند دنوں میں 40جنازے مزید بھی ہوئے جن میں ہزاروں کشمیری عوام نے شرکت کی ۔سید علی گیلانی اور دیگر قائدین کو بار بار گرفتار اور نظر بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔حالیہ دنوں میں بھارتی افواج نے اسرائیل کے بنے ہو ئے ہتھیاربھی استعمال کیے ہیں ۔جن میں پیلٹ گن بھی شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کے باعث 125افراد بینائی سے محروم ہوگئے ہیں ۔ربڑ کوٹیڈ گولیوں کے استعمال سے لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہورہے ہیں۔لیکن کشمیری عوام بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں ہیں۔ کشمیریو ں نے بھارت کی غلامی ایک دن کے لیے بھی قبول نہیں کی ہے ۔ہر کشمیری بھارت سے آزادی چاہتا ہے ۔ پوری وادی میں آزادی کے ترانے اور پاکستان زندہ آباد کے نعرے گونج رہے ہیں اور پاکستان کے قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے مہم شروع کی ہوئی ہے اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر 15اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر کی طرح پاکستان میں بھی یوم سیاہ منایا جائے گا جبکہ 15اگست کو مظفر آباد تا چکوٹھی ایک بڑا اور بھرپور آزادی مارچ کیا جائے گا۔

اکیس کلو ہیروئن برآمد۔ دو ملزمان گرفتار


WhatsApp Image 2016-08-07 at 2.40.24 PM August 7, 2016 | 7:16 PM

منشیات کے خلاف صوبے بھر میں کارروائی تیز کی جائے: مکیش کمار چاولہ
کراچی:(نیوزآن لائن) صوبا ئی وزیر برائے ایکسا ئز اینڈ ٹیکسیشن مکیشن کما ر چا ئو لہ کی ہدایت پر منشیات کے خاتمے کے لئے جاری کارروائی کے دوران محکمہ ایکسا ئز اینڈ ٹیکسیشن ضلع لا ڑکانہ کی ایک ٹیم نے نصیرآباد وگن روڈ پر کارروائی کے دوران ٹرک نمبر سی 1722سے 21کلو ہیروئن برآمد کرلی جبکہ دو ملزمان محمود احمد اور عامر بروہی کوگرفتارکر کے ٹرک قبضے میں لے لیا۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے ، ایکسا ئز اینڈ ٹیکسیشن انسپکٹر فقیر علی شاہ ، علی گوہر سہتو نے اس کارروائی میں حصہ لیا جبکہ اس پوری کارروائی کی نگرانی ایکسا ئز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرقربان علی شیخ نے کی۔ صوبائی وزیر برائے ایکسا ئزاینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ نے اپنے ایک بیان میں اکیس کلو ہیروئن برآمد کرنے والی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے محکمہ ایکسا ئزاینڈ ٹیکسیشن کے عملے کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ منشیات کے خاتمہ کے لئے اپنی مہم کو مزید تیز کریں اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث کسی بھی شخص کو نہ چھوڑا جائے چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ منشیات ایک ایسا زہر ہے جو ہماری نسلوں کو تباہ کر رہا ہے اور منشیات کے خاتمے کے لیے معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ارباب اقتدار ہیں۔ نئے وزیر اعلی سندھ نے سڑکوں پر نکل کر اچھی روایت ڈالی۔عبدالحفیظ انصاری


karachi August 7, 2016 | 6:17 PM

کراچی:(نیوزآن لائن) کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نائب صدر عبدالحفیظ انصاری نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے عوامی دوروں اور سڑک پر نکلنے کی روایت کو اچھی کائوش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاہم سوک اداروں کی تباہی کے ذمہ دار ماضی کے وزیر اور ارباب اقتدار ہیں جو ٤٠ ، ٤٠ لاکھ روپے لیکر ایڈمنسٹریٹر لگاتے رہے تین ماہ کی ریلیز دیکر حصہ طے کرتے رہے جسکی وجہ سے کام نہیں ہوا۔ مراد علی شاہ اپنوں اور غیروں کا احتساب کریں۔ موجودہ ایڈمنسٹریٹرز تباہ شدہ کراچی کو دوبارہ سے کیسے آباد کریں جبکہ کے ایم سی جیسا ادارہ گرانٹ پر چل رہا ہے ، ڈی ایم سیز کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں۔ منتخب نمائندے ہی اس کا توڑ ہیں اس لئے وزیر اعلی کے ایم سی کو ٢٥٠ ارب اور وفاق ٢٥٠ ارب دے تاکہ افرا اسٹرکچر درست ہو۔ لیاری ایکسپریس وے کو شام ٤ سے ٩ بجے تک دوسرا ٹریک مکمل ہونے تک واپسی کے لئے کھول دیا جائے۔بارش میں ناقص کارکردگی والوں کو انکے انجام سے دوچار کیا جائے۔

ایم کیوایم کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں ہیٹ اسٹروک سے قیمتی انسانی جانوں کے بچائو کیلئے ”نگہداشت کیمپس قائم کرے گی


MQM-flag-040413 April 3, 2016 | 8:44 PM

نگہداشت کیمپس میں مریضوں کیلئے پانی کی بوتلیں ، جوس ،برف ، تولیہ اور ادویات وافر مقدار میں رکھی جائیں گی
عوام اور مخیر حضرات نگہداشت کیمپوں میں ضروری اشیاء زیادہ سے زیادہ مقدار میں جمع کرائیں، رکن قومی اسمبلی کشوہرزہرا
یہ امر افسوناک ہے کہ گرمی کی شدت کا تدارک کرنے کے بجائے فلاحی ادارے اور بشمول انتظامیہ سرد خانوں کی تلاش اور قبریں تیار کرنے کے کام کی جانب متوجہ دکھائی دے رہی ہے ، کشور زہرا
گزشتہ سال ہیٹ اسٹروک سے 1200سے زیادہ افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے لہٰذا اس تلخ تجربے کے بعد پہلے سے احتیاطی تدابیر اور انتظامات کرکے رکھنا لازم ہے، کشور زہرا
کراچی:(نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں ہیٹ اسٹروک سے قیمتی انسانی جانوں کے بچائو کیلئے ”نگہداشت کیمپس ” قائم کرے گی جہاں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کیلئے پانی کی بوتلیں ، جوس ، برف ، تولیہ اور ادویات بھی وافر مقدار میں رکھی جائیں گی ۔
دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کی رکن قومی اسمبلی کشور زہرا نے عوام اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ ہیٹ اسٹروک سے انسانی جانوں کے بچائو کیلئے لگائے جانے والے نگہداشت کیمپوں میں ضروری اشیاء زیادہ سے زیادہ مقدار میں جمع کرائیں ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ گرمی کی شدت کا تدارک کرنے کے بجائے فلاحی ادارے اور بشمول انتظامیہ سرد خانوں کی تلاش اور قبریں تیار کرنے کے کام کی جانب متوجہ دکھائی دے رہی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک عمل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ اور فلاحی اداروں کو قبریں تیار کرنے اور سرد خانے تلاش کرنے کے بجائے ہیٹ اسٹروک سے بچائو کیلئے بے حسی کا عمل کرکے جگہ جگہ ریلیف کیمپس قائم کرنے چاہئے تھے لیکن ایسا کرنے کے بجائے انتظامیہ اور فلاحی ادارے انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد کے امور انجام دینے میں زیادہ فعال اور متحرک دکھائی دے رہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ موسمیات پیشنگوئی کرچکا ہے کہ موسم گرما میں درجہ حرات 40ڈگری سے اوپر پہنچنے کے قوی امکانات ہیں جبکہ گزشتہ سال ہیٹ اسٹروک سے 1200سے زیادہ افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے لہٰذا اس تلخ تجربے کے بعد پہلے سے احتیاطی تدابیر اور انتظامات کرکے رکھنا لازم ہے ۔کشور زہرا نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ہیٹ اسٹروک سے بچائو کیلئے فی الفور حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے جائیں اور متعلقہ اداروں کو ہیٹ اسٹروک کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا پابند کیاجائے ۔

پاک چین دوستی حقیقی معنوں میں ہمالیہ سے بلند اور بحرالکاہل سے زیادہ گہری ہے،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان


pak china meeting.jpg April 3, 2016 | 8:35 PM

کراچی :( نیوزآن لائن)گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی حقیقی معنوں میں ہمالیہ سے بلند اور بحرالکاہل سے زیادہ گہری ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے ، وقت اور حکومتوں کی تبدیلی نے اس پر کوئی اثر نہیں ڈالا بلکہ دونوں ممالک کے عوم کے مابین تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے اس دوستی کو 65 سال ہوچکے ہیں جو کہ ایک قابل تحسین بات ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے خود مختار علاقہ سنکیانگ اوریغور کے ایک اعلیٰ سطحی افد سے ملاقات کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی ڈاکٹر سکندر میندھرو، چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن، پرنسپل سیکریٹری محمد حسین سید، انسپکٹرجنرل پولیس اے ڈی خواجہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے عوام دوستی کے ایسے رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں جو لازوال اور وقت کی قید و بند سے آزاد ہے، دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام ایک چین کی پالیسی پر بھرپور یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ چین صرف ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) دونوں ملکوں کے مابین دوستی کے مضبوط رشتہ کا ایک اور ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی تعمیر و ترقی اور اقتصادی خوشحالی کا منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے پاکستان میں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صنعتی و اقتصادی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا ک بعض بیرونی قوتیں اس منصوبے کو مکمل ہوتے دیکھنا نہیں چاہتیں اور ان کی کوشش ہے کہ اس کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جائیں جس سے دونوں ملکوں کے عوام اور حکومتوں کو ہوشیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ کے لئے فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنایا جارہا ہے جبکہ صوبہ سندھ میں چین کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کی سیکورٹی کیلئے پولیس کا اسپیشل سیکورٹی یونٹ تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ک چین اور پاکستان کے مابین تجارتی حجم 18 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی 65 سال کے دوران ہر آزمائش پر پوری اتری ہے کیونکہ اس کی بنیاد اخلاص اور ایک دوسرے کے احترام جیسی صفات پر استورا ہے ۔ وفد کے سربراہ اور کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹکل بیورو کے رکن زینگ چونز یان نے گورنرسندھ کو سنکیانگ اور یغور کے خود مختار علاقہ کی اقتصادی سرگرمیوں اور اس کے محل وقوع کی اہمیت کے بارے میں بتایا ۔ انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان اقتصادی رہداری اس علاقہ سے گزر رہی اور اس کی تکمیل سے دونوں ممالک میں تعمیر و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے سندھ میں کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے جس میں مزید اضافہ ہوگا انہوں نے صوبہ سندھ اور سنکیانگ کے خود مختار علاقہ کے مابین باہمی تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر میندھرو اور چیف سیکریٹری سندھ نے وفد کے اراکین کو صوبہ کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے فروغ کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی، وفد کے دیگر اراکین میں سنکیانگ کے وائس گورنر، پارٹی کے مقامی وائس سیکریٹری جنرل ، امور خارجہ، انتظامی اصلاحات ، اقتصادی ترقی و اطلاعات ،صحت و فیملی پلاننگ، تعلیم اور کامرس کے منصوبوں کے پارٹی سیکریٹری بھی شامل تھے۔

اسلامی اور نظریاتی تشخص کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہو نے دیں گے، لیاقت بلوچ


again April 3, 2016 | 8:06 PM

پاکستان کے 20کروڑمسلمان کسی صورت اس قانون کو تبدیل کر نے کی اجازت نہیں دیںگے، ”علماء کنونشن” سے قاضی احمد نورانی، مزمل ہاشمی، مولانا محمود الحسینی، مولانا عبد الوحید ،قاری محمد احمد ،منعم ظفر خان ودیگر کا خطاب
کراچی : (نیوزآن لائن )جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ پاکستان کے 20کروڑ عوام ملک کے اسلامی اور نظریاتی تشخص کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہو نے دیں گے۔ممتاز قادری کو پھانسی دے کر اور حقوقِ نسواں کے نام پر خلاف ِ شریعت بل منظورکرکے حکمرانوں نے اللہ کے غیض و غضب کو دعوت دی ہے۔جماعت اسلامی ممتاز قادری کی قر بانی کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ پاکستان کو لبرل بنانے کے خلاف اور ناموسِ رسالتۖ کے تحفظ کی مہم جاری رکھی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی زون نیو کراچی کے تحت مقامی ہال میں منعقدہ ”علماء کنونشن” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے علامہ قاضی احمد نورانی، جماعة الدعوة کے ڈاکٹر مزمل ہاشمی، جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا محمود الحسینی ،جمعیت اتحاد العلماء کے مولانا عبد الرؤف، مولانا عبد الوحید ،امیر جماعت اسلامی زون نیو کراچی قاری محمد احمد اور امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی منعم ظفر خان نے بھی خطاب کیا۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان پر عالمی ایجنڈا مسلط کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ تحفظ ناموس رسالتۖ کے حوالے سے کی جانے والی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ناموس رسالتۖ ہمارے دین اور ایمان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مسلمان کسی صورت اس قانون کو تبدیل کر نے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس کے خلاف ہر فورم پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ ہمارے خاندانی نظام کو تباہ وبرباد کرنے کے لیے پنجاب میں حقوق نسواں بل لایا گیا ہے جس کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔لیاقت بلوچ نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کو کسی اقلیتی کو صدر بنانے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنی پارٹی کا صدر کسی اقلیتی کو بنا دیں، پاکستان کے دستور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی احمد نورانی نے کہا کہ توہین ِ رسالت کے حوالے سے مسائل ،قانون پر عملدرآمد نہ کر نے کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں اگر یہ قانون ختم کیا گیا تو بہت سارے ممتاز قادری پیدا ہوں گے۔ حکمرانوں نے تحفظ ناموس رسالتۖ میں تبدیلی کی کوشش کی تو حکمران تبدیل ہو جائیں گے، علماء کرام ناموس رسالت ۖ قانون کو ختم کرنے کی سازش ناکام بنا دیں گے، اس ملک کا مستقبل صرف اسلام ہے۔ ڈاکٹر مزمل ہاشمی نے کہا کہ پاکستانی عوام اسلام کے نام پر کٹ مرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں، آج ہمیں اسلام کی دعوت سے روکا جا رہا ہے۔ ہم اسلام کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ مولانا محمود الحسینی نے کہا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے، ہمیں مسلک کی بنیاد پر لڑا کر تقسیم کیا گیا، وقت آگیا ہے کہ مذہبی جماعتیں ایک ہو جائیں۔ امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی منعم ظفر خان نے کہا کہ آج پاکستان کے اندر ناموس رسالت ۖ کے قانون کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، عاشق رسول ۖ غازی ممتاز حسین قادری کو رات کے اندھیرے میں خاموشی سے پھانسی دے دی گئی لیکن آسیہ ملعون کو آج تک پھانسی نہیں دی گئی۔ علماء و مشائخ کنونشن میں اس بات کا عزم کیا گیا کہ قانون ناموس رسالتۖ کا تحفظ ہر حالت میں کیا جائے گا اور توہین رسالتۖ کے جرم میں عدالتی سزا پانے والی آسیہ پر بھی فوراً سزا کا اطلاق کیا جائے۔ ناموس رسالتۖ کے حوالے سے امریکی و مغربی، غیر ملکی این جی اوز کی سازشوں اور حکومتی اقدامات کا ہر میدان اور ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ کنونشن اس عزم کا بھی اعادہ کرتا ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے میڈیا پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کیلئے عوام الناس تک پہنچا جائے گا اور صرف مساجد و مدارس ہی نہیں بلکہ مختلف اجتماعات و پروگرامات کے انعقاد کے ذریعے عوام الناس کو صورتحال سے باخبر کیا جائے گا۔ لبرل اور سیکولر عناصر کی جانب سے اسلام مخالف اس مہم کا مقابلہ کرنے کیلئے علماء و مشائخ کا یہ نمائندہ اجتماع باہمی اتحاد پر زور دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تمام فروعی اختلافات کو بھلا کر تمام دین پسند قوتیں تحفظ دین کے لئے باہم متحد ہوکر کام کریں گی ۔

مہاجروں کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے: ڈاکٹر سلیم حیدر


dr saleem haider mit April 3, 2016 | 8:01 PM

کئی نسلوں کی تباہی کے باوجود مہاجر آج بھی اپنے روشن مستقبل کے خواہاں ہیں
ایم ائی ٹی مہاجر طاقت کو بکھرنے سے بچانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی
کراچی:(نیوزآن لائن) مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے مہاجر تنظیموں کی موجودہ صورتحال پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجروں کو سیاست کی بھینٹ اور ان کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگایا جائے ۔ پہلے ہی مہاجر ستم رسیدہ ہیں ۔ ہماری کئی نسلیں تباہ ہوچکی ہیں مزید ان کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے مثبت حکمت عملی تیار کی جائے کیونکہ مہاجر قوم کی قربانیوں کا سلسلہ قیام پاکستان سے قبل سے جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج مہاجر قومیت اس پستی اور زوال کی طرف بڑھ رہی ہے اس میں مہاجر دانشوروں ، ادیب، صحافی، شعراء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باشعور افراد اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مہاجروں کو روشن مستقبل کی راہ پر گامزن کریں۔ انہوں نے کہاکہ قاتل اور مقتول کی لاحاصل جنگ میں مہاجروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ اب یہ سلسلہ بند ہوجانا چاہئے کیونکہ اس سے سوائے مہاجروں کی نسل کشی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ آج مہاجر اپنے مستقبل سے خوفزدہ ہیں ، اس تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ قوم کو سہارے کی ضرورت ہے ۔ اسے بکھرنے سے بچانے کیلئے ایم ائی ٹی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ۔ ہم طاقت اور اقتدار کے حصول کے بجائے مہاجروں کو باعزت مقام دلانے کے خواہاں ہیں تاکہ مہاجروں کا کھویا ہوا وقار بحال ہوسکے ، انہوں نے کہاکہ مہاجر نوجوان شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایم ائی ٹی کے ہاتھ مضبوط کریں اور مہاجر تحریک کو اپنے ہاتھ میں لیں۔

جامعہ کراچی: شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام دوروزہ تربیتی ورکشاپ 05 اپریل سے شروع ہوگی


DPA Final Pic April 3, 2016 | 5:16 PM

جامعہ کراچی: شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام دوروزہ تربیتی ورکشاپ 05 اپریل سے شروع ہوگی
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام چھٹی دوروزہ تربیتی ورکشاپ بعنوان: ”ریسرچ میتھڈولوجی” 05 اور 06 اپریل 2016 ء کو صبح 9:15 تاشام 5:00 بجے تک کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقد ہوگی۔ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی کے اسکول آف پبلک پالیسی کے پروفیسر ڈاکٹر مہتاب کریم کلیدی خطاب کریں گے۔
=========
پولیس کے محکمے میں کرپشن اور اقرباپروری ضرورہے مگر حالیہ برسوں میں اس میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ تنخواہیں بھی ہیں ۔اے ایس پی سندھ پولیس شہلا قریشی
کراچی:(نیوزآن لائن)اے ایس پی سندھ پولیس شہلاقریشی نے کہا کہ بیورکریسی وہ ادارہ ہے جس کے ذریعہ معاشرے میں بہتری لائی جاسکتی ہے ،ہمارے نوجوانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے آئیں اور ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بننے میں کلیدی کردار اداکریں۔پولیس کے محکمے میں کرپشن اور اقرباپروری ضرورہے مگر حالیہ برسوں اس میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ تنخواہیں بھی ہیں ۔پولیس اکثر مواقعوں پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجرموں کوگرفتار کرلیتی ہے مگر گواہوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے عدلیہ کی جانب سے وہ رہاہوجاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک کرائم فری معاشرے کے قیام کے حصول کے لئے شہری آگے بڑھ کر پولیس کا ساتھ دیں اور کرائم فری اسٹیٹ کا خواب شرمندہ تعبیر کریں۔ان خیالا کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان: ”بیوروکریسی کا راستہ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر ابوذر واجدی نے طلبہ کو اپنی کامیابی کی داستانیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی صرف اور صرف محنت اور سچی لگن سے حاصل کی جاسکتی ہے۔چیئر شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن نے کہا کہ ایسے لیکچر کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں اور طلبہ کو مقابلے کے امتحانوں (سی ایس ایس)کے لئے تیار کرنا اور آگاہی اور رہنمائی فراہم کرنا ہے تاکہ ہمارے طلبہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز ہوکر قومی وملکی خدمت کرسکیں ۔انہوں نے شہلا قریشی کی آمد کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ شہلاقریشی جیسی خواتین ہمارے معاشرے اور قوم کا فخر ہیں۔شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کی پروفیسر ڈاکٹر غزل خواجہ نے کہا کہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن شہلاقریشی جیسی مثالی اور کامیاب شخصیات کو باقاعدگی سے مدعوکرتی ہے تاکہ وہ اپنی کامیابی کی داستانیں طلبہ سے شیئر کریں ۔نظام کی تبدیلی نظام کا حصہ بن کر ہی ممکن ہے تبدیلی ہمیشہ اس وقت بہتر اور پائیدار ہوتی ہے جب وہ اندر سے آتی ہے اور جو تبدیلی بیرونی عناصر سے کی وجہ سے آئے وہ معاشرتی ڈھانچوں پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔

حضرت ابو بکر صدیق اس امت کے افضل ترین انسان اور امام ہیں، آپ کا دور خلافت مثالی دور ہے۔رانا عثمان


muslim student April 3, 2016 | 5:09 PM

موجودہ دور کے تمام مسائل کا حل نظام صدیقی میں موجود ہے۔ محمد حمزہ،کاشف عمر لغاری
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جنوب مشرقی زون کے تحت “یارِغار و مزارو ِ تجدیدِ عہد وفا “سمینار کا انعقاد۔ترجمان
کراچی :( نیوزآن لائن)مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جنوب مشرقی زون کے تحت یونٹ عبداللہ بن عمر میں “یارِغار و مزارو تجدیدِ عہدوفا “سمینار کا انعقاد کیا گیاجس میں مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ناظم عمومی رانا عثمان نے خصوصی شرکت کی۔سیمینار سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ناظم عمومی رانا عثمان کا کہنا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق اس امت کے افضل ترین انسان اور امام ہیں، آپ کا دور خلافت مثالی دور ہے، موجودہ دور کے تمام مسائل کا حل نظام صدیقی میں موجود ہے ،لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی روشن ندگی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی معاشرتی زندگی کو درست سمت گامزن کیا جائے۔ انھوں نے کہاکہ طلبہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے اسلاف کے حالات و واقعات بھی پڑھا کریںتاکہ نفس کی اصلاح ہو سکے۔ اس موقع پرایم ایس او جنوب مشرقی زون کے ناظم محمد حمزہ ، محمد نیئر اور کاشف عمر لغاری نے رانا عثمان کا خیر مقدم کیا اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔