: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

ہڈیوں کے بھربھرے پن سے فریکچرز کی تعداد میں مسلسل ضافہ ہو رہا ہے


picture October 27, 2014 | 3:22 PM

آسٹیوپوروسس کے عالمی دن کے موقع پر ڈاکٹر پرواز انجم، صالحہ اسحق، شاہد نور، خوش بخت شجاعت اور دیگر کا خطاب
آگاہی ۔ اسکریننگ اور موثر علاج سے اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے
کراچی: (نیوزآن لائن) طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ہڈیوں کا بھربھرا پن بڑھتی عمر کی بیماری ہے لیکن یہ بچپن سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ بڑھتی عمر میں اس بیماری سے بچنے کے لیے بچپن سے ہی بچوں کوکیلشیئم اور وٹامن ڈی کا بھرپور استعمال کرایا جائے۔ بچوں کوخاص طور پر کالے رنگ کی کولڈ ڈرنکس کا استعمال ہرگزنہ کرایا جائے۔بچپن کا کھایا ہی عمر بھر کام آتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز موون پک ہوٹل میں آسٹیوپوریسس (ہڈیوں کا بھربھراپن) کے عالمی دن کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا انعقاد پاکستان آرتھوپیڈک ایسوسی ایشن اور پاکستان سوسائٹی آف رہیموٹالوجی نے کیاتھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی جبکہ تحریک نسواں کی شیما کرمانی اور متحدہ قومی موومنٹ کی رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت اعزازی مہمان تھیں۔ طبی ماہرین میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے آرتھوپیڈک ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اور پاکستان آرتھوپیڈک ایسوسی ایشن کے صدرپروفیسر پرویز انجم، آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی ڈاکٹر صالحہ اسحاق، ڈاکٹر مسعود عمر، لیاقت نیشنل اسپتال کے ڈاکٹر شاہد نور، کنسلٹنٹ ڈاکٹر محمد سعید، ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو، ڈاکٹر انتخاب توفیق اور ڈاکٹر محفوظ عالم شامل تھے۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ بچپن کا کھایا ہوا ہی بڑھاپے تک رہتا ہے۔پیدائش کے بعد سے ہی بچوں کو ماں کا دودھ ملنا چاہیے۔ اس کے بعد بڑی عمر میں ایک گلاس دودھ روزانہ اور وٹامن ڈی انتہائی مفید ہے۔ بچپن سے ہی خوراک متوازن رکھنی چاہیے۔پانی خوب پیئں، سوپ بھی انتہائی مفید ہے۔بچوں کو لازمی طور پر سبزیوں کا عادی بنائیں اور تلقین کریں۔ خوراک بہتر کریں۔ یہ رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ باہرسورج کی روشنی میں جسمانی سرگرمیوں کو بڑھائیں۔ بچے کھیلیں کودیں اور دوڑیں ، تب ہی ان کی ہڈیاں مضبوط ہوں گی۔ شہروں میں لوگ اکثر کمروں میں بند رہتے ہیں۔ بچوں کوبھی بند رکھتے ہیں۔ اسکول سے آنے کے بعد ٹیوشن، پھر قاری صاحب اور پھر وڈیو گیمزیا ٹی وی دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ روزانہ کم ازکم 20منٹ کی دھوپ ہر بچے اور بڑے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ علی الصبح سورج نکلتے ہی یا سورج غروب ہونے سے تھوڑا پہلے ورزش کرنی چاہیے۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ کسی تعلیمی ادارے کی کینٹین میں تازہ دودھ اور لسی نہیں ملتی بلکہ وہاں کولڈ ڈرنک باآسانی دستیاب ہوتی ہے۔ کالے رنگ کی کولڈ ڈرنک خوب پلائی جاتی ہے۔ طبی ماہرین نے مطالبہ کیا کہ کھانوں میں وٹامن ڈی اور کیلشیئم کو شامل کیا جائے۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ بغیر کسی وجہ سے ہڈیوں میں ہونے والے درد کونظر انداز نہیں کرناچاہیے۔ سوزش والی بیماریوں کی تشخیص عموما انتہائی مشکل ہوتی ہے اس لیے پہلی علامت پر ہی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن کی بیماری صرف خواتین کی نہیں ہے، یہ مردوں میں بھی ہوتی ہے۔دبلے لوگوں میں یہ زیادہ ہوتی ہے۔ 50 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کو اپنی ہڈیوں کا ڈیکسا اسکین کرانا چاہیے جس سے اس بیماری کی تشخیص میں بہت مدد ملے گی۔سادہ ایکسرے سے اس بیماری کا پتہ نہیں چلتا۔ عام ڈاکٹر یا جنرل فزیشن مریض کو درد کی دوا دیتا رہتا ہے جس سے تیزابیت اور اکثر مریضوں کے گردے خراب ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عام ڈاکٹرز صرف مریضوں پر اتنا احسان کریں کہ ہڈیوں کے بھربھرے پن کی بروقت اور صحیح تشخیص کریں اور ایسی دوا دیں جس سے بیماری سے فائدہ ہو اور بزرگوں کو فریکچرز سے بھی بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2050 تک پاکستان کی آبادی 30 کروڑ ہوجائے گی جس میں زیادہ تر لوگ 50 سال سے زائد کے ہوں گے۔ انہیں اچھا دودھ اور کیلشیئم دے کر ابھی سے اس بیماری سے بچانے کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک خاموش مرض ہے۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچ کر کولہے، کمر اور کلائی کے فریکچرز کو کم کیا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں عمررسیدہ افراد میں فریکچرز20فیصد اموات کے ذمہ دار ہیں جہاں بہترین علاج موجود ہونے کے باوجودفریکچر ہونے کے بعد انہیں نہیں بچایا جا سکتا ۔ طبی ماہرین نے کہا کہ ایک دو کے علاوہ کسی سرکاری اسپتال میں اس بیماری کی تشخیص کی سہولت موجود نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ اسپتالوں میں لاکھوں روپے کی روبوٹک سرجری کی مشینیں تو لگادی گئی ہیں لیکن ان جیسی بیماریوںکی تشخیص نہیں کی جارہی۔تقریب سے خطاب اور بعد میں صحافیوں سے گفت گو کرتے کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ دودھ اور گوشت کو ہر شہری کی پہنچ میں لانے کے لیے منافع خوروں کے خلاف جاری کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لوگوں کو تمام چیزیں سستی ملیں تاکہ وہ انہیں خرید کر اپنی صحت کو بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار میں شریک طبی ماہرین کی سفارشات پر بھی حکومت عمل کرے گی اور اس کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں گے۔تقریب سے خطاب اور بعد میں صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت نے کہا کہ اس مرض کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کچی آبادیوں اور غریب علاقے کی خواتین کو تو ان بیماریوں کے بارے میں بالکل پتہ ہی نہیں ہے۔ اس سلسلے کو ان آبادیوں تک لے جانا چاہیے۔ ان موضوعات پر ڈرامے بنانے کے ساتھ دستاویزی فلمیں بھی وہاں جا کر لوگوں کو دکھانی چاہیئں۔ خوش بخت شجاعت نے کہا کہ کالج اور اسکول کی سطح سے بچوں کو ان بیماریوں کی آگاہی دی جائے۔نصاب میں یہ چیزیں شامل کی جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزراء تعلیم کو خود بھی پہلی سے میٹرک تک کا نصاب پڑھنا چاہیے تاکہ انہیں پتہ چلا کہ نصاب میں کیا کمی ہے۔ لگتا ہے کہ لوگ وزیرتعلیم نہیں بلکہ زیرتعلیم ہیں۔ اسمبلیاں اس طرح کے کاموں کے لیے سب سے بہترین پلیٹ فارم ہیں لیکن اب تو وہاں صرف بکواس تقرریں اور گالیاں دینا ہی رہ گیا ہے۔ وہاں تو کبھی کوئی مثبت چیز دیکھی ہی نہیں ہے۔ سب اراکین اپنے مقصد کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ تحریک نسواں کی سرگرم رہنما اور کلاسیکل ڈانسر شیما کرمانی نے صحافیوں سے گفتت گو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ساری بیماریوں کا تعلق بھی غربت سے ہے۔بچوں کو دودھ اور گوشت مسلسل کھلانا اور پلانا بہت مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف یہی کہیں گی کہ والدین لڑکے اور لڑکی دونوں کو برابری کی سطح پر رکھیں اور کھلانے پلانے میں بھی کوئی امتیاز نہ کریں۔ شیما کرمانی نے کہا کہ وہ ان بیماریوں کے موضوعات پر بھی ڈرامے بنا کر پیش کریں گی تاکہ لوگوں کو آگاہی پیدا ہو۔ تقریب کے اختتام پر مقررین اور دیگر مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔