: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

کورٹ آرڈر کے نام پر آپریشن لاکھوں شہریوں کے لیے خوف کی علامت بن گیا ہے حافظ نعیم الرحمن


hafiz naim ul rehman December 2, 2018 | 9:05 PM

لاکھوں لوگوں کے بے روزگار اور چھت سے محروم ہونے کا خطرہ ہے لاقانونیت کے ذمہ داروں کو بھی کارروائی کا اختیار انصاف کے ساتھ مذاق ہے
بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائی سو چوہے کھاکر بلی حج کو چلی کے مترادف ہے میئر کراچی اور کے ایم سی کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے
کراچی: (نیوزآن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے نام پر جاری آپریشن لاکھوں لوگوںکے لیے خوف اور دہشت کی علامت بن گیا ہے ، اس نام نہاد تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن میں چھ ہزار سے زائد دکانیں گراکر پچاس ہزار سے زائد گھروں کے چولہے بجھادیے گئے ، ان میں بڑی تعداد ایسی ہے کہ جن کے پاس اگلے دن کا خرچ اور بچوں کی فیس کے پیسے تک موجود نہیں ، اب مزید 9000دکانوں کے انہدام کی بات کرنا سفاکیت کی انتہا ہے ، ایک جانب دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث وسیم اختر کی قیادت میں سندھ اور صوبائی حکومت کی آشیر باد کے ساتھ نام نہاد آپریشن جاری ہے تو دوسری جانب شہر کے کرپٹ ترین ادارے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جو کہ شہرمیں لاکھوں غیر قانونی تعمیرات کا ذمہ دارہے اور جس کے افسران حرام کی کمائی سے ارب پتی بن چکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اسکول رہائشی علاقوں میں نہیں ہوں گے تو کیا جنگل میں ہوں گے کون سے پلاٹ رہائشی علاقوں میں اسکولوں کے لیے موجود ہیں جہاں یہ منتقل ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائی سے گلی محلے میں موجود لاکھوں دکانوں اور خلاف ضابطہ تعمیرات کو جو بلڈر اور سرکاری عملہ کی ملی بھگت سے بنی ہیں خطرہ ہے ، عجیب بات یہ ہے کہ بلڈر اور اتھارٹی کے افسران کمائی کرچکے اب غریب شہری کی زندگی بھر کی کمائی کو خطرہ لاحق ہے ، نوٹس کے ذریعے ان کے کرپٹ افسران کو کمائی کا دھندا دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جائز ملکیتی پلاٹوں پر موجود تعمیرات کو بنی گالہ کی طرح ریگولرائزیشن کیا جائے اور اس وقت جاری غیر قانونی تعمیرات فوری روکی جائیں تاکہ شہری آئندہ مشکلات سے بچ سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر ریلوے کی بحالی کے نام پر آبادیوں کے خلاف کارروائی سے پہلے اس کی بحالی کے امکانات پر مکمل رپورٹ بنائی جائے اور بتایا جائے کہ یہ ماضی میں کیوں بند ہوئی تھی۔انہوں نے کہاکہ ان آبادیوں میں پچاس ہزار کے قریب خاندان بستے ہیں جو انسان ہیں اور پاکستان کے شہری ہیں ، ان کے اسلامی اور انسانی حقوق کا پاکستان کے آئین میں بھی تحفظ کیا گیا ہے ، ان کے لیے متبادل کو پہلے یقینی بنایا جائے اور ضرورت سے زیادہ کارروائی سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ بے روزگار اور بے گھر ہونے والوں اور اس خطرہ کا شکار شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی ہر ممکن قانونی اور عملی اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم ہرگز تجاوزات کی حمایت نہیں کرتے لیکن ان کے خلاف کاررورائی کی آڑ میں لاکھوں شہریوں کو بے روزگار اور بے گھر نہیں ہونے دیں گے ۔ متاثرین کو فوری متبادل فراہم کیا جائے اور قانونی دکانیں توڑنے اور لاکھوں کا مال ضائع کرنے اور میئر کراچی اور کے ایم سی کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔