: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

کشمیر بنے گاپاکستان کسی پارٹی کا نعرہ نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا نعرہ ہے،آزادی کے لئے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ڈاکٹر خالد عراقی


karachi university news February 5, 2020 | 5:17 PM

کشمیر کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ،بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، میں کشمیری مائوں کو سلام پیش کرتاہوں جوآزادی کے حصول کے لئے اپنے جگر کے ٹکڑوں کے نذارنے پیش کرتے کرتے نہیں تھکتی۔ڈاکٹر خالد عراقی
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ میں کشمیری مائوں کو سلام پیش کرتاہوں جوآزادی کے حصول کے لئے اپنے جگر کے ٹکڑوں کے نذارنے پیش کرتے کرتے نہیں تھکتی۔اپنی اولادکی جان کے نذرانے پیش کرنا آسان کام نہیں لیکن کشمیری مائیں اس پر فخرکرتی ہیں۔ بھارت نے گذشتہ سترسالوں اور بالخصوص گذشتہ چھ ماہ سے کشمیرپر جو مظالم ڈھائے ہوئے ہیں وہ انسانیت کے لئے شرمندگی ہے ، کشمیر کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ،بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ جوقومیں آزادی کے لئے جدوجہد کرتی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں آزادی نصیب فرمادیتے ہیں۔بحیثیت پاکستانی ہم سب کو اس بات پر فخر ہونا چاہیئے کہ دنیا بھر میںپاکستان واحد نظریاتی ریاست ہے جس میں اقلیتوں کو سب سے زیادہ حقوق حاصل ہیں ان کی حفاظت پاکستانی حکومت اور تمام ادارے اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن بھارت کی پالیسیاں ظلم اور بربریت سے بھری ہوئی ہیں اور بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندرمودی کی پالیسیوں نے انسانیت کا سرشرم سے جھکادیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی میں انتظامی عمارت کی سبزہ زار پر یوم یکجہتی کشمیر منانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر تمام روئسائے کلیہ جات،ڈاکٹر ایچ ای جے پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدی،رجسٹرار جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر سلیم شہزاد،،صدورشعبہ جات ،طلباوطالبات اور ملازمین کی کثیر تعدادموجود تھی۔
ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے مزید کہا کہ کشمیر بنے گاپاکستان کسی پارٹی کا نعرہ نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا نعرہ ہے،آزادی کے لئے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ یہ کشمیر کی آزادی کی شکل میں رنگ لائے گی۔ہمیں ہر فورم بشمول اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور اسلامی ممالک کے فورم پر کشمیر یوں کے لئے اپنی آوازاُٹھانی چاہئے ،۔ہماری سرحدوں پہ ہمارے پاک فوج کے محافظ موجود ہیں جس کی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں،زلزلے،سیلاب،قحط اور بدامنی واقعی ہو تو ہمیں ایک امید رہتی ہے کہ ہاں ابھی کوئی ہے اوروہ ہے ہماری پاک فوج جو مشکل سے مشکل حالات میں بھی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے۔ہمارے اساتذہ کو چاہیئے کہ وہ کشمیریوں کے جدوجہد کے بارے میں نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر جامعات کے طلبہ کو کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم اور ان کے حقوق کی پامالی سے آگاہ کریں ۔طلبہ کو کشمیر اور اس کی تاریخ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنی چاہیئے تاکہ ہماری نئی نسل کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو کہ کشمیر کا مسئلہ ایک تاریخی مسئلہ ہے اور وہ اپنے حقوق اورآزادی کی جنگ لڑرہے ہیں،کشمیری اس وقت تک سکون اور چھین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ آزادی حاصل نہیں کرلیتے۔
صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر انیلا امبر ملک نے کہا کہ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ کشمیر بنے گا تو اس کا مطلب ہے کہ آزاد اور جموں کشمیر دونوں ہی پاکستان کا حصہ ہیں۔اس سال بھارت نے اس کو متنازع بنایا ہے اور کشمیر پر اپنے آپ کو غاصب کیا ہوا ہے وہ اس کو ہر حال میں چھوڑنا پڑے گا۔ہمارے کشمیریوں کے ساتھ دلوں کے رشتے ہیں اور دلوں کے رشتے یونہی ختم نہیں ہوتے ، کشمیر کی آزادی تک ہم ان کے شابشانہ کھڑے ہیں ۔بھارت کی جانب سے کی جانے والی ریاستی دہشت گردی اور کشمیر یوں کے حقوق کی پامالی کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔
مشیر امورطلبہ جامعہ کراچی ڈاکٹر سید عاصم علی نے کہا کہ کشمیر کی بھی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی اپنی تاریخ اور یہ ہی اس بات کی گواہی اور دلیل ہے کہ کشمیر پاکستان ہے اور پاکستان کشمیرہے نہ ماضی میں کشمیر پاکستان سے الگ تھا ،نہ حال میں ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔05 اگست 2019 ء سے شروع ہونے والا کرفیوچھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کشمیریوں کے عزم وہمت کا مقابلہ نہیں کرسکا۔ہمارے سامنے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیری مائوں بہنوں،بزرگوں اور بچوں نے بھارتی فرعونیت کو اپنے پائوں تلے روند ڈالاہے۔ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سید وقار علی نے کہا کہ اب ہمیں ریلیوں اور تقریروں سے آگے نکل کر عملی طور جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں بھارت کی ان تمام مصنوعات سمیت ہراس چیز کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے جس سے بھارتی معیشت مضبوط ہورہی ہے۔پاکستان میں دنیا کا بہترین نمک موجود ہے اور بھارت کو ایک معاہدے کے چند آنوں کے عوض یہ نمک فراہم کیا جارہاہے اوریہ سلسلہ تاحال جاری ہے، بھارت اسی نمک سے اربوں ڈالرز کمارہاہے میری ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ اس معاہدے کو فی الفور ختم کرے اور اس کو پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔تقریب کے اختتام پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی قیادت میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے انتظامی عمارت تا آزادی چوک واک بھی کی گئی ۔