: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

کاروانِ حیات،کے تحت انڈس ویلی میں فنڈ ریزنگ صوفی نائٹ کا اہتمام کیا گیا


WhatsApp Image 2019-03-03 at 10.35.44 AM March 3, 2019 | 6:05 PM

آج رنگ ہے ،کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میں قوال جوڑی ابو محمد اور فرید الدین ایازکی پرفارمنس نے سماں باندھی دیا
کراچی: (نیوزآن لائن) دماغی صحت کی دیکھ بھال کے فلاحی ادارے کاروانِ حیات،کے تحت انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹکچر میں صوفی نائٹ کا اہتمام کیا گیا۔ ”آج رنگ ہے” کے عنوان سے منعقدہ صوفی میوزیکل نائٹ کا مقصد کاروان حیات میں زیر علاج ذہنی بیمار مریضوں کے علاج معالجے کے لیے فنڈز کا حصول تھا۔صوفی نائٹ میں نام ور قوال بھائیوں کی جوڑی ابو محمد اور فرید الدین ایازنے شاندار پرفارمنس دے کر سماں باندھ دیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کاروانِ حیات، کی ڈائریکٹر قیصرہ احمد نے کہا کہ ملک بھر میں ذہنی صحت کے مریضوں کو دیکھ بھال کی انتہائی ضرورت ہے اور کاروانِ حیات،جیسے ادارے اُمید کی کرن ہیں۔کاروانِ حیات،ہسپتال کیماڑی میں واقع ہے جہاں جدید خطوط پر ذہنی صحت کے مریضوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے اور نفسیاتی علاج کے ذریعے ان کی بحالی میں مدد دی جاتی ہے۔کاروانِ حیات ہسپتال کیماڑی 100 بستروں پر مشتمل نفسیاتی ہسپتال ہے جس کے ساتھ دو مذید سینٹرز خیابان جامی ڈیفنس اور کورنگی میں قائم ہیںجبکہ کراچی کے مختلف علاقوں میں رفاعی کلینکس بھی کام کررہے ہیں۔ کاروانِ حیات،کے تحت قائم ان اداروں میں تمام سہولتوں سے آراستہ ڈے کیئر سینٹر،اندرونی و بیرونی مریضوں کا ریگولرچیک اپ اور بحالی کے لیے نفسیاتی علاج کی جدید سہولتیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ادارہ تمام مریضوں کو بلا تخصیص مکمل نفسیاتی دیکھ بھال فراہم کرنے میں یقین رکھتا ہے، ان کے علاج کی منصوبہ بندی میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ہر مریض کی ذاتی ہسٹری کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی کونسلنگ کی جائے، اسے مناسب ماحول فراہم کیا جائے،اس کے ساتھ ادویات اور دیگر عوامل سے اس کی بحالی میں مدد ملتی ہے۔کاروانِ حیات،کے 170 سے زیادہ ملازمین دماغی مریضوں کے علاج،دیکھ بھال اور بحالی کے لیے ان خاندانوںکے دل سے قریب ہوکر کام کرتے ہیںجن کے خونی رشتے اس ادارے میں زیر علاج ہوتے ہیں،یہ ان ملازمین کے 35سالہ تجربے اور خدمات کا نچوڑ ہے اورپیشہ وارانہ خوبی ہے کہ وہ مریضوں کے ساتھ ایک ہی چھت تلے رہ کر اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔گذشتہ سال70ہزار سے زائد مریض کاروانِ حیات،کے بحالی مراکز سے مستفید ہوئے جن میں سے 90فی صد مریضوںکا علاج بلا معاوضہ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق صرف کراچی میں دولاکھ پچاس ہزار افراد دماغی امراض میں مبتلا ہیں جنہیں علاج کی مناسب سہولتیں دستیاب نہیں ہیں لیکن کاروانِ حیات،کے مراکز سے کسی مریض کو مکمل چیک اپ کیے یا ادویات کے بغیررخصت نہیں کیا جاتا۔ کاروانِ حیات،کی ڈائریکٹر قیصرہ احمد نے یہ اپیل بھی کی کہ اس نوعیت کے مریضوں کے حوالے سے غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان پر کوئی آسیب یا جادو ٹونا کیا گیا ہے، یہ ایک بیماری ہے اور اس کا علاج کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ اس حوالے سے لوگوں کو آگہی دینے کا فریضہ بھی سرانجام دیتا ہے۔صوفی نائٹ میںقوال بھائیوں کی مقبول جوڑی ابو محمد اور فرید الدین ایازنے سب سے پہلے اپنا مشہور کلام اللہ کا ذکر،سنایا۔اس کے بعد نعتیہ کلام،منقبت اور پھر من کنتو مولا،پیش کیا جس پر حاظرین بے ساختہ جھومنے لگے۔حضرت امیر خسرو کے کلام نے سماں باندھ دیا۔بعد ازاںدونوں بھائیوں کی جوڑی نے جہاں اپنا دیگر مقبول کلام پرفارم کیاوہیں’گھر ناری گواری’گاکر حاظرین محفل کا دل جیت لیا۔آخر میں باری آئی ‘آج رنگ ہے’کی جس کے ساتھ ہی یہ پرنور محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔