: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

پاکستان کو لاک ڈان پر سخت عمل درآمد کی ضرورت ہے ۔ صوبائی وزیر اطلاعاتسید ناصر حسین شاہ


syed nasir hussain shah May 7, 2020 | 11:52 PM

کراچی:(نیوزآن لائن) صوبائی وزیر اطلاعات ، بلدیات، ہاسنگ ٹان پلاننگ ، مذہبی امور، جنگلات و وائلڈ لائف سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا کے حالات و واقعات اور طبی ماہرین کی رائے کے مطابق مئی کا مہینہ اس وائرس کے پیش نظر بہت زیادہ خطرناک ہے اور اس کے پیش نظر سب ماہرین کا مشورہ یہی ہے کہ مئی کے ماہ میں لاک ڈان کو جاری رہنا چاہئے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے بھی لاک ڈان کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ لاک ڈان کو مزید موثر کریں ورنہ یہ وائرس ایسے پھیلے گا کہ اس کا کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں صوبہ بلوچستان میں بھی لاک ڈان میں 19مئی تک توسیع کردی ہے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس سب کے باوجود کسی نے بھی بلوچستان حکومت پر کوئی تنقید نہیں ہوئی نہ ہی کسی وفاقی وزیر نے کوئی بیان دیا لیکن اگر صوبہ سندھ عوام کی جان بچانے کے لئے لاک ڈان کرتا ہے تو ہر طرف سے تنقید اور شورہ گا کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ سندھ حکومت عوام دشمن ہے سندھ حکومت کاروبار کو تباہ کرنا چاہتی ہے لیکن اگر کسی دوسرے صوبہ کی طرف سے اسی طرح کا قدم اٹھایا جاتا ہے تو کوئی تنقید نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی نوٹس لیا جاتا ہے یہ دہرا معیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہدف تنقید کا نشانہ سندھ حکومت ہی بنتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ مئی کا پورا مہینہ موثر اور سخت لاک ڈان ہونا چاہئے اور عوام کی صحت اور زندگی کو سب سے مقدم رکھنا چاہئے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس وقت بھی جو لاک ڈان ہے وہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق 9 مئی تک کا ہے اور اس کا فیصلہ وفاقی حکومت نے کیا اور ایک وفاقی وزیر نے اس کا اعلان کیا تھا آج وہ خود ہی کہ رہے ہیں کہ لاک ڈان غلط ہورہا ہے یہ دہرا معیار ہے اور عوام کو سمجھنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو کاروبار دشمن اور غریب لوگوں کا دشمن بنا پر پیش کیا جارہا ہے جبکہ پورے ملک میں یکساں پالیسی نافذالعمل ہے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سارے فیصلے وفاقی حکومت اور صوبوں کے مابین اجلاس میں ہوتے ہیں اور ہم وہی بات نافذ کرتے ہیں جس کا فیصلہ وفاقی حکومت کے ساتھ اجلاس میں اتفاق رائے کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے بعد اچانک ہم پر بلا جواز تنقید شروع ہو جاتی ہے جو کہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں یہ وباتیزی سے پنجے گاڑ رہی ہے اور لوگ اس میں مبتلا ہو رہے ہیں اور مر رہے ہیں اور ہمیں اپنی پوائنٹ اسکورنگ کی پڑی ہے اور اس حساس معاملے میں بھی سیاست کی جارہی ہے جو کہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی فیصلے ہیں وہ وفاقی حکومت کرے کیونکہ اگر ہم کچھ کہیں گے تو خدشہ ہے کہ ہماری تنقید برائے تنقید کی پالیسی میں اس کا مخالفانہ فیصلہ نہ کرلیا جائے اور اس کا نقصان صرف اور صرف عوام کو ہی ہوگا ۔ صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بھی کہا ہے کہ اس اہم معاملے پر پورے ملک میں ایک طرح کی پالیسی بنائی جائے اس لئے ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ جو بھی فیصلہ ہو وہ پورے ملک میں یکساں اور عوام کے مفاد میں ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ماہرین کی رائے کے مطابق مئی کے مہینے میں اس لاک ڈان پر پوری طرح عمل ہونا ضروری ہے ۔