: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

پارٹی وفاداریاں سر عام تبدیل کرنے والے قانون شکن افراد اور جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھوپنے جیسا ہے۔ تاج حیدر


527500-ppp-1364415145-852-640x480 September 10, 2016 | 6:42 PM

کراچی: (نیوزآن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر تاج حیدر نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ آج جمہوریت کے لئے انتہائی صدمے کا دن ہے کیونکہ ماتلی میں صوبائی الیکشن کمیشن کی بھرپور سرپرستی سے پارٹی وفاداریاں سر عام تبدیل کرنے والے قانون شکن افراد اور جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھوپنے والے مجرم ماتلی میونسپل کمیٹی کے چیئرمین اور نائب چیئرمین کا حلف اٹھا رہے ہیں ۔ پی پی پی میڈیا سیل سندھ سے جاری کئے گئے بیان میں سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ یہ افراد ،  ان کے ناموں کی تجویز اور تائید کرنے والے اور ان کو ووٹ دینے والے تمام افراد پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ۔پارٹی نے میونسپل کمیٹی کے چیرمین کے عہدے کے لئے پارٹی کی خاتون کارکن محترمہ تنزیلہ کو ٹکٹ دیا تھا ۔ ان ا فراد نے پارٹی ڈسپلن اور سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ قانون کی رو سے ان کے کاغذات سرے سے جمع ہی نہیں ہونے چاہیے تھے ۔ بحر حال جب ریٹرننگ آفیسر کو میری طرف سے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی دفعہ 36 کے تحت ڈیفیکشن سرٹیفکیٹ موصول ہوا تو انہوں نے ان پارٹی ڈسپلین کی خلاف ورزی کرنے والے اراکین کے کاغذات مسترد کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدواروں کو فاتح قرار دے دیا ۔ انہوں نے کہا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ سندھ الیکشن کمیشن نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس سیٹ پر دوبارہ الیکشن کا حکم دیا۔ ہم نے اس غیر قانونی الیکشن میں حصہ نہیں لیا ۔ پارٹی کے13غداروں نے اس الیکشن میں جا کر ووٹ دئے ۔ ماتلی میں تمام کونسلر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹی ینز کے ٹکٹوں پر منتخب ہوئے تھے ۔ کسی آزاد امیدوار کے ماتلی میونسپل کمیٹی کے انتخابات میں حصہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ پارٹی نے سپریم کورٹ میں چلنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے مقدمے میں یہی موقف اختیار کیا تھا کہ دوسرے مرحلے کے بالواسطہ انتخابات میں خفیہ بیلٹ کی اجازت دینا ووٹوں کی خرید و فروخت اور عوام کے مینڈیٹ کو رد کرنے کا باعث بنے گا ۔ ہماری جائز بات تسلیم نہیں کی گئی اور اس کے نتیجے میں سندھ میں ہمیں کئی جگہ سے وفاداریاں تبدیل کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ ماتلی اور ڈھرکی کے معاملات میںآزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینا پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے کا کافی سے زیادہ ثبوت ہے ۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے سیکشن 36  کے تحت ان تمام افراد کی سیٹیں منسوخ کرکے ان کو آئندہ چار سال کے لئے نا اہل قرار دینا الیکشن کمیشن کا فرض منصبی ہے ۔ ہمیں افسوس ہے کہ ذمہ دار افراد کی جانب سے اس قسم کے ریمارکس آرہے ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ تو پچھلے 68  سال سے ہورہی ہے اب کیا مسئلہ ہوگیا ۔ اس قسم کے ریمارکس کو جواز بنا کر الیکشن کمیشن سندھ ہارس ٹریڈنگ کی سرپرستی نہیں کرسکتا ۔ پارٹی کی جانب سے اس دوران صرف ماتلی میںکھلی قانون شکنی کے بار ے میں تین مختلف درخواستیں بشمول ڈیفیکشن سرٹیفکیٹ محترم چیف الیکشن کمشنر کی خدمت میں پیش کی گئی ہیں ۔ ہمیں افسوس ہے کہ ان درخواستوںپر جن کے لئے کسی قسم کے مزید ثبوت یا شنوائی کی ضرورت نہیں تھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور آج ماتلی میں پارٹی اور عوام کے غدار مجرم حلف وفاداری اٹھا رہے ہیں ۔اللہ شہید بی بی صاحبہ پر اپنی بے پایاں رحمتوں کا نزول کرے ۔ ان کے دل میں سمندروں جیسا رحم اور ظرف تھا ۔ وہ غداروںکو معاف کردیا کرتی تھیں اور دوبارہ ان پر احسانات کیا کرتی تھیں ۔اور یہ محسن کش لوگ بار بار وفاداریاں تبدیل کرتے تھے ۔ ہمیں اللہ نے اس رحمدلی اور اس عالی ظرفی سے محروم رکھا ہے ۔ پارٹی کارکن مطمئن رہیں کہ ہم غداروں کو قانون کے  مطابق سزا دلوانے کے لئے آخری حدد تک  جائیں گے ۔ ہمیں یہ بھی خبر ہے کہ ان کے پیچھے کون سے افراد ہیں۔ پارٹی ایسے منافقین کے خلاف بھی بھرپور کاروائی کرے گی ۔ جمہوریت نظم و ضبط اور قانون کی پابندی کا تقاضا کرتی ہے ۔ جمہوریت کی بقا اور استحکام کے لئے ان عناصر کے خلاف کاروائی ہماری بنیادی ضرورت اور بنیادی فرض ہے۔