: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

وزیراعلی سندھ کی کوآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق نادیہ گبول نے کراچی میں واقع خصوصی بچوں کے اسکول کا اچانک دورہ


Nadia gabol April 6, 2015 | 6:45 PM

کراچی(نیوزآن لائن) وزیراعلی سندھ کی کوآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق نادیہ گبول نے کراچی میں واقع خصوصی بچوں کے اسکول کا اچانک دورہ کیا اورانتظامیہ سمیت اساتذہ پر صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور بچوں کی غیرحاضری پر شدیدبرہمی کا اظہارکیا۔تفصیلات کے مطابق صوبائی کوآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق سندھ نادیہ گبول نے وزیراعلی سندھ کی ہدایت پر کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن کمپلکس اسکول کا اچانک دورہ کیا اوروہاں موجود انتظامیہ اوراساتذہ سے اسکول کے انتظامی اورتدریسی معاملات پر تفصیلی بریفنگ لی۔نادیہ گبول نے اسکول کی عمارت کا دورہ کیاا ور صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال اوربچوں کی غیرحاضری پرشدید غصہ اوربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ صفائی اور شعوراجاگر کرنے کے لیے خصوصی توجہ درکار ہے لیکن بچوں کی غیرحاضری ‘اساتذہ کی تعلیم کے فروغ کی طرف سے عدم دلچسپی کا اشارہ دیتی ہے جو کہ ناقابل برداشت بلکہ قابل سزا بھی ہے، اس قسم کی کوتاہی بالخصوص خصوصی بچوں کے ساتھ برداشت نہیں کی جائے گی اوروزیراعلی سندھ خود اس ضمن میں غیرذمہ دار اساتذہ کے خلاف ایکشن لیں گے۔نادیہ گبول نے اسکول میں موجود خصوصی بچوں کے ڈاکٹروں سے بھی ملاقات کی اور ان کوخصوصی بچوں کے لیے طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی۔ڈاکٹروں نے شکایت کی کہ اسکول کی گاڑیاں ناقابل استعمال حالت میں کھڑی ہیں جبکہ جو قابل استعمال ہیں وہ نجی کاموں کے لیے استعمال کی جارہی ہیں جس کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسکول میں موجود ڈائریکٹرجمنداس راٹھی اورڈپٹی ڈائیریکٹر عشق نے نادیہ گبول کوبتایا کہ اسکول گزشتہ کئی روز سے امتحانات کی وجہ سے بند تھا جس کے باعث بچے غیر حاضر ہیں تاہم صفائی ستھرائی کے نظام کو یقینی بنایا جائے گاجبکہ اسکول کا بجٹ ناکافی ہے اور اس میں اضافہ کی ضرورت ہے ۔نادیہ گبول نے اسکول انتظامیہ کو یقین دلایا کہ بجٹ کو حوالے سے وہ خود وزیراعلی سندھ سے بات کریں گی اورجلد از جلد اس اسکول کے لیے بجٹ دلوائیں گی۔انھوں نے کہا کہ خصوصی بچے خصوصی توجہ چاہتے ہیں ،ان بچوں میں ہی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جو دنیا میں ایسے کارنامے انجام دے جاتی ہیں جس پر دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ان بچوں کی رہنمائی کرنا اسکول سمیت معاشرے کے ہر طبقے کا فرض ہے۔