: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

نسل نو کو حصول مہارت کے مواقع کسی صورت ضائع نہیں کرنے چاہئیں۔ پروفیسر ڈاکٹر زرین عباسی


6x8 Photo October 20, 2019 | 11:55 PM

ہمارا نوجوان نہ صرف بہتر مستقبل کا اہل ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے نمائندگان نسل نو سے ہر سطح پر مقابلہ کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ۔ سید امتیاز علی شاہ
ورکشاپ کے شرکاء سے ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر، پروفیسر ڈاکٹر شبیر میمن ، پروفیسر ڈاکٹر عنبرین خاصخیلی، شاہد امین ، ثاقب رضاء ، ریما سیال و دیگر کا خطاب ۔
کراچی :( نیوزآن لائن ) ملک کی ترقی کے لئے تعلیم ناگزیر ہے لیکن تربیت اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ہمارا نوجوان تعلیم سے بہرور ہے لیکن تربیت سے یکسر محروم ۔ آداب و اخلاق اور مختلف شعبوں سے متعلق ماہرین کے تجربات دکانوں سے نہیں خریدے جا سکتے یہ صرف اور صرف تربیتی عمل کے ذریعے ہی منتقل کئے جا سکتے ہیں ۔ یوتھ افیئرحکومت سندھ صوبہ کے نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھا رہا ہے۔ نسل نو کو حصول مہارت کے مواقع کسی صورت ضائع نہیں کرنے چاہئیں ۔ ان خیالات کا اظہار ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز سندھ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زرین عباسی نے گذشتہ روز محکمہ کھیل و امور نوجوانان سندھ اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سوشل ڈولپمنٹ کے اشتراک سے یوتھ ٹیکنالوجی انٹر پرینیور ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پاکستان اسٹڈی سینٹر ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر ، ٹرینر ثاقب رضا،کے شاہد امین ،ڈائریکٹر ایریا اسٹڈی سینٹر ، پروفیسر ڈاکٹر شبیر میمن،چیئر مین ماس کمیونیکشن ڈپارٹمنٹ ،پروفیسر ڈاکٹر عنبرین خاصخیلی،چیئر پرسن اکنامکس ڈپارٹمنٹ،معشوق علی خواجہ ،پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ بلوچ،ڈاکٹر ذوالفقار قریشی،عشرت برفت،سرفراز بخش،جاوید لارک و دیگر نے بھی خطاب کیا ورکشاپ کی چیف آرگنائزر ریما سیال جبکہ آرگنائزنگ کمیٹی ارکان میں اسد وسیم،مشتاق احمد اور ایاز چنا شامل تھے ۔اس موقع پر صدر نشیں سیکریٹری اسپورٹس و یوتھ افیئرز سندھ سید امتیاز علی شاہ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ڈپارٹمنٹ صوبہ بھر کے نوجوانوں کی ترقی کے لئے مکمل معاونت اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے ۔ہماری کوشش ہے کہ صوبہ کا کوئی بھی نوجوان جو خدمت وطن کیلئے جذبہ رکھتا ہے اسے ہر طرح کا تعاون دیا جائے ۔سید امتیاز علی شاہ نے پیغام میں کہا کہ ہمارانوجوان نہ صرف بہتر مستقبل کی قیادت کا اہل ہے بلکہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے نمائندگان نسل نو سے مقابلہ کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے شاندار مواقع فراہم کئے جائیں، شاہد امین نے کہا کہ سندھ کی یوتھ پالیسی میں پروموشن آف انٹر پرینیور شپ اور سیلف ایمپلائمنٹ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے ۔سینٹر فار ریسرچ اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ نے ان ہی نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے باہمی اشتراک و تعاون سے اس طرح کی ورکشاپس کا اہتمام تعلیمی اداروں میں مسلسل جاری رکھا ہوا ہے ۔ ورکشاپ کے شرکاء کو بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی بیسڈ نجی کمپنی کا آغاز کس طرح کیا جا سکتا ہے ، کاروباری منصوبے بنانے کا طریقہ کار کیا ہے ،چھوٹی سی فرم قائم کرنے کے لئے کیا اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں،پراڈکٹ یا سروسز کو کس طرح منتخب اور مارکیٹ کیا جاسکتا ہے ،مارکیٹ کا تجزیہ کس طرح سے کیا جانا چاہیے ،جز وقتی ، کل وقتی چھوٹے عرصہ اور لمبے وقت کے لئے تجارتی حکمت عملی کس طرح وضع کی جانی چاہیے ،کارو بار میں کس طرح کے رسک آسکتے ہیں اور ان سے کس اندا ز میں نبر آزما ہونا ہے ،ملکی و گلوبل معاشی حالات کے مطابق مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے فرم کو کس طرح چلانا ہے ،تادیر کاروبار جاری رکھنے کے لئے ٹیم بلڈنگ کے اقدامات کیا ہونے چاہئیں ،رقوم کا انتظام کہاں سے اور کس طرح کرنا ہوگا ، مالیاتی اقدامات کس طرح مرتب کرنے ہوں گے وغیرہ۔ تکمیل ورکشاپ کے بعد شریک طلباء و طالبات کو سرٹیفیکٹس اور مہمانان گرامی کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئی ۔