: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

عید الفطر کے موقع پر بلدیہ وسطی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی مشکل میں پڑ گئیں۔


Meeting Advitisming copy June 1, 2019 | 2:07 AM

سندھ حکومت نے مسلمان اسٹاف کی تنخواہوں کی مد میں ڈھائی کروڑ روپے کی کٹوتی کر ڈالی ۔
سیکریٹری مالیات سندھ کو اس ظالمانہ اقدام کے حوالے سے شکایتی خط ارسال کردیا گیا ہے ۔ریحان ہاشمی
کراچی: (نیوزآن لائن)چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے کہا کہ سندھ حکومت نے اپنے ہی احکامات کے خلاف جاتے ہوئے مسلم اسٹاف کی تنخواہوں کی مد میں 2.5 کروڑ کی کٹوتی کرکے بلدیہ وسطی کے ملازمین پر عید الفطر کے موقع پر شب خون مارا ہے ،کیا بلدیہ وسطی کے مسلم ملازمین اور اُن کے اہل و عیال کو عید الفطر منانے کا حق نہیں ہے سندھ سرکار کا یہ ظالمانہ قدم جو اُس نے ضلع وسطی اور بلدیہ وسطی کے ملازمین کے ساتھ رواں رکھا ہے کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔حکومت سندھ اب بھی ہوش کے ناخن لے۔ حکومت سندھ کے اس اقدام سے بلدیہ وسطی کے مسلم ملازمین کو عید پر تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا ہے ۔بلدیہ وسطی کے غریب ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے اُن کی عید کی خوشیاں پھیکی پڑگئی ہیں اس سلسلے میں چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے سیکریٹری مالیات سندھ کو شکایتی خط ارسال کیا گیا ہے جس میں انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے مسلم ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی عید سے قبل کرنے کے حکم نامے سے بھی آگاہ کیا لیکن حکومت سندھ اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ریحان ہاشمی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت بلدیہ وسطی کے ملازمین کے ساتھ سوتیلوںجیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے ۔گزشتہ سال کا 10 فیصد اضافہ بھی ابھی تک ملازمین کو نہیں دیا گیا ہے جس بنا پر ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے حکومت سندھ ملازمین کی تنخواہیں بڑھاکر دینے کے بجائے جاری فنڈ میں بھی 10 فیصد کٹوتی کردی جس سے ملازمین سخت پریشان اوراضطراب میں مبتلا ہیں۔