: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

عصر حاضر کے سماجی ،ثقافتی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے روحانیت پر عمل بہترین ذریعہ ہے۔رومانین اسکالر پروفیسر ڈان شیتیو


karachi university news (2) February 23, 2020 | 7:29 PM

دنیا کوا یٹمی،کیمیکل یا بائیولوجیکل ہتھیاربنانے کے بجائے درپیش سماجی مسائل جس میں بھوک،غربت ،تعلیم اور معاشرے میں پھیلی ہوئی انصافیاں سرفہرست ہیں کو باہمی اتحاد سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی
عصر حاضر کے سماجی ،ثقافتی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے روحانیت پر عمل بہترین ذریعہ ہے۔رومانین اسکالر پروفیسر ڈان شیتیو
کراچی:(نیوزآن لائن)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ دنیا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایک بار پھر بین المذاہب ہم آہنگی اور اس کے کلچر کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔دنیا میں دیر پا امن صرف باتوں یا دعوں سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی بات کو سننے ،سمجھنے اور اختلافات کے باوجود اس کو برداشت کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے۔دنیا اس وقت بہت سے سنگین مسائل سے دوچار ہے ۔دنیا کوا یٹمی،کیمیکل یا بائیولوجیکل ہتھیاربنانے کے بجائے درپیش سماجی مسائل جس میں بھوک،غربت ،تعلیم اور معاشرے میں پھیلی ہوئی انصافیاں سرفہرست ہیں کو باہمی اتحاد سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ایسے مسائل کو کھلے دل ،دماغ اور باہمی اتحاد سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔میرے لئے یہ بات باعث افتخار ہے کہ جامعہ کراچی نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دوروزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس کے انعقاد کو یقینی بنایا جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے اسکالرز نے بھی بین المذاہب ہم آہنگی کو ناگزیرقراردیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیرت چیئر جامعہ کراچی کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ دوروزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس 2020 ء بعنوان: ”تعلیمات رسالت: امن،بقائے باہمی اور مفاہمت” کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ کسی چیز کو نظر انداز کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ،ہمیں کسی کے حوالے سے فیصلہ یا تبصرہ کرنے کے بجائے اس کی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حصول علم آپ کی زندگی کا مقصد ہونا چاہیئے۔رومانیہ کے پروفیسرڈان شیتیو نے کہا کہ عصر حاضر کے سماجی ،ثقافتی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے روحانیت پر عمل بہترین ذریعہ ہیں۔روحانیت کے ذریعے آپ معاشرے میں بہتری لاسکتے ہیں اور دوسروں کے لئے ہمدردری محسوس کرسکتے ہیں۔ہمدردی اور جذبات سے آپ بڑے سے بڑے مسائل اور تنازعات حل کرسکتے ہیں چاہے وہ افراد کے مابین ہوں یا ممالک کے مابین ہوں۔ لہذا انسانیت کی فلاح کے لئے مفاہمتی جذبات کو اجاگرکرنے کے لئے روحانیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
امریکی معروف بین الاقوامی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد نے کہا کہ بلاشبہ اسلام امن کا دین ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے ہوجاتا ہے کہ جب دومسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو وہ سلام کرتے ہوئے ایک دوسرے پر سلامتی بھیجتے ہیں۔اسلام نے قرآن وسنت کے ذریعے امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے جس کا عملی مظاہرہ ہمیں رسول اکرمۖ اور ان کے اصحابہ کرامکی حیات مبارکہ سے ملتاہے۔دورحاضر میں اسلام کو مختلف مسائل کا سامنا ہے جن میں سرفہرست فرقہ وارانہ تقسیم ہے جس سے سماجی ،مذہبی اور سیاسی تنازعات پیداہورہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فرقوں کو ہم آہنگی اور بھائی چار ے کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ہونا ہوگا،تاکہ اسلام کی صحیح روح اور امن پر مبنی پیغام دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے۔
تھائی لینڈ کی معروف مذہبی اسکالر آمنہ تالک نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بنی نو ع انسان کی رہنمائی فرمائی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآنی آیات بالخصوص سورة الفاتحہ میں متقین اور مومنین کے لئے ہدایات فرمائی ہیںجن میں انسانی معاشرے کے لئے امن اور سلامتی پر خصوصی زوردیا گیا ہے۔جرمنی کی معروف اسکالر پروفیسر بشریٰ اقبال ملک نے مذاہب میں امن اور محبت کے پیغام پر مبنی مقالہ پیش کرتے ہوئے انسانی رویوں میں مذہب ،محبت ،جذبات ، نفرت اور دیگر اخلاقی تقاضوں اور رویوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔رومانیہ کی اسکالر مرینا رخسانہ کریٹو نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بین المذاہب روابط کو کلیدی حیثیت حاصل ہے،مذاہب اور ثقافتوں کے مابین جو تفریق موجود ہے اس کا حل نکالنے کے لئے جامع اور مربوط حل تلاش کرنے ہوں گے جس سے دنیامیں امن کا بول بالا ہوسکے۔
کوآرڈینیٹر سیرت کانفرنس ڈاکٹر محمد اکرم شریف نے کہا کہ انسانی تاریخ میں بیشمار جنگوں کا ذکر ہے اور ماضی قریب میں دوعالمی جنگوں میں ہونے والے انسانی جانوں اور وسائل کے بہت وسیع پیمانے پر نقصانات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔علوم اور ٹیکنالوجی میں بے مثال پیش رفت اور حیرت انگیز ایجادات سے انسان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی رونماہوئی ہے لیکن ان علوم اور ایجادات کے باوجود دنیا کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین مذہبی عقائد اور معاملات میں پائی جانے والی دوریوں کو کم نہیں کیا جاسکا ہے،یہ ایک انسانی المیہ ہے۔تاہم انسانیت کا ایک روشن پہلو بھی ہے جس کی مثال ہمیں طب کے میدان میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔طبی تاریخ اور عصر حاضر پر نگاہ ڈالنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ صحت کے شعبہ میں دنیا بھر کے افراد کو حاصل ہونے والے ثمرات کے پس منظر میں جن عظیم طبی سائنسدانوں اور ماہرین کی کاوشیں شامل ہیں ان کا تعلق مختلف مذاہب سے رہاہے۔طب ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہر مذہب کے نامور سائنسدانوں نے پوری انسانی آبادی کے لئے اپنی خدمات بلاتفریق پیش کی ہیں یہی طرز عمل زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اپنائیں تو دنیا میں امن کی صورتحال بہت بہتر ہوسکتی ہے۔این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے ڈاکٹر فاروق حسن نے کہا کہ رسول اکرم ۖ نے مدینہ کے مختلف قبائل اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے حسن اخلاق اور عزت بخشنے سے ایک مثالی معاشرے کے سانچے میں ڈھال دیا،اس امر سے فرقہ واریت ،لسانیت اور ہر قسم کے تعصب کوختم کردیا گیا،سیرت میں ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے کا درس ملتا ہے۔سینٹر آف ایکسلینس فاروویمن اسٹڈیزجامعہ کراچی کی ڈاکٹر سیما منظور نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی تشکیل میں اخلاقی اقدار کا اہم کردار ہوتا ہے اور ان سب میں برداشت کے رویے کا کلیدی کردار ہے۔عالمگیر یت کے دور میں دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے ،مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے افراد سماجی اور معاشی تعلقات میں جڑتے جارہے ہیں لہذا برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پہلے کے مقابلے اب کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔اسلام ہر انسان کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے دین کا انتخاب کرے اور اپنی عبادات آزادی سے کریں۔اسلام نے مذہب کے معاملے میں ہمیشہ آزادی دی ہے اور اس سلسلے میں کوئی سختی نہیں ہے۔