: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

سید ناصر حسین شاہ کاسول اسپتال کے واقعہ پر سخت رد عمل کا اظہار


nasir shah May 31, 2020 | 8:06 PM

کراچی(نیوزآن لائن): صوبائی وزیر اطلاعات ، بلدیات ، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ، مذہبی امور ، جنگلات اور جنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے سول اسپتال کے واقعہ پر سخت رد عمل کا اظہارکیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹرز ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی جانیں بچا رہے ہیں اور یہ بات نا قابل برداشت ہے کہ ان کے ساتھ بد تمیزی اور تشدد کیا جائے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اگر کسی حوالے سے کوئی شکایت تھی تو انتظامیہ سے بات کی جاتی صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ زبردستی حملہ کرنے کے حوالے سے قانونی کارروائی کی جارہی ہے اور وزیر اعلی سندھ نے اعلی سطی انکوائری کے احکامات دے دیئے ہیں ۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نے کہا ہے کہ پہلے جناح اسپتال میں توڑ پھوڑ اور پھر سول اسپتال پر ہنگامہ آرائی ناقابل برداشت ہے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسز خود کو اکیلا محسوس نہ کریں حکومت ان کے ساتھ ہے۔ اور وزیراعلی سندھ نے ان واقعات پر سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ قبل ازیں صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ چینی انکوائری کمیشن بنانا اور اس کی تحقیقات کرانا ایک بہت اچھی بات ہے اور ہم اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، لیکن رپورٹ میں کہا گیا کہ قیمتیں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایکسپورٹ اجازت دی گئی اور اجازت وزیر اعظم نے بطور انچارج وزیر کامرس کے دی ۔ لیکن اس میں تنازعہ کہ دجہ یہ ہے کہ اس میں بلا وجہ وزیر اعلی سندھ کو ملوث کیا جارہا ہے جبکہ ان کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اصل معاملہ پر کاروائی نہیں کی جارہی اور اصل ذمہ داروں کی طرف سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس نے ان کو بچا لیا ہے وگرنہ معیشت کی حالت ان کی حکومت میں بہت ہی خراب ہوچکی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر بہت بڑھ چڑھ کر بیانات دے رہے ہیں بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں اور رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے سلسلے میں عالمی معیار کے مطابق قدم اٹھائے لیکن ہم پر تنقید برائے تنقید کی گئی اور ان اقدامات کو پورے ملک میں نافذ نہیں کیا گیا اس وجہ سے یہ وائرس پاکستان میں وفاقی حکومت کے غیر سنجیدہ روئے سے پھیلا ۔ انہوں نے کہا کہ 26 فروری کو پہلا کیس آیا اور وفاقی حکومت نے 13 مارچ کو میٹنگ بلائی ۔ اس سے ان کی غیر سنجیدگی کا پتا چلتا ہے کہ وہ عوام کی جان و مال بچانے میں کس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اب تو اس وائرس کے ساتھ ایک طویل عرصہ گذارنا ہوگا اور تمام ادارے اور کاروبار ایس او پیز کے مطابق ہی کھولنا پڑیں گے۔