: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

سپریم کورٹ کے احکامات کی غلط تشریح پر چیئرمین بلدیہ وسطی اور میونسپل کمشنر کیخلاف چیف جسٹس سپریم کورٹ کاروائی کریں۔ یونائیٹڈ آفیسرز فورم


appeal for supreme court karachi December 9, 2018 | 6:55 PM

انیسوں ستاسی سے 2018تک مختلف ادوار میں کے ایم سی اور ڈی ایم سی ایک ہی سروس کے حامل رہے ۔ ملازمین میونسپل سروس میں آتے ہیں ۔ لازمی سروس اور سول سرونٹ کے زمرے میں نہیں آتے۔ کے ایم سی اور چھ کی چھ ڈی ایم سیز سیمی گورنمنٹ اور خود مختار ادارے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی الف ب سے چیئرمین اور میونسپل کمشنر واقف نہیں
چھ ماہ کے بقایا جات جو اب تک تنخواہوں میں ادا نہیں کئے گئے انکی طلبی پر تبادلے کئے گئے۔ ملازمین کے پیسے ٹھیکیداروں کو دے دیئے گئے۔ نیب بلدیہ وسطی میں گورکھ دھندوں کا نوٹس لے ۔ عدنان آرائیں ۔ صدریونائیٹڈ آفیسرز فورم کراچی
اسامہ قادری کے سالے نعمان کو کے ایم سی سے تین گریڈ میں سے 16گریڈ بلدیہ وسطی سے دیا گیا۔ فہیم قائم خانی جو انیس قائم خانی کے کزن ہیں اسے بلدیہ شرقی سے لاکر5گریڈ سے 11گریڈ کیا گیا۔ گریڈ 18کی رضوانہ نذیر کو شرقی سے وسطی لایا گیا۔خالد ریاض کو کے ایم سی سے وسطی لایا گیا ۔اسلم خان کے ایم سی سے لایا گیا۔ کیا ان پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ صدر یو او ایف
وسیم سومرو جس کا ایجنٹ ہے وہ بات ڈھکی چھپی نہیں ۔ ریحان ہاشمی کرپشن چھپانے کے لئے وسیم سومرو کے طابع ہیں ۔ سارے کھیل کے پیچھے جعلی تعینات 18گریڈ کا لوکل گورنمنٹ کے جعلی آرڈر پر تعینات اسلم خان ہے۔ آئینی پیٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں ۔ فوری تبادلے منسوخ کئے جائیں ۔ بلدیہ وسطی کے تمام گورکھ دھندے سامنے لائیں گے۔یو او ایف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی:(نیوزآن لائن)یونائیٹڈ آفیسرز فورم پاکستان کے صدر کراچی عدنان آرائیں نے چیف جسٹس آف پاکستان ، نیب کراچی اور اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلدیہ وسطی میں اقربا پروری ، جعلسازیوں ، ملازمین کے فنڈز کی ٹھیکیداروں کی ادائیگی سمیت سپریم کورٹ کے احکامات کی غلط تشریح پر کئے جانے والے انتقامی تبادلوں پر چیئرمین بلدیہ وسطی اور میونسپل کمشنر کیخلاف کاروائی کریں۔ سالہا سال کے بعد متعصب افسر وسیم سومرو جنہیں انکی حرکات کی بنیاد پر بلدیہ کورنگی نے چارج نہیں دیا تھا۔ دوبارہ اپنی مخصوص ذہنیت اور سازش فارمولے کے تحت فنڈز کی خرد برد میں احتجاج کرنے والے افسران کو تبادلہ کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ عدنان آرائیں نے کہا کہ سے 2018تک مختلف ادوار میں کے ایم سی اور ڈی ایم سی ایک ہی سروس کے حامل رہے ۔ ملازمین میونسپل سروس میں آتے ہیں ۔ لازمی سروس اور سول سرونٹ کے زمرے میں نہیں آتے۔ کے ایم سی اور چھ کی چھ ڈی ایم سیز سیمی گورنمنٹ اور خود مختار ادارے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی الف ب سے چیئرمین اور میونسپل کمشنر واقف نہیں ۔چھ ماہ کے بقایا جات جو اب تک تنخواہوں میں ادا نہیں کئے گئے انکی طلبی پر تبادلے کئے گئے۔ ملازمین کے پیسے ٹھیکیداروں کو دے دیئے گئے۔ نیب بلدیہ وسطی میں گورکھ دھندوں کا نوٹس لے ۔ عدنان آرائیںنے مذید کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا حکم نامہ کی تشریح درست مان لی جائے تو پھر اسامہ قادری کے سالے نعمان کو کے ایم سی سے تین گریڈ میں سے 16گریڈ بلدیہ وسطی سے دیا گیا۔ فہیم قائم خانی جو انیس قائم خانی کے کزن ہیں اسے بلدیہ شرقی سے لاکر5گریڈ سے 11گریڈ کیا گیا۔ گریڈ 18کی رضوانہ نذیر کو شرقی سے وسطی لایا گیا۔خالد ریاض کو کے ایم سی سے وسطی لایا گیا ۔اسلم خان کے ایم سی سے لایا گیا۔ کیا ان پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا؟ اسی طرح محکمہ تعلیم ، صحت ، دیگر محکموں میں دوسری ڈی ایم سیز سے آنے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔ محکمہ تعلیم ، صحت ۔ لوکل ٹیکسز سے آنے والوں کو بھی کیا اسکے زمرے میں لاکر فارغ کردیا جائے گا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے احکامات کو مزاق اور غلط تشریح پر میونسپل کمشنر وسیم سو،مرو کو قانون کے کٹہرے میں لائیں ۔ یہ شخص عدالتوں سے وارننگ پر ہے ۔ سیم سومرو جس کا ایجنٹ ہے وہ بات ڈھکی چھپی نہیں ۔ ریحان ہاشمی کرپشن چھپانے کے لئے وسیم سومرو کے طابع ہیں ۔ سارے کھیل کے پیچھے جعلی تعینات 18گریڈ کا لوکل گورنمنٹ کے جعلی آرڈر پر تعینات اسلم خان ہے۔ آئینی پیٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں ۔ فوری تبادلے منسوخ کئے جائیں ۔ بلدیہ وسطی کے تمام گورکھ دھندے سامنے لائیں گے۔ سازشی ذہن اور کسی اور کے پے رول پر کام کرنے والا یہ افسر جوائننگ نہ ملنے پر نیب کے ساتھ ملکر بلدیہ کورنگی کے فنڈز سیز کراچکا ہے۔ عدنان آرائین نے کہا کہ ریحان ہاشمی فاروق ستار گروپ کی سیاست کرنے کے بجائے تبادلے منسوخ اور وسیم سومرو سے بلیک میل ہونا بند کریں ورنہ عدالت اور ایف آئی آر انکا مقدر ہوگی۔ نیب کو بھی خط لکھنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ افسران کو ترنوالہ نہ سمجھا جائے ۔ صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی بھی نوٹس لیں ۔