: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

سندھ کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ کا وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کو خط


petrolium November 3, 2019 | 6:06 PM

بجلی،گیس اور پیٹرولیم سیکٹر کے اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آئین کے مطابق صوبوں کو نمائندگی دی جائے۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 154واضح کرتا ہے کہ فیڈرل لیجسولیٹو لسٹ حصہ دوئم کے اندراج نمبر 2, 3اور4 کے تحت آنے والے موضوعات کی پالیسیوں اور ضوابط کی تشکیل
مشترکہ مفادات کی کونسل کا اختیار ہے۔ صوبائی وزیر امتیاز احمد شیخ
کراچی:(نیوزآن لائن) سندھ کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے وفاقی حکومت سے بجلی،گیس اور پیٹرولیم شعبوں کے لئے پالیسیاں بنانے والے اداروں اداروںآئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا،نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ,سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارنٹی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیز اور دیگر متعلقہ اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبوں کے نمائندوں کو شامل کرنے کے لئے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 154 واضح کرتا ھے کہ فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ حصہ دوئم کے اندراج نمبر 2 ,3 اور 4 کے تحت آنے والے موضوعات ( کی پالیسیوں اور ضوابط تشکیل دینا مشترکہ مفادات کی کونسل کا اختیار ہے۔اپنے خط میں وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کی جانب سے دیئے گئے واضح اختیار کے باوجود نہ تو بجلی کے شعبے میں آنے والے اداروں،کمپنیوں اور انسٹیٹیوشنز میں اور نہ ہی اوگراکے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبوں کی جانب سے مقرر یا نامزد کئے گئے نمائندے موجود ھیں اور نہ ھی یہ ادارے کسی بھی طور پر مشترکہ مفادات کی کونسل کی نگرانی اور کنٹرول میں ھیں۔چنانچہ وفاقی حکومت سے میری درخواست ھے کہ ان اداروں کو آئین کی روح کے مطابق مشترکہ مفادات کی کونسل کی نگرانی اور کنٹرول میں دیا جائے تاکہ مشترکہ مفادات کی کونسل ان اداروں کو ضوابط کے مطابق چلانے کے لئے پالیسی سازی کرسکے انہوں نے مزید کہا ھے کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی- گارنٹی ، ڈسٹری بیوشن کمپنیز اور دیگر متعلقہ انسٹیٹیوشنز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبوں کو نمائندگی دی جائے اور اوگرا میں صوبوں کی نمائندگی یقینی بنانے کے لئے اوگرا آرڈیننس 2002 میں ضروری ترامیم کی جائیں۔