: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

سندھ کے معروف سیاستدان مولابخش چانڈیو کی زندگی کی اہم تصنیف ان کی جیل ڈائری ذکر زندان جو کا دوسرا ایڈیشن


mola baksh chadio book.jpg August 7, 2016 | 7:02 PM

بجھا جو روزنِ زنداں
علی زاہد
سندھ کے معروف سیاستدان مولابخش چانڈیو کی زندگی کی اہم تصنیف ان کی جیل ڈائری ذکر زندان جو کا دوسرا ایڈیشن میرے ہاتھوں میں ہے۔ مولابخش چانڈیو جنہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک سیاسی کارکن کے طور پر کیا تھا، آج اپنی محنتوں، محبتوں، قربانیوں، دانائی، سیاسی سوجھ بوجھ اور اپنی اہمیت کے باعث ملک کی ایک اہم سیاسی شخصیت اور رہنما کے طور پر ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو کہ سیاسی ہونے کے باوجود ادبی بھی ہوں۔ یعنی ایسے لوگ جو کہ ہمہ وقت سیاست کے میدان پر بھی اپنی دھاک جمائے ہوئے ہوں اور اس کے ساتھ ادب کے صحراں میں بھی تخلیق کے گھوڑے دوڑانا جانتے ہوں۔ ایسے لوگوں کی تخلیقوں میں گو کہ ان کے اپنے نظریوں کی جھلکیاں ملتی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی تحریروں میں سماجی پہلو بھی اجاگر کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اپنے سماج میں ہونے والے ظلم اور جبر پر بھی ان کا قلم جنبش میں آتا ہے اور مظلوم لوگوں کی آہ و پکار کی گونج بھی ان کی تحریروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
سیاست سے وابستہ ایسے افراد کا تعلق جنگ و جدل کے ساتھ ساتھ تحاریک سے بھی ہوتا ہے، اور پھر سیاسی ہلچل اور مزاحمتی تحاریک ان کو قید و بند کی سیر بھی کروا دیتی ہیں۔ اور پھر جیل میں لکھا گیا ادب اپنے اندر بڑی گہرائی، اذیتیں اور سچائیاں لئے جب ہم تک پہنچتا ہے تو ہم اس میں بیان کردہ داستانوں کا تصور بھی کرتے ہیں تو ہماری روح کانپ جاتی ہے، ہم حیرت زدہ رہجاتے ہیں کہ ایسے ایسے مظالم کے پہاڑ بھی گرتے ہیں لوگوں پر۔
دنیا بھر کی ادبی تاریخ میں جیل کے ادب کی بہت زیادہ اہمیت رہی ہے۔ جیل کے اندر بیشمار اور بڑے شاہکار ادبی فن پارے لکھے گئے ہیں۔ سندھ کی سرزمین بھی جیل کے ادب کے حوالے سے مالامال رہی ہے۔ کیوں کہ اس خطے کے اندر سندھ وہ دیس رہا ہے جہاں ہر دور میں ظلم، جبر اور برائی کی طاقتوں کے خلاف مزاحمتیں ابھرتی رہی ہیں، اور پھر ان مزاحمتوں کو کچلنے کے لئے وقت کے آقا ہر وہ حربہ استعمال کرتے رہے ہیں جو کہ دنیا کے بڑے بڑے ڈکٹیٹر استعمال کر چکے۔ مزاحمتکاروں کو ماوراِ عدالت قتل کرنا، پھانسیاں دینا، کوڑے مارنا اور قید کرنا یہ سب حربے وہی حربے ہیں جن سے ان مزاحمتوں کو کچلنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ پھر جب وہ مزاحمتکار قید ہوجاتے ہیں، ان کو سزائیں سنائی جاتی ہیں اور اگر وہ لکھنے پڑھنے کے عمل سے بھی وابستہ ہوں تو پھر ان داستانوں کو خوبصورت انداز میں قلمبند کرکے اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان کی ان تحریروں میں سے کچھ تو وقت کا شاہکار بن جاتی ہیں، جن کا پھل قوم کی آنے والی نسلیں حاصل کرکے اپنے لئے بہتر مستقبل کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں آئے انقلابوں اور مزاحمتی تحاریک کی کامیابی میں ادب اور کتابوں کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، مگر میں یہاں پر ایک ہی مثال پیش کر کے اپنی اصل بات کی طرف بڑھوں گا:
امریکا میں ابراہم لنکن کے دور میں جب گوری چمڑی والے انگریز ، بچارے سیاہ فام لوگوں کے خون کے پیاسے تھے اور انہیں مار کر اس دھرتی سیان کا وجود ہی مٹا دینا چاہتے تھے، تب ان دنوں ہیرٹ اسٹو نامی ایک لڑکی جو کہ ایک گورے امریکی پادری کی بیٹی تھی، اس نے انکل ٹامس کیبن کے عنوان سے ایک ناول لکھا جس نے اس دور میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف بھڑکتی آگ پر پانی پھیرنے کا کام کیا۔ اس کے بعد ابراہم لنکن کے لئے نئی اور جدید امریکا کی بنیاد رکھنے میں آسانی ہوئی۔ سیاہ فام شہریوں کو برابر حقوق دلانے میں اس ناول کا اتنا اہم کردار رہا کہ اس نے لوگوں کے ذہن تبدیل کردئے جس پر ناول کے اس اہم اور تاریخی کردار پر ابراہم لنکن نے خود اس بات کا اعتراف کیا اور اس نے ہیرٹ اسٹو کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
پاکستان میں ضیا شاہی کے خلاف جب ایم آر ڈی نامی تحریک شروع ہوئی، تو اس تحریک کا گڑھ یا مرکز بھی سندھ تھا، جہاں سے گونجتی آوازوں نے ضیا شاہی کی نیندیں حرام کردیں تھیں۔ اسی دوران اس تحریک کو کچلنے کے لئے ضیا نے خود بھی ہٹلر اور مسولینی جیسے ڈکٹیٹرز کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وہی حربے استعمال کئے جو کہ انہوں نے اور ان جیسے دیگر ڈکٹیٹرز نے استعمال کئے تھے۔ بے گناہ اور نہتے لوگوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں، کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، ان کو سزائیں دیں گئیں، ان پر کوڑے برسائے گئے اور انہیں جیلوں میں قید کیا گیا۔ ایم آر ڈی تحریک نے سندھ میں کئی نام پیدا کئے، جن کی قربانیوں کے باعث جمہوریت کا سر بلند ہوا۔
مولابخش چانڈیو بھی انہی سیاسی کارکنان میں سے ایک خوبصورت ادیب و شاعر ہیں، جنہوں نے بھی اس تحریک میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، کوڑے کھائے اور جیل کی سختیاں بھی برداشت کیں۔ اپنے اس اہم دور کو انہوں نے ایک ذمہ دار ادیب کی مانند اپنی ڈائری میں قلمبند کیا، ایک ایک لمحہ کی تصوراتی تصویر بنائی، اور اس کو الفاظ کا روپ دیا۔ انہوں نے اپنے اور دیگر ساتھیوں کے چہروں پر ابھرتی ہوئی تکالیف کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ ان تکالیف کو اپنے اندر کی بٹھی میں پکا کر کاغذ پر لائے۔ انہوں نے جیل کے اندر گزارے ہر پل کی یاد، مشاہدات اور تجربات کو اپنی آنے والی نسلوں کے لئے بڑے سلیقے سے سمیٹا، ان کی اس مزدوری کا سفر تب جا کے منزلِ مقصود کو پہنچا جب 1999ع میں ان کی وہ تحریریں ان کی ڈائری کے اوراق سے نکل کر ذکر زندان جو نامی کتاب کی صورت ان کے قاری کے ہاتھوں تک پہنچیں۔
مولابخش چانڈیو تھے تو ایک سیاسی قیدی لیکن انہوں نے جیل میں کاٹا ہوا سارا عرصہ عام قیدیوں کے ساتھ بیرکوں میں گزارا۔ اس لئے ان کی جیل ڈائری میں نچلے طبقے اور مڈل کلاس کے اندر میں ان دنوں ابلتے آتش فشانوں کے عکس ملتے ہیں۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کے خاکے لکھے ہیں اور ان کو اپنے خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے ایسے لوگوں کے خاکے بھی لکھے ہیں جن کو اگر مولابخش چانڈیو کی آنکھوں کے راستے ان کا قلم نہیں چھوتا تو وہ لوگ تاریخ کے اوراق اور ہمارے ذہنوں کو چھوئے بغیر مٹی میں دفن ہوجاتے۔ انہوں نے ایسے گمنام لوگوں پر بھی لکھا ہے اور ان کو تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر کے امر کردیا ہے۔
ذکر زندان جو محظ ایک جیل ڈائری نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک سیاسی کارکن کی ذہنی اوسر کی داستان بھی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے دور کی مجموعی تبدیلیوں کی داستان بھیے، اس دور میں ابھری مزاحمتوں کے ذریعے ڈکٹیٹرشپ کی سوچ اور عمل کے محل کو ہلاکر اکھاڑ پھینکنے کے لئے جو حکمتِ عملیاں جوڑی گئیں ان کی داستانیں رقم کی گئی ہیں۔ میرے نزدیک اس کتاب کی نہ صرف ایک ادبی حیثیت ہے بلکہ سیاسی حوالوں سے بھی یہ کتاب ان نوجوانوں کے لئے مشعلِ راہ بن سکتی ہے جو نوجوان سیاست کے میدان میں چلنے کے خواہاں ہیں۔ یہ کتاب ہر اس نوجوان کو پڑھنی چاہئے جو کہ سیاست میں اپنا مستقبل دیکھ رہا ہے۔