: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں مل کر پاکستان کو تھیلے سیمیا سے محفوظ بنانے کی جدوجہد کریں


pic November 29, 2015 | 5:02 PM

تھیلے سیمیا فیڈریشن پاکستان کی دسویں سہ روزہ نیشنل تھیلے سیمیاکانفرنس اور ورکشاپ سے طبی ماہرین کا خطاب
کراچی:(نیوزآن لائن)جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے آغا نجم الدین آڈیٹوریم میںتھیلے سیمیا فیڈریشن پاکستان کی دسویںسہ روزہ نیشنل تھیلے سیمیاکانفرنس اور ورکشاپ تیسری روز بھی جاری رہی ،جس میں مختلف سائنٹیفک سیشنز ہوئے۔سائنٹیفک سیشن سے پروفیسر سلمان عادل،ڈاکٹر زاہد انصاری،ڈاکٹر طاہر شمسی،پروفیسر معین الدین،ڈاکٹر عاطفہ صہیب،پروفیسر محمد عرفان،ڈاکٹر بشریٰ معیزڈاکٹر فرخ،ڈاکٹر حسن عباس ظہیر،ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری،جنرل(ر) ڈاکٹر صہیب احمد،ڈاکٹر حسین جعفری،پروفیسر یاسمین راشد،پروفیسر جویریہ منان،ڈاکٹر بابر حسین،ڈاکٹر عادل اختر،ڈاکٹر شبنیز حسین،ڈاکٹر سعید احمد،ڈاکٹرمحمد عثمان،ڈاکٹر شاہتاز،ڈاکٹر شبنم بشیر،ڈاکٹر سرفرازحسین جعفری،پروفیسر ندیم صمد اور دیگر نے خطاب کیا۔
تین روز تک جاری رہنے والی کانفرنس میںتھیلے سیمیا اور امراض ِ خون کے قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے،جب کہ کانفرنس میں ملک بھر کے تھیلے سیمیا سینٹرز کے نمائندے اور تھیلے سیمیا کے بچے اور ان کے والدین بھی شریک ہوئے۔
طبی ماہرین نے تھیلے سیمیا کے علاج اور پری وینشن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ سے آٹھ ہزار تک تھیلے سیمیا کے مریض پیدا ہوتے ہیں اور اٹھانوے لاکھ کے لگ بھگ ایسے افراد موجود ہیں جو اس بیماری کو آگے بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ مرض جس تیزی سے پھیل رہا ہے،اس میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں مل کر پاکستان کو تھیلے سیمیا سے محفوظ بنانے کی جدوجہد کریں۔انہوں نے کہا کہ تھیلے سیمیا کے مریضوں میں ہر ماہ انتقالِ خون کی وجہ سے فولاد کا جمع ہونا خطرناک ہو سکتا ہے،جسم میں جمع فولاد کو نکالنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے،تھیلے سیمیا کے مریضوں کو دی جائے والی دوائوں کے بارے میں والدین کو مکمل آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے تھیلے سیمیا بچوں کے علاج کے سلسلے میں نامی دواپر اپنی تحقیق کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز میں تھیلے سیمیا کے ایک سو باون مریضوں میں سے اکتالیس فیصد کو خون چڑھانے کی ضرورت نہیں رہی، انتالیس فیصد مریضوں میں انتقالِ خون کی ضرورت نصف رہ گئی جبکہ بیس فیصد مریضوں میں اس دوا نے اثر نہیں کیا۔اس دوا کے استعمال کے بعد مریضوں میں خون نہ چڑھانے سے ان کی تلّی یا جگر کے حجم میں اضافہ بھی نہیں دیکھا گیا جبکہ چہرے کی بناوٹ میں بہتری، کھیل کود میں بچوں کی دلچسپی، بھوک اور وزن میں اضافہ دیکھا گیا۔انہوں نے شرکاء کا بتایا کہ اس دوا کے استعمال سے تھیلے سیمیا میجر کی ایک بچی کو خون لگنا بند ہوگیا تھا،اس بچی کی شادی بھی ہوئی اور اللہ نے اسے اولاد کی نعمت بھی دی۔