: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

حافظ نعیم الرحمن کی نیپرا کے اجلاس میں شرکت،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت


Nepra Ijlas Pic September 8, 2016 | 7:57 PM

نیپرا کے الیکٹرک کی ظلم و زیادتی سے کراچی کے عوام کو نجات دلائے،کے الیکٹرک نے قبلہ درست نہ کیا تو دھرنا دیں گے
مقامی ہوٹل میں نیپرا کے سہ ماہی اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
کراچی :( نیوزآن لائن)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں کراچی کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے نیپرا کے اجلاس میں شرکت کی۔کے الیکٹرک کے خلاف عوام کا مقدمہ پیش کیا اور بجلی مہنگی کرنے کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے حقائق پیش کیے۔ انہوں نے کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے حوالے سے عوامی احساسات و جذبات پر مبنی اپنا مؤقف پیش کیا ۔واضح رہے کہ نیپرا نے حافظ نعیم الرحمن کی کراچی کے نمائندے کی حیثیت سے کے الیکٹرک کے خلاف فریق بننے کی درخواست منظور کی تھی۔ اجلاس کے بعد حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیپرا کے الیکٹرک کی پشت پناہی کررہی ہے اسی وجہ سے کے الیکٹرک پرلگائے گئے جرمانے کے باوجود اور سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے باوجود عوامی مسائل حل نہیں کیے جارہے،انہوںنے کہا کہ 5ارب روپے کی سبسیڈی کے فوائد کو عوام تک نہیں پہنچایا گیا ، عوام پر بجلی کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے اورکراچی کے عوام کا مقدمہ لڑرہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ کے الیکٹرک بجلی زیادہ تر گیس سے بنا رہا ہے۔ وفاق کی طرف سے 650 میگا واٹ سستی بجلی ،پانی سے پیدا کرکے،کے الیکٹرک کو فراہم کی جاتی ہے،کے الیکٹر ک آئی پی پی ایس سے بھی سستی بجلی خرید کر صارفین کو مہنگے ریٹ پر بیچتا ہے۔ تین ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کے الیکٹرک کے 52 صارفین جنہوں نے اس کے کے خلاف اوور بلنگ کے حوالے سے نیپرا میں درخواستیں دی تھیںآج تک انکا فیصلہ نہیں سُنایا گیا جبکہ قانون کے مطابق نیپراسماعت کے 15 دن تک فیصلہ سُنانے کا پابند ہے۔ پرانا ملٹی ایئر ٹیرف جس کی معیاد30 جون2016ء کو ختم ہوگئی ہے ۔نئے ملٹی ائیر ٹیرف پر نیپرا ہیرنگ میں کیوں تاخیر کر رہی ہے۔ کے الیکٹرک کراچی کی صارفین سے 15 پیسے فی یونٹ اضافی ملازمین کے نام پر آج تک اربوں روپے وصول کر رہی ہے۔ جبکہ کے۔ الیکٹرک نے اپنے ملازمین کی چھانٹی کر کے تعداد17 سے 10ہزار کر دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کراچی کی عوام سے ڈبل بینک چارجز اور ناجائز میٹر رینٹ کے نام پر اربوں روپے کی وصولی کر رہا ہے۔نیپرا جو فیصلے صارفین کے حق میں کرتا ہے اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور جو فیصلے کے۔الیکٹرک کے حق میں ہوتے ہیں اس پر فوراً عملدرآمد ہوجاتاہے۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹر ک کی نجکاری کا بنیادی مقصد اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا اورعوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا تھالیکن کراچی کے عوام بجلی کی لوڈ شیڈنگ ،اوور بلنگ اور بوگس بلنگ سے تنگ آچکے ہیں۔ بجلی کے بریک ڈاؤن سے کراچی کوپانی کی فراہمی بھی معطل ہو جاتی ہے ۔اس طرح کراچی کے شہری شدید گرمی سے دوہرے عذاب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم نے سپریم کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کے مسائل حل نہیں کیے جارہے اور عوام کو ریلیف نہیں دی جارہی ۔انہوں نے کہا کہ اگر عوامی مسائل حل نہیں کیے گئے توہم دھرنا دیں گے اور کے الیکٹرک کے عذاب سے عوام کو چھٹکارا دلائیں گے ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے ،کے الیکٹرک صارفین حقوق کے انچارج عمران شاہد اور سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔