: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

جماعت اسلامی کے تحت سہراب گوٹھ تا مزار قائد”کراچی عوامی مارچ” /سراج الحق کا خطاب


Karachi March 2 copy June 30, 2019 | 8:59 PM

مارچ سے محمد حسین محنتی ، حافظ نعیم الرحمن و دیگر نے بھی خطاب کیا ہزاروں شرکاء نے کراچی کے حقوق کے لیے قرارداد منظور کی
کراچی: (نیوزآن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ عمران خان نے کہاتھا کہ میں قوم سے جھوٹ نہیں بولوں گا لیکن افسوس کہ آج عمران خان قوم سے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں ،عوام آج جن مشکلات کا شکار ہیں وہ حکمرانوں اور موجودہ حکومت کی نااہلی و نالائقی کی وجہ سے ہے ۔ہم پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ اپنے پلیٹ فارم سے تھرڈ آپشن کے طور پر عوام کے درمیان موجود رہیں گے ،موجودہ حکومت وینٹیلیٹرپر ہے اور اب اس حکومت سے عوام کو کوئی امید اور توقعات نہیں، جماعت اسلامی ملک میں آئی ایم ایف کی حکومت قبول اور تسلیم نہیں کرتی ، ہم آزاد اور خود مختار قوم ہیں ،آئی ایم ایف اورورلڈ بنک کی غلامی قبول نہیں کریں گے ۔ 12جولائی کو عوامی تحریک کے سلسلے میں ملتان میں عوامی مارچ ہوگا۔عوام ملک میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔یہ جدوجہد خون کے آخری قطرے اور آخری سانس تک جاری رہے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، آئی ایم ایف کی غلامی و ظالمانہ بجٹ اورصوبے اور ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی کو اس کے حقوق اور اختیارات کی فراہمی ، بجلی ، پانی ، ٹرانسپورٹ ، سڑکوں کی خستہ حالی اور صفائی ستھرائی سمیت شہریوں کو درپیش بے شمار مسائل کے حل کے لیے شروع کی گئی تحریک ”کراچی کوعزت دو ‘ حقوق دو ” کے سلسلے میں سہراب گوٹھ سے مزار قائد عظیم الشان ”کراچی عوامی مارچ ” کے ہزاروں شرکاء سے نیو ایم اے جناح رود پر اختتامی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مارچ سے امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ محمد حسین محنتی ،امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، امیر ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں کراچی کو اس کا جائز حق دینے اور مسائل کو فی الفور حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اہل کراچی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج جوق در جوق گھروں سے نکل کر عوامی مارچ میں شرکت کر کے نہ صرف کراچی کی بلکہ پورے ملک کے 22کروڑ عوام کی ترجمانی کی ۔آج ملک میں بے شمار مسائل ہیں ،بجلی ، پانی کا مسئلہ ہے اور اب تو سانس لینے کا بھی مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کا کوئی معاشی وژن نہیں ہے ،مرغی کے انڈے فروخت کر کے اور بکری کے بچے فروخت کر کے معیشت کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔حکمرانوں کی زبان ہی نہیں پھسلتی بلکہ ان کی سوچ ہی پھسل گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ غزوہ احد میں صحابہ کرام کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ ا س کی ایک مثال ہے ۔انہوں نے کہاکہ سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر ملک میں سینماؤں کی تعداد میں اضافے کی بات کرتا ہے ۔حکمران بتائیں کہ قوم کو تعلیم کی ضرورت ہے یا سینماؤں کی ؟ سینماؤں کی تعداد میں اضافہ کر کے عوام کے کون سے مسائل حل ہوں گے ۔حکمرانوں نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے بھی کچھ نہیں کیا وعدہ تو کیا تھا مگر عملا عوام کو بے وقوف بنایا ۔انہوں نے کہاکہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت سے دوستی نہیں ہوسکتی ،سودی معیشت کی موجودگی میں ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔موجودہ بجٹ میں بھی سود کو ادائیگی کے لیے اربوں روپے رکھے گئے ہیں ،سودی معیشت سے نجات کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ۔عوام کے مسائل صرف جماعت اسلامی اور اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام ہی سے حل ہوسکتے ہیں۔ آج کا مارچ آخری مارچ نہیں ،تحریک کا نقطۂ آغاز ہے۔ ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا نیب کی قیادت یا حکومت سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے ہم عوام کے مسائل کے حل کے لیے گھروں سے نکلے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے 50لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا لیکن 50لاکھ ٹینٹ بھی نہیں دیے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کو تو روزگار مل گیا ہے ان کے دو وزیر کابینہ میں ہے اور ایک اور وزیر کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اس کو وفاقی کابینہ میں کراچی کے مسائل کے لیے با ت کرنی چاہیئے تھی مگر وہ تو صرف اپنے لیے مزید وزارت کی بات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں K4کا مسئلہ برسوں سے حل نہیں ہورہا ہے اور عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔گرین لائن کا منصوبہ ادھورا پڑا ہے ۔بلدیاتی حکومت کے جانے کا وقت قریب ہے اور اب کراچی کو پانی دو کی باتیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی نااہلی و نالائقی نے عوام کے مسائل بڑھادیے ہیں۔گیسوں کی قیمتوں میں 200فیصد اضافہ کیا گیا ہے ،ان حکمرانوں کی نالائقی کی قیمت عوام اور مزدور کیوں ادا کریں ۔موجودہ حکومت نے پہلے تو آئی ایم ایف سے مذاکرات کرتی رہی لیکن پھر نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے اور اس کی مرضی سے بجٹ بنایا گیا ۔ڈیزل پیٹرول تو باہر سے آتا ہے لیکن حکمران بتائیںکہ انہوںنے چینی ، چاول سمیت دیگر اشیاء کیوں مہنگا کیا اسی لیے کہ یہ شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانا چاہتے تھے۔سپریم کورٹ چینی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے ۔ ہم جو چیز یں یہاں سے باہر بھیجتے تھے ان پر بھی ٹیکس لگادیا گیا ہے ۔