: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

جامعہ کراچی: ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ میں بدست ڈاکٹرعبدالقدیر خان حج وعمرہ کمپیوٹرائز قرعہ اندازی


Final for Publication KIBGE January 12, 2020 | 5:21 PM

پانچ سالہ پیپر پڑھ کر صرف پاس ہونے کے بجائے سخت محنت کریںاور زیادہ سے زیادہ مطالعے کو یقینی بنائیں۔ڈاکٹرعبدالقدیر خان
تعلیم وتحقیق کو فروغ دیئے بغیر ہم عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتے۔ہمیں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے تحقیق کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی
کراچی:(نیوزآن لائن)معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ کراچی کے لوگوں کی خواہش تھی کہ میں کراچی والوں کے لئے بھی کچھ کروں جس پر میں نے اپنی مادرعلمی جامعہ کراچی میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ قائم کیا اورمجھے خوشی ہے کہ آج انسٹی ٹیوٹ ہذا میں صرف کراچی کے نہیں بلکہ پورے ملک کے مختلف حصوں سے طلبہ یہاں پر حصول علم کے لئے آتے ہیں اور عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہورہے ہیں۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم پر توجہ مرکوزرکھیں اور محنت کریں کسی کی بھی محنت رائیگاں نہیں جاتی اور محنت کے ہمیشہ اچھے نتائج نکلتے ہیں،آپ لوگ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو اتنا اچھا انسٹی ٹیوٹ اور اساتذہ ملے ہیں اب یہاں پر ہونے والی تدریسی وتحقیقی سرگرمیوں سے استفادہ کرنا آپ کاکام ہے۔میں ہمیشہ تعلیم کے حصول اور فروغ کے لئے کوشاں رہتاہوں۔پانچ سالہ پیپر پڑھ کر صرف پاس ہونے کے بجائے سخت محنت کریںاور زیادہ سے زیادہ مطالعے کو یقینی بنائیںکیونکہ آپ جتنا زیادہ مطالعہ کریں گے اتناہی زیادہ نالج میں اضافہ ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے زیر اہتمام منعقدہ چارروزہ ففتھ ڈاکٹر اے کیوخان ونٹراسکول ورکشاپ بعنوان: ”ٹولز اینڈ تکنیکس اِن بائیوٹیکنالوجی” کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مزید کہا کہ یہاں سے ایم فل کرنے بعد بیرون ممالک جاکر پی ایچ ڈی اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ پوسٹ ڈاکٹر یٹ کریں اور تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھیں،ان دو تین سالوں میں خوب محنت کریں کیونکہ یہ محنت پھر زندگی بھر کام آئے گی اور اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آکر ملک کی خدمت کریں اور جو سیکھا ہے وہ دوسروں کو منتقل کریں ۔ آلات کا استعمال، ان پر عبوراوراصولوں کے بارے میں معلومات ہونی چاہیئے یہی کامیابی کا راستہ ہے۔تعلیم کا نعم البدل نہیں آپ کی تعلیم کبھی بیکار نہیں جائے گی،ہمت نہیں ہارنی چاہیئے ۔ہمارے خاندان میں میں پہلافردہوں جس نے باہر جاکر تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد میری بیٹیوں،بھتیجوں اور بھانجیوں نے باہر سے تعلیم حاصل کی ۔خاندان کا کوئی ایک بھی فرد تعلیم حاصل کرتاہے توپھر پورا خاندان اس طرف راغب ہوجاتاہے۔انہوں نے انسٹی ٹیوٹ ہذا کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں انسٹی ٹیوٹ ہذا ترقی کے منازل بہت تیزی سے طے کررہاہے جو لائق تحسین اور قابل تقلید ہے۔اس موقع پرشیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی،ڈاکٹر سرداریاسین ملک ،ڈاکٹر محمد اسماعیل ،پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنوای ،پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر،پروفیسر ڈاکٹر شمشاد زرینہ اور دیگر بھی موجودتھے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ تعلیم وتحقیق کو فروغ دیئے بغیر ہم عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتے۔ہمیں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے تحقیق کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔میں محسن پاکستان معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کابیحد مشکور ہوں کہ جنہوںنے جامعہ کراچی کوڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈجینیٹک انجینئرنگ کی صورت میں بہترین تحفہ دیا۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ نے اس چارروزہ ورکشاپ میں بہت کچھ سیکھا ہوگا ،لیکن سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہتاہے اور آپ نے جو کچھ سیکھا ہے اسے دوسروں کو سکھائیں اور معاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کریں۔آپ نوجوانوں کو ہی اس ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی سب سے اہم کردار ادا کرنا ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے مزیدکہا کہ اس وقت جامعہ کراچی میں 19 انسٹی ٹیوٹس اور ریسرچ سینٹر زموجودہیں جس میں ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈجینیٹک انجینئرنگ بھی شامل ہے جو اپنی اعلیٰ تدریسی وتحقیقی سرگرمیوں کی بدولت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔اس سال جامعہ کراچی میں 10 ہزار سے زائد طلباوطالبات کوداخلے دیئے گئے،طلباوطالبات کو بہترسے بہتر سہولیات فراہم کرنا میری اولین ترجیح ہے ۔اس سال ہم نے اسٹوڈنٹس ایڈمیشن فنڈ(ایس اے ایف) کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جو طلبہ مالی مشکلات کی وجہ سے داخلہ فیس دینے سے قاصر ہیں ان کی داخلہ فیس مذکورہ فنڈ سے فراہم کی جائے گی اور امسال ایسے کافی مستحق طلبہ کی فیس کی ادائیگی اس فنڈسے کردی گئی ہے۔مذکورہ انسٹی ٹیوٹ میں صرف کراچی کے نہیں بلکہ پورے پاکستان سے طلبہ حصول علم کے لئے آتے ہیں ،انسٹی ٹیوٹ ہذا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہدایات کے مطابق اورپروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر کی قیادت میں تیزی سے ترقی کے منازل طے کررہاہے۔ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو وہ تمام سہولیات اور تربیت فراہم کریں کہ دنیا بھر میں کہیں بھی وہ سر اُٹھاکرکھڑے ہوسکیں۔مذکورہ ادارہ صرف کراچی کا نہیں بلکہ پورے ملک سے یہاں پر طلبہ حصول علم کے لئے آتے ہیں،یہاں پر طلبہ کو ان کی قابلت اور میرٹ کے مطابق خواہ اس کا تعلق کہیں سے بھی ہو داخلہ دیا جاتاہے۔ڈائریکٹر نیشنل سینٹر فارپروٹیومکس جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شمشاد زرینہ نے کہا کہ وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے مشاہیر،اپنے اساتذہ،مفکرین اور اپنے محسنوں کو ہمیشہ یادرکھتی ہیں۔ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ آج ہمارے درمیان ڈاکٹر عبدالقدیر خان موجود ہیں اور یہ ادارہ بھی ان ہی کے نام سے وابستہ ہے ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا پاکستان پر جواحسان ہے وہ ہم مرتے دم تک نہیں بلاسکتے جب تک پاکستان قائم ہے جب تک یہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نیشنل سینٹر فارپروٹیومکس کو سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفرایچ زیدی کے نام سے موسوم کرنے پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی بیحد مشکورہوں۔تقریب کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفیکٹ تقسیم کئے گئے اوربدست ڈاکٹرعبدالقدیر خان حج وعمرہ کمپیوٹرائز قرعہ اندازی کی گئی جس میں حج کے لئے غلام فرید گبول اور عمرے کے لئے محمد حسین اور ڈاکٹرسطوت زہرہ کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔