: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

تحریک انصاف کے رہنما تاجر برادری کو حکومت سندھ کے خلاف اکسانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ جام اکرام اللہ دھاریجو


jam akram shah May 7, 2020 | 11:45 PM

کراچی:(نیوزآن لائن)صوبائی وزیر برائے صنعت وتجارت اور محکمہ امداد باہمی و انسداد بدعنوانی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سندھ کے رہنما عوام کے درمیان شہری و دیہی بنیادوں پر تفریق پیدا کرنے اور کراچی کے تاجروں کو حکومت سندھ کے خلاف اکسانے کی گھنانی سازش کررہے ہیں لیکن سندھ کے باشعور عوام ان کے مذموم مقاصد کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ تحریک انصاف سندھ کے رہنما سوائے پریس کانفرنس اور الزام تراشیوں کے دوسرا کوئی کام نہیں کررہے ہیں اور خاص کر کراچی سے حادثاتی طور پر منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین صرف حکومت سندھ پر تنقیدی بیانات دینے کے لئے رہ گئے ہیں۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے مزید کہا کہ کورونا وائرس ایک عالمی وبا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر کے ممالک میں لاک ڈان ہے۔ صرف کراچی میں لاک ڈان پر ان رہنماں کو اعتراض کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کو اندازہ ہے کہ لاک ڈان کے باعث عام آدمی، تاجر برادری اور صنعت کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن معیشت کو تو سہارا مل جائے گا لیکن انسانی جانوں کو واپس لانا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک انسانی جانوں کی اہمیت زیادہ ہے۔ صوبائی وزیر برائے صنعت وتجارت اور انسداد بدعنوانی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما انسانی جانوں پر سیاست نہ کریں اور کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت سندھ کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز کے تحت متعدد صنعتوں کو کام کرنے کی اجازت دی گء ہے ۔ اس کے علاوہ بتدریج مختلف تجارتی سرگرمیوں کو بھی بحال کیا جارہا ہے تاہم ہمیں ہر صورت کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے کورونا وائرس کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے لیکن تحریک انصاف سندھ کے رہنما پاکستان پیپلز پارٹی کی دشمنی میں اندھے ہوکر بلاوجہ تنقید میں مصروف ہیں اور اپنے مذموم مقاصد لئے عوام کے درمیان نفرتوں کو اجاگر کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں محبتوں اور ایثار کے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ عوام کے درمیان تفریق پیدا کی جائے۔