: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

بیورو کریٹ بھی کام کرسکتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ “افسران” صرف بدعنوانی اور اقربا پروری میں ملوث ہیں،کمشنر کراچی


WhatsApp Image 2019-10-20 at 10.53.11 AM October 21, 2019 | 12:01 AM

کراچی:(نیوزآن لائن)کراچی شہر کی آبیاری، خوبصورتی، ترقی،ثقافتی و تاریخی طور پر بحالی اورکھیلوں کی سرگرمیوں، لائبریریوں کے قیام و بحالی،گلیوں و فٹ پاتھوں پر نشاندہی و ناموں کی تنصیب،کچرے کی صفائی، پارکوں کی بحالی،ناجائز تجاوزات اور دیگر فلاحی منصوبوں و ٹھوس اقدامات کی روشنی میں کراچی شہر کو ایک مرتبہ پھر روشنیوں کا شہر اور امن کا گہوارہ بنانے کی مخلص کاوشوں اورمحنت کا ثمر افتخار شالوانی کی شخصیت کا ہی مظہر ہے۔ ان پرخیالات کا ا ظھار کر اچی شہر کی معزز ، سماجی ، زندگی کے مخلتف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے پاکستان ایکسیلینس کلب کی جانب سے مقامی ہوٹل میں سینئر بیورو کریٹ گریڈ 21 کے کمشنر کراچی افتخار شالوانی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب حسن کارکردگی میں انکی خدمات و کیریئر کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے افتخار شالوانی کی شہر میں بحیثیت کمشنرکراچی میں تعینیاتی کے دوران کئی منصوبوں، کاوشوں اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افتخار شالوانی نے یہ ثابت کیاہے کہ بیورو کریٹ بھی کام کرسکتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ “افسران” صرف بدعنوانی اور اقربا پروری میں ملوث ہیں اگر کوئی چاہے تو افتخار شالوانی جیسا بن کر بھی عوامی خدمات میں یقین رکھتے ہوئے شہر، صوبہ اور ملک کی صحیح معنوں میں خدمت اور کام کرکے اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن اور تابندہ کرسکتے ہیں ، افتخار شالوانی کی تربیت میں انکے اساتذہ اوروالدین کا بھت بڑا عمل دخل لگتا ہے کی انہوں نے انکی ایسی تربیت اورتعلیم فراہم کی کہ وہ عوامی خدمت کا جذبہ اپنے ذہن اور دماغ میں لے کر سول سروس میں داخل ہوئے اور اپنا مثبت کردار ادا کیا اور کرتے رہیں گے۔ مقررین نے مزیدکہا کہ کراچی شہر کی بھتری اور خدمت سر وائٹل بارٹر کے دور کے بعد افتخار شالوانی کے دور میں ہوررہی ہے اور انکا نام بھی انکی طرح تاریخ میں یقیننا سنہرے حروف میں لکھا جائیگا ور انکے بغیر کراچی شہر کی تاریخ ادہوری ا ور نامکمل ہوگی۔کراچی میں سر واتل بارٹر نے کئی ادارے دیئے اور چھوڑے اسی طرح افتخار شالوانی بھی کچھ ایس کام کرجائین جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔کمشنر کراچی افتخار شالوانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وہ شہر کی ترقی میں جس طرح محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں تو لگتاہے کہ وہ اس کو مکمل کرکے چھوڑینگے اورمشکل سے مشکل کام وٹاسک پورے کئے اور عملدرآمد بھی کرائے۔شہر کی مزید ترقی و خوبصورتی اورروشنیون کا شہر بنائے رکھنے کیلیے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی کاوش اور لگن محنت اور تندہی سے جاری رکھیں گے اور ہم تن گوش ہوکر تمام اسٹیک ہولدرز اور متعلقہ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اداروں کو ساتھ لے کر شہر کی ترقی ، خوبصورتی اور اس کو پرانی حیثیت میں بحال کرنے میں اپنا مزید فعال کردار ادا کرینگے۔قبل اذیں کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے اپنی زندگی، تعلیم و تربیت، سروس کیریئر اور پیشہ ورانہ امور کے بارے میں تفصیلی طور پر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خوش نصیب ہے کہ اسکی تعلہم و تربیت میں اساتذہ اور والدین خصوصا والد ڈاکٹر پیر محمد شالوانی کا بہت بڑا عمل دخل ہے کیونکہ وہ لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ہمیں سینٹ بونا وینچر جیسے اس وقت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں اور ان پر تین ماہی کی فیس صرف 36 روپے تھی اور اس میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلون کی سرگرمیان، لائبریری جانے کی عادت اور وہان پر کتاب پڑھنے اور پہر اسکے بارے میں پوچھ گچھ نے ہمیں فادر ٹارٹ وسر گبریل اور سر بشی جیست اساتذہ کی رھنمائی ملی جو ہماری عام روٹین کی زندگی کو یکسر تبدیل کرکے ایک اہم موڑ دیا، جس کا اثر ابھی تک ہے۔ انہون نے مزید بتایا کہ اس نے اسکول کے بعد پبلک اسکول اور پہر میڈیکل میں داخلہ لیا لیکن مزاج اور روایتا سی ایس ایس کے رجحان نے سول سروس کی طرف راغب کیا اور اسلام آباد مین جاکر بس گئے تھے نئے دوست بڑی مشکل سے بنتے ہیں وہان پر نئے دوست بنے، نیاماحول ملا، آء سی یو ٹی لاہور میں لگا اور پھر ماڈل ٹاؤن، میانوالی اور پھر 17 سے 19 گریڈ تک بلوچستان مین 4 سال تک خدمات انجام دیں، پھر شعبہ بدلنے سے فارین سروس یں بھی خدمات انجام دیں چاھتا تو عالمی ہینک میں اپناسروس بناتا لیکن پھر سے شعبہ بدلنے کا دل نہیں مانا اور واپس سول سروس مین آیا تو سندھ میں تبادلہ ہوا تو پہلے چیف اکنامسٹ ا ور پہر کئی مقامات پر تعینیات رہا اچانک ایک دن سیکریٹری قانون اور کمشنر کراچی بنا اور اس میں سیاسی لیڈرشپ کا بھی ممنون ہون کہ انہوں نے کوئی بھی پریشر و دباؤ نہیں دیا اور اپنی مرضی سے عوامی خدمات کا سلسلسہ جاری رکھے ہوا ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوران غیر ملک ارجنتینا ور جاپان میں بچوں کی اچھی تعلیم اور تربیت کے مواقع ملے۔اور وہاں پر مختلف کورس اور تربیتی مراحل بھی طئی کئے اور حتیٰ کہ اپنے جونیئر کے ساتھ کورس کیا تھا کیونکہ بیرون ملک اور عالمی بنک میں کام کرنے کی وجہ سے ترقی دیر سے ملی۔ کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ کمشنری کے دوران کئی مشکل مرحلے آئے اور ان پر پور اترنے کی کوشش کرتے ہوئے ایمپریس مارکیٹ جیسا اہم تاسک پورا کیا اور منفی تاثر ختم کرنے کیلیے شہر میں بلا تعصب اور مت بھید کے ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھا عوام کی تکالیف کا ازالہ کرنے کی چھوٹی کاوش کی صرف غریبوں کے خلاف نہیں بلک بلا تفریق ہر کسی کی خلاف عوامی مفاد میں کوئی بھی کام کیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح شہر میں پرانی رونقوں کو بحال کرنے اور اسکو اصلی حالت میں لانے کیلے بھی ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے میراتھن ریس، پی ایس ایل،مختلف ٹورنامنٹس، پبلک لائبریریوں، پارکس،گلیون ، فٹ پاتھون کی خوبصورتی و بحالی اور مصنوعی پھولوں کے باسکٹس کی تنصیب،لکڑیوں کے کام کو فروغ دینا جیسے جاپان اور دیگر ممالک میں بھی لکڑی کے کام کو فروغ دیا جاتا ہے، کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ شہر کی مزید ترقی اور خوبصورتی تمام سول سوسائیٹی، میڈیا، تاجر برادری دیگر کے تعاون اور ایک ٹیم کے طور پر کام کرنے سے ہی ممکن اور یقینی ہے۔ تقریب حسن کارکردگی سے پاکستان ایکسیلنس کے پیٹرن اقبال قریشی چیئرمین حمید بھٹو۔ ، مارکو کے سفیر اور معروف تاجر مرزا اختیار بیگ، ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس غلام سرور جمالی۔ خالد چاچڑ سیکریٹری خصوصی تعلیم،حکومت سندھ اعجاز مھیسر سیکریٹری و لائیواسٹاک، شمس الدین سومرو سیکریٹری صوبائی محتسب۔صدر پریس کلب کراچی امتیاز خان فاران، بزنس مین سید عبید احمد شاھ۔ اینٹی کرپشن سندھ کے ڈپٹی ڈائریکر میر نادر ابڑو، حسین مارکیٹنگ کے چیئرمین بابر عباسی، سابقہ وائیس چانسلر ڈاکٹر اکبر حیدر سومرو، شیام سندر آڈواٹی صدر پاکستان مسلم لیگ منارٹی ونگ سندھ کے صدر ، عرفان قریشی، بزنس مین خالد شمسی ، ڈاکٹر زاھد انصاری، سابقہ جیل سپریٹنڈنٹ سید شاکر شاھ۔ سابقہ ایم این اے رشید گوڈیل سابقہ ایم پی اے وقار شاھ۔ بزنس مین شعیب خان۔ نورین خان۔مسرت شاھہ۔احسم معنتی۔ ابقہ جج شاھد حسین سومرو۔ ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر۔ نیشنل بینک کے وائیس پریزیڈنٹ قاضی شھاب۔ سید ابن حسن۔ سعودی عرب کے بزنس مین عبدالقادر جتوئی۔ اختر آرئین۔ سینئر تجزینگار عبدالحمید اسلم حسین تھیبو۔ ندیم مولوی۔ گلوکار سلیم جاوید۔ سابقہ ڈی آئی جی اشرف علی نظامانی۔ سید امتیاز شاھہ۔ رحمت لاشاری۔ بخشن مھرانوی۔ اسحاق کھڑو۔ پی پی پ میڈیا سیل الیکٹرانک کے رکن نعیم اعوان۔ ای او آئی بی آفیسرز ایسیوسیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری چوھدری وقاص۔ اعجاز کوکر۔ اسٹارمارکیٹنگ کے ایم ڈی محمود احمد خان المصطفی ویلفیئر ٹرسٹ کے رہنما معین خان۔ مظہر رضوی۔ حزب اللہ میمن اور دیگر نے بھی کمشنر افتخار شالوانی کی پیشہ ورانہ خدمات اور شہر کی ترقی و خوبصورتی کیلیے کئی گئی کاوشوں کو بیحد سراہا اور کہاکہ انہیں شہر میں اسپتال کے طبی فضلہ کو مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کیلیے مربوط نظام اور ملک کی ترقی ، بقا، سالمتی اور استحکام و استحصال سے پاک اقدامات کیلئے شہر میں اپنی کوششیں جاری رکھنے،کچرہ کس طرح صاف ہوگا کے سلسلے میں مربوچ پروپوزل پر کام کرنے، کارپوریٹ اداروں اور کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت شہر کی ترقی کے لیے انہیں شامل کرنے، تعلیمی صورتحال کو بھتر بنانے ، پارکنگ و ٹریفک اور ایکسیدنٹ کے مسائل کو حل کرنے، قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے بھکاریوں کی بھتات کو ختم تو نہ کرسکیں گے لیکن امید ہے کہ کم کر نے کیلیے کام کرنے، پولیو اور دیگر موذی بیماریوں کے خاتمہ کیلئے خدمات انجام دینے کیلئے دماغ میں صاف راستہ کی سوچ جیسی تجاویز ا ور مشوروں کی روشنی میں کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی شخصیت نہ صرف نام سے افتخار بلکہ شہر کیلئے وہ ایک باعث افتخارہیں اور کسی بھی سیاسی پارٹی نے شہر کی مالکی نہ کی بلکہ افتخار شالوانی نے حقیقی معنوں میں شہر کی بھرپور طور پر مالکی کرکے اپنا کردارا ور حق ادا کردیا ہے۔ بعد میں تقریب میں کمشنر کراچی افخار شالوانی کو پاکساتن ایکسیلنس کلب کی جانب سے حسن کارکردگی کا پاکستان ایکسلینس آفیسرز ایوارڈ 2019 دیا گیا اور اجرک کاتحفہ بہ پیش کیاگیا اور ایکسلینس کلب ممبر سیوھن ڈولپمیٹ اتھارٹی کے ڈائرکٹر لینڈ رحمت لاشاری۔ سندھ اسیمبلی کے ڈائریکٹر ریسرچ اور سینئر کمپیئر بخشن مھرانوی اور ٹیلویزن کے ڈائریکٹر جاوید اختر ناز کے سالگرہ کے کیک بھی اس موقع پر کاٹے گئے اور اگست 2019 مین بھترین ورکر کے سروسزکی طور پر شہریار ملاح اور مریم کوثرکو شیلڈ بہ دی گئی۔