: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

بین الاقوامی فلائیٹس آپریشن کی دوبارہ منسوخی ایک اچھا قدم ہے۔ سید ناصر حسین شاہ


internationals fligts suspend March 29, 2020 | 8:31 PM

کراچی: (نیوزآن لائن)سندھ کے وزیر اطلاعات ، بلدیات، جنگلات وجنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں بین الاقوامی فلائیٹس آپریشن کی دوبارہ منسوخی ایک اچھا قدم ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومتیں تاریخ کے مشکل ترین حالات میں مشکل ترین تاریخی فیصلے کر رہی ہے۔لہٰذا اس قسم کا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ فلائٹ آپریشن کی بحالی یا اس قسم کا کوئی بھی دوسرا فیصلہ جس سے صوبے متاثر ہوسکتے ہوں لینے سے پہلے وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مکمل مشاورت کرے گی۔اس سے پہلے جب وفاقی حکومت نے 5 اپریل سے بین الاقوامی فلائٹس کی بحالی کا فیصلہ کیا تھا۔تو صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے اپنے ٹوئٹ میں بین الاقوامی فلائٹس آپریشن کی بحالی کے وفاقی حکومت کے فیصلے کو انتہائی غیر دانشمندانہ قرار دیا تھا۔سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ فلائٹس آپریشن کی بندش کا فیصلہ پہلے ہی بہت تاخیر سے کیا گیا تھا۔اب اس کی بحالی مسائل کوجنم دے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو کورونا وائرس کے خلاف ایک مشکل جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ایسا کوئی بھی فیصلہ ان کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے ۔صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چونکہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ پورے ملک میں ہو رہا ہے لہٰذا ہمیں صحت کے معاملے میں احتیاط برتنے سے متعلق ایک مشترکہ ہدایت نامہ جاری کرنا چاہیے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یکساں ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔تمام حکومتوں کو مل کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کاکہنا تھا کہ اکٹھے ہم نہ صرف کورونا وائرس کے پھیلاؤکے خلاف بہت مؤثر اقدامات اٹھاسکتے ہیں۔بلکہ اس طرح سے لئے گئے فیصلے زیادہ اثر انگیز ثابت ہوں گے اور لوگ اس پر عمل بھی کریں گے ۔
دریں اثناء سید ناصر حسین شاہ نے کورونا وائرس کے حوالے سے بنائی گئی ٹاسک فورس کی 32 ویں میٹنگ کے فیصلوں کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے میٹنگ کے دوران یہ ہدایات جاری کی ہیں کے سب سے پہلے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے خاندانوں تک راشن اور نقد رقم پہچانے کا فوری بندوبست کیا جائے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت سندھ ایک ایسا طریقہ کار وضع کر رہی ہے جس کے ذریعے با آسانی ان لوگوں کے خاندان تک پہنچاجاسکے جو کہ روزانہ اجرت پر کام کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت نے ایک ‘ ریلیف انشیئٹو ایپ ‘ بھی بنالی گئی ہے جس کے ذریعے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کو شناختی کارڈ کے نمبروں کے ذریعے رجسٹرڈ کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ اور وزیر اعلیٰ کی ہر طرح سے یہ کوشش ہے کہ کسی طرح اصل حقدار خاندانوں کی مدد کی جائے اور وقت پر کی جائے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں اپنے لوگوں کو بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے تمام شراکتداروں جن میں کہ فلاحی اداروں کے لوگ بھی شامل ہیں سے مکمل طور پر رابطے میں ہیں۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام فلاحی ادارے جن میں کہ سیلانی ویلفیئر آرگنائزیشن ، ایدھی ، چھیپا اور دیگر ادارے شامل ہیں۔سندھ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیںاور انہوں نے ٹاسک فورس کی میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلاََ آگاہی بھی دی کہ وہ اب تک کتنے گھرانوں میں مفت راشن تقسیم کر چکے ہیں۔سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی یہ واضح ہدایات ہیں کہ کوئی ایک بھی مستحق امداد سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مستحقین کے معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔حکومت سندھ کی جانب سے لئے گئے سخت فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کہ سندھ حکومت نے جو بھی سخت فیصلے کئے ہیں وہ عوام کی جانوں کے تحفظ کے لئے کئے ہیں۔سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ مساجد میں باجماعت نماز کی پابندی ایک انتہائی تکلیف دہ فیصلہ تھا مگر اب اس کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی اور چارہ نہیں بچا تھا ۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نماز باجماعت اور نماز جمعہ کے اجتماع پر پابندی لگانے سے پہلے تمام علماء کرام کو اعتماد میں لیا گیا تھا بلکہ ان سے اس بارے میں تفصیلی مشاورت کی گئی تھی ان کی رضا مندی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔سید ناصر حسین شاہ نے اس کٹھن وقت میں حکومت کا ساتھ دینے پر تمام علماء کرا م کا شکریہ بھی ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اعلان کردہ نئے اوقات کار پر بھی سختی سے عمل کروایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ روزانہ کی بنیاد پر ٹاسک فورس کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے پہلے ہی احکامات جاری کر رکھے ہیں کہ لوگ بلاوجہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیںاور اس سلسلے میں قانون نافذکرنے والے اداروں کو واضح ہدایت جاری کی جا چکی ہے۔سید ناصر حسین شاہ نے یہ بھی بتایا کہ لاک ڈاؤن کے پہلے دن سے تمام ضروری سروس سے منسلک افراد کو استشنیٰ قراردیا جا چکا ہے تاکہ کھانے پینے کے علاوہ دیگر ضروری اشیاء جن میں پانی اور اجناس کی دیگر اشیاء شامل ہیں کی سپلائی میں کوئی رکاوٹ پید انہ ہو۔صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت سندھ نے پاکستان آرمی کی مدد سے تقریباََ صوبے کے تمام اضلاع میںقرنطینہ قائم کردیئے ہیں جس میں کراچی ایکسپو سینٹر میں ہزار بیڈ سے زیادہ کی گنجائش والا ہسپتال بھی شامل ہے۔