: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

بھارتی حکمران بھول جائیں کہ وہ کشمیریوں کو بنوکِ بندوق اور بزورِ شمشیر زیر اور زِچ کرسکتے ہیں۔ محمد اعظم انقلابی


sirinagar September 12, 2016 | 5:52 PM

سرینگر:(نیوزآن لائن) جموںکشمیر محاذ آزادی کے سرپرست محمد اعظم انقلابی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ استعماری مزاج کے حامل بھارتی حکمران بھول جائیں کہ وہ کشمیریوں کو بنوکِ بندوق اور بزورِ شمشیر زیر اور زِچ کرسکتے ہیں۔ تمہیں محاذِ رائے شماری کی مزاحمتی تحریک راس نہیں آئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر کے مجاہد دانشور بطلِ حریت مقبول بٹ نے 1966ء میں عسکری مزاحمت کا فلسفہ پیش کرتے ہوئے کشمیر کے انقلاب پسند نوجوانوں کو مزاحمت کی نئی اداؤں کے ساتھ صف بندی کرنے کی دعوت دی۔
بھارتی حکمرانوں کو میرواعظ مولوی فاروق، عبد الغنی لون صاحب، ڈاکٹر قاضی نثار، مقبول ملک، جلیل اندرابی، ایڈووکیٹ حسام الدین جیسے ہر دلعزیز کشمیری مزاحمتی رہنماؤں کی سیاست بھی راس نہیں آئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اِس قوم میں اشفاق مجید وانی، مقبول الٰہی اور برہان وانی جیسے اولوالعزم کمانڈر پیدا ہوئے جنہوں نے غالب قوم کے ظلم وعدوان اور جبرواستبداد کے خلاف موثر مُزاحمت کے گُر سکھائے۔
آج پوری قوم پچھلے دو مہینوں سے سڑکوں پر پُرامن مُزاحمتی اجتماعات میں داستانِ مظلومیت سنا رہی ہے۔ میں کشمیر کے علمائے دین، اساتذہ اور وکلا حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اِن پُر امن اجتماعات میں اپنی فصیح اور بلیغ تقاریر میں بیرونی دنیا خاص کر امریکہ کو بتائیں کہ کشمیر ایک نیوکلیئر فلیش پوئنٹ ہے، پورای کشمیر بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے پُرامن تصفیہ کیلئے ضروری اقدامات کریں۔
ہمیں معلوم نہیں کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی صاحب دہلی کا دورہ کرکے کیا گُل افشائی کریں گے۔ اُنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ افغانستان کے 70یا 80فیصدی ولاقے پر طالبان مجاہدین کا کنٹرول ہے۔ وہ نئی دہلی میں ایسی کوئی بات نہ کہیں جس سے اُن کے لئے کابل اور اسلام آباد میں مشکلات پیدا ہوں۔ پچھلے 37سال کی مُزاحمت کے دوران افغانستان اور پاکستان حالات کی مجبوری کی وجہ سے اتنے قریب آئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم بن گئے ہیں۔ میں افغانستان اور پاکستان کے عُلمائے دین اور دانشوروں سے پُر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ جگہ جگہ علمی کانفرنسوں کا انعقاد کریں اور پوری دنیا کو بتائیں کہ ایشیا میں امن و سکون کا ماحول پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان سے بیرونی فوجوں کا انخلا ہوجائے۔