: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

افلاطون سے لے کر آج تک کے فلاسفرز نے تعلیم کے ذریعے فرد کی سوچ وفکر کو اس کے عمل پر طاری اور جاری کرنے کی کوشش کی ہے۔ڈاکٹر عبدالحالق ابویہ


karachi unversity jpg April 21, 2019 | 7:55 PM

تعلیمی نفسیات کا مطلب طلبہ کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان کے نشوونما کے مدارج کو مدنظررکھتے ہوئے ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا ہے جو انہیں چیزوں کا علمی تجربہ ہونے کے ساتھ انہیں عمل پر ابھاریں۔ڈاکٹر انیلا مختار
فلسفہ اور تعلیم ایک ہی سکے کے دورخ ہیں اور نفسیات تعلیم کا عملی پہلوہے۔ڈاکٹرمعروف بن رئوف
کراچی:(نیوزآن لائن )جامعہ کراچی کے شعبہ فلسفہ کے ڈاکٹر عبدالحالق ابویہ نے کہا کہ طلبہ کو چاہیئے کہ وہ اپنا تھیوریٹیکل فریم ورک تخلیق کریں اور یہی فلسفہ تعلیم کا مقصد ہے۔تعلیم کے مقاصد میں ایک کردار کی تبدیلی ،سچائی کی تلاش اور تحقیق کی جستجوہے جو کہ ہمارا نظام تعلیم پیدا کرنا چاہتاہے۔افلاطون سے لے کر آج تک کے فلاسفرز نے تعلیم کے ذریعے فرد کی سوچ وفکر کو اس کے عمل پر طاری اور جاری کرنے کی کوشش کی ہے۔فلسفہ فرد کو سوچھنے پر مجبور کرتاہے اور سوچ اسے سوال کرنے پر آمادہ کرتاہے۔اس لئے اساتذہ کو چاہیئے کہ وہ طلبہ میں سوالات پیداکریں اور ان کے جوابات سے ان کی علمی پیاس کو بجھائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر معروف بن رئوف کی زیر نگرانی کلیہ فنون وسماجی علوم کے آڈیوویژول سینٹر میں منعقد سیمینار بعنوان: ”تعلیم: فلسفیانہ عملدرآمد اور نفسیات سے تعلق” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انیلا مختار نے کہا کہ تعلیمی عمل میں نفسیات بالخصوص پانچ چیزوں کی بات کرتی ہے،طالبعلم کی نفسیات ،اُستاد کی نفسیات،سیکھنے کا ماحول،سیکھنے کا طریقہ اور حاصل شدہ تجربات۔تعلیمی نفسیات کا مطلب طلبہ کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان کے نشوونما کے مدارج کو مدنظررکھتے ہوئے ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا ہے جو انہیں چیزوں کا علمی تجربہ ہونے کے ساتھ انہیں عمل پر ابھاریں۔جامعہ کراچی کے شعبہ تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر معروف بن رئوف نے کہا کہ تعلیم ایک سماجی عمل ہے جس کا ہرشعبہ زندگی سے گہرا تعلق ہے۔فلسفہ اور تعلیم ایک ہی سکے کے دورخ ہیں اور نفسیات تعلیم کا عملی پہلوہے۔تعلیم / علم کو کمرہ جماعت سے نکال کرمعاشرے میں پھیلانا وقت کی اہم ضرورت ہے،تعلیمی عمل صرف کنٹینٹ/ مواد کو یاد کرنے کا نہیں بلکہ اس کے استعمال سے اپنے اور معاشرے کے مسائل کو حل کرنا چاہیئے۔ہمارے امتحانات ہمیں پاس اور فیل کا تصوردیتے ہیں حالانکہ امتحان میں یا توجیتنا ہوتاہے یا سیکھنا ہوتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: دفترمشیر امور طلبہ کے زیر اہتمام ورکشاپ بعنوان: ”آپ اکیلے نہیں ہیں”
کراچی:(نیوزآن لائن )جامعہ کراچی کے دفتر مشیر امورطلبہ کی سوک اینڈ سوشل ریسپانسیبلیٹی سوسائٹی کے زیر اہتمام اور فیملی ایجوکیشن اینڈ سپورٹ فائونڈیشن کے تعاون سے جامعہ کراچی میں منعقدہ ورکشاپ بعنوان: ”آپ اکیلے نہیں ہیں” سے خطاب کرتے ہوئے فیملی ایجوکیشن اینڈ سپورٹ فائونڈیشن کی ڈائریکٹر ومعروف سائیکوتھراپسٹ اور کائونسلر انیتا فلورین نے اپنے خطاب میں مختلف طرح کے ٹراماز کو ہینڈل کرنے کے لئے مختلف سرگرمیاں کرائیں جن سے طلبہ پر یہ واضح ہوا کہ ٹراماز سے کیسے ریکور کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہراسمنٹ سے کیسے بچاجاسکتاہے،اگر بروقت اس پر توجہ نہ دی جائے تو یہ آپ کی زندگی کو کیسے متاثر کرتاہے۔
اس موقع پر انہوں نے طلباوطالبات سے ذہنی سکون کی مختلف سرگرمیاں کروائیں جس میں طلبہ کی بڑی تعداد نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس طرح کی ورکشاپس کے تواترسے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔