: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

  • ایم کیوایم نے ہرفورم پر سندھ کی یونٹی،یکجہتی اورافہام وتفہیم کی بات کی ہے۔ندیم نصرت،ڈپٹی کنوینرایم کیوایم

    April 12, 2014 | 7:27 PM
    mqm

    سندھ اتحادکے دشمن بعض عناصرعوام کوگمراہ کرنے کیلئے یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے
    ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم کاکوئی مطالبہ کیاہو۔ندیم نصرت
    جب تک سندھ سے غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کاخاتمہ نہیں کیاجاتا توجس 40 اور60فیصدکوٹہ کی تقسیم کی گئی
    ہے اس پرمنصفانہ طور پر عملدرآمد کرایاجائے تاکہ سندھ کے کسی بھی طبقہ میں احساس محرومی پیدانہ ہو
    انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں سندھی طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے گروپ سے گفتگو
    سندھی طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے وفدکی ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے پاکستان خصوصاًسندھ
    کے حوالے سے مختلف امورپر تفصیلی بات چیت
    ملاقات میں ڈپٹی کنوینر ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی، بابرغوری، عامرخان اوردیگر اراکین رابطہ کمیٹی شریک تھے
    لندن:(نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینر ندیم نصرت نے کہاہے کہ ایم کیوایم نے ہرفورم پر سندھ کی یونٹی،یکجہتی اور افہام وتفہیم کی بات کی ہے لیکن سندھ اتحادکے دشمن بعض عناصر ایم کیوایم کی بعض تقاریراورتحریروں کوسیاق وسباق سے ہٹ کرعوام کو گمراہ کرنے کیلئے یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم کاکوئی مطالبہ کیاہو۔انہوں نے یہ بات سندھی طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ سے گفتگوکرتے ہوئے کہی جس نے آج ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں رابطہ کمیٹی سے ملاقات کی۔ملاقات میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی، بابرغوری اور عامرخان سمیت دیگر اراکین رابطہ کمیٹی شریک تھے۔ملاقات کے دوران طلبہ اورورکنگ کلاس کے گروپ نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے پاکستان خصوصاًسندھ کے حوالے سے مختلف امورپر تفصیلی بات چیت کی۔ وفد کی جانب سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہ ایم کیوایم پر یہ الزام ہے کہ اس نے سندھ کی تقسیم کانعرہ لگایا، رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینر ندیم نصرت نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم نے ہرفورم پر سندھ کی یونٹی،یکجہتی اور افہام وتفہیم کی بات کی ہے لیکن سندھ اتحادکے دشمن بعض عناصر ایم کیوایم کی بعض تقاریراورتحریروں کوسیاق وسباق سے ہٹ کرعوام کو گمراہ کرنے کیلئے یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم کاکوئی مطالبہ کیاہو۔ندیم نصرت نے کہاکہ سندھ میں 70ء کے اوائل میں سندھ کے دیہی علاقوں کوشہری علاقوں کے برابرلانے کی غرض سے دس سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیاجس میں دیہی علاقوں کے لئے 60فیصدجبکہ شہری علاقوں کے لئے 40فیصدکوٹہ مقرر کیاگیا۔دس سال کی مدت کے خاتمہ کے بعد فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے کوٹہ سسٹم کی مدت میں مزید دس سال کااضافہ کردیااورتوسیع کایہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اب سندھ کے اہل دانش خودبتائیں کہ پاکستان کے صرف ایک صوبہ میں دیہی سندھ اورشہری سندھ کی بنیادپر تقریباً آدھی صدی تک برقراررکھی جانے والی اس تقسیم کے مثبت نتائج برآمدہوں گے یا منفی نتائج برآمد ہوں گے؟ندیم نصرت نے کہاکہ ایم کیوایم نے آج تک یہی مطالبہ کیاہے کہ جب تک سندھ میں غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ نہیں کیا جاتاکم ازکم جس 40 اور60فیصدکوٹہ کی تقسیم کی گئی ہے اس پرتومنصفانہ طورپر عملدرآمد کرایاجائے تاکہ سندھ کے کسی بھی طبقہ میں احساس محرومی پیدانہ ہو۔ اس پر سندھی طلبہ اورورکنگ کلاس گروپ کے شرکاء نے یک زبان ہوکرکہاکہ ایم کیوایم کایہ مؤقف بالکل درست اورجائز ہے اوراس میں سندھ کی تقسیم کے مطالبہ کاشائبہ تک نظرنہیں آتا۔

Live News Channels

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Corruption News
CORRUPTION NEWS
CRIME STORIES
CRIME STORIES
TALK SHOWS
TALK SHOWS
DIPLOMAT NEWS
MINORITIES NEWS

ADVERTISEMENT CORNER

NewsOnline

Visitor Counter

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player


(Click here)پاکستان نیوز

  • ایم کیوایم نے ہرفورم پر سندھ کی یونٹی،یکجہتی اورافہام وتفہیم کی بات کی ہے۔ندیم نصرت،ڈپٹی کنوینرایم کیوایم

    April 12, 2014 | 7:27 PM
    mqm

    سندھ اتحادکے دشمن بعض عناصرعوام کوگمراہ کرنے کیلئے یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے
    ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم کاکوئی مطالبہ کیاہو۔ندیم نصرت
    جب تک سندھ سے غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کاخاتمہ نہیں کیاجاتا توجس 40 اور60فیصدکوٹہ کی تقسیم کی گئی
    ہے اس پرمنصفانہ طور پر عملدرآمد کرایاجائے تاکہ سندھ کے کسی بھی طبقہ میں احساس محرومی پیدانہ ہو
    انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں سندھی طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے گروپ سے گفتگو
    سندھی طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے وفدکی ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے پاکستان خصوصاًسندھ
    کے حوالے سے مختلف امورپر تفصیلی بات چیت
    ملاقات میں ڈپٹی کنوینر ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی، بابرغوری، عامرخان اوردیگر اراکین رابطہ کمیٹی شریک تھے
    لندن:(نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینر ندیم نصرت نے کہاہے کہ ایم کیوایم نے ہرفورم پر سندھ کی یونٹی،یکجہتی اور افہام وتفہیم کی بات کی ہے لیکن سندھ اتحادکے دشمن بعض عناصر ایم کیوایم کی بعض تقاریراورتحریروں کوسیاق وسباق سے ہٹ کرعوام کو گمراہ کرنے کیلئے یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم کاکوئی مطالبہ کیاہو۔انہوں نے یہ بات سندھی طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ سے گفتگوکرتے ہوئے کہی جس نے آج ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں رابطہ کمیٹی سے ملاقات کی۔ملاقات میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی، بابرغوری اور عامرخان سمیت دیگر اراکین رابطہ کمیٹی شریک تھے۔ملاقات کے دوران طلبہ اورورکنگ کلاس کے گروپ نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے پاکستان خصوصاًسندھ کے حوالے سے مختلف امورپر تفصیلی بات چیت کی۔ وفد کی جانب سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہ ایم کیوایم پر یہ الزام ہے کہ اس نے سندھ کی تقسیم کانعرہ لگایا، رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینر ندیم نصرت نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم نے ہرفورم پر سندھ کی یونٹی،یکجہتی اور افہام وتفہیم کی بات کی ہے لیکن سندھ اتحادکے دشمن بعض عناصر ایم کیوایم کی بعض تقاریراورتحریروں کوسیاق وسباق سے ہٹ کرعوام کو گمراہ کرنے کیلئے یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم کاکوئی مطالبہ کیاہو۔ندیم نصرت نے کہاکہ سندھ میں 70ء کے اوائل میں سندھ کے دیہی علاقوں کوشہری علاقوں کے برابرلانے کی غرض سے دس سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیاجس میں دیہی علاقوں کے لئے 60فیصدجبکہ شہری علاقوں کے لئے 40فیصدکوٹہ مقرر کیاگیا۔دس سال کی مدت کے خاتمہ کے بعد فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے کوٹہ سسٹم کی مدت میں مزید دس سال کااضافہ کردیااورتوسیع کایہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اب سندھ کے اہل دانش خودبتائیں کہ پاکستان کے صرف ایک صوبہ میں دیہی سندھ اورشہری سندھ کی بنیادپر تقریباً آدھی صدی تک برقراررکھی جانے والی اس تقسیم کے مثبت نتائج برآمدہوں گے یا منفی نتائج برآمد ہوں گے؟ندیم نصرت نے کہاکہ ایم کیوایم نے آج تک یہی مطالبہ کیاہے کہ جب تک سندھ میں غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ نہیں کیا جاتاکم ازکم جس 40 اور60فیصدکوٹہ کی تقسیم کی گئی ہے اس پرتومنصفانہ طورپر عملدرآمد کرایاجائے تاکہ سندھ کے کسی بھی طبقہ میں احساس محرومی پیدانہ ہو۔ اس پر سندھی طلبہ اورورکنگ کلاس گروپ کے شرکاء نے یک زبان ہوکرکہاکہ ایم کیوایم کایہ مؤقف بالکل درست اورجائز ہے اوراس میں سندھ کی تقسیم کے مطالبہ کاشائبہ تک نظرنہیں آتا۔

(Click here)سندھ نیوز

  • محکمہ خوارک کے اقدامات سے گندم کی اسمگلنگ میں واضح کمی ہوئی ہے۔وزیر خوارک سندھ

    April 12, 2014 | 7:21 PM
    JAM-MEHTAB-DAHAR-e1349684005282-470x238

    صوبائی وزیر خوارک نے گندم کے مراکز نہ کھو‘لنے پر ڈائریکٹر فوڈ کنٹرولر شکارپور کو معطل کردیا۔
    کراچی(نیوزآن لائن) صوبائی وزیر برائے خوارک جام مہتاب حسین ڈھر نے گندم کے مراکز وقت پر نا کھولنے پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر شکار پور فضل بھنگواڑ کومعطل کردیا ہے۔ ہفتے کو کو جاری ہونے والے ایک بیان میں صوبائی وزیر برائے خوارک جام مہتاب حسین ڈھر نے کہا ہے کہ محکمہ خوارک سندھ میں افغانستان اور وسطی ایشیاء کی ریاستوں کو گندم کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں اور یہ اقدامات سندھ پولیس کے تعاون سے کئے جارہے ہیں تاہم انہوں نے یہ بات تسلم کی کہ محکمہ خوارک کی چندکالی بھیڑیں گندم کی دیگر صوبوں میں غیر قانونی نقل و حمل اور افغانستان و دیگر ممالک کو گندم کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔صوبائی وزیر خوارک نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جلد ہی ان واقعات پر قابو پالیا جائے گا اور ان واقعات میں ملوث عناصر کا تدارک کردیا جائے گا۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر خوارک جام مہتاب حسین ڈھر نے ضلع نو شہرو فیروز میں گندم کے مراکز نہ کھولنے کی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر فوڈسندھ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور موجودہ صورتحال پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاشت کاروں کو فوری طور پر باردانہ فراہم کیا جائے اور ایسا نہ کرنے والے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔

(Click here)کراچی نیوز

  • پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کمیٹی برائے فاٹا اصلاحات کے نمائندہ وفد کی این ڈی آئی کے عہدیداران کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی سے ملاقات

    April 12, 2014 | 7:25 PM
    MQM-flag-040413

    ایم کیوایم فاٹا کی اصلاحات کیلئے پیش کی گئی 11نکاتی تجاویز کی مکمل حمایت کرتی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
    فاٹا کا استحکام صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے میں استحکام اور امن کا ضامن ہے، حیدر عباس رضوی
    فاٹا کے عوا م کی بہتری کے لیے ملک کے تمام اداروں کو کردار ادا کرنا ہو گا، فاٹا اصلاحات کمیٹی
    خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندگان کو دی گئی پریس بریفنگ
    کراچی (نیوزآن لائن)پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کمیٹی برائے فاٹا اصلاحات کے نمائندہ وفد نے این ڈی آئی کے عہدیداران کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر فاروق ستار،،حیدر عبا س رضوی اور رشید گوڈیل سے ملا قات کی۔وفد میں فاٹا ریفارمز کمیٹی کے رہنما ارسلہ خان ہوتی،کرامت اللہ چغرمتی، سید اخوندزہ چٹان، بیرسٹر سلمان آفریدی، محترمہ انیسہ زیب طاہر خیلی، ہاشم بابر، اسد آفریدی، اجمل خان وزیر، مختار باچا، جان محمد بلیدی، سید آصف حسنین، عبد الراشد، مفتی عبد الشکور، عبد اجلیل جان، زر نور آفریدی اور نوابزدہ محسن علی خان شامل تھے۔ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان نے وفد کا خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔وفد کی ایم کیوایم رابطہ کمیٹی سے ملاقات تقریباً سوا گھنٹے جاری رہی۔ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندگان کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے فاٹاریفارمز کمیٹی کی جانب سے فاٹا کی اصلاحات کیلئے پیش کی گئی 11نکاتی تجاویز کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام کو بنیادی، آئینی اور جمہوری حقوق ملنے چاہئے اور فاٹا کی انتظامی حیثیت کا تعین کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ فاٹا ریفارمز کی کمیٹی میں ایم کیو ایم کے دو ارکان بھی شامل ہیں اور ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ فاٹا کی عوام کی بہتری کے لئے وہاں کے عوام کے فیصلے کو سنا جائے۔ انھوں نے وفد کوایم کیو ایم کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ قائد تحریک الطا ف حسین کی ہدایت پر ایم کیو ایم کے تمام منتخب ارکان فاٹا کے عوام کو آئینی، قانونی اور سیاسی مدد فراہم کرنے کو تیار ہیں اور اس ضمن میں ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 2014فاٹا کے عوام سمیت پاکستان اور اس خطے کے لئے اہم سا ل ہے اور فاٹا کے عوام کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے اانہیں بنیادی حقوق فراہم کر کے ہی پاکستان کے بیشتر مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔انہوں نے فاٹاکے عوام کی بہتری کے لیے NDIکی عملی اور مثبت کاوشوں کو سراہا اور انھیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔حیدر عباس رضوی نے کہا کہ کہ فاٹا کا استحکام صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے میں استحکام اور امن کا ضامن ہے اور فاٹا کے عوا م کو انکے جائز حقوق کی فراہمی کے بغیر پاکستان اور خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندگان کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کمیٹی برائے فاٹا اصلاحات کے رہنماؤں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کمیٹی ملک کی10 مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے اور اپنے تمام تر نظریاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر فاٹا کے عوام کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہاکہ فاٹا کے عوام محب وطن ہیں، ان کی وفاداری اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے فاٹا کے عوام کی قربانیاں نظر انداز نہیں کی جاسکتی لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ فاٹا کے عوام کے انسانی بری طرح سے پامال کئے جارہے ہیں اور دنیا بھر میں انہیں دہشت گرد کے طو رپر پیش کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فاٹا کے عوا م کی بہتری کے لیے ملک کے تمام اداروں کو کردار ادا کرنا ہو گا اور خاص طور سے آئین کے آرٹیکل 247میں ترامیم کرکے فاٹا کے عوام سے امتیازی سلوک بند کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر کی طرح فاٹا میں بھی بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کیاجاسکے۔ وفد کے تمام ارکان جناب الطاف حسین نے فاٹا کے عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اُٹھائی ہے اور اپنے کارکنان کو بھی فاٹا کے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایات کی جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

(Click here)بزنس

  • وزیر اعلیٰ سندھ نے گندم کی امدادی قیمت 1200 روپے سے بڑھا کر 1250روپے کردی۔

    April 12, 2014 | 7:22 PM
    wheat

    کراچی‘(نیوزآن لائن) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے گندم کی امدادی قیمت 1200سوروپے سے بڑھاکر 1250روپے کی سمری منظور کرلی ہے۔ صوبائی وزیر خوارک جام مہتاب حسین ڈھر نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کے اس اقدام سے کاشتکاروں کو فائدہ پہنچے گا اور دیگر صوبوں اور افغانستان کو گندم کی غیر قانونی منتقلی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

(Click here)کھیل

  • جامعہ کراچی: شہید بینظیر بھٹو فٹ بال ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد

    April 9, 2014 | 8:31 PM
    Foot Ball Tournament (2)

    جامعہ کراچی: شہید بینظیر بھٹو فٹ بال ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد
    ”جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا کہطلبہ کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں بھی حصہ لینا چاہیئے جو کہ ذہنی وجسمانی نشوونما کے لئے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ مسابقت کے جذبے سے سرشاریہ ایسی ہمہ جہت سرگرمی ہے کہ جس کا مثبت اثر ناصرف جسمانی صحت پر ہوتا ہے بلکہ ذہنی نشوونما کے ساتھ شخصی کردار بھی نہایت فعال ہوجاتا ہے اور اس طرح کی غیر نصابی سرگرمیوں سے طلبہ میں مقابلے کا شوق اورڈسپلن کا شعور پیدا ہوتا ہے جو زندگی میں ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ جامعہ کراچی طلبا وطالبات میںکھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے”۔یہ بات انہوں نے گذشتہ روز پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن(پی ایس ایف) کے زیر اہتمام پانچواں ”شہید بینظیر بھٹو فٹ بال ٹورنامنٹ ” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب کا اہتمام جامعہ کراچی کے فٹ بال گرائونڈ میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹورنامنٹ شہید جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو سے منسوب ہے ۔پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبہ کو ان کا وژن اور نظم وضبط اپنی صفوں میں قائم رکھنا چاہیئے۔اس کے علاوہ حصول تعلیم میں دلجمعی سے حصہ لینا چاہیئے جو قائد جمہوریت کو خراج تحسین پیش کرنے کابہترین طریقہ ہے۔ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکڑٹری نجمی علم نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے طلبہ بے راہ روی اور منشیات میں ملوث ہونے سے بھی بچ سکتے ہیں۔پی ایس ایف کی جانب سے اس طرح کے ٹورنامنٹس کا انعقاد خوش آئند ہے۔اس موقع پر انہوں جامعہ کراچی کو ایک سے ڈیڑھ ماہ میں دو پوائنٹس بسیں دینے کا بھی اعلان کیا۔اس موقع پر رئیس کلیہ نظمیات وانصرام پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی ،رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان،مشیر امور طلبہ پروفیسر ڈاکٹر انصر رضوی اور طلبہ واساتذہ کی بڑی تعد اد موجود تھی ۔افتتاحی میچ ہاسٹل الیون اور بھٹو الیون ن کے مابین کھیلا گیا جو ہاسٹل الیون نے ایک گول سے جیت لیا۔پروگرام کے آخر میں شیخ الجامعہ نے وزیر بلدیات کی جانب سے جامعہ کراچی کے لئے دوبسوں کے عطیہ کے لئے وزیر موصوف کا اور نجمی عالم کا شکریہ اداکیا۔

(Click here)ثقافت

  • جامعہ کراچی: شعبہ فارسی کے تحت کتاب بعنوان ”کراچی،قدامت،واقعات،روایات ” کی تقریب رونمائی

    April 10, 2014 | 7:41 PM
    Book Launching Ceremony

    جامعہ کراچی: شعبہ فارسی کے تحت کتاب بعنوان ”کراچی،قدامت،واقعات،روایات ” کی تقریب رونمائی
    کراچی(نیوزآن لائن) پروگرام برائے پرامن جمہوریت اور بین الاقوامی ثقافتی ہم آہنگی اور شعبہ فارسی جامعہ کراچی کے زیر اہتمام بلوچ دانشور غلام رسول کلمتی کی کتاب ”کراچی،قدامت،واقعات،روایات ” کی تقریب رونمائی گذشتہ روز سماعت گاہ کلیہ فنون جامعہ کراچی میں منعقد ہوئی۔تقریب کی صدارت معروف دانشور جاوید جبار نے کی اور مہمان خصوصی معروف ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف دانشور جاوید جبارنے کہا کہ غلام رسول کلمتی نے تاریخ کے ایک اہم سفر کو قلمبند کرکے ایک کارنامہ انجام دیا ہے۔یہ سفر ایک بستی سے شہر بننے کا سفر ہے۔ثقافتی لحاظ سے بھی یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہر کا آغاز ہمیشہ چھوٹی سی ایک بستی سے ہوتا ہے ،بلاشبہ بستی کے اصل باشندوں کی تاریخ صدیوں پرانی تاریخ ہوتی ہے مگر انہیں تبدیلیوں کو قبول کرنا ہوگا۔اسی طرح باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو بھی زمین قوم اور مقامی ثقافت کی اہمیت تسلیم کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ کراچی کی حالت زار پر بھی ایک کتاب لکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ کراچی کو بدانتظامی ،کرپشن ،لاقانونیت ،دہشتگردی اور فرقہ واریت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔اس موقع پر معروف ماہر آثار قدیمہ اور تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے تاریخی تناظر میں کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تاریخ کی عمر 2500 سال ہے۔اس 2500 سال کی تاریخ میں سندھ کے دیگر شہروں کے نام تومل جاتے ہیں مگر کراچی کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔سکندر کے زمانے کے جزیرے ”کراکورا” کی کراچی کے ساتھ مناسبت نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ اگر تاریخ کتب سے ثابت نہ ہو توا س کو معلوم کرنے کے کچھ اور ذرائع بنیادی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔آثار قدیمہ ،پتھر اور پہاڑوں پر کندہ نوشتے ،نجی طور پر محفوظ غیر مطبوعہ کتب اور خطوط نیز زبانی روایات تاریخ کے تعین میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔یہ روایات قدیم زمانے سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔ملا غلام رسول کلمتی نے اپنی زبانی روایات کو کتابی شکل دے کر ایک بہت بڑاکام کیا ہے۔معروف مورخ ،مصنف گل حسن کلمتی نے کہا کہ تاریخ کسی کی خواہش کے تابع نہیں ہوتی تاریخ ایک بے لاگ حقیقت ہوتی ہے اور تاریخ کا تجزیہ حقیقت پر مبنی ہونا چاہیئے۔انہوں نے غلام رسول کلمتی کی کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کچھ نکات پر اختلاف رائے بھی کیا۔کتاب کے مصنف غلام رسول کلمتی نے کہا کہ یہ بات ان کے تشنگی کے باعث تھی کہ قدیم کراچی اور اس کے باشندوں کی تاریخ کو مچھیروں کی ایک چھوٹی سی ساحلی بستی تک محدود کیا جاتا ہے۔حالانکہ کراچی کھیر تر کے پہاڑوں تک پھیلاہوا ہے چنانچہ انہوں نے یہ بیڑا اٹھایا تاکہ کراچی کی وسعت کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جاسکیں۔آخر میں شعبہ فارسی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر رمضان بامری نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ اس طرح کی کتابیں وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔

(Click here)انٹر نیشنل

  • ایم کیوایم، تحفظ پاکستان بل 2014ء جیسے کالے قانون کو کسی قیمت پرتسلیم نہیں کرے گی، الطاف حسین

    April 10, 2014 | 7:58 PM
    altaf-hussain-meeting-london-051013 (8)

    جب تک ایم کیوایم کا ایک بھی کارکن زندہ ہے اس سیا ہ قانون کے خلاف ایم کیوایم کا احتجاج جاری رہے گا
    تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں اورانسانی حقوق کی انجمنیں اس سنگین معاملہ پر جلد ازجلد ایک گول میز کانفرنس بلائیں
    جمہوریت، قانون، انصاف اور انسانیت پسند عناصر اس ظالمانہ وجابرانہ اقدام کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیارکریں
    پاکستان پروٹیکشن بل 2014ء آمرانہ،ڈریکونین، غیرانسانی، خون آشام، شیطانی اوربے رحم قانون ہے
    حکومت نے پی پی او کے نام سے یہ قانون بنایااور اس کی جن لوگوں نے حمایت کی وہ دراصل
    حکومت اور اس کے حلیفوں کی آمرانہ اور جابرانہ ذہنیت اورسوچ کا مظہر ہے
    میں یہ پیش گوئی کرتا ہوں کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے عملاً اطلاق کاآغاز اس سیاہ قانون کو نافذ کرنے والوں سے ہوگا
    اللہ تعالیٰ پاکستان کی اصلاح احوال کیلئے کمال اتاترک جیسا کوئی فرد پاکستان کو عطا کردے، الطاف حسین کی دعا
    رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کے ارکان کے مشترکہ اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب
    لندن:(نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم، تحفظ پاکستان بل 2014ء کے نام پر ملک وقوم پر مسلط کیے جانے والے غیرقانونی اور غیرانسانی کالے قانون کو کسی قیمت پرتسلیم نہیں کرے گی اور جب تک ایم کیوایم کا ایک بھی کارکن زندہ ہے اس سیا ہ قانون کے خلاف ایم کیوایم کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں، انسانی حقوق کی انجمنوں اوراین جی اوز سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین معاملہ پر جلد ازجلد ایک گول میز کانفرنس بلائیں تاکہ تمام جمہوریت، قانون، انصاف اور انسانیت پسند عناصر اس ظالمانہ وجابرانہ اقدام کے خلاف کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیارکرسکیں۔
    جناب الطاف حسین نے یہ بات جمعرات کی سہ پہر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کے مشترکہ اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تحفظ پاکستان بل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان پروٹیکشن بل 2014ء کے نام سے وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کے بل پر جو مسودہ قانون منظورکرایا ہے وہ آمرانہ،ڈریکونین، غیرانسانی، خون آشام، شیطانی اوربے رحم قانون ہے۔حکومت نے پی پی او کے نام سے یہ قانون بنایا اوراس کی جن لوگوں نے حمایت کی وہ دراصل حکومت اور اس کے حلیفوں کی آمرانہ اور جابرانہ ذہنیت اور سوچ کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے افراد انسان کہلانے کے مستحق نہیں ہیں جو خود تو کھلم کھلا کالے دھندے کریں اوردوسروں کے جائز کاموں میں بھی مین میخ نکال کر نہ صرف ان کے سرقلم کرنے کا حکم جاری کریں بلکہ اس غیرقانونی وغیرانسانی عمل پر خوشی کے شادیانے بھی بجائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم، تحفظ پاکستان بل 2014ء کے نام پر ملک وقوم پر مسلط کیے جانے والے غیرقانونی اور غیرانسانی کالے قانون کو کسی قیمت پرتسلیم نہیں کرے گی اور جب تک ایم کیوایم کا ایک بھی کارکن زندہ ہے اس سیا ہ قانون کے خلاف ایم کیوایم کا احتجاج جاری رہے گا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں، پاکستان کے تمام قانون، انصاف، آئین اورانسانیت پریقین رکھنے والے افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ خواہ آپ کی کوئی بھی سیاسی وابستگی ہو لیکن ایک باضمیر پاکستانی اور انسانی اقدار پر یقین رکھنے والے فرد کی حیثیت سے آپ تحفظ پاکستان بل کی نہ صرف زبانی مخالفت کریں بلکہ میدان عمل میں آکر بھی اس کی کھل کر مذمت کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس کالے قانون کی حمایت اور اس کے نفاذ میں جوبھی سیاسی رہنما اور جماعتیں شریک ہیں،اگرانہوں نے حکومت کے اس کالے قانون پر حکومت کی حمایت ترک نہ کی تو وہ بھی اس انسانیت دشمن قانون کے نفاذ کے جرم میں برابر کی شریک سمجھی جائیں گی۔ میں یہ پیش گوئی کرتا ہوں کہ پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 6 کے عملاً اطلاق کاآغاز سب سے پہلے اس سیاہ قانون کو نافذ کرنے والوں سے ہوگا۔
    جناب الطاف حسین نے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں، انسانی حقوق کی انجمنوں اوراین جی اوز سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین معاملہ پر جلد ازجلد ایک گول میز کانفرنس بلائیں تاکہ تمام جمہوریت، قانون، انصاف اور انسانیت پسند عناصر اس ظالمانہ وجابرانہ اقدام کے خلاف کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیارکرسکیں۔
    اجلاس کے آخر میں جناب الطاف حسین نے ملک کی سلامتی وبقاء کیلئے خصوصی طور پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی اصلاح احوال کیلئے کمال اتاترک جیسا کوئی فرد پاکستان کو عطا کردے۔(آمین ثمہ آمین)