: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

  • بیورو کریٹ بھی کام کرسکتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ “افسران” صرف بدعنوانی اور اقربا پروری میں ملوث ہیں،کمشنر کراچی

    October 21, 2019 | 12:01 AM
    WhatsApp Image 2019-10-20 at 10.53.11 AM

    کراچی:(نیوزآن لائن)کراچی شہر کی آبیاری، خوبصورتی، ترقی،ثقافتی و تاریخی طور پر بحالی اورکھیلوں کی سرگرمیوں، لائبریریوں کے قیام و بحالی،گلیوں و فٹ پاتھوں پر نشاندہی و ناموں کی تنصیب،کچرے کی صفائی، پارکوں کی بحالی،ناجائز تجاوزات اور دیگر فلاحی منصوبوں و ٹھوس اقدامات کی روشنی میں کراچی شہر کو ایک مرتبہ پھر روشنیوں کا شہر اور امن کا گہوارہ بنانے کی مخلص کاوشوں اورمحنت کا ثمر افتخار شالوانی کی شخصیت کا ہی مظہر ہے۔ ان پرخیالات کا ا ظھار کر اچی شہر کی معزز ، سماجی ، زندگی کے مخلتف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے پاکستان ایکسیلینس کلب کی جانب سے مقامی ہوٹل میں سینئر بیورو کریٹ گریڈ 21 کے کمشنر کراچی افتخار شالوانی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب حسن کارکردگی میں انکی خدمات و کیریئر کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے افتخار شالوانی کی شہر میں بحیثیت کمشنرکراچی میں تعینیاتی کے دوران کئی منصوبوں، کاوشوں اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افتخار شالوانی نے یہ ثابت کیاہے کہ بیورو کریٹ بھی کام کرسکتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ “افسران” صرف بدعنوانی اور اقربا پروری میں ملوث ہیں اگر کوئی چاہے تو افتخار شالوانی جیسا بن کر بھی عوامی خدمات میں یقین رکھتے ہوئے شہر، صوبہ اور ملک کی صحیح معنوں میں خدمت اور کام کرکے اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن اور تابندہ کرسکتے ہیں ، افتخار شالوانی کی تربیت میں انکے اساتذہ اوروالدین کا بھت بڑا عمل دخل لگتا ہے کی انہوں نے انکی ایسی تربیت اورتعلیم فراہم کی کہ وہ عوامی خدمت کا جذبہ اپنے ذہن اور دماغ میں لے کر سول سروس میں داخل ہوئے اور اپنا مثبت کردار ادا کیا اور کرتے رہیں گے۔ مقررین نے مزیدکہا کہ کراچی شہر کی بھتری اور خدمت سر وائٹل بارٹر کے دور کے بعد افتخار شالوانی کے دور میں ہوررہی ہے اور انکا نام بھی انکی طرح تاریخ میں یقیننا سنہرے حروف میں لکھا جائیگا ور انکے بغیر کراچی شہر کی تاریخ ادہوری ا ور نامکمل ہوگی۔کراچی میں سر واتل بارٹر نے کئی ادارے دیئے اور چھوڑے اسی طرح افتخار شالوانی بھی کچھ ایس کام کرجائین جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔کمشنر کراچی افتخار شالوانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وہ شہر کی ترقی میں جس طرح محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں تو لگتاہے کہ وہ اس کو مکمل کرکے چھوڑینگے اورمشکل سے مشکل کام وٹاسک پورے کئے اور عملدرآمد بھی کرائے۔شہر کی مزید ترقی و خوبصورتی اورروشنیون کا شہر بنائے رکھنے کیلیے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی کاوش اور لگن محنت اور تندہی سے جاری رکھیں گے اور ہم تن گوش ہوکر تمام اسٹیک ہولدرز اور متعلقہ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اداروں کو ساتھ لے کر شہر کی ترقی ، خوبصورتی اور اس کو پرانی حیثیت میں بحال کرنے میں اپنا مزید فعال کردار ادا کرینگے۔قبل اذیں کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے اپنی زندگی، تعلیم و تربیت، سروس کیریئر اور پیشہ ورانہ امور کے بارے میں تفصیلی طور پر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خوش نصیب ہے کہ اسکی تعلہم و تربیت میں اساتذہ اور والدین خصوصا والد ڈاکٹر پیر محمد شالوانی کا بہت بڑا عمل دخل ہے کیونکہ وہ لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ہمیں سینٹ بونا وینچر جیسے اس وقت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں اور ان پر تین ماہی کی فیس صرف 36 روپے تھی اور اس میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلون کی سرگرمیان، لائبریری جانے کی عادت اور وہان پر کتاب پڑھنے اور پہر اسکے بارے میں پوچھ گچھ نے ہمیں فادر ٹارٹ وسر گبریل اور سر بشی جیست اساتذہ کی رھنمائی ملی جو ہماری عام روٹین کی زندگی کو یکسر تبدیل کرکے ایک اہم موڑ دیا، جس کا اثر ابھی تک ہے۔ انہون نے مزید بتایا کہ اس نے اسکول کے بعد پبلک اسکول اور پہر میڈیکل میں داخلہ لیا لیکن مزاج اور روایتا سی ایس ایس کے رجحان نے سول سروس کی طرف راغب کیا اور اسلام آباد مین جاکر بس گئے تھے نئے دوست بڑی مشکل سے بنتے ہیں وہان پر نئے دوست بنے، نیاماحول ملا، آء سی یو ٹی لاہور میں لگا اور پھر ماڈل ٹاؤن، میانوالی اور پھر 17 سے 19 گریڈ تک بلوچستان مین 4 سال تک خدمات انجام دیں، پھر شعبہ بدلنے سے فارین سروس یں بھی خدمات انجام دیں چاھتا تو عالمی ہینک میں اپناسروس بناتا لیکن پھر سے شعبہ بدلنے کا دل نہیں مانا اور واپس سول سروس مین آیا تو سندھ میں تبادلہ ہوا تو پہلے چیف اکنامسٹ ا ور پہر کئی مقامات پر تعینیات رہا اچانک ایک دن سیکریٹری قانون اور کمشنر کراچی بنا اور اس میں سیاسی لیڈرشپ کا بھی ممنون ہون کہ انہوں نے کوئی بھی پریشر و دباؤ نہیں دیا اور اپنی مرضی سے عوامی خدمات کا سلسلسہ جاری رکھے ہوا ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوران غیر ملک ارجنتینا ور جاپان میں بچوں کی اچھی تعلیم اور تربیت کے مواقع ملے۔اور وہاں پر مختلف کورس اور تربیتی مراحل بھی طئی کئے اور حتیٰ کہ اپنے جونیئر کے ساتھ کورس کیا تھا کیونکہ بیرون ملک اور عالمی بنک میں کام کرنے کی وجہ سے ترقی دیر سے ملی۔ کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ کمشنری کے دوران کئی مشکل مرحلے آئے اور ان پر پور اترنے کی کوشش کرتے ہوئے ایمپریس مارکیٹ جیسا اہم تاسک پورا کیا اور منفی تاثر ختم کرنے کیلیے شہر میں بلا تعصب اور مت بھید کے ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھا عوام کی تکالیف کا ازالہ کرنے کی چھوٹی کاوش کی صرف غریبوں کے خلاف نہیں بلک بلا تفریق ہر کسی کی خلاف عوامی مفاد میں کوئی بھی کام کیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح شہر میں پرانی رونقوں کو بحال کرنے اور اسکو اصلی حالت میں لانے کیلے بھی ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے میراتھن ریس، پی ایس ایل،مختلف ٹورنامنٹس، پبلک لائبریریوں، پارکس،گلیون ، فٹ پاتھون کی خوبصورتی و بحالی اور مصنوعی پھولوں کے باسکٹس کی تنصیب،لکڑیوں کے کام کو فروغ دینا جیسے جاپان اور دیگر ممالک میں بھی لکڑی کے کام کو فروغ دیا جاتا ہے، کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ شہر کی مزید ترقی اور خوبصورتی تمام سول سوسائیٹی، میڈیا، تاجر برادری دیگر کے تعاون اور ایک ٹیم کے طور پر کام کرنے سے ہی ممکن اور یقینی ہے۔ تقریب حسن کارکردگی سے پاکستان ایکسیلنس کے پیٹرن اقبال قریشی چیئرمین حمید بھٹو۔ ، مارکو کے سفیر اور معروف تاجر مرزا اختیار بیگ، ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس غلام سرور جمالی۔ خالد چاچڑ سیکریٹری خصوصی تعلیم،حکومت سندھ اعجاز مھیسر سیکریٹری و لائیواسٹاک، شمس الدین سومرو سیکریٹری صوبائی محتسب۔صدر پریس کلب کراچی امتیاز خان فاران، بزنس مین سید عبید احمد شاھ۔ اینٹی کرپشن سندھ کے ڈپٹی ڈائریکر میر نادر ابڑو، حسین مارکیٹنگ کے چیئرمین بابر عباسی، سابقہ وائیس چانسلر ڈاکٹر اکبر حیدر سومرو، شیام سندر آڈواٹی صدر پاکستان مسلم لیگ منارٹی ونگ سندھ کے صدر ، عرفان قریشی، بزنس مین خالد شمسی ، ڈاکٹر زاھد انصاری، سابقہ جیل سپریٹنڈنٹ سید شاکر شاھ۔ سابقہ ایم این اے رشید گوڈیل سابقہ ایم پی اے وقار شاھ۔ بزنس مین شعیب خان۔ نورین خان۔مسرت شاھہ۔احسم معنتی۔ ابقہ جج شاھد حسین سومرو۔ ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر۔ نیشنل بینک کے وائیس پریزیڈنٹ قاضی شھاب۔ سید ابن حسن۔ سعودی عرب کے بزنس مین عبدالقادر جتوئی۔ اختر آرئین۔ سینئر تجزینگار عبدالحمید اسلم حسین تھیبو۔ ندیم مولوی۔ گلوکار سلیم جاوید۔ سابقہ ڈی آئی جی اشرف علی نظامانی۔ سید امتیاز شاھہ۔ رحمت لاشاری۔ بخشن مھرانوی۔ اسحاق کھڑو۔ پی پی پ میڈیا سیل الیکٹرانک کے رکن نعیم اعوان۔ ای او آئی بی آفیسرز ایسیوسیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری چوھدری وقاص۔ اعجاز کوکر۔ اسٹارمارکیٹنگ کے ایم ڈی محمود احمد خان المصطفی ویلفیئر ٹرسٹ کے رہنما معین خان۔ مظہر رضوی۔ حزب اللہ میمن اور دیگر نے بھی کمشنر افتخار شالوانی کی پیشہ ورانہ خدمات اور شہر کی ترقی و خوبصورتی کیلیے کئی گئی کاوشوں کو بیحد سراہا اور کہاکہ انہیں شہر میں اسپتال کے طبی فضلہ کو مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کیلیے مربوط نظام اور ملک کی ترقی ، بقا، سالمتی اور استحکام و استحصال سے پاک اقدامات کیلئے شہر میں اپنی کوششیں جاری رکھنے،کچرہ کس طرح صاف ہوگا کے سلسلے میں مربوچ پروپوزل پر کام کرنے، کارپوریٹ اداروں اور کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت شہر کی ترقی کے لیے انہیں شامل کرنے، تعلیمی صورتحال کو بھتر بنانے ، پارکنگ و ٹریفک اور ایکسیدنٹ کے مسائل کو حل کرنے، قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے بھکاریوں کی بھتات کو ختم تو نہ کرسکیں گے لیکن امید ہے کہ کم کر نے کیلیے کام کرنے، پولیو اور دیگر موذی بیماریوں کے خاتمہ کیلئے خدمات انجام دینے کیلئے دماغ میں صاف راستہ کی سوچ جیسی تجاویز ا ور مشوروں کی روشنی میں کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی شخصیت نہ صرف نام سے افتخار بلکہ شہر کیلئے وہ ایک باعث افتخارہیں اور کسی بھی سیاسی پارٹی نے شہر کی مالکی نہ کی بلکہ افتخار شالوانی نے حقیقی معنوں میں شہر کی بھرپور طور پر مالکی کرکے اپنا کردارا ور حق ادا کردیا ہے۔ بعد میں تقریب میں کمشنر کراچی افخار شالوانی کو پاکساتن ایکسیلنس کلب کی جانب سے حسن کارکردگی کا پاکستان ایکسلینس آفیسرز ایوارڈ 2019 دیا گیا اور اجرک کاتحفہ بہ پیش کیاگیا اور ایکسلینس کلب ممبر سیوھن ڈولپمیٹ اتھارٹی کے ڈائرکٹر لینڈ رحمت لاشاری۔ سندھ اسیمبلی کے ڈائریکٹر ریسرچ اور سینئر کمپیئر بخشن مھرانوی اور ٹیلویزن کے ڈائریکٹر جاوید اختر ناز کے سالگرہ کے کیک بھی اس موقع پر کاٹے گئے اور اگست 2019 مین بھترین ورکر کے سروسزکی طور پر شہریار ملاح اور مریم کوثرکو شیلڈ بہ دی گئی۔

Live News Channels

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Corruption News
CORRUPTION NEWS
CRIME STORIES
CRIME STORIES
TALK SHOWS
TALK SHOWS
DIPLOMAT NEWS
MINORITIES NEWS

ADVERTISEMENT CORNER

NewsOnline

Visitor Counter

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player


(Click here)پاکستان نیوز

  • بیورو کریٹ بھی کام کرسکتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ “افسران” صرف بدعنوانی اور اقربا پروری میں ملوث ہیں،کمشنر کراچی

    October 21, 2019 | 12:01 AM
    WhatsApp Image 2019-10-20 at 10.53.11 AM

    کراچی:(نیوزآن لائن)کراچی شہر کی آبیاری، خوبصورتی، ترقی،ثقافتی و تاریخی طور پر بحالی اورکھیلوں کی سرگرمیوں، لائبریریوں کے قیام و بحالی،گلیوں و فٹ پاتھوں پر نشاندہی و ناموں کی تنصیب،کچرے کی صفائی، پارکوں کی بحالی،ناجائز تجاوزات اور دیگر فلاحی منصوبوں و ٹھوس اقدامات کی روشنی میں کراچی شہر کو ایک مرتبہ پھر روشنیوں کا شہر اور امن کا گہوارہ بنانے کی مخلص کاوشوں اورمحنت کا ثمر افتخار شالوانی کی شخصیت کا ہی مظہر ہے۔ ان پرخیالات کا ا ظھار کر اچی شہر کی معزز ، سماجی ، زندگی کے مخلتف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے پاکستان ایکسیلینس کلب کی جانب سے مقامی ہوٹل میں سینئر بیورو کریٹ گریڈ 21 کے کمشنر کراچی افتخار شالوانی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب حسن کارکردگی میں انکی خدمات و کیریئر کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے افتخار شالوانی کی شہر میں بحیثیت کمشنرکراچی میں تعینیاتی کے دوران کئی منصوبوں، کاوشوں اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افتخار شالوانی نے یہ ثابت کیاہے کہ بیورو کریٹ بھی کام کرسکتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ “افسران” صرف بدعنوانی اور اقربا پروری میں ملوث ہیں اگر کوئی چاہے تو افتخار شالوانی جیسا بن کر بھی عوامی خدمات میں یقین رکھتے ہوئے شہر، صوبہ اور ملک کی صحیح معنوں میں خدمت اور کام کرکے اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن اور تابندہ کرسکتے ہیں ، افتخار شالوانی کی تربیت میں انکے اساتذہ اوروالدین کا بھت بڑا عمل دخل لگتا ہے کی انہوں نے انکی ایسی تربیت اورتعلیم فراہم کی کہ وہ عوامی خدمت کا جذبہ اپنے ذہن اور دماغ میں لے کر سول سروس میں داخل ہوئے اور اپنا مثبت کردار ادا کیا اور کرتے رہیں گے۔ مقررین نے مزیدکہا کہ کراچی شہر کی بھتری اور خدمت سر وائٹل بارٹر کے دور کے بعد افتخار شالوانی کے دور میں ہوررہی ہے اور انکا نام بھی انکی طرح تاریخ میں یقیننا سنہرے حروف میں لکھا جائیگا ور انکے بغیر کراچی شہر کی تاریخ ادہوری ا ور نامکمل ہوگی۔کراچی میں سر واتل بارٹر نے کئی ادارے دیئے اور چھوڑے اسی طرح افتخار شالوانی بھی کچھ ایس کام کرجائین جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔کمشنر کراچی افتخار شالوانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وہ شہر کی ترقی میں جس طرح محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں تو لگتاہے کہ وہ اس کو مکمل کرکے چھوڑینگے اورمشکل سے مشکل کام وٹاسک پورے کئے اور عملدرآمد بھی کرائے۔شہر کی مزید ترقی و خوبصورتی اورروشنیون کا شہر بنائے رکھنے کیلیے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی کاوش اور لگن محنت اور تندہی سے جاری رکھیں گے اور ہم تن گوش ہوکر تمام اسٹیک ہولدرز اور متعلقہ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اداروں کو ساتھ لے کر شہر کی ترقی ، خوبصورتی اور اس کو پرانی حیثیت میں بحال کرنے میں اپنا مزید فعال کردار ادا کرینگے۔قبل اذیں کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے اپنی زندگی، تعلیم و تربیت، سروس کیریئر اور پیشہ ورانہ امور کے بارے میں تفصیلی طور پر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خوش نصیب ہے کہ اسکی تعلہم و تربیت میں اساتذہ اور والدین خصوصا والد ڈاکٹر پیر محمد شالوانی کا بہت بڑا عمل دخل ہے کیونکہ وہ لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ہمیں سینٹ بونا وینچر جیسے اس وقت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں اور ان پر تین ماہی کی فیس صرف 36 روپے تھی اور اس میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلون کی سرگرمیان، لائبریری جانے کی عادت اور وہان پر کتاب پڑھنے اور پہر اسکے بارے میں پوچھ گچھ نے ہمیں فادر ٹارٹ وسر گبریل اور سر بشی جیست اساتذہ کی رھنمائی ملی جو ہماری عام روٹین کی زندگی کو یکسر تبدیل کرکے ایک اہم موڑ دیا، جس کا اثر ابھی تک ہے۔ انہون نے مزید بتایا کہ اس نے اسکول کے بعد پبلک اسکول اور پہر میڈیکل میں داخلہ لیا لیکن مزاج اور روایتا سی ایس ایس کے رجحان نے سول سروس کی طرف راغب کیا اور اسلام آباد مین جاکر بس گئے تھے نئے دوست بڑی مشکل سے بنتے ہیں وہان پر نئے دوست بنے، نیاماحول ملا، آء سی یو ٹی لاہور میں لگا اور پھر ماڈل ٹاؤن، میانوالی اور پھر 17 سے 19 گریڈ تک بلوچستان مین 4 سال تک خدمات انجام دیں، پھر شعبہ بدلنے سے فارین سروس یں بھی خدمات انجام دیں چاھتا تو عالمی ہینک میں اپناسروس بناتا لیکن پھر سے شعبہ بدلنے کا دل نہیں مانا اور واپس سول سروس مین آیا تو سندھ میں تبادلہ ہوا تو پہلے چیف اکنامسٹ ا ور پہر کئی مقامات پر تعینیات رہا اچانک ایک دن سیکریٹری قانون اور کمشنر کراچی بنا اور اس میں سیاسی لیڈرشپ کا بھی ممنون ہون کہ انہوں نے کوئی بھی پریشر و دباؤ نہیں دیا اور اپنی مرضی سے عوامی خدمات کا سلسلسہ جاری رکھے ہوا ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوران غیر ملک ارجنتینا ور جاپان میں بچوں کی اچھی تعلیم اور تربیت کے مواقع ملے۔اور وہاں پر مختلف کورس اور تربیتی مراحل بھی طئی کئے اور حتیٰ کہ اپنے جونیئر کے ساتھ کورس کیا تھا کیونکہ بیرون ملک اور عالمی بنک میں کام کرنے کی وجہ سے ترقی دیر سے ملی۔ کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ کمشنری کے دوران کئی مشکل مرحلے آئے اور ان پر پور اترنے کی کوشش کرتے ہوئے ایمپریس مارکیٹ جیسا اہم تاسک پورا کیا اور منفی تاثر ختم کرنے کیلیے شہر میں بلا تعصب اور مت بھید کے ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھا عوام کی تکالیف کا ازالہ کرنے کی چھوٹی کاوش کی صرف غریبوں کے خلاف نہیں بلک بلا تفریق ہر کسی کی خلاف عوامی مفاد میں کوئی بھی کام کیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح شہر میں پرانی رونقوں کو بحال کرنے اور اسکو اصلی حالت میں لانے کیلے بھی ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے میراتھن ریس، پی ایس ایل،مختلف ٹورنامنٹس، پبلک لائبریریوں، پارکس،گلیون ، فٹ پاتھون کی خوبصورتی و بحالی اور مصنوعی پھولوں کے باسکٹس کی تنصیب،لکڑیوں کے کام کو فروغ دینا جیسے جاپان اور دیگر ممالک میں بھی لکڑی کے کام کو فروغ دیا جاتا ہے، کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ شہر کی مزید ترقی اور خوبصورتی تمام سول سوسائیٹی، میڈیا، تاجر برادری دیگر کے تعاون اور ایک ٹیم کے طور پر کام کرنے سے ہی ممکن اور یقینی ہے۔ تقریب حسن کارکردگی سے پاکستان ایکسیلنس کے پیٹرن اقبال قریشی چیئرمین حمید بھٹو۔ ، مارکو کے سفیر اور معروف تاجر مرزا اختیار بیگ، ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس غلام سرور جمالی۔ خالد چاچڑ سیکریٹری خصوصی تعلیم،حکومت سندھ اعجاز مھیسر سیکریٹری و لائیواسٹاک، شمس الدین سومرو سیکریٹری صوبائی محتسب۔صدر پریس کلب کراچی امتیاز خان فاران، بزنس مین سید عبید احمد شاھ۔ اینٹی کرپشن سندھ کے ڈپٹی ڈائریکر میر نادر ابڑو، حسین مارکیٹنگ کے چیئرمین بابر عباسی، سابقہ وائیس چانسلر ڈاکٹر اکبر حیدر سومرو، شیام سندر آڈواٹی صدر پاکستان مسلم لیگ منارٹی ونگ سندھ کے صدر ، عرفان قریشی، بزنس مین خالد شمسی ، ڈاکٹر زاھد انصاری، سابقہ جیل سپریٹنڈنٹ سید شاکر شاھ۔ سابقہ ایم این اے رشید گوڈیل سابقہ ایم پی اے وقار شاھ۔ بزنس مین شعیب خان۔ نورین خان۔مسرت شاھہ۔احسم معنتی۔ ابقہ جج شاھد حسین سومرو۔ ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر۔ نیشنل بینک کے وائیس پریزیڈنٹ قاضی شھاب۔ سید ابن حسن۔ سعودی عرب کے بزنس مین عبدالقادر جتوئی۔ اختر آرئین۔ سینئر تجزینگار عبدالحمید اسلم حسین تھیبو۔ ندیم مولوی۔ گلوکار سلیم جاوید۔ سابقہ ڈی آئی جی اشرف علی نظامانی۔ سید امتیاز شاھہ۔ رحمت لاشاری۔ بخشن مھرانوی۔ اسحاق کھڑو۔ پی پی پ میڈیا سیل الیکٹرانک کے رکن نعیم اعوان۔ ای او آئی بی آفیسرز ایسیوسیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری چوھدری وقاص۔ اعجاز کوکر۔ اسٹارمارکیٹنگ کے ایم ڈی محمود احمد خان المصطفی ویلفیئر ٹرسٹ کے رہنما معین خان۔ مظہر رضوی۔ حزب اللہ میمن اور دیگر نے بھی کمشنر افتخار شالوانی کی پیشہ ورانہ خدمات اور شہر کی ترقی و خوبصورتی کیلیے کئی گئی کاوشوں کو بیحد سراہا اور کہاکہ انہیں شہر میں اسپتال کے طبی فضلہ کو مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کیلیے مربوط نظام اور ملک کی ترقی ، بقا، سالمتی اور استحکام و استحصال سے پاک اقدامات کیلئے شہر میں اپنی کوششیں جاری رکھنے،کچرہ کس طرح صاف ہوگا کے سلسلے میں مربوچ پروپوزل پر کام کرنے، کارپوریٹ اداروں اور کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت شہر کی ترقی کے لیے انہیں شامل کرنے، تعلیمی صورتحال کو بھتر بنانے ، پارکنگ و ٹریفک اور ایکسیدنٹ کے مسائل کو حل کرنے، قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے بھکاریوں کی بھتات کو ختم تو نہ کرسکیں گے لیکن امید ہے کہ کم کر نے کیلیے کام کرنے، پولیو اور دیگر موذی بیماریوں کے خاتمہ کیلئے خدمات انجام دینے کیلئے دماغ میں صاف راستہ کی سوچ جیسی تجاویز ا ور مشوروں کی روشنی میں کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی شخصیت نہ صرف نام سے افتخار بلکہ شہر کیلئے وہ ایک باعث افتخارہیں اور کسی بھی سیاسی پارٹی نے شہر کی مالکی نہ کی بلکہ افتخار شالوانی نے حقیقی معنوں میں شہر کی بھرپور طور پر مالکی کرکے اپنا کردارا ور حق ادا کردیا ہے۔ بعد میں تقریب میں کمشنر کراچی افخار شالوانی کو پاکساتن ایکسیلنس کلب کی جانب سے حسن کارکردگی کا پاکستان ایکسلینس آفیسرز ایوارڈ 2019 دیا گیا اور اجرک کاتحفہ بہ پیش کیاگیا اور ایکسلینس کلب ممبر سیوھن ڈولپمیٹ اتھارٹی کے ڈائرکٹر لینڈ رحمت لاشاری۔ سندھ اسیمبلی کے ڈائریکٹر ریسرچ اور سینئر کمپیئر بخشن مھرانوی اور ٹیلویزن کے ڈائریکٹر جاوید اختر ناز کے سالگرہ کے کیک بھی اس موقع پر کاٹے گئے اور اگست 2019 مین بھترین ورکر کے سروسزکی طور پر شہریار ملاح اور مریم کوثرکو شیلڈ بہ دی گئی۔

(Click here)سندھ نیوز

  • زکوٰت فنڈز سے امداد حاصل کرنے والے اداروں کا آڈٹ ہوگا۔ سہیل انور سیال

    October 20, 2019 | 11:40 PM
    sohail anwar siyal

    مستحقین زکوات کا ڈیٹا اپڈیٹ رکھا جائے _ وزیر برائے زکوٰ ت وعشر اینٹی کرپشن اور آبپاشی
    ضلعی اور مقامی زکوٰت فنڈز مستحقین تک پہنچ رہا ہے ،آڈٹ کرایا جائے گا۔صوبائی وزیر
    زکوٰت فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے محکمے کے افسران و عملہ شکایت کا بروقت ازالہ کریں۔صوبائی وزیر کے احکامات
    کراچی:(نیوزآن لائن):سندھ کے وزیر زکوٰت و عشر ، اینٹی کرپشن اور آبپاشی سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ سندھ کے محکمہ زکو? کے فنڈ ز سے امداد حاصل کرنے والے اداروں کا آڈٹ ہوگا۔ضلعی اور مقامی زکوٰت فنڈز ضرورت مند لوگوں اور مستحقین تک پہنچ رہا ہے اس کا آڈٹ کرایا جائے گا۔اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ زکوٰت وعشر ایکٹ 2011 کے سیکشن 11 کے تحت لازمی ہے کے آڈیٹرجنرل سندھ زکوٰت فنڈ ز کا سالانہ آڈٹ کریں گے جس میں کٹوتی کرنے والی ایجنسی یا زکوٰت وصول کرنے والے ادارے کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔سہیل انور سیال نے کہاکہ زکو? فنڑز کے استعمال میں شفافیت کو خصوصی اہمیت دی جائیاور اس ضمن میں انہوں نے محکمے کے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ مستحقین زکوٰت کا ڈیٹا اپ ڈیٹ رکھیں۔صوبائی وزیر زکوٰت و عشر ،اینٹی کرپشن اور آبپاشی سہیل انور سیال نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ زکوٰت فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے موصول شدہ شکایت کے ازالے کے لئے افسران و عملہ شکایت کنندہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان کی شکایت کا بروقت ازالہ ہوسکے ۔

(Click here)کراچی نیوز

  • بیورو کریٹ بھی کام کرسکتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ “افسران” صرف بدعنوانی اور اقربا پروری میں ملوث ہیں،کمشنر کراچی

    October 21, 2019 | 12:01 AM
    WhatsApp Image 2019-10-20 at 10.53.11 AM

    کراچی:(نیوزآن لائن)کراچی شہر کی آبیاری، خوبصورتی، ترقی،ثقافتی و تاریخی طور پر بحالی اورکھیلوں کی سرگرمیوں، لائبریریوں کے قیام و بحالی،گلیوں و فٹ پاتھوں پر نشاندہی و ناموں کی تنصیب،کچرے کی صفائی، پارکوں کی بحالی،ناجائز تجاوزات اور دیگر فلاحی منصوبوں و ٹھوس اقدامات کی روشنی میں کراچی شہر کو ایک مرتبہ پھر روشنیوں کا شہر اور امن کا گہوارہ بنانے کی مخلص کاوشوں اورمحنت کا ثمر افتخار شالوانی کی شخصیت کا ہی مظہر ہے۔ ان پرخیالات کا ا ظھار کر اچی شہر کی معزز ، سماجی ، زندگی کے مخلتف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے پاکستان ایکسیلینس کلب کی جانب سے مقامی ہوٹل میں سینئر بیورو کریٹ گریڈ 21 کے کمشنر کراچی افتخار شالوانی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب حسن کارکردگی میں انکی خدمات و کیریئر کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے افتخار شالوانی کی شہر میں بحیثیت کمشنرکراچی میں تعینیاتی کے دوران کئی منصوبوں، کاوشوں اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افتخار شالوانی نے یہ ثابت کیاہے کہ بیورو کریٹ بھی کام کرسکتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ “افسران” صرف بدعنوانی اور اقربا پروری میں ملوث ہیں اگر کوئی چاہے تو افتخار شالوانی جیسا بن کر بھی عوامی خدمات میں یقین رکھتے ہوئے شہر، صوبہ اور ملک کی صحیح معنوں میں خدمت اور کام کرکے اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن اور تابندہ کرسکتے ہیں ، افتخار شالوانی کی تربیت میں انکے اساتذہ اوروالدین کا بھت بڑا عمل دخل لگتا ہے کی انہوں نے انکی ایسی تربیت اورتعلیم فراہم کی کہ وہ عوامی خدمت کا جذبہ اپنے ذہن اور دماغ میں لے کر سول سروس میں داخل ہوئے اور اپنا مثبت کردار ادا کیا اور کرتے رہیں گے۔ مقررین نے مزیدکہا کہ کراچی شہر کی بھتری اور خدمت سر وائٹل بارٹر کے دور کے بعد افتخار شالوانی کے دور میں ہوررہی ہے اور انکا نام بھی انکی طرح تاریخ میں یقیننا سنہرے حروف میں لکھا جائیگا ور انکے بغیر کراچی شہر کی تاریخ ادہوری ا ور نامکمل ہوگی۔کراچی میں سر واتل بارٹر نے کئی ادارے دیئے اور چھوڑے اسی طرح افتخار شالوانی بھی کچھ ایس کام کرجائین جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔کمشنر کراچی افتخار شالوانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وہ شہر کی ترقی میں جس طرح محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں تو لگتاہے کہ وہ اس کو مکمل کرکے چھوڑینگے اورمشکل سے مشکل کام وٹاسک پورے کئے اور عملدرآمد بھی کرائے۔شہر کی مزید ترقی و خوبصورتی اورروشنیون کا شہر بنائے رکھنے کیلیے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی کاوش اور لگن محنت اور تندہی سے جاری رکھیں گے اور ہم تن گوش ہوکر تمام اسٹیک ہولدرز اور متعلقہ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اداروں کو ساتھ لے کر شہر کی ترقی ، خوبصورتی اور اس کو پرانی حیثیت میں بحال کرنے میں اپنا مزید فعال کردار ادا کرینگے۔قبل اذیں کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے اپنی زندگی، تعلیم و تربیت، سروس کیریئر اور پیشہ ورانہ امور کے بارے میں تفصیلی طور پر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خوش نصیب ہے کہ اسکی تعلہم و تربیت میں اساتذہ اور والدین خصوصا والد ڈاکٹر پیر محمد شالوانی کا بہت بڑا عمل دخل ہے کیونکہ وہ لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ہمیں سینٹ بونا وینچر جیسے اس وقت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں اور ان پر تین ماہی کی فیس صرف 36 روپے تھی اور اس میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلون کی سرگرمیان، لائبریری جانے کی عادت اور وہان پر کتاب پڑھنے اور پہر اسکے بارے میں پوچھ گچھ نے ہمیں فادر ٹارٹ وسر گبریل اور سر بشی جیست اساتذہ کی رھنمائی ملی جو ہماری عام روٹین کی زندگی کو یکسر تبدیل کرکے ایک اہم موڑ دیا، جس کا اثر ابھی تک ہے۔ انہون نے مزید بتایا کہ اس نے اسکول کے بعد پبلک اسکول اور پہر میڈیکل میں داخلہ لیا لیکن مزاج اور روایتا سی ایس ایس کے رجحان نے سول سروس کی طرف راغب کیا اور اسلام آباد مین جاکر بس گئے تھے نئے دوست بڑی مشکل سے بنتے ہیں وہان پر نئے دوست بنے، نیاماحول ملا، آء سی یو ٹی لاہور میں لگا اور پھر ماڈل ٹاؤن، میانوالی اور پھر 17 سے 19 گریڈ تک بلوچستان مین 4 سال تک خدمات انجام دیں، پھر شعبہ بدلنے سے فارین سروس یں بھی خدمات انجام دیں چاھتا تو عالمی ہینک میں اپناسروس بناتا لیکن پھر سے شعبہ بدلنے کا دل نہیں مانا اور واپس سول سروس مین آیا تو سندھ میں تبادلہ ہوا تو پہلے چیف اکنامسٹ ا ور پہر کئی مقامات پر تعینیات رہا اچانک ایک دن سیکریٹری قانون اور کمشنر کراچی بنا اور اس میں سیاسی لیڈرشپ کا بھی ممنون ہون کہ انہوں نے کوئی بھی پریشر و دباؤ نہیں دیا اور اپنی مرضی سے عوامی خدمات کا سلسلسہ جاری رکھے ہوا ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوران غیر ملک ارجنتینا ور جاپان میں بچوں کی اچھی تعلیم اور تربیت کے مواقع ملے۔اور وہاں پر مختلف کورس اور تربیتی مراحل بھی طئی کئے اور حتیٰ کہ اپنے جونیئر کے ساتھ کورس کیا تھا کیونکہ بیرون ملک اور عالمی بنک میں کام کرنے کی وجہ سے ترقی دیر سے ملی۔ کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ کمشنری کے دوران کئی مشکل مرحلے آئے اور ان پر پور اترنے کی کوشش کرتے ہوئے ایمپریس مارکیٹ جیسا اہم تاسک پورا کیا اور منفی تاثر ختم کرنے کیلیے شہر میں بلا تعصب اور مت بھید کے ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھا عوام کی تکالیف کا ازالہ کرنے کی چھوٹی کاوش کی صرف غریبوں کے خلاف نہیں بلک بلا تفریق ہر کسی کی خلاف عوامی مفاد میں کوئی بھی کام کیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح شہر میں پرانی رونقوں کو بحال کرنے اور اسکو اصلی حالت میں لانے کیلے بھی ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے میراتھن ریس، پی ایس ایل،مختلف ٹورنامنٹس، پبلک لائبریریوں، پارکس،گلیون ، فٹ پاتھون کی خوبصورتی و بحالی اور مصنوعی پھولوں کے باسکٹس کی تنصیب،لکڑیوں کے کام کو فروغ دینا جیسے جاپان اور دیگر ممالک میں بھی لکڑی کے کام کو فروغ دیا جاتا ہے، کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ شہر کی مزید ترقی اور خوبصورتی تمام سول سوسائیٹی، میڈیا، تاجر برادری دیگر کے تعاون اور ایک ٹیم کے طور پر کام کرنے سے ہی ممکن اور یقینی ہے۔ تقریب حسن کارکردگی سے پاکستان ایکسیلنس کے پیٹرن اقبال قریشی چیئرمین حمید بھٹو۔ ، مارکو کے سفیر اور معروف تاجر مرزا اختیار بیگ، ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس غلام سرور جمالی۔ خالد چاچڑ سیکریٹری خصوصی تعلیم،حکومت سندھ اعجاز مھیسر سیکریٹری و لائیواسٹاک، شمس الدین سومرو سیکریٹری صوبائی محتسب۔صدر پریس کلب کراچی امتیاز خان فاران، بزنس مین سید عبید احمد شاھ۔ اینٹی کرپشن سندھ کے ڈپٹی ڈائریکر میر نادر ابڑو، حسین مارکیٹنگ کے چیئرمین بابر عباسی، سابقہ وائیس چانسلر ڈاکٹر اکبر حیدر سومرو، شیام سندر آڈواٹی صدر پاکستان مسلم لیگ منارٹی ونگ سندھ کے صدر ، عرفان قریشی، بزنس مین خالد شمسی ، ڈاکٹر زاھد انصاری، سابقہ جیل سپریٹنڈنٹ سید شاکر شاھ۔ سابقہ ایم این اے رشید گوڈیل سابقہ ایم پی اے وقار شاھ۔ بزنس مین شعیب خان۔ نورین خان۔مسرت شاھہ۔احسم معنتی۔ ابقہ جج شاھد حسین سومرو۔ ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر۔ نیشنل بینک کے وائیس پریزیڈنٹ قاضی شھاب۔ سید ابن حسن۔ سعودی عرب کے بزنس مین عبدالقادر جتوئی۔ اختر آرئین۔ سینئر تجزینگار عبدالحمید اسلم حسین تھیبو۔ ندیم مولوی۔ گلوکار سلیم جاوید۔ سابقہ ڈی آئی جی اشرف علی نظامانی۔ سید امتیاز شاھہ۔ رحمت لاشاری۔ بخشن مھرانوی۔ اسحاق کھڑو۔ پی پی پ میڈیا سیل الیکٹرانک کے رکن نعیم اعوان۔ ای او آئی بی آفیسرز ایسیوسیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری چوھدری وقاص۔ اعجاز کوکر۔ اسٹارمارکیٹنگ کے ایم ڈی محمود احمد خان المصطفی ویلفیئر ٹرسٹ کے رہنما معین خان۔ مظہر رضوی۔ حزب اللہ میمن اور دیگر نے بھی کمشنر افتخار شالوانی کی پیشہ ورانہ خدمات اور شہر کی ترقی و خوبصورتی کیلیے کئی گئی کاوشوں کو بیحد سراہا اور کہاکہ انہیں شہر میں اسپتال کے طبی فضلہ کو مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کیلیے مربوط نظام اور ملک کی ترقی ، بقا، سالمتی اور استحکام و استحصال سے پاک اقدامات کیلئے شہر میں اپنی کوششیں جاری رکھنے،کچرہ کس طرح صاف ہوگا کے سلسلے میں مربوچ پروپوزل پر کام کرنے، کارپوریٹ اداروں اور کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت شہر کی ترقی کے لیے انہیں شامل کرنے، تعلیمی صورتحال کو بھتر بنانے ، پارکنگ و ٹریفک اور ایکسیدنٹ کے مسائل کو حل کرنے، قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے بھکاریوں کی بھتات کو ختم تو نہ کرسکیں گے لیکن امید ہے کہ کم کر نے کیلیے کام کرنے، پولیو اور دیگر موذی بیماریوں کے خاتمہ کیلئے خدمات انجام دینے کیلئے دماغ میں صاف راستہ کی سوچ جیسی تجاویز ا ور مشوروں کی روشنی میں کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی شخصیت نہ صرف نام سے افتخار بلکہ شہر کیلئے وہ ایک باعث افتخارہیں اور کسی بھی سیاسی پارٹی نے شہر کی مالکی نہ کی بلکہ افتخار شالوانی نے حقیقی معنوں میں شہر کی بھرپور طور پر مالکی کرکے اپنا کردارا ور حق ادا کردیا ہے۔ بعد میں تقریب میں کمشنر کراچی افخار شالوانی کو پاکساتن ایکسیلنس کلب کی جانب سے حسن کارکردگی کا پاکستان ایکسلینس آفیسرز ایوارڈ 2019 دیا گیا اور اجرک کاتحفہ بہ پیش کیاگیا اور ایکسلینس کلب ممبر سیوھن ڈولپمیٹ اتھارٹی کے ڈائرکٹر لینڈ رحمت لاشاری۔ سندھ اسیمبلی کے ڈائریکٹر ریسرچ اور سینئر کمپیئر بخشن مھرانوی اور ٹیلویزن کے ڈائریکٹر جاوید اختر ناز کے سالگرہ کے کیک بھی اس موقع پر کاٹے گئے اور اگست 2019 مین بھترین ورکر کے سروسزکی طور پر شہریار ملاح اور مریم کوثرکو شیلڈ بہ دی گئی۔

(Click here)بزنس

  • نسل نو کو حصول مہارت کے مواقع کسی صورت ضائع نہیں کرنے چاہئیں۔ پروفیسر ڈاکٹر زرین عباسی

    October 20, 2019 | 11:55 PM
    6x8 Photo

    ہمارا نوجوان نہ صرف بہتر مستقبل کا اہل ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے نمائندگان نسل نو سے ہر سطح پر مقابلہ کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ۔ سید امتیاز علی شاہ
    ورکشاپ کے شرکاء سے ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر، پروفیسر ڈاکٹر شبیر میمن ، پروفیسر ڈاکٹر عنبرین خاصخیلی، شاہد امین ، ثاقب رضاء ، ریما سیال و دیگر کا خطاب ۔
    کراچی :( نیوزآن لائن ) ملک کی ترقی کے لئے تعلیم ناگزیر ہے لیکن تربیت اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ہمارا نوجوان تعلیم سے بہرور ہے لیکن تربیت سے یکسر محروم ۔ آداب و اخلاق اور مختلف شعبوں سے متعلق ماہرین کے تجربات دکانوں سے نہیں خریدے جا سکتے یہ صرف اور صرف تربیتی عمل کے ذریعے ہی منتقل کئے جا سکتے ہیں ۔ یوتھ افیئرحکومت سندھ صوبہ کے نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھا رہا ہے۔ نسل نو کو حصول مہارت کے مواقع کسی صورت ضائع نہیں کرنے چاہئیں ۔ ان خیالات کا اظہار ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز سندھ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زرین عباسی نے گذشتہ روز محکمہ کھیل و امور نوجوانان سندھ اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سوشل ڈولپمنٹ کے اشتراک سے یوتھ ٹیکنالوجی انٹر پرینیور ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پاکستان اسٹڈی سینٹر ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر ، ٹرینر ثاقب رضا،کے شاہد امین ،ڈائریکٹر ایریا اسٹڈی سینٹر ، پروفیسر ڈاکٹر شبیر میمن،چیئر مین ماس کمیونیکشن ڈپارٹمنٹ ،پروفیسر ڈاکٹر عنبرین خاصخیلی،چیئر پرسن اکنامکس ڈپارٹمنٹ،معشوق علی خواجہ ،پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ بلوچ،ڈاکٹر ذوالفقار قریشی،عشرت برفت،سرفراز بخش،جاوید لارک و دیگر نے بھی خطاب کیا ورکشاپ کی چیف آرگنائزر ریما سیال جبکہ آرگنائزنگ کمیٹی ارکان میں اسد وسیم،مشتاق احمد اور ایاز چنا شامل تھے ۔اس موقع پر صدر نشیں سیکریٹری اسپورٹس و یوتھ افیئرز سندھ سید امتیاز علی شاہ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ڈپارٹمنٹ صوبہ بھر کے نوجوانوں کی ترقی کے لئے مکمل معاونت اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے ۔ہماری کوشش ہے کہ صوبہ کا کوئی بھی نوجوان جو خدمت وطن کیلئے جذبہ رکھتا ہے اسے ہر طرح کا تعاون دیا جائے ۔سید امتیاز علی شاہ نے پیغام میں کہا کہ ہمارانوجوان نہ صرف بہتر مستقبل کی قیادت کا اہل ہے بلکہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے نمائندگان نسل نو سے مقابلہ کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے شاندار مواقع فراہم کئے جائیں، شاہد امین نے کہا کہ سندھ کی یوتھ پالیسی میں پروموشن آف انٹر پرینیور شپ اور سیلف ایمپلائمنٹ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے ۔سینٹر فار ریسرچ اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ نے ان ہی نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے باہمی اشتراک و تعاون سے اس طرح کی ورکشاپس کا اہتمام تعلیمی اداروں میں مسلسل جاری رکھا ہوا ہے ۔ ورکشاپ کے شرکاء کو بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی بیسڈ نجی کمپنی کا آغاز کس طرح کیا جا سکتا ہے ، کاروباری منصوبے بنانے کا طریقہ کار کیا ہے ،چھوٹی سی فرم قائم کرنے کے لئے کیا اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں،پراڈکٹ یا سروسز کو کس طرح منتخب اور مارکیٹ کیا جاسکتا ہے ،مارکیٹ کا تجزیہ کس طرح سے کیا جانا چاہیے ،جز وقتی ، کل وقتی چھوٹے عرصہ اور لمبے وقت کے لئے تجارتی حکمت عملی کس طرح وضع کی جانی چاہیے ،کارو بار میں کس طرح کے رسک آسکتے ہیں اور ان سے کس اندا ز میں نبر آزما ہونا ہے ،ملکی و گلوبل معاشی حالات کے مطابق مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے فرم کو کس طرح چلانا ہے ،تادیر کاروبار جاری رکھنے کے لئے ٹیم بلڈنگ کے اقدامات کیا ہونے چاہئیں ،رقوم کا انتظام کہاں سے اور کس طرح کرنا ہوگا ، مالیاتی اقدامات کس طرح مرتب کرنے ہوں گے وغیرہ۔ تکمیل ورکشاپ کے بعد شریک طلباء و طالبات کو سرٹیفیکٹس اور مہمانان گرامی کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئی ۔

(Click here)کھیل

  • مہاجر نیشنل موومنٹ کی مرکزی کمیٹی نے سرفراز احمد کی کپتانی سے فراغت کو تعصب اور کراچی کی بنیاد پر قرار دے دیا

    October 20, 2019 | 10:25 PM
    cricket

    ۔ایم این ایم مصباح الحق کی نفرت آمیز سوچ ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ عمر اکمل اور احمد شہزاد کے غلط سلیکشن پر مصباح کی چھٹی کرنی چاہئے تھی۔ سرفراز احمد نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ملک کا نام کیا۔ سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی پھر تعصب کیاں کیا گیا ؟
    کراچی:(نیوزآن لائن )مہاجر نیشنل موومنٹ کی مرکزی کمیٹی نے سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹ کی کپتانی سے ہٹانے کے فیصلے کو بدترین تعصب اور کراچی سے نفرت کا اظہار پر مبنی اقدام کہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیئصلہ واپس لیکر سرفراز احمد کو بحال کیا جائے۔ ورلڈ کپ سے سرفراز کے خلاف سازش کی جا رہی تھی۔ مصباح الحق کی نفرت آمیز سوچ ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ عمر اکمل اور احمد شہزاد کے غلط سلیکشن پر مصباح کی چھٹی کرنی چاہئے تھی۔ سرفراز احمد نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ملک کا نام کیا۔ سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی پھر تعصب کیاں کیا گیا ؟کمیٹی نے کہا کہ عوام سخت بی سی سی پی سے نالاں ہیں اور عمران خان جو خود کرکٹ کو سمجھتے ہیں اسکا نوٹس لیکر ورلڈ ٹوئنٹی کپ تک سرفاز کو بحال کریں ورنہ یہ عمل مہاجر کپتان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگا۔

(Click here)ثقافت

  • شہر قائد کا مشاعرہ وادب کی ترویج میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ پرو فیسررضیہ سبحان

    October 20, 2019 | 11:49 PM
    caption photo

    پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ قلم کاروں کی مکمل حوصلہ افزائی کی جائے
    آفتاب جہانگیرممبرقومی اسمبلی سیکرٹری پارلیمانی مذہبی امور بین المذہب ہم آنگی۔
    شہر قائد کا مشاعرہ وادب کی ترویج میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ پرو فیسررضیہ سبحان
    کراچی: (نیوزآن لائن)پاکستان کی ترقی اور ترویج کے لیے ضروری ہے کہ قلم کاروں کی مکمل حوصلہ افزائی کی جائے یہ بات شہر قائد اد بی فارم اور کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے اشتراق سے اسلامی مرکز میں منعقدہ قومی خواتین کے مشاعرہ میں باحیثیت مہمان خصوصی آفتاب جہانگیر ممبرقومی اسمبلی سیکرٹری پارلیمانی مذہبی امور بین المذاہب ہم آنگی نے کہی انہوں نے کہا کے مشاعرے ہماری تہذیبی روایت ہے اور معاشرے میں مثبت سوچ کی علامت ہے ہماری حکومت ایسے تمام اداروں کی پذیرائی پر یقین رکھتی ہے اور ہم ہر ممکن اعانت و مددکرئینگے ۔ قبل از یں ادبی فورم کے جنرل سیکرٹری سید فیصل سید نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے شہر قائد ادبی فورم کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور کہا کے کسی طرح ادب کی خد مت کرتے رہیں گے ۔صدرمشاعرہ پروفیسررضیہ سبحان نے کہا کے شہر قائد کا مشاہرہ آدب کی ترویج میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شہر کراچی پھر سے روشن ہور ہا ہے اور ہم خواتین بھی بغیر کسی در اور خوف کے ادبی تقریبات میں شریک ہو رہی ہیں ۔انہوں نے ادبی فورم کو کامیاب مشاعرہ منعقد کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ادبی فورم کے صد ر سلطان مسعودشیخ نے کہا کہ ادبی فورم بھرپور طریقے سے ادیبوں کی خدمت کرتی رہے گی۔ اس مشاعرے میں جن خواتین شعرااپن کلام پیش کیا ان میں پروفیسر رضیہ سبحان ، صبیحہ صبا، حجاب عباسی ، ریحانہ احسان ، طاہرہ سلیم سوز، ہمابیک ، نیل احمد ، زینت لاکھانی ، سیر علی ، قندیل جعفری، زرنین مسعود ، افروز رضوی ،شناز رضوی، زیب النسا زیبی، عشرت حبیب، نسیم نازش، ارم زہرہ ، شاہدہ عروج خان، مہر جمالی، فرح دیبا، اور دیگرشعرانے بھی اپنا کلام پیش کیا اس موقع پر شہید ملت لیاقت علی ادبی اور سماجی ایوراڈزبھی پیش کیے گئے ۔جن میں قادر بخش سومرو،ڈاکٹرمبشر عالم ،فیاض علی فیاض ،ظفر محمد خان ظفر،سید آصف رضا رضوی ،احمدسعید خان، مظہر ھانی ، نفیس احمد خان، مسعود احمد وسی، سلطان مسعود، سید فیصل سعید، سید بلال حسین ، خالد میر، شیخ طارق جمیل ، سید حسنین رضوی، سید طارق شاہ، کوبھی ایورڈ دئیے گئے۔اس مشاعرے سے نسیم نازش ، شاہدہ عروج خان نے بھی اظہارخیال کیا جبکہ مشاعریکی نظامت نہایت سلیقے اورعمدگی کے ساتھ معروف شاعرہ آئرن فرحت نے انجام دی۔

(Click here)انٹر نیشنل

  • ایران ،سعودی عرب اختلافات خاتمے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    October 13, 2019 | 8:09 PM
    imran khan and irani president of iran

    تہران:(نیوزآن لائن)وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان برادر مسلمان ملکوں ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات بات چیت کے ذریعے ختم کرانے کیلئے سہولت کار کا کردارادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ماضی میں پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کی میزبانی کی تھی اورایک مرتبہ پھر ان کے اختلافات ختم کرانے کیلئے دونوں برادر ملکوں کے درمیان سہولت کار کا کردارادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے تاہم بات چیت کے ذریعے اختلافات کا خاتمہ ممکن ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ وہ منگل کو سعودی عرب کا بھی دورہ کریںگے ۔عمران خان نے کہاکہ یہ خالصتا پاکستان کا اپنا اقدام ہے کیونکہ کسی نے ہمیں ایسے دوروں کیلئے نہیں کہا ۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کا کردار ثالث کی بجائے سہولت کار کا ہوگا ۔وزیراعظم نے ایرانی صدر کے ساتھ اپنی مشاورت کو انتہائی حوصلہ افزا قراردیا اور کہاکہ وہ مثبت ذہن کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ کریںگے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ گہرے دوطرفہ برادرانہ تعلقات ہیں اور سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ ان کے دورہ نیویارک کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے سہولت کی فراہمی کیلئے کہا ۔اپنے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایرانی قیادت کویقین دلایا کہ وہ امریکہ ایران بات چیت میں سہولت کی فراہمی کیلئے جو ممکن ہوا کرینگے جس کے نتیجے میں پابندیاں اٹھا کر ایٹمی معاہدے پردستخظ ہوسکتے ہیں۔