: تازہ ترین

تازہ ترین ویڈیو

  • لاہور کے بعد کراچی ، اسلام آباد ، پشاور ، کوئٹہ ، ملتان اور فیصل آباد میں بھی اینٹی نجکاری کانفرنسز ہونگی ۔ لیاقت بلوچ

    February 7, 2016 | 8:32 PM
    ji

    حکومت قومی اداروں میں اصلاحات اور شفافیت لانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔ میاں محمود الرشید
    حکومت پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں میں نجکاری کے فیصلے کو فی الفور واپس لے ۔ ذکر اللہ مجاہد
    این ایل ایف اور ریلوے پریم یونین 10فروری کو نجکاری کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منائے گی ۔ حافظ سلمان بٹ
    جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں جماعت اسلامی ، تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی ، جمعیت علماء پاکستان ،
    جمعیت اہلحدیث، پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران اور دیگر قومی اداروں کی یونین کے نمائندوں کا خطاب
    لاہور :( نیوزآن لائن)جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس زیر صدارت سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ دفتر جماعت اسلامی لاہور میں منعقد ہوئی ۔ کانفرنس میں مشترکہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں کی نجکاری کے فیصلے کو واپس لیا جائے ۔ دوران احتجاج شہید اور زخمی ہونے والے مزدوروں کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا ہے ۔ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے۔ پی آئی اے سے لازمی سروسز ایکٹ کا فی الفور خاتمہ کیا جائے ۔ نجکاری کے اس مشکوک عمل کے بارے میں پارلیمنٹ ، سیاسی جماعتوں اور قومی اداروں کی یونین کے عہدیداران سے مشاورت کی جائے اور انہیں اعتما د میں لیا جائے ۔ پی آئی اے اور دیگر قومی ادارے “عوام”کی ملکیت ہیں ۔ ان کے بارے میں کسی قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے آئینی ادارہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا جائے اورآل پارٹیز کانفرنس بلا کر انہیںاعتماد میں لیا جائے ۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران اور سینکڑوں گرفتار اور لاپتہ ورکرز کو بازیاب اور رہا کیا جائے۔ کانفرنس سے ذکر اللہ مجاہد امیر جماعت اسلامی لاہور ، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید ، زاہد ذوالفقار پاکستان پپلز پارٹی، علامہ زبیر احمد ظہیر جمعیت اہلحدیث، مولانا شبیر احمد نظامی جمعیت علماء اسلام ، PIAپیپلز یونٹی کے صدر کاشف رانا ، PIAپیاسی یونین کے صدر جاوید چوہدری ، حافظ سلمان بٹ سیکرٹری جنرل نیشنل لیبر فیڈریشن ، شیخ محمد انور پریم یونین، احسان چوہدری واپڈا پیغام یونین، چوہدری محمود الاحد اور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ سابق نائب صدر لاہور بار ایسوسی ایشن نے خطاب کیا ۔ لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجود ہ سرکار درجنوں قومی اداروں کو کوڑیوں کے بھائو فروخت کر چکی ہے اور حکومت کے اعلان مطابق
    68 قومی اداروں کی فروخت کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ نجکاری خالص اداروں کی بہتری کے لئے کی جا رہی ہے حالانکہ یہ فیصلہ بیرونی دبائو یعنی آئی ایم ایف کی ہدایت اور مطالبہ پر کیا جا رہا ہے ۔ نجکاری کے مسئلہ کو جس بھونڈے انداز میں ہینڈل کیا جا رہا ہے اس پر حکمرانوں کی عقل و شعور پر سوالیہ نشان ہے ۔ جمہوری ملک کے اندر احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن احتجاج کرنے پر گولیاں چلا کر دو ملازمین کو شہید اور سترہ کو زخمی کر دینا کہا ں کا انصاف ہے ۔ جب کہ وزیر اعظم پاکستان نے اس واقعہ پر اظہار افسوس کرنے کی بجائے اشتعال انگیز بیان دینے شروع کر دئیے ہیں اور کہا ہے کہ ہڑتالی ملازمین کو فارغ کر کے جیلوں میں ڈالیں گے ۔اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید نے کہا کہ حکومت کی یہ دلیل کہ زیادہ ملازمین ہونے کی وجہ سے ادارہ خسارے کا شکار ہے اور ادارے میں اگر کرپشن ہو رہی ہے تو موجودہ حکومت خود اس کی ذمہ دار ہے جس کی گڈ گورننس پر کئی سوالات ہیں ۔ حکومت کی طرف سے نئی ایئر لائن کی تجویز انتہائی بھونڈی اور فضول سوچ کی عکاسی کرتی ہے اور اس تجویز کے پیچھے بھی خلوص اور نیک نیتی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ہڑتال کرنیوالوں کے خلاف انتقامی کاروائی اور انہیں بلیک میل کرنا ہے ۔ آج کی حکومت پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں میں بوجوہ اصلاحات اور شفافیت لانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔ ذکر اللہ مجاہد امیر جماعت اسلامی لاہور نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں اب تک ہونے والی نجکاری کا عمل ہمیشہ غیر شفاف رہا ہے ۔ ۔ موجودہ پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں کا بحران بھی طویل بد نظمی ،لوٹ مار اور میرٹ کی تذلیل کا نتیجہ ہے جس کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔ کراچی میں پر امن احتجاج کے دوران پی آئی اے کے ملازمین کی خون نا حق کی ذمہ داری کس کے سر ہے ۔ امن و امان کی بنیادی ذمہ داری حکمرانوں کی ہے حکومت حسب سابق جوڈیشل کمیشن بنا کر “مٹی پائو” پالیسیپر آمادہ نظر آتی ہے ۔حافظ سلمان بٹ سیکرٹری جنرل نیشنل لیبر فیڈریشن نے کہا کہ ہم پریم یونین کے ساتھ مل کر 10فروری کو ملک بھر کے ریلوے سٹیشنوں پر نجکاری کے خلاف یوم سیاہ منائیں گے اور پی آئی اے کے ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ عوامی احتجاج کو روکنے کے لئے رینجرز کا استعمال انتہائی نا عاقبت اندیشانہ فیصلہ تھا ۔ وزیر اعظم پاکستان اگر آئین اور پارلیمانی جمہوری روایات کے مطابق پارلیمنٹ کے اندر فعال کردار ادا کرتے تو احتجاج سڑکوں پر کبھی نہ آتا ۔زاہد ذوالفقار نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی لاہور نے کہا کہ پی آئی اے کی انتظامیہ اگر ایک سال کی مہلت مانگ رہی ہے تو اسے یہ موقعہ دینا چاہیے اور آئی ایم ایف کے دبائو میں عجلت پر مبنی ایسے فیصلوں سے اچھے نتائج نہیں نکل سکتے ہیں جو قومی اور عوامی مفادات کے برعکس ہوں ۔ حکومت لاٹھی اور گولی کی بجائے مشاورت ، شفافیت اور انصاف کے جمہوری اصولوں پر عمل کر کے ریاستی امور سر انجام دے ۔

Live News Channels

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Corruption News
CORRUPTION NEWS
CRIME STORIES
CRIME STORIES
TALK SHOWS
TALK SHOWS
DIPLOMAT NEWS
MINORITIES NEWS

ADVERTISEMENT CORNER

NewsOnline

Visitor Counter

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player


(Click here)پاکستان نیوز

  • پی آئی اے قومی ادارہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں،ڈاکٹر محمد فاروق ستار

    February 7, 2016 | 8:42 PM
    MQM-At-PIA-Protest

    انشاء اللہ پی آئی اے اور پورے پاکستان کو بچائیں گے، پی آئی ا ے کے مستقبل کا فیصلہ ادارے کے مزدور ہی کریں گے
    مظاہرین کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں، مزدور بھائی ،بہنوں کے ساتھ ہے
    ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار کی کراچی ائیر پورٹ پر احتجاجی دھرنے میں بیٹھے پی آئی اے ملازمین سے گفتگو
    کراچی :( نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستارنے کہاہے کہ حکومت وقت کو نجکاری اور تباہ کاری میں فرق معلوم نہیں ہے،پی آئی اے قومی ادارہ اور ملک کی شناخت ہے ،کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے ہم پی آئی اے کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں کراچی ائیر پورٹ پر پی آئی اے ہیڈ آفس کے باہر دھرنے میں بیٹھے ہوئے ملازمین سے ملاقات کے دوران کیا ۔اس موقع پرحق پرست ارکان اسمبلی سید آصف حسنین،علی رضا عابدی ، ساجد احمد ، نامزد مئیر کراچی وسیم اختر ، ڈپٹی مئیر ارشد وہرہ، لیبر ڈویژن کے انچارج اسد کاظمی اور سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے اراکان انکے ہمراہ تھے۔ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہاکہ پی آئی اے صرف 38جہازوں کا نام نہیں بلکہ 14000معصوم ملازمین کی عزت نفس کا نام ہے ،یہ ادارہ عوام کی امانت ہے اور ہم اسکو کسی کی ذاتی انا کاشکار نہیں ہونے دیں گے انشاء اللہ پی آئی اے اور پورے پاکستان کو بچائیں گے ۔انہوں نے دھرنے کے شکار افراد سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگ جس مشکل حالات میں اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں وہ قابل ستائش ہے ،آپ کے تمام مطالبات کی ایم کیوا یم حمایت کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ کراچی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پی آئی اے کے مزدور بھائی ،بہنوں کے ساتھ ہے اور پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ کراچی جس ظالم کے خلاف کھڑا ہوجاتاہے اسکاتسلط ختم ہوجاتاہے، پی آئی اے کے ملازمین کو کالے انگریزوں کے ظلم و ستم سے آزا د کرواکر مزدوروں کے ساتھ جشن منائیں گے او ر پی آئی ا ے کے مستقبل کا فیصلہ ادارے کے مزدور ہی کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے پی آئی اے کی تاریخ میں لاپتہ افراد کا لفظ نہیں سنا تھا بلکہ یہ مسئلہ تو صرف ایم کیو ایم کے ساتھ تھا لیکن اب پہلی مرتبہ پی آئی اے کے ملازمین بھی حکومت کے اس ظلم کا شکار ہو گئے ہیں۔انہوں نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے کے ملازمین ہدایت اللہ، ضمیر حسین چانڈیو، سیف اللہ لارک اور منصور ڈھلو کو فی الفور بازیاب کرایا جائے اور پی آئی اے ملازمین کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔اس موقع پر انہوں نے گزشتہ دنوں احتجاج کے دوران جاں بحق ہونیوالے پی آئی اے ملازمین کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا اور جاں بحق افرادکیلئے دعائے مغفرت کی۔

(Click here)سندھ نیوز

  • نواز شریف پاکستان کے اثاثے اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے اونے پونے داموں خرید لیتے ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی

    February 7, 2016 | 5:38 PM
    PPPsaysitlost23activiststorecentviolence_567-349x238

    کراچی:(نیوزآن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر نجمی عالم، ندیم بھٹو ، لطیف مغل اور منظور عباس نے کہا ہے کہ نواز شریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے بیرونی آقائوں کی خوشنودی اور اپنے خزانے میں اضافے کے مشترکہ ایجنڈے پر کام کرتے ہیں اور اس مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان کے اثاثے اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے اونے پونے داموں خرید لیتے ہیں ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ غریب محنت کش کس طرح اپنے بیوی بچوں کے پیٹ پالیں گے اور نہ ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ مستقبل کے معمار اپنی تعلیم کو ادھوری چھوڑ کر معاشی مسائل کے حل کیلئے تگ ودو شروع کریں گے جس کی حالیہ مثال پی آئی اے جو اپنے مند پسند افراد کو دینا چاہتے ہیں اور نیو یارک میں عظیم الشان روز ویٹ ہوٹل ہتیا نا چاہتے ہیں جس کی مالیت تقریباً ڈیڑھ کھرب ہے۔ پی پی پی میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں ان رہنمائوں نے کہا کہ پیپلز یونٹی آف پی آئی اے کے صدر ہدایت اللہ خان، سینئر نائب صدر ضمیر حسین چانڈیو، منصور ڈہلو اور سرفراز لاریک کو فوری غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اورکل پی آئی اے کے محنت کش کل بروز پیر دوپہر 12بجے پی آئی اے ہیڈ آفس سے جناح ٹرمینل تک ان رہنمائوں کی بازیابی اور پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ریلی نکالیں گے اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن پی آئی اے کے محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں شریک ہونگے۔

(Click here)کراچی نیوز

  • ساتویں ”کراچی لیٹریچر فیسٹول ” میں آنیوالے معروف شخصیات کے اعزاز میں نامزد مئیر کراچی وسیم اختر اور ڈپٹی مئیر ارشد وہرہ کی جانب سے ظہرانہ

    February 7, 2016 | 8:39 PM
    MQM Delegation Visit KLF 2016

    کراچی کے مقامی ہوٹل میں ڈاکٹر محمد فاروق ستار ، محترمہ نسرین جلیل اور سید امین الحق نے خصوصی شرکت کی
    ظہرانے میں امریکی، سوئز اور آسٹریلوی قونصل جنرلز کے علاوہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ادیب و قلمکاروں کی شرکت
    کراچی پرامن اورادب و تہذیب سے لگاؤ رکھنے والے لوگوں کا شہر ہے،وسیم اختر کی استقبالیہ گفتگو
    کراچی:(نیوزآن لائن)متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے نامزد مئیر کراچی وسیم اختر اور ڈپٹی مئیر ڈاکٹر ارشد وہرہ کی جانب سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں لگنے والے ساتویں سہ روزہ ”کراچی لیٹریچر فیسٹول ” میں شریک ملکی و بین الاقوامی مندوبین ، صحافی حضرات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس میں ایم کیوا یم کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار ، ڈپٹی کنوینر محترمہ نسرین جلیل اور رکن رابطہ کمیٹی سید امین الحق نے خصوصی شرکت کی،ظہرانے میں امریکی ، سوئز اور آسٹریلوی قونصل جنرلز کے علاوہ بین الاقوامی شہرت کے حامل معروف ادیب و دانشور خان ظفر افغانی،معروف ادیب مستنسر حسین تاررڑ،آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیل، معروف صحافی، دانشور اور تجزیہکار رفیق شیخ، الیاس شاکر، مختار عاقل، مظہر عباس، مجاہد بریلوی، رضوان صدیقی، محمود خان، غازی صلاح الدین، امتیاز خان فاران اور دیگر سمیت بین الاقوامی قلم کاروں ،ادیبوں ، مندوبین و دیگرنے شرکت کی۔ اس موقع پر بین الاقوامی شرکاء کو کراچی آمد پر خوش آمدید کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہاکہ کراچی پرامن اورادب و تہذیب سے لگاؤ رکھنے والے لوگوں کا شہر ہے،آج ظہرانے کا مقصد کراچی لیٹریچر فیسٹول کے شرکاء و منتظمین کی جانب سے کراچی میں ادبی سرگرمیوں کو سراہانا اور انہیں مبارک باد پیش کرناہے۔انہوں نے کہا کہ میں کراچی کے آئندہ مئیر کی حیثیت سے یہاں موجود معززین کو یقین دلاتاہوں کہ میں ہم ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اس قسم کی سرگرمیوں کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی تعمیری و ادبی سرگرمیاں کراچی میں امن و آتشی اور مثبت سوچ کے فروغ میں کارگر ثابت ہوں گی تاکہ کراچی کو ترقی یافتہ شہر بنایا جاسکے کیوں کہ کراچی کی ترقی ہی پاکستان کی ترقی ہے،کراچی کے عوام نے جناب الطاف حسین کے نمائندوں کو مینڈیٹ دیا ہے لہٰذا ہماری بھر پور کوشش ہے کہ یہاں کے عوام کو صحت مند اور ادبی سرگرمیاں فراہم کرکے نوجوان نسل کو ملک و قوم کیلئے تعمیری ذہنیت کا حامل بنا سکیں۔اس موقع پر شرکاء کو ایم کیوا یم کی لٹریچر کمیٹی کی جانب سے جناب الطاف حسین کی تصانیف پر مبنی گفٹ بھی دیا گیا ۔
    قبل اذیں وسیم اختراور ارشد وہرہ نے ڈپٹی کنوینر محترمہ نسرین جلیل اور امین الحق کے ہمراہ ”ساتویں کراچی لٹریچر فیسٹول” میں ایم کیوا یم لٹریچر کمیٹی کی جانب سے لگائے گئے بک اسٹال اوردیگرکمپنیوں کے اسٹالز کا دورہ کیا ۔

(Click here)بزنس

  • ایس بی سی اے کی ہدایت پر ڈمالیش اسکواڈ نے کورنگی ٹائون میں واقع 2غیر قانونی شادی ہال کے خلاف کاروائی

    February 7, 2016 | 5:49 PM
    SBCA Logo Site

    کراچی: (نیوزآن لائن) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل آغا مقصود عباس کی ہدایت پر ڈمالیش اسکواڈ نے کورنگی ٹائون میں واقع 2غیر قانونی شادی ہال کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں منہدم اور سر بمہرم کر دیاہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈیمالیشن اسکواڈ نے پلاٹ نمبر ایف-7اور ایف8، سیکٹر 31-ای گرائونڈ فلور کالمز اور دیواروں کو توڑتے ہوئے لکھنو کو آپریٹیو ہائوسنگ سو سائٹی پرواقع گرین ویلی شادی ہال بینکویٹ اور پلاٹ نمبر سی -47سیکٹر 31-ای دارالسلام سی ایچ ایس پر واقع العربیہ شادی لان کی غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرکے احاطے کو سر بمہرم کر دیا گیا ۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مذکورہ بالا کاروائی ڈائریکٹر ڈیمالیشن ، جمیل میمن، ڈپٹی ڈائرکٹر سجاد اور کورنگی ٹائون کے اسسٹینٹ ڈاریکٹر احسن ادریس کی زیر نگرانی عمل میں لائی گئی جب کہ اس موقع پر امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کیلئے ایس بی سی اے پولیس فورس بھی ان کے ہمراہ وہاں موجود تھی ۔

(Click here)کھیل

  • بیونس آئرس فارمولا ای برطانوی ڈرائیور سیم برڈ کی فتح

    February 7, 2016 | 3:08 PM
    sports news

    بیونس آئرس: (نیوزآن لائن)ارجنٹائن میں کھیلے جانے والے فارمولا ای ریس میں برطانوی ڈرائیور سیم برڈ نے فتح حاصل کر لی۔ برطانوی ڈرائیور سیم برڈ نے شاندار پرفارمنس دکھاتے ہوئے حریفوں پر فتح کی دھاک بٹھائی۔ سوئس ڈرائیورسبسٹین بیومی صفر اعشاریہ سات ایک سیکنڈرز کے فرق سے دوسرے نمبر پر رہے۔

(Click here)ثقافت

  • ہالی ووڈ فلم “ڈیڈ پول” ریلیز ہو نے کیلئے چند دن باقی

    February 7, 2016 | 2:48 PM
    Deadpool

    لاس اینجلس :( نیوزآن لائن) ہالی ووڈ فلم “ڈیڈ پول”  ریلیز ہو نے کیلئے چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ فلم کی کہانی اسپیشل فورسز سے تعلق رکھنے والے ویڈ ولسن نامی شخص کے گرد گھومتی ہے جو ایک تجرنے کے نتیجے میں اپنی طاقت و صلاحیتوں میں اضافہ کرکے دشمنوں سے انتقام لینے کیلئے نکل پڑتا ہے۔لارین شویلر اور سیمون کنبرگ کی مشترکہ پروڈیوس کردہ ایکشن سے بھرپور یہ فلم “ڈیڈ پول”  12فروری کو نمائش کیلئے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔

(Click here)انٹر نیشنل

  • بھارتی مستعمرین کو کشمیری حریت پسندوں کی پُر امن جمہوری جدوجہد کبھی راس نہیں آئی۔اعظم انقلابی

    February 7, 2016 | 2:57 PM
    sirinagar

    سرینگر:(نیوزآن لائن) جموں کشمیر محاذِ آزادی کے سرپرست اعظم انقلابی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی مستعمرین کو کشمیری حریت پسندوںکی پُر امن جمہوری جدوجہد کبھی راس نہیں آئی۔ دہلی دربار کے جبّارین اور متکبرین ہی تھے جنہوں نے محاذرائے شماری کے رہنماؤں کو دس سال تک جیلوں میں تڑپایا۔ جبرواستبداد اور تعدّی و تشدّد کا ماحول ہی تھا کہ محاذرائے شماری کے نوجوان رہنما محمد مقبول بٹ صاحب زیر زمین سرگرمیوں میں مصروف ہوئے۔ بالآخر شیرِ ترہگام بطلِ حریت شہید اوّل واعظم محمد مقبول بٹ صاحب 1958ء میں ترہگام سے ہجرت کرکے پاکستان پہنچے۔ وہاں مقبول بٹ ایمـاے اور قانون کی ڈگریاں پانے کے بعد اپنے دوست میجر امانااﷲ خان کے گھر (پشاور) میں 1965ء میں مزاحمتی تنظیم قومی محاذِ آزادی کے نصبُ العین کے تعلق سے اپنے عزائم کا تعارف کرایا۔ چنانچہ مقبول بٹ صاحب نے پاکستان میں تَنَعُّمْ اور تَعیُّش کی زندگی گزارنے کے بجائے جون 1966ء میں اپنے دوست میجر امان اﷲ کے ہمراہ وادی کشمیر کا رُخ کیا۔ یہاں بارہمولہ میں فوج کے ساتھ تصادم کے دوران مقبول صاحب کا ساتھی اورنگ زیب (عرف طاہر) شہید ہوا۔ مقبول صاحب گرفتار ہوئے۔ بالآخر وہ جیل توڑ کر اپنے دوستوں کے ہمراہ دسمبر 1968ء میں آزاد کشمیر میں وارد ہوئے۔ وہاں وہ گرفتار ہوئے اور مظفرآباد کے قلعہ میں اُنہیں انٹروگیشن کے دوران تشدّد کا نشانہ بنایا گیا۔ نومبر 1969ء میں مظفرآباد میں محاذرائے شماری کا کنونشن ہوا۔ میں اِس کنونشن میں موجود تھا۔ مقبول بٹ صاحب نے محاذ رائے شماری کے صدر کی حیثیت سے پُر جوش تقریر کی۔ اُنہوں نے فرمایا کہ کوئی ہمیں اجازت دے یا نہ دے ہم عسکری مُزاحمتی تحریک ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔ عزم وہمت کے پیکر مقبول بٹ صاحب مئی 1976ء میں عبد الحمید بٹ اور ریاض ڈار کے ہمراہ پھر واردِ کشمیر ہوئے۔ یہاں اُنہوں نے بزرگ مُزاحمتی رہنما صوفی محمد اکبر مرحوم کو بھی اعتماد میں لیا۔ فضل الحق قریشی صاحب، شبیر احمد شاہ صاحب اور خان سوپوری صاحب بھی اُن کے مجاہدانہ مواعظ سنتے رہے۔ جون 1976ء میں مقبول بٹ صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار ہوئے۔ مقبول بٹ صاحب نے تہار جیل دہلی میں قیدِ تنہائی میں پورے آٹھ سال گزارے۔ مجذُوبِ حق و حریت وہاں مُراقبہ، نماز اور تلاوتِ قرآن کے دوران اﷲ ربُ العزت کے ساتھ تعلق پیدا کرتے رہے۔ کوہِ وفا مقبول بٹ صاحب نے 11فروری1984ء کو تختۂ دار پر کلمۂ طیبّہ پڑھتے ہوئے شہادت پائی۔
    بھارتی حکمران عداوتِ حق اور شقا وتِ قلبی کی وجہ سے اقتدار کے نشے میں دُھت تھے۔ اُنہوں نے رعُونت، تکبّر اور تَمرّدکا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کی عبقری شخصیت مقبول بٹ کو درجۂ شہادت تک پہچادیا۔ وہ اندازہ ہی نہیں کرسکے کہ وہ کشمیر کی مُزاحمتی تحریک کے اُولوالعزم قائد مقبول کوپھانسی دے کر کس غیر متوقع صورتحال سے دوچار ہونگے۔ یہاں نوجوان انقلاب پسند رہنما غیرتِ کشمیر اشفاق مجید وانی نے شیخ عبد المید، محمد یٰسین ملک اور دیگر دوستوں کے تعاون سے عسکری تحریک کا آغاز کیا۔ مقبول بٹ کی پھانسی نے کشمیر کے لاکھوں نوجوانوں کے جذبات کو مجرؤح کیا تھا۔ ہزاروں نوجوان کنٹرول لائن روندتے ہوئے آزاد کشمیر پہنچے۔ “ہم چھین کے لیں گے آزادی”نعروں سے کشمیر کے دشت وجبل گونجتے رہے۔ جنگ وشکوہ کے جاں گُسل عمل کے دوران ہزاروں جگرپارے مزار ہائے شہداء کی زینت بن گئے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ غیعّور فرزندانِ چمن جامِ شہادت نوش کرگئے۔ مقبول بٹ صاحب چاہتے تو پاکستان کی قومی سیاست کا حصہّ بن کروہ وزیراعظم پاکستان بھی بن سکتے تھے۔ ہائے بھارتی مستعمرین اور مستکبرین نے کشمیر کے اِس زُودحِس، زُودفہم اور اوصافِ حمید کے حامل عظیم انقلابی رہنما کے وجود کو برداشت نہیں کیا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اُن کی شہادت کشمیر میں انقلاب کا بُگل بجائے گی۔ آج سید صلاح الدین صاحب مقبول بٹ کے معنوی مُرید کی حیثیت سے اپنے ہزاروں مجاہدین کے ہمراہ راہِ عزیمت میں سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارتی جبارین اور ظالمین نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اُنہوں نے پھر ایک بار روایتی رعونت اور کبروغرور کے ساتھ فرزندِ کشمیر محمد افضل گورو کو 9فروری 2013ء کو اُسی جیل (یعنی تہار جیل دہلی) میں پھانسی دے کر اپنے استعماری عزائم کا تعارف کرایا۔ اُنہوں نے عملاً کشمیری نوجوانوں کو پھیر ایک بار دعوتِ مُبارزَت اور مُقاوَمت دی۔ مقبول اور گورو دونوں ہی تاکیدِ بلیغ کے ساتھ اصرار کررہے ہیں کہ کشمیر کے غیّور نوجوان بھارت کے غاصبانہ اور جابرانہ استعماری نظام کے خلاف مُزاحمت کا سفر جاری رکھیں۔
    ہم بھارتی حکمرانوں سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ سبھی مُزاحمتی اصحاب کہف کو جیلوں سے رہا کریں۔ ڈاکٹر محمد قاسم صاحب نے جیلوں میں پورے 23سال گزارے ہیں۔ تم لوگوں نے ہمارے اُولوالعزم قائدین مولوی فاروق، ڈاکٹر قاضی نثار، خواجہ عبد الغنی لون، مقبول ملک، جلیل اندرابی، ایس حمید اور ڈاکٹر غلام قادر وانی کو پہلے ہی درجۂ شہادت تک پہنچایا تھا۔ سبھی کشمیری چھ لاکھ شہداء کی قبروں پر باطنی طور صبح وشام حاضر ہوتے ہیں۔ وہ اشفاق مجید وانی، شمس الحق، مقبول الٰہی، مولانا شوکت شاہ، ڈاکٹر عشائی اور دیگر شہداء کی قبروں پر گُل باری کرتے رہتے ہیں۔ پوری قوم اپنے مزاحمتی قائدین قبلہ سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، میرواعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک اور دیگر اُولوالعزم مُزاحمتی رہنماؤںپر نازاں ہے۔ وہ سب ہماری پہچان ہیں۔ بھارتی حکمران اِن سیاسی مزاحمتی قائدین کا راستہ روکنے کے بجائے پاکستان کو اعتماد میں لے کر سہ فریقی مذاکرات کے لئے راستہ استوار کریں۔ دوممالک کے حکمران اپنے میزائلوںکو کنٹرول تو کرسکتے ہیں لیکن وہ جنگ بندی لائن کے آرپار کے ہزاروں اور لاکھوں مُریدانِ مقبول کا راستہ روک نہیں سکتے۔